اسلامی انتہاپسندی کے علاوہ دہشت گردی کے دیگر عوامل پر بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے تاجکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی صورت حال پر سیر حاصل گفتگو کے علاوہ دہشت گردی کی وجوہ اور دنیا میں نسل پرست اور دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں کا دہشت گردی کے حوالے سے خطرہ بننے کا حوالہ بھی دیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں پائے جانے والے تعصب اور ابھرنے والے تنازعات کے پس منظر میں یہ ایک جائز اور ٹھوس موقف ہے۔

وزیر اعظم کا یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ صرف مسلمانوں کو دہشت گردی کی وجہ قرار دینے سے دنیا کو اس رجحان سے نہیں بچایا جاسکتا۔ البتہ مسلمان لیڈروں کو یہ موقف زمینی حقائق، حالات کی وسیع تر تصویر اور تمام پہلوؤں کو یکساں اہمیت دیتے ہوئے اختیار کرنا چاہیے۔ اگر دائیں بازو کی نسل پرستی، ہندو انتہاپسندی اور مغربی ممالک میں سیاسی مقبولیت کے لئے اسلاموفوبیا کی ابھرتی ہوئی لہر کا حوالہ دے کر مسلمان ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، نا انصافی، سماجی ناہمواری یا بعض گروہوں کی اسلام کے نام پر دہشت گردی کے سنگین واقعات کا بالواسطہ ’دفاع‘ کرنے کے لئے ایسی باتیں کی جائیں گی تو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بحث میں توازن پیدا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ نہ ہی اہم ترین عالمی فورمز پر تصویر کا یہ پہلو اجاگر کرتے ہوئے اسے تسلیم کروایا جا سکے گا۔ اس موقف میں توازن پیدا کرنے اور یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان بھی گزشتہ دو دہائیوں سے اسلام کے نام پر ابھرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اتنا ہی ہلاکت خیز سمجھتے ہیں جتنا امریکہ یا دیگر مغربی ممالک کی طرف سے ان کی انسانیت دشمنی کے خلاف بات کی جاتی ہے۔ تب ہی یہ موقف قابل غور ہو سکتا ہے۔

مسلمان لیڈروں اور ممالک کے لئے یہ بحث اس حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اسلام کی انتہاپسندانہ توجیہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں جس دہشت گردی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں ہی کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ دہشت گرد گروہوں نے اگرچہ مغرب کو اپنا دشمن قرار دے کر وہاں بھی حملے کیے لیکن اس کے ساتھ ہی مسلمان ممالک کی حکومتوں کو مغرب کا پٹھو اور اسلام دشمن قرار دے کر مختلف مسلمان ممالک میں خود کش حملوں، دھماکوں اور خوں ریزی کا المناک سلسلہ شروع کیا گیا۔ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کا ماضی اور موجودہ دعوے اس رویہ کی واضح مثال ہیں۔ اسی طرح افغانستان، عراق اور شام میں شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں اگرچہ یہ انتہا پسند گروہ ’جنگ‘ تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کر رہے تھے لیکن درحقیقت ان کا نشانہ مسلمان عوام تھے۔

ان ممالک میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہونے والی شہری ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ اتحادی افواج کی کارروائیوں میں مارے جانے والے لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ اس خوں ریزی کو سیاسی مقاصد کے لئے ضرور امریکہ کا جرم قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس سے زمینی حقیقت اور دہشت گرد گروہوں کی سفاکی کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ بدقسمتی سے یہ سب گروہ تسلسل سے اسلام کے نام پر یہ گھناؤنی اور انسانیت سوز حرکتیں کرتے رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کی طرف سے اگرچہ ان گروہوں کو کبھی اسلام یا عوام کا نمائندہ تسلیم نہیں کیا گیا لیکن مسلمان آبادیوں میں ان کی پذیرائی میں بھی کمی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے دہشت گردی کے بارے میں مسلمان ممالک کبھی بھی کوئی دو ٹوک اور غیر متزلزل عزم سامنے نہیں لا سکے۔ یہ رویہ دیگر انتہاپسندانہ رجحانات کے بارے میں مسلمان دانشوروں یا لیڈروں کے دلائل کو کمزور کرتا ہے۔ اور انہیں بالواسطہ طور سے اسلامی انتہا پسندی کے لئے ’حجت‘ ہی سمجھا جاتا ہے۔

دوشنبے میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’دنیا نے امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی منائی اور یاد دلایا گیا کہ عالمی برادری کی بہترین کوششوں کے باوجود دہشت گردی کے خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ لیکن ایک مذہب کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے سے دنیا بھر میں دائیں بازو، پاپولسٹ اور بالادست گروہوں کو پروپیگنڈا کرنے، اکٹھا ہونے اور اثر و رسوخ پیدا کرنے کے قابل بنایا ہے۔ کچھ معاملات میں اس طرح کے انتہا پسند اور متعصب نظریات نام نہاد جمہوریتوں میں ریاستی اقتدار پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ اگر ہم ان خطرات اور چیلنجز کو نظرانداز کرتے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکے گی‘ ۔ وزیر اعظم کی یہ بات درست ہونے کے باوجود اسی وقت قابل غور سمجھی جائے گی جب پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہونے والے دہشت گرد گروہوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ تسلیم کرے گا کہ ان گروہوں نے اسلام کو دلیل کے طور پر استعمال کر کے نہ صرف اسلامی احکامات کا غلط استعمال کیا بلکہ دنیا کو یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ اسلامی تعلیمات اپنے ماننے والوں کو نظام کے خلاف بغاوت کرنے اور اپنے عقیدے کے مطابق حکومت قائم کرنے کے لئے خوں ریزی کا ہی سبق دیتی ہیں۔

سیاسی مقاصد کے لئے خود عمران خان یہ ہتھکنڈے اختیار کرتے رہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بارے میں ’تبدیل شدہ حقیقت‘ کا عذر تراش کر جو دلائل دیے جاتے ہیں، ان سے انتہاپسندی سے بریت اور سیاسی حقیقت حال میں فرق واضح نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان طالبان یا اس جیسے گروہوں کی دہشت گردی اور خوں ریزی کو تو مسترد کرتا ہے لیکن اس وقت افغانستان کے تناظر میں طالبان کے ساتھ تعاون کو انتہاپسندی روکنے کے لئے استعمال کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔

اسی طرح اگر پاکستان کا وزیر اعظم ایک خاص تناظر میں امریکہ و مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کے لئے اسلامو فوبیا یا دائیں بازو کی انتہا پسندی کے علاوہ بھارت میں فروغ پانے والی ہندو انتہا پسندی کے بارے میں بات کرے گا لیکن اسے دیگر مسلمان لیڈروں کی حمایت حاصل نہیں ہوگی تو بھی اس طرز عمل کا کوئی مناسب فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ ہی اس بحث کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے کہ دنیا سے فساد اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے صرف اسلامی دہشت گردی ہی کو ختم نہیں کرنا چاہیے بلکہ دیگر عقائد یا نسلی تعصبات کی بنیاد پر شروع کی گئی انسان دشمنی کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر عمران خان کی طرح یہ دلیل دی جائے گی کہ دہشت گردی کو اسلام سے نتھی کر کے عمومی انتہاپسندی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا ہے تو اسے عذر خواہی ہی سمجھا جائے گا۔

بعض انتہاپسند عناصر ضرور اسلام کے نام پر پیدا ہونے والے دہشت گرد گروہوں کی سفاکی کو اس عقیدے سے نتھی کر کے منفی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ متعدد ممالک میں اس طرز تکلم کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ لیکن کسی بھی مغربی ملک کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں نے اسلام یا مسلمانوں کو دہشت گردی کی وجہ قرار نہیں دیا بلکہ ان ممالک میں مسلمانوں کی حفاظت اور ان کا موقف سامنے لانے کے لئے خصوصی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ یہاں یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس بحث میں جن مغربی ممالک کا ذکر ہو رہا ہے، وہ تمام ٹھوس جمہوری روایت پر استوار جمہوری نظام کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ایسے بیشتر ممالک میں کثیر تعداد میں مسلمان بھی آباد ہیں۔ انہیں تمام دیگر شہریوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں اور وہ مباحث میں حصہ لینے میں بھی آزاد ہیں۔ اپنا موقف پیش کرنے پر کسی بھی فرد یا گروہ کو کسی تعزیر کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن بدقسمتی سے دہشت گرد گروہوں کے عالمگیر پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر بعض مسلمان گروہ ان دہشت گردوں کے پیش کردہ اسلام کو ہی ’اصل اسلام‘ بتانے اور یوں مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بھی بنتے رہے ہیں۔

یہی طرز عمل مسلمان لیڈر بھی اختیار کرتے ہیں۔ جب تک دہشت گردی کی دو ٹوک مذمت کرنے کا رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا اور عقیدہ کے نام پر تشدد کو سیاسی و سماجی طور سے مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہو گا، اس وقت تک متوازن بحث میں مسلمان لیڈروں کی آواز شامل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے علاوہ تمام مسلمان ممالک کے پاس باہمی تعاون کے متعدد فورمز موجود ہیں۔ ان میں خاص طور سے اسلامی تعاون تنظیم کا فورم سب سے اہم ہے۔ اس فورم کو گروہی مفادات، علاقائی مسابقت اور کمزور عقلی و علمی بنیاد کی وجہ سے غیر موثر بنا دیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو دیگر عقائد یا نسلی بنیاد پر ابھرنے والے متشدد رجحانات کے بارے میں معلومات کی فراہمی کا طاقت ور نمائندہ بنانا مطلوب ہے تو سب سے پہلے اسلامی گروہوں کی شدت پسندی کو موضوع گفتگو بنانا ہو گا اور تسلیم کرنا ہو گا کہ بعض گروہوں نے ناجائز طور سے اسلامی تعلیمات کی مسخ شدہ تصویر سامنے لا کر اسلام، مسلمانوں اور دنیا کو نئے اندیشوں اور خطرات سے دوچار کیا ہے۔

اس موقف کو سائنٹیفک بنیاد پر استوار کرنے کے لئے ضروری ہو گا کہ تمام مسلمان ممالک اپنے تعلیمی نظام کو بھی اس شعور سے ہم آہنگ کریں۔ اگر ایک طرف دہشت گردی کو مسترد کیا جائے گا لیکن دوسری طرف مسلمان ممالک کی تعلیم گاہوں میں نوجوانوں کی ایسی نسلیں پیدا ہوں گی جو ان دہشت گرد گروہوں کو براہ راست اسلام دشمن سمجھنے کی بجائے، موجودہ افسوسناک صورت حال کا ذمہ دار امریکہ کی حکمت عملی یا اسلام دشمنوں کی سازشوں کو ہی سمجھیں گی تو انتہاپسندی کے خلاف عمومی مزاج استوار کرنے کا کام ممکن نہیں ہو گا۔

یعنی عمران خان دوشنبے میں کی جانے والی تقریر سے جو مقصد عالمی سطح پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسے پانے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے ملک میں شدت پسندی کے تمام عوامل کا سامنا کیا جائے، ان کے خلاف نوجوان ذہنوں کو تیار کیا جائے اور ملک کا سماجی ڈھانچہ تصادم اور تشدد کی بجائے، مفاہمت اور دلیل کی بنیاد پر ہونے والے ڈائیلاگ پر استوار ہو۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2032 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments