افغانستان میں طالبان: نئی حکومت کے ڈپٹی وزیراعظم اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کہاں ہیں؟

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

ملا عبد الغنی برادر
Sefa Karacan/Anadolu Agency via Getty Images
ملا عبد الغنی برادر
پیر کو دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی جانب سے طالبان حکومت کے ڈپٹی وزیراعظم اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کی منظر نامے سے غیر حاضری کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے سلسلے میں ایک واٹس ایپ آڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔

اس آڈیو پیغام میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ ’کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں، میں انہی دنوں میں سفر میں تھا اور کہیں گیا ہوا تھا۔ الحمداللہ میں اور ہمارے تمام ساتھی ٹھیک ہیں۔ اکثر اوقات میڈیا ہمارے خلاف ایسے ہی شرمناک جھوٹ بولتا ہے۔‘

اس سے قبل 12 ستمبر کو ملا عبدالغنی برادر کے ایک ترجمان موسیٰ کلیم کی جانب سے ایک خط جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’جیسا کہ واٹس ایپ اور فیس بک پر یہ افواہ چل رہی ہے کہ ارگ میں طالبان کے درمیان بعض اختلافات کی وجہ سے فائرنگ ہوئی ہے اور ملا برادر اخوند زخمی یا شہید ہوئے ہیں۔ یہ سب جھوٹ ہے۔‘

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ وضاحتیں اس لیے جاری کی گئی کہ گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان میں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپوں میں کچھ ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ افغان صدارتی محل ارگ میں طالبان کے دو گروہوں کے درمیان تلخ کلامی کے نتیجے میں فائرنگ سے ملا عبدالغنی برادر شدید زخمی ہوئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ان خبروں نے اس وقت زیادہ زور پکڑا جب اتوار کو صدارتی محل سے جاری ہونے والی ویڈیو میں قطر کے وزیر خارجہ کے ساتھ طالبان قیادت کی ملاقات میں ملا عبدالغنی برادر نظر نہیں آئے تھے۔

ملا برادر زخمی نہیں ناراض ہیں

اگرچہ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قندھار میں ہیں جہاں وہ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ طالبان کے مطابق وہ بہت جلد واپس کابل آجائیں گے۔

لیکن دوحہ اور کابل میں طالبان کے دو ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ جمعرات یا جمعے کی رات کو ارگ میں ملا عبدالغنی برادر اور حقانی نیٹ ورک کے ایک وزیر خلیل الرحمان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ان کے حامیوں میں اسی تلخ کلامی پر ہاتھا پائی ہوئی تھی جس کے بعد ملا عبدالغنی برادر نئی طالبان حکومت سے ناراض ہو کر قندھار چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق جاتے وقت ملا عبدالغنی برادر نے حکومت کو بتایا کہ انھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی۔

تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری طالبان کے درمیان ایک عرصے سے اختلافات موجود تھے اور ان اختلافات میں کابل پر کنٹرول کے بعد مزید اضافہ ہوا۔

طالبان تحریک کے ایک اور ذرائع کے مطابق اگرچہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری یا عمری طالبان کے درمیان اختلافات ایک عرصے سے تھے، لیکن اب عمری یا قندھاری طالبان کے اندر بھی ملا محمد یعقوب اور ملا عبدالغنی برادر کے الگ الگ گروہ ہیں اور دونوں طالبان تحریک پر قیادت کے دعویدار ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق دوسری جانب حقانی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ ’دوسری مرتبہ اسلامی امارت ان کی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئی ہے اس لیے زیادہ حق حکمرانی حقانی نیٹ ورک کا حق بنتا ہے۔‘

دوحہ اور کابل میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر نے نئی حکومت بننے کے بعد کہا کہ ’اُنھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی جس میں صرف اور صرف مولوی اور طالبان شامل ہو۔‘

ان ذرائع کے مطابق ملا برادر کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے 20 سال میں کئی تجربے حاصل کئے ہیں اور قطر کے سیاسی دفتر میں بین الاقوامی برادری سے وعدے کئے گئے تھے کہ ایک ایسی حکومت بنائیں گے جس میں تمام اقوام کے لوگوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی بھی نمائندگی ہو۔

طالبان رہنما

BBC

کابل میں طالبان کے ایک اور ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ اختلافات حکومت بننے سے پہلے تھے، لیکن جب ان کے سربراہ کی جانب سے کابینہ کے لیے جو نام پیش کئے گئے تو سب نے اسے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

یہ بھی پڑھیے

ملا ہبت اللہ کو ہیبتوف کیوں کہا جا رہا ہے

افغان طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

طالبان کی عبوری حکومت کی تقریب حلف برداری کیوں نہ ہو سکی؟

افغانستان کا مستقبل: کیا چین طالبان حکومت کو عالمی تنہائی سے بچا پائے گا؟

کابل میں نئی حکومت کا موڈ

ادھر کابل میں موجود صحافیوں کے مطابق کابینہ کے اعلان کے باوجود اکثر اداروں میں کام نہیں ہو رہا ہے اور ابھی تک صرف ایک وزیر نے اپنا پالیسی بیان جاری کیا ہے۔

اگرچہ طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام وزارتوں نے کام شروع کر دیا ہے لیکن تاحال سرکاری تعلیمی اداروں سے لے کر کئی دیگر ادارے بند ہیں اور اگر کچھ اداروں کے دفاتر کھلے بھی ہیں تو وہاں حاضری بہت ہی کم ہے۔

افغانستان

Getty Images

کابل میں موجود پاکستانی صحافی طاہر خان کے مطابق وزیروں نے کام شروع کیا ہے لیکن پالیسی بیان ابھی تک صرف وزیر تعلیم عبدالباقی حقانی کی جانب سے جاری ہوا اور کسی وزیر کی جانب سے تاحال کوئی پالیسی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے ملک مدثر کے مطابق شہر میں بینک ابھی تک بند ہیں اور بعض مقامات پر کچھ اے ٹی ایمز فعال ہیں لیکن وہاں سے بھی مخصوص عدد سے زیادہ کی رقم نہیں نکالی جا سکتی ہے۔ ایئرپورٹ کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے ملک مدثر کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر بھی قطری اہلکار سب سے زیادہ نظر آرہے ہیں اور قطری حکومت نے ہی کابل ایئرپورٹ کی دوبارہ بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

کابل میں اگرچہ کچھ نجی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا آغاز ہو گیا ہے لیکن سرکاری یونیورسٹیاں، کالجز اور ہائی سکولز تاحال بند ہیں۔ ملک مدثر کے مطابق اکثر اساتذہ کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words