نوجوت سنگھ سدھو کے جنرل باجوہ اور وزیرِ اعظم عمران خان سے تعلقات ہیں، وزیر اعلیٰ کے لیے نامزدگی کے خلاف ہوں: کیپٹن امریندر سنگھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نوجوت سنگھ سدھو کے نام کی مخالفت کریں گے۔

نیوز ایجنسی اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں ملک کی خاطر وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کے نام کی مخالفت کروں گا۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، وہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ان کے دوست ہیں اور وہاں کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔‘

یاد رہے کہ سدھو کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس وقت امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ انھیں پاکستان نہیں جانا چاہیے۔

تاہم اس وقت سدھو نے ان کا مشورہ نہیں سنا اور پاکستان چلے گئے۔

اے ایف پی

AFP
نوجوت سنگھ سدھو اور عمران خان

اس کے بعد وہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بغلگیر بھی ہوئے تھے، جس کے لیے کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو پر کڑی تنقید کی تھی۔

سدھو نے کہا تھا کہ جنرل باجوہ نے انھیں بتایا تھا کہ پاکستان کرتار پور راہداری کو حقیقت بنتا دیکھنا چاہتا ہیں۔

کرتارپور سکھوں کا ایک مشہور مذہبی مقام ہے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری چند سال یہاں گزارے۔ یہ جگہ اب پاکستان میں ہے۔

کیا سونیا گاندھی نئے وزیراعلیٰ کا فیصلہ کریں گی؟

پنجاب کانگریس کے ارکان اسمبلی کی اہم اجلاس کے بعد ہریش راوت نے کہا کہ میٹنگ میں دو تجاویز کو قبول کیا گیا ہے۔

ہریش راوت نے کہا کہ کیپٹن امریندر سنگھ نے پنجاب میں اچھا کام کیا ہے اور پارٹی کو امید ہے کہ وہ ان کی رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

پارٹی کی دوسری اہم تجویز نئے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے تھی۔ ہریش راوت نے کہا کہ سونیا گاندھی فیصلہ کریں گی کہ نیا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔

کانگریس کے ممبران اسمبلی نے اجلاس سے پہلے اپنے استعفے جمع کروائے۔

اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سنیچر کی شام کو گورنر بنواری لال پروہت سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق گورنر نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل جب کیپٹن امریندر سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی تو ہریش راوت کو معاملے کو حل کرنے کے لیے دونوں فریقوں سے بات کرنی پڑی۔

یہ بھی پڑھیے

’جنرل باجوہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے‘

’مذاکرات سے تنازعات کا حل، تجارت عوام کی زندگیوں میں بہتری کا آسان نسخہ‘

باسمتی چاول کے جی آئی ٹیگ پر پاکستان اور انڈیا کا جھگڑا ہے کیا؟

تنازع ختم نہیں ہوا

قیاس کیا جا رہا ہے کہ ریاستی کانگریس میں تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہ معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔

ہریش راوت اور نوجوت سنگھ سدھو سنیچر کی شام ہونے والی اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔

https://twitter.com/ANI/status/1439219430584508417?s=20

یہ کہاں سے شروع ہوا

نوجوت سنگھ سدھو اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جب سدھو نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت سے یہ تنازع شروع ہوا۔

اگرچہ انھیں کیپٹن امریندرسنگھ کی حکومت میں وزیر کا عہدہ بھی دیا گیا تھا لیکن دونوں کے درمیان خراب تعلقات کے بعد انھوں نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21148 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments