سونے کا تمغہ جیتنے والی جعلی پیرالمپکس ٹیم: ’مجھے اس دھوکہ دہی کا علم نہیں تھا‘، پیرالمپک کمیٹی کے نائب صدر کا جرم سے انکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Fernando Martín Vicente (right) at the Sydney Paralympics with Miguel Sagarra (left) and the then president of the International Olympic Committee, Juan Antonio Samaranch
EFE
محدود ذہنی صلاحیت کی حامل باسکٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کے انتخاب میں دھوکہ دہی سے کام لینے اور پھر ٹیم کو 2000 میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے پیرا اولمپک مقابلوں میں شریک کر کے طلائی تمغہ جتوانے میں کردار ادا کرنے کا قصوروار ٹھہرائے جانے والے شخص نے اس بات کا انکار کر دیا ہے کہ اس معاملے میں اسے کسی بھی قسم کی کوئی معلومات تھیں۔ سنہ 2013 میں اپنی سزا کے بعد پہلی بار انھوں نے بات کی ہے اور یہ مؤقف دیا ہے کہ جن الزامات کی بنیاد پر اسے سزا سنائی گئی تھی وہ غیر مناسب اور بے بنیاد نوعیت کے الزامات تھے۔

اس صورتحال کو کچھ مبصرین نے کھیل کی تاریخ میں دھوکہ دہی کی بدترین مثال قرار دیا تھا۔

یہ معاملہ ہے کیا؟

جب سنہ 2000 میں سپین کی محدود ذہنی صلاحتیوں کی حامل باسکٹ بال ٹیم نے سڈنی میں ہونے والے پیرالمپک مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا تو اس کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ دراصل اس 12 رکنی ٹیم میں صرف دو افراد ہی معذوری کا شکار تھے۔ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد 2004 سے لے کر 2008 تک پیرالمپکس میں انٹیلیکچوئل ڈس ایبلٹی یعنی محدود ذہنی صلاحیت کے حامل ایتھلیٹس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی جس سے دنیا بھر میں ہزاروں کھلاڑیوں کا مستقبل تاریک ہو کر رہ گیا۔ سپین کی ایک عدالت نے سنہ 2013 میں فرنینڈو مارٹین وسنتے کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے باسکٹ بال ٹیم کے لیے قابل اور ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے جنھیں کسی بھی قسم کی کوئی معذوری کا سامنا نہیں تھا کے الزامات میں قصوروار ٹھہرایا تھا۔ واضح رہے کہ فرنینڈو مارٹین اس وقت سپین کے محدود ذہنی صلاحتیوں کی حامل کھلاڑیوں کی سپورٹس فیڈریشن کے صدر اور سپین کی پیرالمپک کمیٹی کے نائب صدر تھے۔ جب فرنینڈو مارٹین نے اس دھوکہ دہی کی ذمہ داری قبول کر لی اور 5400 یورو جرمانہ ادا کر دیا تو عدالت نے دس جعلی پیرالمپینز سمیت 18 دیگر مدعا علیہان کو اس مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

مگر اس سکینڈل اور عدالتی کارروائی پر پہلی بار لب کشائی کرتے ہوئے فرنینڈو مارٹین نے بی بی سی کو تین صفحات پر مشتمل ایک خط لکھا ہے اور اس سارے معاملے میں کسی بھی طرح ملوث رہنے سے صاف انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کیسے ہوا؟ کس نے ایسا کرنے کا کہا؟ کن ڈاکٹرز یا پروفیشنلز نے ایسے کھلاڑیوں کی فہرست مرتب کی؟ یقین مانیے کہ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔‘

مگر فرنینڈو مارٹین نے الزام تسلیم کیوں کیا تھا؟

فرنینڈو مارٹین کا کہنا ہے کہ انھوں نے بطور فیڈریشن کے صدر کے عدالت میں یہ الزام اپنے سر لیا تھا مگر وہ معذور افراد کو کھیلوں میں شامل کرنے والی شخصیت ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے ان کی بیٹی کی بچپن میں ہی ذہنی معذوری کی تشخیص کی تھی، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان پر عائد کیے جانے والے الزامات کس حد تک بے بنیاد تھے۔ اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ فرنینڈو مارٹین کی وجہ سے سنہ 1996 میں معذوری کے شکار کھلاڑیوں کو بھی پیرالمپک مقابلوں میں شامل کیا گیا تھا اور پھر یہ سلسلہ سنہ 2000 تک جاری رہا۔ مگر ان کی وجہ سے یہ سلسلہ تعطل کا بھی شکار ہوا۔

باسکٹ بال

EPA
باسکٹ بال ٹیم وہ گولڈ میڈلز پہنے ہوئے ہے جو اُنھیں واپس کرنے پڑے۔ فرنینڈو کھلاڑیوں کے پیچھے بھوری جیکٹ میں کھڑے ہیں

سپین کی پیرالمپک کمیٹی کے سیکریٹری جنرل میول سگارا، جنھوں نے اس سارے معاملے کی تحقیقات کی تھیں، نے فرنینڈو مارٹین کے مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیم کے سابق سربراہ کی طرف سے اپنے اوپر الزامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ناممکن ہے (کہ فرنینڈو مارٹین کو اس بارے میں کوئی معلومات نہ ہوں)۔ ان کے مطابق جو کوئی بھی فرنینڈو مارٹین کو جانتا ہے وہ یہی کہے گا کہ یہ سو فیصد ناممکن ہے کہ ایسی کوئی چیز ان کی معلومات کے بغیر ہی سر انجام پا گئی ہو۔‘

ان کے مطابق یہ الزامات بہت اچھے طریقے سے ثابت کیے گئے۔

عدالت کے جج نے اپنے حتمی فیصلے میں لکھا ہے کہ سب کچھ فرنینڈو مارٹین کے احکامات اور ہدایات پر ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ فرنینڈو مارٹین کا معذور افراد سے متعلق ریکارڈ کا ان کی سزا یا معصومیت سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

اس سکینڈل سے سب سے زیادہ اس ٹیم کے کپتان رومن توریس متاثر ہوئے جو ان دو کھلاڑیوں میں شامل تھے جو حقیقت میں محدود ذہنی صلاحیتوں کے حامل تھے اور انھوں نے دیگر کھلاڑیوں کی طرح اپنے میڈلز واپس کر دیے۔ اس ٹیم کے کپتان کے مطابق انھوں نے اس وقت بھی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا تھا مگر انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک سے کیا جا رہا ہے۔

رومن توریس کے مطابق فرنینڈو مارٹین نے کہا تھا کہ انھیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سب کچھ ان کے علم میں تھا۔ میری سوچ کے مطابق وہ ایک عظیم انسان تھے۔ انھوں نے جو غلط کیا ہے۔ اس کے بارے میں انھیں معافی مانگنی چاہیے اور اس پر میں بہت، بہت خوش ہوں گا۔‘

ڈین پیپر، جن سے 2004 سے 2008 تک محدود ذہنی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں پر پابندی کی بدولت تیراکی کے مقابلوں میں حصہ لے کر طلائی تمغہ جیتنے کا موقع ضائع ہو گیا، کا کہنا ہے کہ فرنینڈو مارٹین کا انکار بس زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اولمپک جذبے‘ کی 10 مثالیں: وہ لمحہ جس نے عمران خان کو بھی متاثر کیا

حیدر علی: پولیو کا شکار کھلاڑی جس نے والد کا گولڈ میڈل کا خواب پورا کر دکھایا

ان کے مطابق وہ (فرنینڈو مارٹین) اس سے قبل اس بارے میں خاموش رہے اور اب وہ اس دعوے کے ساتھ سامنے آئے ہیں کہ ان کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں رہا۔۔ یہ سراسر پاگل پن دکھائی دیتا ہے۔‘

اگر فرنینڈو نے یہ فراڈ کیا تھا جیسا کہ عدالت نے انھیں مجرم ٹھہرایا ہے تو پھر انھوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟

میول ساگارا کے خیال میں انھوں نے ایسا اس وجہ سے کیا کہ وہ سپین کی محدود ذہنی صلاحتیوں کی حامل ٹیم کا مقام بڑھانا چاہتے تھے اور وہ اس شعبے میں اپنے آپ کو ایک رہنما کے طور پر پیش کرنے کے خواہاں تھے۔

ان کے مطابق فرنینڈو مارٹین نے اس وجہ سے بھی ایسا کیا ہو گا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں کہ جنھوں نے محدود ذہنی صلاحتیوں کے حامل کھلاڑیوں کو اس عروج تک پہنچایا ہے اور اب ان کے خیال میں اس قسم کی بے قاعدگیاں جو وہ کر رہے تھے کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں دے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments