انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان: سوشل میڈیا پر کرکٹ فینز کی جانب سے شدید غم و غصے اور مایوسی کا اظہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ
Getty Images
مارچ 2009 میں پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے نے کئی برسوں تک پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند رکھے لیکن پاکستان سپر لیگ اور اکا دکا ٹیموں کی پاکستان آمد نے شائقین کرکٹ کے دلوں میں یہ امید جگائے رکھی کہ پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں میں ایک دن دوبارہ رونق ضرور ہو گی۔

اس حملے کے بعد چھ سال تک پاکستان میں کوئی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی گئی تھی۔ سنہ 2015 میں مہمان ٹیموں نے دوبارہ پاکستان آنا شروع کیا اور سنہ 2019 میں 12 سال بعد سری لنکن کرکٹ ٹیم نے دوبارہ پاکستان آکر ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

لیکن گذشتہ ہفتے راولپنڈی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان 17 ستمبر کو کھیلے جانے والا پہلا ایک روزہ میچ آغاز سے صرف چند گھنٹے قبل منسوخ کر دیا گیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان کا دورہ جاری رکھنے سے بھی انکار کر دیا۔

یہی نہیں بلکہ اکتوبر میں پاکستان کے دورے پر آنے والی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے بھی آج پاکستان کرکٹ بورڈ سے معذرت کر لی ہے۔

انگلش ٹیم نے آئندہ ماہ ورلڈ ٹی 20 مقابلوں سے قبل دو ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آنا تھا جبکہ انگلش خواتین کی ٹیم بھی اسی ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والی تھی۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اس اعلان کے فوری بعد ہی پاکستان کے سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی جانب سے شدید غم و غصے اور مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے بھی انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

صحافی فیضان لکھانی نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: ’کسی مخصوص اور جائز وجہ کے بغیر یہ کہنا کہ ’خطے میں سفر کے بارے میں خدشات ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں آگے بڑھنے سے کھلاڑیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو گا`، دورہ منسوخ کرنے کی کافی وجہ نہیں۔ یہ ناگوار ہے۔‘

مظہر ارشد نے لکھا: ’پاکستان کو مایوس ہونے اور یہ محسوس کرنے کا حق ہے کہ اس کو استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستانی ٹیم دو بار انگلینڈ کا دورہ کرنے گئی اور اپنے کھلاڑیوں کی صحت کو خطرے میں ڈالا۔ سنہ 2020 میں دو ماہ کا ببل لیکن انگلینڈ اپنی ٹیم کو صرف دو ٹی 20 کھیلنے کے لیے نہیں بھیج سکتی۔ مضحکہ خیز۔‘

کرکٹ تجزیہ کار سیج صادق نے لکھا: ’پاکستان نے کووڈ 19 کے دوران دو بار انگلینڈ کا دورہ کیا اور اس دوران تمام مشکلات سے بھی گزرا۔ پاکستان نے دورہ کر کے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی مالی مدد کی۔ بدلے میں جب پی سی بی کو ان کی ضرورت پڑی تو انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے منہ موڑ لیا۔‘

یاد رہے کہ پاکستان نے 2020 اور 2021 میں وبا کے دوران انگلینڈ کے دورے کیے تھے۔ 2020 میں تو خاص طور پر پاکستان نے میچز کے لیے بائیو سکیور ببل کی کڑی شرائط پر اتفاق کیا تھا۔

ڈاکٹر نبیل چوہدری نے برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کی پاکستان آمد کے موقع پر پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’اور پھر بھی انھوں نے دورہ منسوخ کر دیا۔‘

آن لائن میگزین خلیج میگ کے اکاؤنٹ نے بھی انھی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’پاکستان مستقبل کی ملکہ اور بادشاہ کے لیے تو محفوظ ہے لیکن کرکٹ ٹیم کے لیے نہیں۔ انگلینڈ نے پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’جینٹلمین گیم سیاست کی وجہ سے تباہ ہو گئی۔ شہزادہ ولیم بحفاظت پاکستان میں کرکٹ کھیل سکتے ہیں لیکن انگلینڈ اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں بھیج سکتا۔‘

یاد رہے کہ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے سنہ 2019 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔

صحافی اویس حمید نے لکھا: ’بلیک کیپس کا شکریہ جنھوں نے پاکستان کرکٹ کے لیے یہ تباہ کن فیصلہ کیا۔‘

واضح رہے کہ اتوار کے روز نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا تھا کہ جمعے کے روز نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو حکومت کی جانب سے ‘مخصوص اور مصدقہ’ خطرے کی اطلاع کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جس کی تصدیق نیوزی لینڈ کرکٹ کے سکیورٹی کنسلٹنٹس کے علاوہ آزادانہ طور پر بھی کی گئی تھی۔

ڈیوڈ وائٹ نے بتایا کہ ’اس خطرے کی بنیادی نوعیت کے بارے میں تو پی سی بی کو آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن اس کی مخصوص تفصیلات نہ بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی۔۔۔ نہ ہی نجی حیثیت میں اور نہ ہی عوامی طور پر۔‘

یہ بھی پڑھیے

انگلینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ: ’جب پاکستان کو مغربی بلاک کی ضرورت تھی، انھوں نے ہماری مدد نہیں کی‘

نیوزی لینڈ کے فیصلے سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

’نیوزی لینڈ ٹیم کو لاحق خطرے کی تفصیلات نہ بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی‘

احمر نقوی نے لکھا: ’انگلینڈ نے تو کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔ صرف تاثرات۔۔۔‘

صحافی اسد جان نے لکھا: ’اب آئی سی سی میں دو گروپ واضح طور پر نظر آ رہے ہیں:

انڈیا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ

پاکستان، ساؤتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز۔۔۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’یہ کرکٹ کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں۔‘

کرن نامی صارف نے 1992 کے ورلڈ کپ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ لمحہ بہت اطمینان بخش لگتا ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور سابق کرکٹر عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی تھی۔

ایک اور صارف فروا منیر نے مثبت خیالی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’انگلینڈ نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز منسوخ کر دی، لیکن گھبرانا نہیں سب ٹھیک ہو گا۔‘

ایک اور صارف نے ایک شعر کے ساتھ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے امید کا اظہار کیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments