ایلزبتھ ہومز: کیا تھیرانوس سکینڈل نے سیلیکون ویلی کو ہلا کر رکھ دیا؟

جیمز کلیٹن - نارتھ امریکہ ٹیکنالوجی رپورٹر

الزبتھ ہومز
Reuters
ایلزبتھ ہومز
ایلزبتھ ہومز کچھ برس قبل تک تو سیلیکون ویلی کی ایک ’ڈارلنگ‘ تھیں اور وہ کچھ غلط تو کر ہی نہیں سکتی تھیں۔ انھوں نے بیماریوں کی تشخیص کرنے والی ’تھیرانوس‘ کمپنی کی بنیاد رکھی جس میں سیلیکون ویلی نے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

لیکن ایلزبتھ ہومز کی کمپنی کی بنیاد دراصل ایک خیالی محل تھا جو انھوں نے تعمیر کیا۔ تھیرانوس ایک ایسی ٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جس کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ وہ بیماریوں کی تشخیص میں ایک انقلاب برپا کر دے گی۔

تھیرانوس نے دعویٰ کیا تھا کہ خون کے چند قطروں کی مدد سے کیے جانا والا اُن کا ٹیسٹ کینسر اور ذیابیطس جیسی سینکڑوں دیگر سنگین بیماریوں کا فوری پتہ لگا لے گا۔

کمپنی نے ایسے ٹیسٹوں پر لاکھوں ڈالر ضائع کیے۔ کینسر کے ایک مریض کے مطابق ان ٹیسٹوں میں غلط تشخیص ہوئی تھی۔

اب تھیرانوس کمپنی کو ختم ہوئے کئی سال بیت چکے ہیں۔ الزبتھ ہومز کو کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے جہاں ان کا مؤقف ہے کہ انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔

کسی ایسے شخص کے لیے جو سیلیکون ویلی کا حصہ نہیں، اس کے لیے یہ ایک بیوقوفانہ سی کہانی ہے کہ کتنے لوگوں نے اس کو سچ مان کر اس میں سرمایہ کاری کی۔

جب تک پراڈکٹ بن نہ جائے جھوٹ بولیں

سیلیکون ویلی میں اپنی کسی پراڈکٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا کوئی نئی بات نہیں اور الزبتھ ہومز اس کام میں ماہر تھیں۔

سٹین فورڈ یونیورسٹی سے ڈراپ آؤٹ ہونے والی الزبتھ ہومز ایک بااعتماد اور خوش گفتار شخصیت ہیں جو اپنے آئیڈیا کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔

کچھ لوگوں نے ان کے آئیڈیا سے اتفاق نہیں کیا تھا اور انھیں بتایا تھا کہ ان کا آئیڈیا قابل عمل نہیں، لیکن انھوں نے اس آئیڈیا کو پراعتماد انداز میں آگے بڑھایا اور سرمایہ کاروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہیں کہ ان کی ممکنہ ٹیکنالوجی ہر چیز کو تبدیل کر کے رکھ دے گی۔

Elizabeth Holmes at court

Getty Images
ایلزبتھ ہومز کو سب سے کم عمر ارب پتی خاتون کہا جاتا تھا

مارگریٹ او مارا ’دی کوڈ: سیلیکون ویلی اینڈ ریمیکنگ آف امریکہ‘ کی مصنف ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ سیلیکون ویلی کا کلچر ہے کہ اگر آپ ایک ہرعزم نوجوان ہیں اور کسی نئی کمپنی کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس کے پاس ابھی تیار شدہ پراڈکٹ موجود نہیں تو آپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

’جب کسی نئی کمپنی کی بنیاد رکھی جا رہی ہوتی ہے تو سرمایہ کار اس شخص کو دیکھتے ہیں جو اس کا روح رواں ہوتا ہے۔‘

سیلیکون ویلی میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر ’آئیڈیا‘ کو آگے بڑھانے والا شخص عمدہ ہے تو ٹیکنالوجی باقی کمی پوری کر دے گی۔

الزبتھ ہومز خواب بیچنے میں ماہر تھیں۔ ان کا مسئلہ صرف یہ ہی تھا کہ وہ اپنے آئیڈیا کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی۔ ان کے وکلا کی دلیل ہے کہ وہ دھوکہ باز نہیں بلکہ ایک کاروباری شخصیت ہیں جن کا کاروبار کامیاب نہیں ہو سکا۔

سیلیکون ویلی میں جھوٹ کا رواج

راجر میکنامی سیلیکون ویلی کے ایک سرمایہ کار ہیں لیکن انھوں نے تھیرانوس میں سرمایہ کاری نہیں کی تھی۔ راجر کہتے ہیں کہ تھیرانوس سیلیکون ویلی کے کلچر کی عکاس ہے۔

راجر سمجھتے ہیں کہ سیلیکون ویلی میں جھوٹ بولنے اور چیزوں کو مخفی رکھنے کا رواج ہے جس نے تھیرانوس جیسی کمپنی کا تجزیہ کیے بغیر اتنا آگے جانے دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’خوش گمان ہونا اچھا ہے۔ آپ ایک اچھے مستقبل کے بارے میں سوچیں اور پھر اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کمپیوٹر اور سمارٹ فونز ایسی ہی خواہشوں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں لیکن سرمایہ کاروں کے لیے انقلابیوں اور ڈھکونسلے کرنے والوں میں فرق کرنا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔‘

گذشتہ ماہ سیلیکون ویلی کی فون ایپ کمپنی ’ہیڈسپن‘ کے سی ای او منیش لچوانی کو دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

کچھ لوگ اپنے سرمائے میں اضافے کے لیے خطرات مول لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایلزبتھ ہومز: جنھوں نے امریکہ کے بڑے بڑوں کو ’چونا‘ لگا دیا

سٹوڈنٹ ویزوں میں فراڈ کے دعوؤں کی تحقیقات

امریکہ: بستر میں پوشیدہ دو کروڑ ڈالر برآمد

سلیکون ویلی

Getty Images

سیلیکون ویلی میں تخلیقی حقوق کی کڑی حفاظت کی جاتی ہے خواہ وہ کوک نامی مشروب کو بنانے کا نسخہ ہو یا کسی چٹنی کی ترکیب۔ اسی سے کمپنی کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے آئیڈیاز کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے آئیڈیا کو کوئی چرا لے۔

ان کمپنیوں کی کامیابی کے لیے رازداری بہت اہم ہے لیکن رازداری کے اس کلچر کو دھوکہ دہی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسی وجہ سے تھیرانوس جیسے سکینڈل جنم لیتے ہیں۔ تھیرانوس نے سیاستدانوں، صحافیوں اور سرمایہ کاروں سب کو یہ ہی بتایا تھا کہ خون کے چند قطروں سے سینکڑوں بیماریوں کی تشخیص کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

اگر کسی نے اس بارے میں مزید معلومات کا تقاضا کیا تو اسے بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی ایک راز ہے اور اسے نہ تو ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مزید وضاحت پیش کی جا سکتی ہے۔

وال گرین بھی ان میں سے ہیں جنھوں نے تھیرانوس میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ کمپنی کی جانب سے معلومات کی عدم فراہمی سے نالاں تھے۔

’میں نے سیلیکون ویلی کی کئی کپمنیوں کی رپورٹنگ کی ہے اور وہ کبھی بھی نہیں بتائیں گے کہ ان کی ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے جملہ حقوق کا معاملہ ہے، جسے نہ تو افشا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔‘

یہاں کا سارا نظام اعتبار پر چلتا ہے جو تھیرانوس جیسے سکینڈل کے لیے بہترین ماحول مہیا کرتا ہے، جہاں دعوؤں کو پرکھا نہیں جا سکتا۔

سی آئی اے جیسی رازداری

ایک ایسا نظام جس میں رازداری پر اتنا زور دیا جاتا ہے وہاں وکلا کی بہت مانگ ہوتی ہے۔ ایسی کمپنیاں نہیں چاہتیں کہ ان کے ملازمین ان کے آئیڈیا کو چوری کر لیں۔ ملازمین کے ساتھ کچھ بھی افشا نہ کرنے کے معاہدے کیے جاتے ہیں۔

سیلیکون ویلی کے کلچر میں راز سے پردہ اٹھانا بہت مشکل ہے۔ جب تھیرانوس ڈوب گئی تو اس کے ملازمین نے بتایا کہ ان پر کمپنی کے بارے میں منفی بات نہ کرنے اور خاموش رہنے کے لیے بہت دباؤ تھا۔ کمپنی نے اپنی شہرت کے تحفظ کے لیے مہنگے اور جارحانہ مزاج والے وکلا کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔

’فاکس کلوو‘ کی کوری کرائیڈر ملازمین کی جانب سے غیر قانونی کام کی نشاندہی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلیکون میں یہ کوئی انھونی بات نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے نیشنل سکیورٹی میں ایک عشرہ گزارا۔ مجھے لگتا ہے کہ سیلیکون ویلی نے سی آئی اے کے طریقہ کار کو اپنا رکھا ہے۔ وہ لوگوں کو ڈرا کر خاموش کر دیتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جائز معاملات پر بھی بات نہیں کر سکتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے مالک اور چیف ایگزیکٹو ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں اور ملازمین کو خطرے کے بارے میں آگاہ کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے لیکن وہ اکثر ایسا نہیں کر پاتے۔

سیلیکون ویلی: سرمائے کا پرخطر علاقہ

اس شور میں یہ بھول جانا آسان ہے کہ ایسے سرمایہ کار جن کے پاس صحت کے شعبے کا تجربہ ہے، انھوں نے تھیرانوس کو دیکھا تھا اور اسے پاس کیا۔ میڈیا انڈسری کی جانی پہچانی شخصیت روپرٹ مرڈوک نے بھی تھیرانوس میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔

روپرٹ مرڈوک جیسے سرمایہ کار جن کی اس شعبے کی کوئی مہارت نہیں، ایک اور معاملے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے سرمایہ کار جن کے پاس سرمایہ کی فراوانی ہے وہ یہ سوچ کر تھیرانوس جیسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ چھوٹے سرمایہ کاروں نے کمپنی کی مکمل جانچ پڑتال کر لی ہو گی۔

مس اومارہ کہتی ہیں کہ چونکہ یہ سارا کاروبار ہی اعتبار پر چلتا ہے تو بعد میں آنے والے بڑے سرمایہ کار یہ سوچتے ہیں کہ شروع سے کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے اچھی طرح دیکھ بھال کر لی ہو گی۔

تھیرانوس بالاخر پکڑی گئیں جسے اب ریگولیٹر ثابت کریں گے کہ وہ جعلی کمپنی تھی۔

سلیکون ویلی میں نئی کمپنیوں پر نگرانی کا نظام اتنا سخت نہیں۔ نئی کمپنیوں میں رازداری کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات ہیں۔

اسی ماڈل پر بنائی گئی کئی کامیاب اور جدید کمینیاں وجود میں آ چکی ہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ تھیرانوس جیسی اور کمپنیوں کے سامنے آنے کے عوامل اب بھی موجود ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words