عثمان مختار کا ڈرامہ’ہم کہاں کے سچے تھے‘: ’میں نہیں چاہتا کہ ناظرین یہ کہیں کہ اگر ہیرو یہ کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں‘

عثمان مختار
BBC
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں حال ہی میں اپنے کریئر کا آغاز کرتے ہی چھا جانے والے نوجوان اداکار عثمان مختار کا کوئی ڈرامہ آن ایئر ہو اور وہ زیر بحث نہ ہو ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ عثمان مختار کے نئے ڈرامہ ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیر بحث نظر آتا ہے۔

بی بی سی کے لیے صحافی براق شبیر کو دیے گئے انٹرویو میں عثمان مختار کا کہنا تھا کہ جب انھیں اس کردار کی پیشکش کی گئی گی تو انھیں بتایا گیا تھا کہ یہ عمیرہ احمد کا ایک پرانا ناول ہے جس پر ڈرامہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کے بعد اس کے لیے انھوں نے تحقیق کی تو انھیں پتہ چلا کہ یہ کردار ناول میں بہت زیادہ منفی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب جب ڈرامہ بنایا گیا ہے تو اس کردار کی تلخی کو تھوڑا کم کیا گیا ہے۔‘

عثمان مختار کا کہنا تھا کہ اُن کا کردار ’اسود‘ ایک پُرامید انسان کا ہے اور کسی سے غلط رویوں کی توقع نہیں رکھتا۔ ’جس طرح اسود یہ سوچ نہیں سکتا کہ اس کی کزن جھوٹ بول سکتی ہے اور مسلسل باتیں سُن کر ان باتوں پر یقین کر لیتا ہے، اسی طرح ہم دور حاضر میں غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

انھوں نے کورونا کی وبا کی دوران اپنے ایک ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’میں نے کئی لوگوں کو ویکسینیشن کا بولا تو ان کا کہنا تھا کہ سر ہم نے ویکسینیشن کے بعد دو سال میں مر جانا ہے۔ اگر ہم انٹرنیٹ پر ایک غیر مصدقہ چیز پر یقین کر لیتے ہیں تو اسود (کردار) تو پھر اپنی کزن سے یہ سب سُن رہا تھا۔‘

اسود کا کردار کرنے کے منع کر دیا تھا

عثمان مختار کا کہنا تھا کہ جب انھیں یہ کردار آفر کیا گیا تو وہ اسے قبول کرنے میں تھوڑا ہچکچا رہے تھے کیونکہ وہ اپنے کرداروں کے انتخاب کے معاملے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے میرے دوست اور بیوی بھی کہتے ہیں کہ بہت زیادہ سوچا نہ کرو یہ تمہارا کام ہے۔‘

’میں اداکار ہوں اور ٹی وی پر آنے والے اداکار، ہدایتکار یا پروڈیوسر ان سب کے کام بہت ذمہ داری کے ہیں۔ ہم جو مواد بناتے ہیں وہ لوگ دیکھتے ہیں، وہ ان سے کچھ چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔‘

عمان مختار کا کہنا تھا ’مجھے اسود کا کردار بہت منفی لگا تھا اور اس میں بہت ساری چیزیں کرنے کے لیے میں مطمئن نہیں تھا تو میں نے بولا کہ میں یہ سب کرنے میں کمفرٹیبل نہیں ہوں، اس لیے آپ مجھے بدل دیں انھوں نے کہا کہ نہیں آپ یہ کریں۔‘

کرداروں کے چناؤ میں اتنی ہچکچاہٹ کیوں؟

عثمان مختار کا یہ تیسرا ڈرامہ ہے۔ اس سے پہلے وہ ’انا‘ اور ’ثبات‘ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ وہ کرداروں کے معاملے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’یقیناً میں اس بارے میں سوچتا ہوں لیکن میں بہرحال ایک اداکار ہوں اور مجھے اپنے بل ادا کرنے ہوتے ہیں اگر میں ہر سکرپٹ کو نہ بولوں گا تو میرے پاس کھانے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ہمارا کام ہے۔۔۔ میں جتنا کر سکتا ہوں وہ کرتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا ’ڈرامہ میں ایک جگہ ایسا ہوتا ہے کہ اسود مہرین سے بدسلوکی کرتا ہے لیکن میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کر سکتا، ہم اس کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ناظرین یہ کہیں کہ یہ ہیرو ہے اگر یہ کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا کہ اسود کسی کو تھپڑ مارے یا گلا دبائے۔ ہم اشتعال دکھا سکتے ہیں، ہاتھ لگائے بغیر یہ دکھایا جا سکتا ہے۔۔۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ یہ چیزیں نہیں ہو سکتیں۔‘

عثمان مختار کی ہیروئنز کی شادیاں ہو جاتی ہیں

عثمان مختار کے بارے میں سوشل میڈیا پر بننے والی میمز میں سے ایک یہ تھی کہ اب تک انھوں نے جن اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا ہے اُن کی شادی ہو جاتی ہے، لیکن اب تو عثمان مختار کی بھی شادی ہو گئی ہے، یہ دیکھ اور سُن کر انھیں کیسا لگتا تھا؟

عمثان مختار کا کہنا تھا ’یہ مزاحیہ باتیں پڑھ کر اچھا لگتا تھا کہ چلو میری وجہ سے اداکاراؤں کی شادیاں ہو جاتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

جنھوں نے ’ثبات‘ ڈرامہ نہیں دیکھا ’کیا وہ واقعی پاکستانی ہیں؟‘

’اوئے موٹی: ایک سال میں وزن کم کر لو ورنہ میں منگنی توڑ دوں گا‘

’ہر مرد کا حق ہے کہ وہ پسند کی لڑکی کو شادی کی پیشکش کر سکے‘

رقصِ بسمل کی اداکارہ سارہ خان ’ہمیشہ‘ مردوں کو برا دکھانے پر نالاں کیوں؟

انھوں نے کہا کہ حالیہ ڈرامے ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں ان کے ساتھ کام کرنے والی ادااکارہ کبریٰ کی اگر شادی ہو جاتی ہے تو پھر وہ بھی اس بات کو ماننے لگیں گے۔

ان کا ازراہ مذاق کہنا تھا کہ ’اگر میرے ساتھ کام کرنے والی چار سے پانچ اداکاراؤں کی شادی ہو جاتی ہے تو پھر تو میں یہ کاروبار شروع کر دوں گا کہ میرے ساتھ تصویر لیں اور آپ کی شادی ہو جائے گی۔‘

انھوں نے بتایا ’کئی لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ سر ہمارے ساتھ شادی تصویر لے لیں ہماری شادی ہو جائے گی۔‘

عثمان مختار

BBC

ماہرہ کے ساتھ کام کا تجربہ

ماہرہ خان کے ساتھ کام کے تجربے پر اُن کا کہنا تھا کہ انھوں نے ماہرہ کو اپنے کام اور کردار پر محنت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ پہلی اداکارہ ہیں جنھیں میں نے میک اپ آرٹسٹ سے یہ کہتے ہوئے سُنا کہ مجھے اس کے لیے میک اپ مت کرو۔‘

’انھوں نے کردار میں اُتر کر اسے بہت اچھے سے نبھایا ہے۔‘

’کام کے بعد گھر چلا جاتا ہوں‘

عثمان مختار کا کہنا تھا کہ وہ اگرچہ سٹیج کے اداکار تھے لیکن جب انھیں ٹیلی ویژن کے لیے ’انا‘ ڈرامہ آفر ہوا تو اس کے بعد انھیں اتنا پیار اور توجہ ملی کہ انھوں نے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کام کرنے کے بعد زیادہ تر گھر چلا جاتا ہوں، میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس سے پہلے میرے ڈرامے اسلام آباد میں شوٹ ہوئے جہاں کام کے بعد میں گھر چلا جاتا تھا کبھی کبھار ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کراچی میں ڈرامہ کرنے کا یہ میرا پہلا تجربہ ہے اس لیے میری کوئی خاص سرگرمیاں نہیں ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words