سعودی عرب کے پہاڑوں میں اونٹوں کے مجسمے دنیا میں ’قدیم ترین‘

سعودی عرب
AFP
موسم کے باعث کٹاؤ نے ان مجسموں کے بارے میں مطالعے کو مشکل بنا دیا ہے
ایک نئے مطالعے میں پایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں چٹانوں میں تراشے گئے اونٹوں کے مجسمے شاید دنیا میں جانوروں کے قدیم ترین بڑے مجسمے ہوں۔

جب سنہ 2018 میں یہ دریافت ہوئے تھے تو محققین کا اندازہ تھا کہ یہ 2000 سال تک قدیم ہوں گے۔

یہ اندازہ اردن کے مشہور قدیم شہر پیٹرا میں موجود مجسموں کی قدامت کو دیکھتے ہوئے لگایا گیا تھا۔

تاہم اب محققین نے خیال پیش کیا ہے کہ یہ سات سے آٹھ ہزار سال تک پرانے ہو سکتے ہیں۔

محققین کے لیے چٹانی مجسموں کی قدامت کا ٹھیک اندازہ لگانا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ غاروں میں بنائی گئی قدیم پینٹنگز کے مقابلے میں ان مجسموں میں کوئی نامیاتی مواد نہیں پایا جاتا جن کے ذریعے ان کی عمر کا تعین کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ اس خطے میں اس حجم کے مجسمے بھی نایاب ہیں۔

محققین نے اپنی تحقیق کے نتائج جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں شائع کروائے ہیں جس کے لیے اُنھوں نے موسم اور وقت کے باعث ہونے والے کٹاؤ، اوزاروں کے نشانات، اور سائٹ کے قریب سے پائی جانے والی جانوروں کی ہڈیوں کا معائنہ کیا۔

یوں وہ ان مجسموں کی تعمیر کے دور کا از سرِ نو تعین کر پائے۔

نئے اندازے کے مطابق یہ دیگر قدیم تعمیرات مثلاً برطانیہ میں سٹون ہینج (پانچ ہزار سال قدیم) اور اہرامِ مصر (ساڑھے چار ہزار سال قدیم) سے بھی پرانے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مجسمے اونٹوں کو انسانی استعمال میں لائے جانے سے بھی قدیم ہیں۔

اس خطے میں معاشی ترقی اونٹوں کو انسانی استعمال میں لائے جانے کے باعث ہی ممکن ہو پائی تھی۔

جب یہ مجسمے تراشے گئے تھے، اس وقت کا سعودی عرب آج سے بہت مختلف تھا۔ اُس دور میں یہاں صحرا کے بجائے گھاس کے میدان اور جا بجا جھیلیں ہوا کرتی تھیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اونٹوں کے مجسمے کیوں تراشے گئے تھے تاہم محققین کا خیال ہے کہ اس سے خانہ بدوش قبائل کو ملنے کے لیے ایک جگہ مل گئی ہو گی۔

محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ ہزاروں سال قبل اس طرح کا کام کتنا مشکل رہا ہوگا۔

زیادہ تر مجسمے زمین سے کافی بلندی پر ہیں جس کا مطلب ہے کہ سنگ تراشوں کو رسیوں سے لٹک کر یہ کام انجام دینا پڑا ہوگا۔

سعودی عرب

AFP
یہ مجسمے سب سے پہلے شمالی سعودی عرب میں تین سال قبل دریافت کیے گئے تھے
سعودی عرب

AFP
موسم کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کے باوجود ان میں کچھ نفیس نقش و نگار اب بھی نظر آ جاتے ہیں
سعودی عرب

AFP
یہ مجسمے نیولیتھیک دور یعنی پتھر کے دور کے اختتامی حصوں سے تعلق رکھتے ہیں
سعودی عرب

AFP
اس دور میں سعودی عرب آج کے دور سے نہایت مختلف تھا

تمام تصاویر کے حقوق محفوظ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words