ناول ”وارڈ نمبر 4“ ایک جائزہ

ناول ”وارڈ نمبر 4“ کی اشاعت مارچ 2021ء میں ازونک پرنٹرز اینڈ پبلیشرز، راولپنڈی سے ہوئی۔ جس کے مصنف ”طاہر نواز“ ہیں۔

طاہر نواز نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 2017 میں افسانہ نویسی سے کیا۔ ان کا سب سے پہلا افسانہ ”لیمپ پوسٹ“ ہے۔ آپ کے اور بھی افسانے ہیں جن میں ”دیوار کے اس پار“ ، ”چناؤ“ ، ”بوڑھا گورکن“ ، ”حواس باختہ“ ، ”سگ آزاد“ ، ”پہاڑوں کا سفر“ ، ”نیم باز آنکھوں کی کہانی“ اور ”ہیں تلخ بہت“ شامل ہیں۔

افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ آپ نظم نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے۔ آپ کی نظموں میں ”چاندنی رات میں“ ، ”میرے شہر پر“ اور ”بے موسم موت کی خبر“ قابل ذکر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ”اردو داستان کی شعریات“ ، ”شہر مرگ“ اور ”وارڈ نمبر 4“ شامل ہیں۔

ڈاکٹر طاہر نواز بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد میں بطور لیکچرار، فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ناول ”وارڈ نمبر 4“ کی کہانی ایک پاگل خانے سے شروع ہوتی ہے۔ جس میں ایک ایسے پاگل کو لایا گیا جو نہیں جانتا کہ وہ پاگل ہے۔ پاگل خانے میں سینیئر ڈاکٹر ہر سوموار کو چیک اپ کے لیے آتا اور پاگلوں کا معائنہ کرتا۔ اس پاگل کو بھی یہی بتلا کر لایا گیا کہ سوموار کو اس کا معمولی چیک اپ ہو گا۔ اس کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ پاگل بڑی بے صبری سے سوموار کے دن کا انتظار کرتا رہا۔ وہ جب بھی وہاں گھبراہٹ محسوس کرتا تو اپنے کرتے کی جیب سے ایک تصویر نکال لیتا جسے دیکھنے کے بعد وہ راحت محسوس کرتا اور اپنی حالت کو بھول جاتا۔ سوموار کے دن، وہ بار بار کلرک کے پاس جا کے پوچھتا کہ ڈاکٹر کس وقت آئے گا۔ لیکن اس کے بار بار استفسار کرنے پر اسے بتایا گیا کہ ڈاکٹر کو کسی میٹنگ کے سلسلے میں کہیں جانا پڑ گیا اس لئے اب وہ اگلے ہفتے آئیں گے۔

اب اسے پھر سے ایک ہفتہ انتظار کرنا تھا۔ یعنی سات دن

ایک رات وہ سو رہا تھا، اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کا گلا دبا رہا ہے اور اس کی چھاتی پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے لیکن آنکھ کھلنے پر پتا چلا کہ یہ اس کے اپنے ہاتھ تھے۔ پھر وہ دوسرے ہاتھ سے گردن کو سہلانے لگ پڑا۔ یک دم اسے ماں کی یاد ستانے لگ پڑی اور اس نے پکارا ”ماں“ لیکن وہاں اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ آخر کار، وہ کروٹ لے کر سو گیا۔

پاگل خانہ چار وارڈوں پر مشتمل تھا۔ جس کی مختلف درجہ بندی کی گئی تھی۔ پہلا وارڈ ”وی آئی پی“ کے لئے مختص تھا۔ دوسرے میں عورتوں کو رکھا گیا تھا۔ تیسرے وارڈ میں ان پاگلوں کو رکھا جاتا تھا کہ جو موت کے آخری سٹیج پہ ہوں۔ جنہیں ایک ہی صورت میں وارڈ سے نکالا جاتا تھا۔ اور وہ تھی موت۔ جبکہ چوتھے وارڈ میں ایسے پاگلوں کو رکھا جاتا تھا کہ جن کے بارے میں گمان ہوتا تھا کہ یہ ٹھیک ہو جائیں گے۔

پاگل خانوں کے باہر پاگلوں کے حقوق کی ریلیاں نکالی جانے لگیں۔ نئے پاگل خانوں کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ یوں پاگل خانے کی چار دیواری کے باہر پاگلوں کے بہبود کی حمایت اور مخالفت میں دلائل کی چومکھی لڑائی لڑی جا رہی تھی۔ لیکن اس ساری لڑائی کا پاگل خانے کی چار دیواری کے اندر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ ان سب معاملات سے بے پرواہ وارڈ نمبر چار کا پاگل نمبر پندرہ تھا جو سمجھتا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔

سوموار کا دن آیا تو پاگل نمبر پندرہ سے رہا نہ گیا اور پاگل خانے کے ملازم کے پاس جا کے استفسار کیا کہ کیا آج ڈاکٹر آئے گا؟ ملازم نے کہا کہ آج انسانی حقوق کے وزیر نے پاگل خانے کا دورہ کرنا ہے۔ اس لئے آج ڈاکٹر نہیں آئے گا۔ یہ سن کر اس سے رہا نہ گیا اور اس نے ملازم کی ناک پر زور سے مکہ جڑ دیا۔ ملازم جھک کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔

موت نے پاگل خانے کا راستہ دیکھ لیا تھا۔ پاگل خانے میں یک دم اموات شروع ہو گئی تھیں اور کسی کے کچھ علم میں نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں تھا کہ جب پاگل خانے سے کوئی ایک میت نہ لے جائی جا رہی ہو۔ ان جانے والی میتوں نے آنے والی موت کے خوف کو بڑھا دیا تھا۔ ماسوائے پاگلوں کے۔ یہ خبر عام ہونے لگی کہ یہ وبا انسانوں سے ایک دوسرے میں منتقل ہو رہی ہے۔ تو کسی بھی شخص کو جس کا پاگل خانے سے تعلق ہے اسے باہر نہ آنے دیا جائے۔ پاگل خانے کے منتظم اعلیٰ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یک دم اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس وبا کے پھیلانے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ لیکن بہرحال وبا پاگل خانے سے پھیلی تھی جس کا وہ منتظم تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سینیئر ڈاکٹر بھی شامل تھا کیونکہ پاگلوں کی صحت کی ذمہ داری اس کے سپرد تھی۔

منچلے صحافی نے اخبار میں ایک اسٹوری چھاپ دی جس کا عنوان یہ تھا کہ ”مسیحاؤں کے روپ میں بھیڑیے“ ۔ یہ لکھنے پر منچلا صحافی ہیرو بن گیا تھا۔ جہاں پاگل خانے کا ذکر آتا وہیں اس منچلے صحافی کا آتا۔ کچھ لوگوں کو اس کی یہ شہرت ہضم نہ ہوئی اور وہ صحافی ایک روز گمنام گولی کا نشانہ بن گیا۔

پاگل خانے کے عملے پر الزام تھا کہ وہ پاگلوں کو مردہ جانوروں کا گوشت کھلاتے ہیں۔ منچلے صحافی کی اسٹوری میں صرف یہی الزام نہیں تھا۔ اور بھی تھا کہ منتظم اعلیٰ اور سینیئر ڈاکٹر پاگلوں کے اعضاء نکال کر بیچنے کے دھندے میں بھی ملوث ہیں۔

اس سبھی کا قصور وار پاگل نمبر پندرہ کو ٹھہرایا گیا اور وہ پاگل نمبر پندرہ کی موت پر متفق ہو گئے۔

پاگلوں کی بہبود کی انجمن نے ایک بار پھر سے ریلیاں نکالنا شروع کر دیں۔ بھوک ہڑتالیں ہوئیں۔ جب ریلیوں میں انتشار بڑھ گیا تو دکانیں لوٹی جانے لگیں۔

شہر میں اتنی اموات ہوئیں کہ اس قبرستان کو ”وباؤں والا قبرستان“ کا نام دے دیا گیا۔

کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی تھیں۔ اور باہر سے کوئی بھی چیز اندر نہیں بھیجی جا رہی تھی۔ پاگل خانے کے مرکزی دروازے کو اب کی بار باہر سے بند کیا گیا تھا۔ پہلی بار انہیں پاگل خانے کی حفاظتی دیوار کی بلندی کا احساس ہوا۔ وہ دیوار جو پاگلوں کو بھاگنے سے بچانے کے لیے اتنی بلند کر دی گئی تھی۔ اب وہی دیوار ان کا بھی راستہ روکے کھڑی تھی۔ رہی سہی کسر دیوار پر خار دار تار نے پوری کر دی۔ پاگل خانے میں کھانے کی ہر چیز کا صفایا ہو گیا تھا۔ ماسوائے کچن میں پاگلوں کے لیے لائے گئے گوشت کے۔ دو دن تک وہ اس انکار پڑ ڈٹے رہے لیکن ان سے رہا نہ گیا۔

اسی دوران ایک اور واقعہ پیش آیا۔ کلرک اور مونچھوں والے آدمی کو کیمرے میں ایک کمرے میں گھستے ہوئے دیکھا گیا کہ جب وہ واپس آئے تو اپنی پینٹ کے بٹن بند کر رہے تھے۔ یہ وارڈ نمبر 2 تھا۔

رات کو جب عملہ سو رہا تھا تو انہیں شور سنائی دیا۔ پاگل اپنے اپنے وارڈوں سے باہر نکل آئے تھے۔ جیسے ہی ایک پاگل نے ان پر حملہ کیا انہوں نے اس کا کام تمام کر دیا۔ اس لڑائی میں عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکل رہی تھیں جن میں ڈر واضح تھا۔ پاگلوں نے پاگل خانے کی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی۔ وارڈ نمبر 2 میں سب سے زیادہ شور سنائی دے رہا تھا۔ اس شور میں عورتوں کی چیخیں بھی شامل تھیں۔ اسی اثناء میں وارڈ نمبر چار کے پاگل نمبر پندرہ کی آنکھ کھل گئی۔ کچھ دیر کے بعد اس نے پھر سے آنکھیں بند کر لیں۔

دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو شور تھم چکا تھا۔ وارڈ میں کوئی نہیں تھا۔ سب کمروں کے دروازے کھلے تھے۔ کمرہ نمبر 9 اور 3 میں دو شخص لیٹے ہوئے تھے جن پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ وہ غیر محسوس طریقے سے وہاں سے گزر گیا۔

ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ اسے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنائی دی۔ اس نے جیسے ہی گھوم کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی تو کوئی شے زور سے اس کے سر پر لگی اور وہ وہیں گر گیا۔

دو ہفتوں کے بعد شہر میں اموات کی شرح کم ہوئی تو پاگل خانے کو ڈی سیل کر دیا گیا۔ کافی دیر کے بعد پتا چلا کہ اندر ہر چیز تباہ ہوئی پڑی ہے۔ سب لوگ مر چکے ہیں۔ کوئی بھی زندہ نہیں ہے۔ اور بد ترین بدبو پھیلی ہوئی ہے۔

پاگل خانے میں مرنے والوں کو وباؤں والے قبرستان میں دفنایا گیا۔
حکومت نے پاگل خانہ بند کر دیا۔

ناول ”وارڈ نمبر 4“ مختلف شعبوں میں بتائی گئی ہماری زندگی کی خوب عکاسی کرتا ہے۔ اس ناول میں موجود کردار ”پاگل نمبر 15“ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کردار کے لوگ آج کے سماج میں عموماً ملیں گے۔ انفرادی طور پر، طبقاتی معاشرے میں ذریعہ معاش کے بعد سب سے بڑا مسئلہ محبت ہے۔ مشہور زمانۂ قصہ لیلٰی و مجنوں۔ آج کل کا جوان بھی عشق کی آغوش میں پروان چڑھتا ہے۔ محبت کرتا ہے اور جب محبت میں ناکامی مقدر ٹھہرتی ہے تو یہی جملہ صادر آتا ہے کہ ”نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے“ ۔

پھر محب کے پاس سوائے یادوں کے کچھ نہیں بچتا اور بالآخر ایک رات کو سونے سے پہلے خدا سے اپنی موت کی جستجو کرتا ہے۔ محبت میں ناکامی کے اس پہلو کو بخوبی اس ناول میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح پاگل، محبت میں ناکامی کے بعد رات کو سونے سے پہلے اپنے مرنے کی دعا کرتا ہے مگر قبول نہیں ہوتی۔ دوسری طرف یہ کہانی مصنف کے اپنے حالات کی طرف راغب کرتی ہے کہ ممکن ہے کہ مصنف کی خود کی بپتا ہو۔ جو شخص بیمار ہوتا ہے اسی کو بیماری کی الم ناکیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو شخص بھوکا ہوتا ہے وہی انتڑیوں کی جلن محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص محبت میں ناکام ہوا ہو، وہی اس کے درد کو محسوس کر سکتا ہے۔

یہ پاگل خانہ چار وارڈوں پر مشتمل تھا جن کی مختلف درجہ بندی کی گئی تھی۔ یعنی وارڈ نمبر 1 میں اثر و رسوخ والے کہ جن کا باقاعدہ خیال رکھا جاتا تھا۔ وارڈ نمبر 2 کو عورتوں کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ وارڈ نمبر 3 ان حضرات کے لیے کہ جن کے وہاں سے نکلنے کی وجہ صرف موت تھی۔ اور وارڈ نمبر 4 جن کے صحت یاب ہونے کا امکان ہوتا تھا۔ طبقاتی نظام کو بخوبی پیش کیا گیا۔ جیسے کہ اپر کلاس، لوئر کلاس اور مڈل کلاس۔ ہسپتالوں سے لے کر بینکوں تک اشرافیہ کا راج ہے۔ ہمیشہ سے ایک ہی قانون چلا آ رہا ہے کہ بڑی مچھلی اپنے سے چھوٹی مچھلی کو اپنی خوراک بناتی ہے۔

ناول میں موجود پاگل نمبر پندرہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کہ جس میں اسے وزیر کی آمد کی وجہ سے کہ کہیں کوئی ہنگامہ برپا نہ کر دے، حکومت کی کارستانیوں کا پردہ فاش کرتا ہے۔ پاگل کو انجکشن دے کر کمرے میں بند کر دیا گیا اور عملے میں موجود ایک بندے کو پاگل کا لباس پہنا کے وزیر سے ملوایا گیا اور تصویریں بنائی گئیں۔ ساتھ میں جلی حروف میں لکھا گیا ”انسان دوستی“ ۔ یہی حال آج کی اس حکومت کا ہے۔ عموماً آئے دنوں مختلف تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں کہ حاکم وقت نے مزدوروں کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھایا۔ سڑکوں پر اکیلے بغیر کسی محافظ کے چکر لگایا۔ یہ سب دکھاوے کے سوا ہمارے لیے اور کچھ نہیں۔ حالانکہ اصل میں اگر دیکھا جائے تو جس سڑک سے حاکم وقت کا گزر ہونا ہو اسے تین گھنٹے پہلے ہی بند کر دیا جاتا ہے تو پھر غریبوں کے ساتھ ہمدردی کجا۔

اچانک سے پاگل خانے میں اموات کا شروع ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں۔ وہاں موجود عملہ اور سینیئر ڈاکٹر پاگلوں کو ہاتھ لگانے سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ بیماری انہیں نہ لگ جائے۔ اس مہلک بیماری کو ہم آج کی وبائی بیماری کہہ سکتے ہیں کہ جس میں دھڑا دھڑ اموات ہو رہی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر شرح اموات بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے کترا رہا ہے۔ جیسے کہانی میں منظر بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح ملٹری والے دفنانے کا کام سر انجام دے رہے ہیں اور کوئی بھی فرد اپنے اہل و عیال کو دفنانے نہیں جاتا۔

یہی صورتحال آج بھی ہے۔ کہ کسی کو کسی کے جنازہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں۔ جو میت ملتی ہے اسے گھر سے کہیں دور لے جا کر ملٹری والے جلا دیتے ہیں کہ کہیں یہ وبا پھر سے پھیلنے کا موجب نہ بنے۔ اسی دوران ہمارے سامنے منچلے صحافی کی کہانی آتی ہے کہ جس نے پاگل خانے میں ہونے والی اموات پر ایک اسٹوری لکھ کر چھاپ دی۔ جس کی بھر پور تشہیر کی گئی۔ اور بعد میں وہی صحافی کسی گمنام گولی کا شکار ہو گیا۔ یعنی کسی کی شہرت بھی لوگوں کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتی۔

ابھی حال ہی میں ایسا واقعہ پیش آیا کہ ایک کھلاڑی مشہور ہوا جس کی شہرت کے چرچے بیرون ملکوں میں بھی ہونے لگے۔ اس کی شہرت اس کے اپنے دوستوں کو ہی کھٹکنے لگی اور اس کا کام تمام کر دیا۔ واقعے کا دوسرا رخ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصنف کی تنقید کا نشانہ ایسے لوگ ہوں کہ جو نام کے ساتھ لکھاری لکھا ہوا چاہتے ہوں مگر

بقول شخصے : ”جو نہ بج پائے کبھی وہ بانسری بیکار ہے“ ۔

کلرک اور مونچھوں والے آدمی کا واقعہ سامنے آتا ہے کہ کیسے عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں یہ نظام رائج ہے کہ ظالم، بے کس اور بے وارث عورتوں کی عصمت کو داغ دار کرنے میں سر گرم ہیں۔ ہر شعبے میں ہمیں ایسی خواتین ملتی ہیں کہ جن کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہوتا۔ ان کو مختلف ہیلوں بہانوں سے ورغلایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں آج کل ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہیں کہ مفتی صاحب نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ہوٹل کے ایک مالک نے وہاں کام کرنے والے لڑکے کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ ڈرامہ انڈسٹری میں داخل ہونے کے لیے لڑکی کو ایک رات پروڈیوسر کے ساتھ بتانی پڑتی ہے۔ غرض کہ ڈھیروں ایسے واقعات ہیں کہ جن سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔ اس قوم کا حقیقتاً اخلاقی دیوالیہ نکل چکا ہے۔

زبان بالکل سادہ، سلیس اور عام فہم ہے۔ واقعات ایسے ایک دوسرے سے مربوط ہیں کہ گویا ایک لڑی میں پرو دیے گئے ہوں۔ قاری کو پڑھتے ہوئے کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔

اسلوب بہت اچھا ہے۔

انداز بیان ایسا ہے کہ جیسے سارے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوئے ہوں۔ الفاظ کا چناؤ بڑا عمدہ کیا گیا ہے۔ کوئی بھی لفظ گراں نہیں گزرتا۔

میری رائے ہے کہ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کرداروں کو ان کے اسموں کے بغیر استعمال کیا گیا لیکن پھر بھی قاری کے لیے کسی قسم کی بوکھلاہٹ کا باعث نہیں بنے۔ یہ مصنف کے لیے خوش آئند قدم ہے۔

دوسری بات، یہ کہانی ہمیں مصنف کی اندرونی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جو کہ ناول کی خامی ہے۔ ہمیشہ مصنف کو چاہیے کہ جب وہ کہانی لکھے تو اپنی زندگی کے دائرے سے باہر بیٹھا ہو نہ کہ اندر۔

یہ ناول 114 صفحات پر مشتمل ہے۔ ازونک پرنٹرز اینڈ پبلیشرز، راولپنڈی نے شائع کیا ہے۔ ادارے کا رابطہ نمبر 6681177۔ 0336 یہ ہے۔ ناول کی قیمت 400 روپے ہے

Latest posts by عتیق الرحمان، اسلام آباد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
عتیق الرحمان، اسلام آباد کی دیگر تحریریں