” می سوزم ناول“ تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاصر ادیبوں میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ می سوزم ناول کی اشاعت سے پہلے ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بطور محقق، نقاد، دانشور اور افسانہ نگار تھی لیکن می سوزم ناول کے آنے سے ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے نام کے ساتھ ناول نگار کا بھی اضافہ ہو گیا۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبۂ اردو خواتین کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے کام کی بات کی جائے تو آپ مصنفہ، صحافی اور نقاد کے طور پر بارہ سال سے بھی زائد کا تجربہ رکھتی ہیں۔ آپ ان دنوں انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اردو کی معلم ہیں اس کے علاوہ کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹر برائے جنوبی ایشیائی اسٹڈیز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ بھی کر چکی ہیں۔ تانیثیت، تخلیقی آڈٹ، تحقیق اور تنقید کے موضوعات پر پندرہ سے زائد کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

می سوزم ناول کی کہانی ایک ایسی شہزادی کے گرد گھومتی ہے جو رودکی کی ہم عصر شاعرہ، خدا شناس، صاحب دین و ایمان اور متقی خاتون ہے۔ ناول کی ہیروئن رابعہ خضداری کو اس کے والد امیر کعب (جو خضدار اور بلخ کا بادشاہ تھا) نے شہزادی رابعہ کو علم و ذکاوت کے ساتھ احساس انسانیت کے زیور سے آراستہ بلخ کی شان قرار دیا تھا صرف یہی نہیں بلکہ دانشمندوں کے اجلاس میں اپنی بیٹی کی تعریفیں سن کر اسے ”زین العرب“ کا خطاب عطا کیا۔ اس حوالے سے ”می سوزم“ ناول سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

”بیٹی کی اس قدر تعریفیں سن کر امیر کعب کا دل پھولے نہ سما رہا تھا۔ امیر کعب نے اپنے نحیف شانوں سے بوجھ ہلکا ہوتے ہوئے محسوس کیا۔ رابعہ کے حسن و جمال کے ساتھ ساتھ مال اور معرفت و اسرار کی وجہ سے ہر جگہ تعریف کی جاتی تھی۔ بیٹی کی محبت اور لیاقت پر فخر کرتے ہوئے باپ نے دربار میں شامل دانشمندوں کے اجلاس میں رابعہ خضداری کو“ ذین العرب ”کا خطاب عطا کیا“ ۔

رابعہ خضداری کا بھائی حارث اپنی بہن سے حسد کرتا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن پڑھ لکھ کر کل کو ریاست کے معاملات کو سنبھالے۔ امیر کعب بلخ اور خضدار کا ایک رحم دل، بہادر اور فہم و فراست جیسی خوبیوں کا حامل بادشاہ تھا۔ اقتدار کے نشے نے امیر کعب کے بیٹے حارث کو اندھا کر دیا تھا اس نے امیر کعب کے خاص باورچی سے مل کر امیر مقام کے کھانے میں زہر کی طرح کچھ ایسی چیزیں ان کو کھانے میں ملا کر دی گئی جس سے ان کے اندرونی قوی ’کو شدید نقصان پہنچا اور آخرکار ان زہر نما چیزوں کے استعمال سے امیر مقام کے پھیپھڑے بالکل ناکارہ ہو گئے اور زندگی کی بازی ہار گئے۔

امیر مقام کے مرنے کے فوراً بعد ہی ان کا بیٹا حارث تخت نشین ہو گیا اور اس کے تخت نشین ہونے سے رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ بلخ اور خضدار کے نوجوانوں کے زبردستی فوج میں بھرتی کیا گیا، حکم نہ ماننے والوں کو جابر حکمران حارث قتل کر دیتا تھا۔ حارث ایک لا ابالی نوجوان عیش پسند طبعیت کا مالک، جس نے ہر طرف لوٹ مار قتل و غارت کا کہرام مچا رکھا تھا اور رعایا پر بھی بے جا ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا تھا تو رابعہ شہزادی سے یہ سب کچھ برداشت نہ ہوسکا، اس نے ایک بہادر اور عظیم جنگجو بیکتاش کو خط لکھا جس میں ریاست کے معاملات پر رازداری سے نظر رکھنے کی ہدایت کی اور پھر اسی جنگجو سے رابعہ شہزادی کو عشق بھی ہوجاتا ہے اور یہی عشق آخر میں رابعہ خضداری کی موت کا سبب بنتا ہے۔

حسب وعدہ اور ریاست سے وفاداری کرتے ہوئے بیکتاش نے ہر لمحہ شہزادی کا ساتھ دیا اور ایک عظیم جنگجو ہونے کے ناتے محلات میں موجود تمام سازشوں کو شہزادی کے سامنے بے نقاب کیا اور امیر مقام کی موت سے بھی پردہ اٹھایا اور ثبوت بھی پیش کیے جس میں امیر خاتون اور بادشاہ کعب کے کھانے میں زہر ملانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا بیٹا حارث ملوث تھا جسے تخت کے نشے اور اقتدار کی ہوس نے اندھا کر کر دیا تھا۔ یوں اقتدار کے نشے میں دھت حارث نے اپنے عظیم جنگجو کے ساتھ ساتھ اپنی بہن کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے بلوچستان کے قبائلی رسم و رواج، معاشی بدحالی، جنگی ماحول، سماجی گھٹن، خواتین کے حقوق کی پامالی اور اس کی سماجی حیثیت، عورت کی طرف سے اظہار عشق اور غریبوں کے استحصال کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے۔ ڈاکٹر حمیرا اشفاق احمد نے قبائلی رسم و رواج کو اپنے ناول ”می سوزم“ میں دکھایا ہے کہ کس طرح عورت کو مرد سے کمتر سمجھا جاتا ہے، پدر سری نظام ہو یا آج کے جدید دور کا جمہوری نظام عورت پھر بھی لاچار اور بے بس دکھائی دیتی ہے۔ عورت کی بے بسی اور لاچارگی کا اندازہ آپ اس اقتباس سے لگا سکتے ہیں :

”آج رات کو جشن رکھا ہے۔ اس میں دختر کعب بھی ہمارے ساتھ تشریف رکھیں گی، حارث نے سر جھٹکتے ہوئے کہا: والد محترم! یہ پردے کے اندر سے بھی تو شریک محفل ہو سکتی ہیں“ ۔

می سوزم ناول میں عشق کے فلسفے کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ عشق (محبت) میں حسب نسب، ذات پات کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ تو ہوجاتا ہے۔ یہ عشق تو بڑے آدمی کو چھوٹے آدمی سے بھی ہوجاتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ چھوٹے آدمی کو بڑے آدمی سے بھی ہوجاتا ہے، عشق کرنے کے لیے کوئی حسب نسب، ذات پات یا مذہب کی قید نہیں۔ می سوزم ناول میں شہزادی رابعہ خضداری کو اپنے غلام اور عظیم جنگجو بیکتاش سے عشق ہو جاتا ہے اور وہ شہزادی اپنے عشق کو پانے کے لیے اپنی جان تک کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔

رابعہ خضداری عشق میں حسب نسب کی قائل نہیں ہے بلکہ وہ تو کہتی ہے کہ عشق تو زندگی میں ایک نعمت کی طرح نازل ہوتا ہے اور یہ عشق کسی سے بھی ہوجاتا ہے۔ مجھ جیسی شہزادی کو بیکتاش سے عشق ہوا اور میں عشق میں بیکتاش کو غلام نہیں سمجھتی ہوں بلکہ اپنے برابر سمجھتی ہوں کیونکہ ہمارا مذہب کسی کو کم تر نہیں سمجھتا۔ کردار رابعہ خضداری کے روپ میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے عشق کے بارے میں جو تصور بیان کیا وہ کچھ اس طرح ہے :

”رعنا! عشق میں ذات پات، اونچا، بڑا حتیٰ کہ میں اور تم کا جھگڑا بھی ختم ہو جاتا ہے۔“
عشق میں حسب نسب کے حوالے سے ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیے :

”میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: بیکتاش! دنیا میں غلامی یا بادشاہی کسی کا حسب و نسب اس کے بڑے یا چھوٹے ہونے کی دلیل نہیں۔ میری درخواست ہے کہ خود کو غلام نہ کہیے۔ دنیا میں تمام انسان برابر ہیں، جس مذہب کے ہم پیرو ہیں اس میں ذات پات اور تفرقے گناہ سمجھے جاتے ہیں۔“

می سوزم ناول میں بیان کیے گئے عشق کے فلسفے کو اگر آج کے سماج میں دیکھے تو عورت اظہار محبت کرنے میں آزاد نہیں ہے، اس کی پسند نا پسند آج بھی نہیں پوچھی جاتی اور اگر سماج سے بغاوت کر کے کسی سی عشق کر بیٹھے تو اسے آج بھی غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ رابعہ خضداری جیسی کتنی خواتین ہیں جنہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر زبردستی انہیں کسی کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ می سوزم ناول میں رابعہ خضداری کو بیکتاش سے عشق کرنے کے جرم کے پاداش میں قتل کر دیا جاتا ہے۔

اس ناول کا ایک اور اہم کردار گل رعنا کا ہے جو کہ رابعہ خضداری کی دوست ہے۔ گل رعنا ہی رابعہ خضداری کے مکتوب بیکتاش تک پہنچاتی تھی اور مکتوب کے راز کو آخری سانس تک افشا نہیں کیا یہاں تک کہ حارث نے اپنی ملکہ بنانے کی پیشکش بھی کی لیکن اس نے شہزادی کے راز افشاں نہ کرنے کی قسم اٹھا رکھی تھی۔

بیکتاش بھی اس ناول کا اہم کردار ہے۔ یہ کردار بھی گل رعنا کی طرح اپنے امیر مقام کعب اور رابعہ خضداری کے ساتھ آخر تک وفادار رہتا ہے لیکن آخر میں شہزادی سے عشق کے کے جرم اور شہزادی کو ریاست کے معاملات پر اکسانے کے جرم میں زنجیروں سے باندھ کر زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اس ناول میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق احمد نے دکھایا ہے کہ طاقت کا منبع اشرافیہ کے پاس ہوتا ہے۔ اشرافیہ ہمیشہ ان مڈل کلاس کو بوقت ضرورت اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ عبدالستار گھنی مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے امیر کعب کی مہر اس شخص کے پاس تھی جسے حارث اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔ اس حوالے سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے :

”دربار میں کھڑے ہو کر اس کو یہ جواب دینا پڑے گا اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حضور میں آپ کے ساتھ گزشتہ بیس برس سے ہوں اور میری خدمات اور وفاداری پر کبھی کوئی حرف نہیں آیا لیکن اس وقت جو معمہ در پیش ہے اس میں جرم بظاہر میرا ہے لیکن اس کے پیچھے ہاتھ کسی اور کا ہے۔“

اس پر گواہی دیتے ہوئے سپہ سالار بہادر علی نے کہا کہ
”عبدالستار خان کی مہر کسی اور نے نہیں بلکہ آپ کے برخوردار حارث نے بغیر اجازت کے استعمال کی تھی“

اس ناول میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق احمد نے دکھایا کہ کس طرح ایلیٹ کلاس مڈل کلاس لوگوں کا استحصال کر رہی ہے۔ مڈل کلاس چاہے کتنی ہی قابلیت کا مظاہرہ کر لے، طاقت کا منبع، جاگیردار اور سرمایہ دار اشرافیہ کے پاس ہوتا ہے۔ اس طاقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے، اس طاقت کی چھتری تلے پناہ لینے کے لیے مڈل کلاس کو ان کی چاکری کرنی پڑتی ہے، جس کے لیے اپنی انانیت بھی اکثر قربان کرنی پڑتی ہے۔ جو ایسا نہیں کرتے، یا جن کو ایسا کرنے کا موقع نہیں ملتا، وہ اس بے انصاف، طاقت کے پجاری معاشرے میں یتیم کی طرح وقت گزارتے ہیں، جن کی عزت، آبرو، جان و مال کسی بھی طاقت ور کے ہاتھ سے کسی بھی وقت پامال ہو سکتی ہے۔ یہی کمزوری کا احساس ہے، جس کا مداوی یہ ناتواں پڑھے لکھے مڈل کلاس لوگ، طاقت وروں کی ملازمت اور وفاداری میں تلاش کرتے ہیں۔ ناول کی زبان بالکل سادہ، سلیس اور عام فہم ہے۔ واقعات ایسے ایک دوسرے سے مربوط ہیں کہ گویا ایک لڑی میں پرو دیے گئے ہوں۔ قاری کو پڑھتے ہوئے کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔

اسلوب بہت اچھا ہے۔

انداز بیان ایسا ہے کہ جیسے سارے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوئے ہوں۔ الفاظ کا چناؤ بڑا عمدہ کیا گیا ہے۔ کوئی بھی لفظ گراں نہیں گزرتا۔

حمیرا اشفاق نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے نادر اور باعمل کردار کو اپنے موزوں اسلوب نگارش اور موثر پیرایہ اظہار سے خوبصورت بنا دیا اور قاری کو مکمل ناول پڑھنے میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ انہوں نے خیالات و نظریات، جذبات و احساسات اور داعیات و میلانات کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کا اظہار خوبصورت اور دلکش اسلوب بیان سے کیا ہے جس میں ندرت و قدرت بھی ہے اور فصاحت و بلاغت بھی۔ ان کا یہ ناول اچھی زبان اور دلکش اسلوب بیان کی دل آویزی و تاثیر کا ضامن ہے۔

Latest posts by آکاش علی مغل (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آکاش علی مغل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments