حیدرآباد: کمسن بچی سے ریپ کے ملزم کی موت ’خودکشی یا ماورائے عدالت قتل‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں جب بچی سے ریپ کرنے والے مشتبہ ملزم کی لاش ریلوے ٹریک پر ملی تو پولیس نے بتایا کہ اس شخص نے ٹرین کے سامنے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔

لیکن 30 سالہ مشتبہ ملزم کے اہل خانہ اور حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے بعض کارکنوں نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے اس شخص کو ‘جعلی مقابلے’ میں مارا ہے۔

واضح رہے کہ چھ سالہ بچی گذشتہ ہفتے اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کی لاش چند گھنٹے بعد ملزم کے گھر سے ملی جو اس کا پڑوسی تھا۔ پوسٹ مارٹم میں ریپ اور گلا گھونٹنے کی وجہ سے موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس مذموم فعل کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا، جس میں سیاستدان، تیلگو سینما کے اداکار اور دیگر شہری بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ سوشل میڈیا پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور بہت سے لوگوں نے حملہ آور کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔

ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد میں مشتبہ شخص کے گھر پر ایک ہجوم نے حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جبکہ اس کے سامان کو باہر سڑک پر پھینک دیا۔ بہت سے لوگوں نے 30 سالہ شخص کے ‘انکاؤنٹر’ کا مطالبہ کیا جو کہ ماورائے عدالت قتل کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

انڈیا میں پولیس کی طرف سے پُھرتی دکھانے کی طرز پر کیے جانے والے قتل کو اکثر عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے، خاص طور پر ریپ کے معاملے میں جہاں غیر معمولی بربریت ہوتی ہے یا جہاں متاثرین چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔

انڈیا میں ہر سال دسیوں ہزار ریپ کی رپورٹ درج ہوتی ہے اور بہت سے لوگ کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی نظام کی سست رفتار سے مایوس ہیں کیونکہ عدالتوں سے انصاف کی فراہمی میں کئی برس حتیٰ کہ کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

پولیس نے رواں ہفتے کے اوائل میں ریپ کے ملزم کی تصویر جاری کی تھی اور اس کی گرفتاری میں معاون معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 10 لاکھ روپے (تقریبا ساڑھے 13 ہزار امریکی ڈالر) کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی تیلگو کو بتایا کہ پالاکونڈا راجو کی لاش ملی ہے اور یہ ‘خودکشی کا واضح معاملہ’ لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مردہ شخص کے بازوؤں پر ٹیٹو سے اس کی شناخت میں مدد ملی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پولیس مقابلے ریپ کو ختم کر سکتے ہیں؟

حیدرآباد: خاتون کے ریپ، قتل کے ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

کیا انڈیا کا عدالتی نظام ریپ کے مقدمات سے نمٹنے میں ناکام ہے؟

ایک سینیئر پولیس عہدیدار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ریلوے ملازم نے راجو کو پٹریوں پر چلتے دیکھا اور اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی ایک ٹرین نے اسے ٹکر مار دی۔

لیکن بہت سے لوگوں نے واقعات کے متعلق پولیس کے مؤقف پر سوال اٹھایا ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے اسے حراست میں لیا، اسے قتل کیا اور اب اسے خودکشی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

راجو کی بیوی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جمعرات کی صبح انھیں پولیس کا فون آیا کہ وہ اپنے شوہر سے ملنے سٹیشن جائیں۔ بہت سے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اتوار کے روز ریاست کے وزیر کے ٹی راماراؤ نے ٹویٹ کیا تھا کہ راجو کو جرم کے چند گھنٹوں کے اندر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن بعد میں انھوں نے اپنا ٹویٹ واپس لیتے ہوئے کہا کہ پولیس ابھی تک ملزم کی تلاش میں ہے۔

جشن

Getty Images
سنہ 2019 میں چار ملزمان کے مارے جانے پر لوگوں نے جشن منایا تھا

راجو کی لاش ملنے سے دو دن پہلے ریاست کے وزیرِ محنت ملّا ریڈی نے فخریہ انداز میں کہا کہ ‘ہم ریپ کرنے والے اور قاتل کو پکڑ لیں گے اور اس کا انکاؤنٹر کر دیں گے۔’

حیدرآباد میں ماہر معاشیات اور وکیل پروفیسر کلپنا کنابیرن نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘پولیس پر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہے کہ یہ (جعلی) انکاؤنٹر کا معاملہ نہیں تھا۔’

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حیدرآباد کی پولیس پر ریپ کے معاملے میں فوری انصاف دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دسمبر سنہ 2019 میں سٹی پولیس نے ایک 27 سالہ خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ ریپ اور قتل کے شبہ میں چار افراد کو گولی مار دی تھی۔

یہ افراد پولیس کی حراست میں تھے اور انھیں واپس جائے واقعے پر لے جایا گیا جہاں انھیں قتل کر دیا گیا۔

پرانے معملے میں پولیس نے بتایا کہ مشتبہ افراد کو اس وقت گولی ماری گئی جب انھوں نے افسران کی بندوقیں چھیننے اور فرار ہونے کی کوشش کی تاہم انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا کہ یہ ماورائے عدالت قتل ہیں۔ انڈیا کی سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی ایک کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں چاروں کی موت واقع ہوئی تھی۔

انڈیا میں ان چاروں کے قتل کا جشن منایا گیا، لوگوں نے آتش بازی کی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ حیدرآباد پولیس کو ہیرو کے طور پر سراہا گیا اور سینیئر پولیس حکام کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔

پروفیسر کنابیرن کا کہنا ہے کہ ‘آپ سڑکوں کو قتل کے میدانوں میں بدل کر ریپ کو نہیں روک سکتے۔ دسمبر 2019 میں پولیس نے ریپ کے مشتبہ چار افراد کو گولی مار کر ایک مثال قائم کی لیکن کیا اس سے جنسی حملوں کو روکنے میں مدد ملی؟’

انھوں نے کہا کہ ‘اندھے انتقام اور اس پر کھلی چھوٹ’ کو عورتوں کے لیے بطور انصاف استعمال کرنے کا خیال ‘بہت بے سمت’ ہے۔

انھوں نے کہا: ‘یہاں تک کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ ریپ اور قتل کے مقدمات میں ملزمان کو مارنے سے انصاف مل سکتا ہے تو کیا انصاف کی انتہا سڑکوں پر قتل سے ہوگی یا ان کی مناسب تفتیش اور مقدمے کی سماعت کی جانی چاہیے؟

‘پولیس آسان راستہ اختیار کرتی ہے جس سے اسے مناسب تفتیش کرنے یا مضبوط کیس بنانے کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ لیکن انصاف تب ہوتا ہے جب ہر معاملے میں مکمل اور منصفانہ تفتیش ہو۔ اور اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا بہت ہی قابل رحم بات ہے۔’


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21822 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments