انسپیریشن فور: خلا میں جانے والے غیر پیشہ ور خلاباز خلائی سیاحت کے بعد زمین پر لوٹ آئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلا
Reuters
خلا میں جانے والے غیر پیشہ ور خلاباز تین دن خلا میں گزارنے کے بعد بحفاظت بحرِ اٹلانٹک میں لینڈ کر گئے ہیں۔

یہ پہلی ایسی نجی خلائی پرواز ہے جس کا پورا عملہ عام لوگوں پر مشتمل تھا اور جنھیں خلائی پرواز کا اس سے پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا۔

انسپیریشن فور کے عملے کو بدھ کے روز فلوریڈا سے سپیس ایکس کے ایک کیپسول میں لانچ کیا گیا تھا اور وہ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے (عالمی وقت کے مطابق رات 11 بجے) فلوریڈا کے ساحل کے پاس لینڈ کر گئے۔

چار پیراشوٹس نے لینڈنگ سے پہلے اس کیپسول کی رفتار بتدریج گھٹائی جہاں سپیس ایکس کی کشتیاں اُنھیں لینے کے لیے پہنچ گئیں۔

انسپیریشن فور کی ٹیم کی قیادت ارب پتی کاروباری شخصیت جیرڈ آئزیک مین کر رہے تھے۔ وہ ای کامرس کمپنی شفٹ 4 پیمنٹس کے 38 سالہ چیف ایگزیکٹیو ہیں اور اُنھوں نے مشن ‘کمانڈر’ کا کردار ادا کیا۔

اُنھوں نے ارب پتی شخصیت ایلون مسک کو اُن کے خلائی کیپسول کریو ڈریگن میں تمام چار سیٹوں کے لیے خفیہ رقم ادا کی تھی جس کا تخمینہ ٹائم میگزین نے 20 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ لگایا ہے۔

جیرڈ آئزیک مین نے ہی اپنے ساتھ جانے والے تین اجنبی لوگوں کا انتخاب کیا تھا جس میں ایک جیو سائنٹسٹ اور ناسا میں خلابازی کے سابق اُمید وار 51 سالہ سیان پروکٹر، فزیشن اسسٹنٹ اور بچپن میں ہڈیوں کے کینسر کو شکست دینے والی 29 سالہ ہیلی آرسنا، اور ایروسپیس ڈیٹا انجینیئر اور ایئرفورس کے سابق رکن 42 سالہ کرس سیمبروسکی شامل تھے۔

جیرڈ آئزیک مین نے لینڈ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد ریڈیو پر کہا: ‘یہ ہمارے لیے کیا ہی شاندار سفر تھا۔ ابھی تو بس شروعات ہوئی ہے۔’

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی انسانوں کو خلا میں لے جا کر واپس لائی ہے۔

اور اس سے خلائی سیاحت کی مارکیٹ میں ایک نیا سنگِ میل عبور ہوا ہے۔

ایلون مسک نے ان چاروں کی بحفاظت واپسی کے کچھ ہی بعد ٹویٹ کی: ‘مبارک ہو @inspiration4x

https://twitter.com/elonmusk/status/1439366880310046721

اس کے علاوہ مشن ڈائریکٹر ٹوڈ ایرکسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘دوسرے خلائی دور میں خوش آمدید۔’ اُنھوں نے کہا کہ اس کے بعد ‘خلائی سفر عام مرد و خواتین کی مزید دسترس میں آ گیا ہے۔’

خلائی کیپسول کے تمام کمپیوٹر سسٹمز ڈریگن کیپسول کے ہی کنٹرول میں تھے تاہم زمین پر موجود سپیس ایکس کی ٹیمیں ان پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

اس کیپسول کا مقصد بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) تک جانا نہیں تھا، اس کے بجائے یہ 575 کلومیٹر کی بلندی پر ‘آزادانہ پرواز’ کرتا رہا۔

اس مشن کے لیے عملے کو چھ ماہ تک تربیت دی گئی تھی اور پرواز کے دوران اُنھوں نے روز 15 سے زائد مرتبہ زمین کا چکر لگایا۔

خلا

Reuters

اس دوران ماہرین اُن کے خون میں آکسیجن کی سطح، نیند، ذہنی صلاحیتوں اور دیگر اہم علامات کا جائزہ لیتے رہے جس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ خلائی سفر کا غیر پیشہ ور افراد پر کیا اثر ہوتا ہے۔

اس سفر کے ذریعے ریاست ٹینیسی میں واقع سینٹ جوڈز چلڈرن ریسرچ ہسپتال کے لیے رقم جمع کی گئی جہاں ہیلی آرسناکس کا بچپن میں کینسر کا علاج ہوا تھا۔ وہ اب وہیں کام کرتی ہیں۔

ان چاروں نے اپنے ساتھ خلا میں لے جائی گئی چیزوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ایک ساز بھی شامل ہے۔

ایلون مسک کے علاوہ کمرشل خلائی سفر کی دوڑ میں ارب پتی کاروباری شخصیات سر رچرڈ برینسن اور جیف بیزوس بھی شامل ہیں۔

دونوں ہی رواں سال اپنی خلائی گاڑیوں میں زمین کی فضا سے اوپر تک کا سفر کر کے واپس آئے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21144 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments