ندا عثمان چوہدری کے لیے آسٹریا میں جسٹیشیا ایوارڈ: ’ہمارا مذاق اڑایا جاتا کہ وکالت کا شعبہ تو خواتین کے لیے ہے ہی نہیں‘

محمد زبیر خان - صحافی

’ہم لوگ جب قانون کے طالب علم تھے تو اسی وقت سمجھ میں آنا شروع ہو گیا تھا کہ عملی زندگی میں کچہری اور عدالتوں میں خاتون وکلا کے لیے گنجائش کم ہے۔ کہا جاتا تھا کہ اگر خواتین عدالتوں اور کچہریوں میں جا کر پریکٹس کریں گی تو اُن کے رشتے نہیں آئیں گے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کی نوجوان خاتون وکیل رہنما ندا عثمان چوہدری کا جنھیں آسڑیا میں بین الاقوامی ادارے ’ویمن اِن لا‘ نے اکیڈیمیا کی کیٹیگری میں ’جسٹیشیا ایوارڈ‘ سے نوازا ہے۔

ندا عثمان جنوبی ایشیا کی واحد خاتون وکیل رہنما ہیں جنھیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ پھر انھوں نے فائنل میں جگہ بنائی اور اس کے بعد انھیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

وہ قانون کے شعبہ میں خواتین وکلا کے لیے نئے مواقع، نمائندگی اور ترقی کے لیے کام کرتی ہیں۔

ندا عثمان کی نامزدگی جنوبی افریقہ کی ’وومن ان لا‘ کی رہنما آشا سنگھانیہ نے کی تھی۔ آشا سنگھانیہ کا کہنا تھا کہ وہ ندا کے کام سے بہت متاثر تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ندا نے بہت کم عمری ہی میں پاکستان کی خواتین اور قانون کے شعبے سے منسلک خواتین کے لیے کافی کام کیا اور اسی وجہ سے انھیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا۔

ندا بتاتی ہیں کہ انھیں خوشی اس بات کی ہے کہ وہ پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔

’آج مجھے ساری دنیا میں جانا پہچانا جا رہا ہے۔ جب نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے تو میں اپنے تعارف سے پہلے کہتی ہوں کہ میں پاکستانی ہوں اور ہم کسی سے پیچھے نہیں۔‘

ندا عثمان کون ہیں؟

ندا عثمان چوہدری پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر محمود اسلم کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ کامیڈی ڈرامے ’بلبلے‘ نے محمود اسلم کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔

ندا نے ابتدائی تعلیم لاہور ہی سے حاصل کی تھی۔ ایل ایل بی آنرز اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد انھوں نے پریکٹس شروع کی اور ساتھ ساتھ انھوں نے خواتین وکلا کے مسائل کے حل اور ان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر کام شروع کیا۔

وہ سنہ 2018 سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صنفی مساوات کمیٹی کی بانی رکن اور چیئر پرسن ہیں۔ وہ قانون اور انصاف کی وزارت اور گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کے ساتھ قانون کی شراکت داری کے پراجیکٹ میں خواتین کی قیادت بھی کر رہی ہیں۔

سنہ 2021 میں صنفی سکیورٹی پراجیکٹ کے ذریعہ 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل تھیں۔ اس سے قبل انھوں نے سنہ 2018 میں ’سیوا گیپ ایمرجنگ ویمن لیڈر‘ ایوارڈ بھی جیتا تھا۔

ندا کہتی ہیں کہ اُن کے والد کا تعلق شوبز جبکہ والدہ کا تعلق سہگل خاندان سے ہے۔ ندا کے مطابق ان کے والدین نے ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔

’میری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے میری والدہ کمیٹی ڈالا کرتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد ہمارے حالات اچھے ہو گئے۔ پرائیوٹ سیکٹر میں بھی والد کو کام ملنا شروع ہو گیا مگر اس معاشی مشکلات کے دور میں جس طرح والدین نے میری تربیت کی وہ مجھے اب بھی اور ساری زندگی کام آتا رہے گا۔‘

بچپن ہی سے حق کے لیے لڑنا سیکھ لیا تھا

ندا کہتی ہیں کہ بچپن میں والدین تعلیم پر توجہ ضرور دیتے تھے مگر کبھی بھی انھوں نے اچھے نمبروں کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔

’مجھے یاد ہے کہ سکول کے زمانے میں بابا سکول کی فیس مجھے دیا کرتے تھے کہ میں جا کر ادا کروں۔ میں چھوٹی سے عمر میں ہزاروں روپے گن کر ادا کرتی تھی۔ جس سے میری زندگی میں اعتماد پیدا ہوا۔‘

’اس زمانے میں میری ایک خالہ اور ملک کی ممتاز انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر روبینہ سہگل برطانیہ سے پی ایچ ڈی کر کے آئی تھیں۔ وہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی کارکن ہونے کے علاوہ سوشل ورکر تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ خاتون جج جنھوں نے ٹو فنگر ٹیسٹ کو کالعدم قرار دیا

’مجھے کہا گیا کہ آپ اللہ اللہ کریں، وکالت میں کیا کر رہی ہیں‘

متھن لام: بمبئی ہائی کورٹ میں بطور واحد خاتون وکیل ’چڑیا گھر میں نئے جانور کی طرح محسوس ہوا‘

’ڈاکٹر روبینہ سہگل میری آئیڈیل ہیں۔ ان سے میں نے سیکھا کہ اپنے حق اور دوسروں کے لیے لڑنا ہی اصل زندگی ہے۔ جس پر میں اب تک کاربند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے لیے قانون کے مضمون کا انتخاب کیا تھا۔‘

ندا کہتی ہیں کہ جب انھوں نے لا میں داخلہ لیا تو اس وقت ملک میں خواتین وکلا برائے نام ہی تھیں تاہم وہ عاصمہ جہانگیر سے بہت متاثر تھیں۔

’تعلیم کے دوران ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری حوصلہ افزائی ہوتی مگر وہاں پر یہ باتیں ہوتی تھیں کہ اس شعبے میں تو خواتین کا کوئی کردار ہی نہیں۔ یہ شعبہ خواتین کے لیے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کریمنل کیسز کا شعبہ تو خواتین وکلا کے لیے شجر ممنوعہ سمجھا جاتا تھا اور سول کورٹ پر بھی مردوں کی اجارہ داری تھی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب تعلیم مکمل کر کے انٹرشپ کرنے گئی تو پتہ چلا کہ جو کچھ ہم لوگ زمانہ طالب علمی میں سنتے تھے، حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ کوئی لا فرم خاتون وکیل کو جگہ دینے پر تیار نہ تھی۔ خواتین عدالتوں میں بہت کم پیش ہوتی تھیں۔ کچہریوں میں انھیں بیٹھنے کے لیے جگہ دستیاب نہیں تھی۔‘

ندا عثمان کے مطابق سب سے بڑھ کر ظلم یہ کہ بہت کم لوگ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

’جو کچھ کالج میں پڑھ رکھا تھا اس کا عملی وکالت سے تو کوئی تعلق نہیں تھا اور عملی وکالت سکھانے کے لیے کوئی تیار بھی نہیں تھا۔‘

’میں نے اس موقع پر فیصلہ کیا کہ مجھے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ اس پر بات کرنا ہو گی اور اپنی ساتھی خواتین وکلا کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔‘

خواتین وکلا کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر

ندا کا کہنا ہے کہ سال 2015/16 میں انھوں نے اپنے کام کا آغاز کرنے کے لیے شعبہ قانون میں خواتین کی شمولیت پر ایک رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کے بعد پتہ چلا کہ شعبہ قانون میں چند ایک خواتین وکلا کے علاوہ تو خواتین کی کوئی نمائندگی ہی نہیں۔

’اعلیٰ عدلیہ، بار کونسل، ڈسڑکٹ بار کونسلز میں تو خواتین وکلا موجود ہی نہیں اور یہ ایک تشوشناک صورتحال تھی۔ جب خواتین وکلا ہی بہت کم ہیں تو خواتین کے مسائل بھی عدالتوں میں کم ہی جگہ پاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ خواتین کی قانون کے شعبے میں عدم موجودگی سے ملک کی پچاس فیصد سے زائد آبادی متاثر ہو رہی ہے۔‘

پھر ندا عثمان نے اپنی ہی تحقیق کی روشنی میں کچھ روشن خیال وکلا کے ساتھ مل کر خواتین وکلا کی تنظیموں کی بنیاد رکھی۔

ہمارا مذاق اڑایا جاتا تھا

ندا نے بتایا کہ انھوں نے اپنے کچھ روشن خیال مرد ساتھیوں اور خواتین کے ساتھ مختلف بارز کے دورے شروع کر دیے۔

’خواتین وکلا سے ملاقاتیں کیں، ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے خواتین وکلا کے لیے مواقع تلاش کرنا شروع کیے۔‘

’ہم جب کہتے کہ خواتین وکلا کی نمائندگی میں اضافہ ہونا چاہیے۔ خواتین وکلا کو عملی پریکٹس میں زیادہ مواقع ملنے چاہییں تو ہمارا مذاق اڑایا جاتا کہ یہ شعبہ تو خواتین کے لیے ہے ہی نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بات اس حد تک تو ٹھیک تھی کہ خواتین وکلا کے لیے وسائل ہی مہیا نہیں کیے جاتے تھے۔

’کچہریوں میں خواتین وکلا کے لیے مناسب بیٹھنے کی جگہ دستیاب نہیں تھی۔ سب سے بڑھ کر وقت کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ صبح نکلو اور رات تک عدالتوں کے چکر لگاتے رہو۔‘

ندا عثمان چوہدری کا کہنا تھا کہ ان سارے مسائل کو مدنظر رکھ کر ملک بھر کے تقریباً تمام شہروں میں خواتین وکلا کی تنظیم سازی کی۔

’لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بارز اور مختلف مقامات پر سیمینار منعقد کیے۔ ان سیمناروں میں عدلیہ کے اعلیٰ افسران کو بھی دعوت دی۔ خواتین وکلا کے مسائل ان کے سامنے رکھے اور کئی مسائل حل بھی ہوئے۔ جس کے بعد خواتین وکلا کے مواقع اور نمائندگی پر کام کیا۔‘

’ہم نے دیکھا کہ اگر خواتین اپنے مسائل کی وجہ سے پریکٹس نہیں کر سکتیں تو ان کے لیے کیا مواقع ہو سکتے ہیں۔ ان مواقع کو تلاش کر کے خواتین وکلا تک اطلاعات پہنچائی گئیں۔ کئی خواتین وکلا ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پریکٹس کرنے والی خواتین وکلا تک سائلین کی رسائی کے لیے اقدامات کیے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی سائلین کو انصاف ملا اور خواتین وکلا کی پریکٹس اور کئی شعبوں میں نمائندگئی بڑھی۔

ندا عثمان چوہدری کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ چار، پانچ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد قانون کے شعبے میں خواتین کے لیے حالات بہت اچھے ہوئے ہیں مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

’مگر چند سال پہلے تک جو لوگ ہمارا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ بھی آج تسلیم کرتے ہیں خواتین کے قانون کے شعبے میں بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے کئی لوگوں تک انصاف کی رسائی ممکن ہوئی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words