ماحولیاتی تبدیلی:زمین پر 50 سینٹی گریڈ درجۂ حرارت والے دنوں کی تعداد دگنی ہو گئی

بیکی ڈیل اور ناسوس سٹائلیانو - ڈیٹا جرنلسٹ

Image of a man trying to cool off in front of a fan
BBC
بی بی سی کی ایک تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے ہر برس ایسے انتہائی گرم دنوں کی تعداد جب درجہ حرارت 50 سیلسیئس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے، اب دگنی ہو چکی ہے۔

ایسے گرم درجہ حرارت اب دنیا کے زیادہ سے زیادہ علاقوں میں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشاہدے میں آئے ہیں، اور یہ انسانی صحت اور ہمارے رہن سہن کے انداز کے لیے چیلنجز پیش کر رہے ہیں۔

گذشتہ چار دہائیوں میں سے ہر ایک میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت والے دنوں کی کل تعداد میں اضافہ ہوا۔

سنہ 1980 اور سنہ 2009 کے درمیان، سالانہ اوسطاً 14 دن 50 سیلسیئس درجہ حرارت ہوتا تھا، جو سنہ 2010 اور سنہ 2019 کے درمیان سالانہ 26 دن تک بڑھ گیا ہے۔

اسی عرصے کے دوران، 45 سیلسیس ڈگری درجہ حرارت اور اس سے اوپر کے درجہ حرارت والے اوسطاً دنوں کا سال میں دو ہفتے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

معروف ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر فریڈرائک اوٹو کا کہنا ہے کہ ’جیواشم ایندھن (فوسِل فیول) کے استعمال کو اس اضافہ کا 100 فیصد ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔‘
Click here to see the BBC interactive
جیسا کہ پوری دنیا گرم ہو رہی ہے، انتہائی درجہ حرارت زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔

شدید گرمی انسانی زندگی اور فطرت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے اور عمارتوں، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو خراب کر سکتی ہے۔

50 سیلسیس درجہ حرارت بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے علاقوں میں دیکھا گیا ہے اور رواں برس موسم گرما میں اٹلی میں 48.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور کینیڈا میں 49.6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ریکارڈ بننے کے بعد سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوسل فیول کے استعمال میں کمی نہ آئی تو 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت والے دن بڑھ سکتے ہیں۔

ماحولیاتی محقق ڈاکٹر سیہان لی کہتے ہیں ’ہمیں تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی تیزی سے زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کریں گے، ہم سب کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا۔‘

ماحولیاتی تبدیلی

BBC

ڈاکٹر لی نے خبردار کیا کہ 'زہریلی گیسوں کے مسلسل اخراج اور عمل کی کمی کی وجہ سے، نہ صرف شدید گرمی کے واقعات زیادہ شدید ہوتے جائیں گے بلکہ یہ زیادہ تکرار کے ساتھ وقوع پذیر ہوں گے اور ہنگامی ردعمل اور بازیابی زیادہ مشکل ہو جائے گی۔‘

بی بی سی کے تجزیے سے یہ بھی پتہ چلا کہ حالیہ دہائی میں سنہ 1980 سے سنہ 2009 تک طویل مدتی اوسط کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 0.5 سیلسیئس بڑھا۔

لیکن یہ اضافہ دنیا بھر میں یکساں طور پر محسوس نہیں کیا گیا، مشرقی یورپ، جنوبی افریقہ اور برازیل میں کچھ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں ایک سیلسیئس درجہ حرارت کا اضافہ دیکھا گیا، اور آرکٹک اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں دو سیلسیئس درجہ حرارت کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سائنسدان رواں برس نومبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں حکومتوں سے کہا جائے گا کہ وہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے زہریلی گیسوں کے اخراج میں مزید کمی کرنے کے اقدامات لیں۔

گرمی کا انسانی جسم پر اثر

BBC

شدید گرمی کے اثرات

بی بی سی کا یہ تجزیہ ایک دستاویزی سیریز کا آغاز کرتا ہے جس کا نام ہے ’لائف ایٹ 50 سی‘ اس بات کی تحقیقات کرتا ہے کہ کس طرح شدید گرمی پوری دنیا میں زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔

یہاں تک کہ 50 سیلسئیس سے کم درجہ حرارت بھی انسانی صحت اور ہوا میں نمی کی لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

گذشتہ سال شائع ہونے والی رٹگرز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 1.2 ارب افراد سنہ 2100 تک گرمی کے دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہ آج کے متاثرہ افراد سے کم از کم چار گنا زیادہ ہے۔

لوگوں کو اس سے بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے ارد گرد کا منظر بدل رہا ہے، کیونکہ شدید گرمی خشک سالی اور جنگلوں میں آگ کے امکانات بڑھا رہی ہے۔

Photo of Sheikh Kazem Al Kaabi at home in central Iraq

BBC

شیخ کاظم الکعبی وسطی عراق کے ایک ایسے گاؤں میں گندم کاشت کرتے ہیں، جہاں درجہ حرارت عموماً کافی زیادہ شدید ہوتا ہے۔

اس کے اردگرد کی زمین کبھی اسے اور اس کے پڑوسیوں کی اپنی ضروریات کے لیے کافی زرخیز تھی، لیکن یہ زمین آہستہ آہستہ اب خشک اور بنجر ہو گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ساری زمین سبز تھی، لیکن وہ سب ختم ہو گیا۔ اب یہ ایک صحرا ہے، خشک سالی ہے۔‘

اس گاؤں کے تقریباً تمام لوگ دوسرے صوبوں میں کام کی تلاش کے لیے ہجرت کر گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے اپنے بھائی، عزیز دوستوں اور اچھے پڑوسیوں کو کھو دیا۔ انھوں نے میرے ساتھ سب مل جل کر زندگی بسر کی، یہاں تک کہ ہماری خوشیاں اور غم بھی سانجھے تھے۔ اب کوئی بھی میرے ساتھ کچھ شیئر کرنے والا نہیں رہا۔ میں اس خالی زمین کے ساتھ رہ رہا ہوں۔‘

ماحولیاتی تبدیلی

BBC
More on Climate Change bottom strapline
BBC

اس تحقیق کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا؟

میرے علاقے میں درجہ حرارت 50 سیلسیئس سے اوپر چلا گیا، اسے نمایاں کیوں نہیں کیا گیا؟

ریکارڈ توڑنے والے درجہ حرارت کی رپورٹیں عام طور پر کسی ایک انفرادی موسمی سٹیشن پر لی گئی پیمائش پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لیکن ہم نے جو اعداد و شمار کا مطالعہ کیا ہے وہ کسی ایک سٹیشن کے ارد گرد کے علاقوں کی نسبت ایک بڑے خطے کا احاطہ کرتے ہوئے بڑے علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر جنوبی کیلیفورنیا میں ’ڈیتھ ویلی نیشنل پارک‘ کرہ ارض پر سب سے زیادہ گرم مقامات میں سے ایک ہے۔ موسم گرما میں پارک کے بعض حصوں میں درجہ حرارت باقاعدگی سے 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے۔

تاہم جب وسیع علاقے کے لیے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے لیے ایک اوسط بناتے ہیں تو کئی مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے، 50 سیلسیئس سے نیچے کا عدد و اوسط درجہ حرارت کے طور پر بنتا ہے۔

ڈیٹا کہاں سے لیا گیا؟

بی بی سی نے روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ہائی ریزولوشن ERA5 ڈیٹاسیٹ کا استعمال کیا ہے جو کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے تیار کیا ہے۔ ان اعداد و شمار کو عموماً عالمی آب و ہوا کے رجحانات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ERA5 موسم کے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے مختلف مشاہدات کو جمع کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ جدید موسم کی پیشن گوئی کرنے والے موسمیاتی سٹیشن اور مصنوعی سیارے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے موسمیاتی ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔

یہ ماڈل دنیا کے بہت سے حصوں میں سٹیشن کی ناقص کوریج سے پیدا ہونے والی معلومات کے خلا کو پُر کرتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنے میں ہماری بہتر مدد کرتا ہے۔

ہم نے کیا تجزیہ کیا ہے؟

سنہ 1980 سے سنہ 2020 تک ہر دن کے لیے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا استعمال کرتے ہوئے ہم نے نشاندہی کی کہ درجہ حرارت کتنی بار 50 سیلسیس درجہ حرارت سے تجاوز کر گیا۔

وقت کے ساتھ رجحان کا تعین کرنے کے لیے ہم نے ہر سال کے لیے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 50 سیلسیس یا اس سے زیادہ دنوں اور مقامات کی گنتی کی۔

ہم نے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تبدیلی کو بھی دیکھا۔ ہم نے یہ کام 30 برس پہلے (1980-2009) کے مقابلے میں حالیہ دہائی (2010-2019) کے لیے زمین اور سمندر کے اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے درمیان فرق کو سمجھ کر کیا۔

کم از کم لگاتار 30 برسوں کی اوسط آب و ہوا کہلاتی ہے۔ تیس سالہ آب و ہوا کا استعمال یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ حالیہ ادوار آب و ہوا کی اوسط کا کیسے موازنہ کرتے ہیں۔

‘لوکیشن’ سے کیا مراد ہے؟

ہر ’لوکیشن‘ تقریباً 25 مربع کلومیٹر کے علاقے کا احاطہ کرتی ہے، یا خط استوا پر تقریباً 27-28 مربع کلومیٹر ہوتا ہے۔ یہ گرڈ بڑے علاقوں کا احاطہ کر سکتے ہیں اور یہ مختلف قسم کے زمین کے لینڈسکیپس پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔

یہ گرڈ 0.25 ڈگری طول بلد 0.25 ڈگری طول البلد کے مربع ہیں۔

کریڈٹ

اس تحقیق کا طریقہ کار سکول آف جغرافیہ اور ماحولیات، یونیورسٹی آف آکسفورڈ، کے ڈاکٹر سیہان لی اور برکلے ارتھ اور دی بریک تھرو انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر زیک ہاؤس فادر کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹ (ECMWF) نے اس تحقیق کی نگرانی کے لیے اس کا مزید جائزہ لیا۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر ایڈ ہاکنز کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات کے پروفیسر رچرڈ بیٹس اور ڈاکٹر جان سیزر کا خصوصی شکریہ۔

ڈیٹا تجزیہ اور صحافت کے لیے ناسوس اسٹائلیانو اور بیکی ڈیل کے مشکور ہیں۔ پرینہ شاہ، ثنا جاسمی اور جوی روکساس نے اس رپورٹ کی ڈیزائننگ کی۔ کیٹریونا موریسن، بیکی رش اور سکاٹ جارویس نے اسے تیار کیا۔ ایلیسن بنیامین نے ڈیٹا انجینئرنگ میں مدد کی۔ نمک خوشنو اور سٹیفنی سٹافورڈ نے کیس سٹڈی میں مدد کی۔ ڈاکٹر اوٹو کا انٹرویو مونیکا گارنسی نے کیا۔

آب و ہوا کے اعداد و شمار کے چارٹوں کی تصویروں کے لیے پروفیسر ایڈ ہاکنز اور یونیورسٹی آف ریڈنگ کے مشکور ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words