شمالی کوریا کے کروز میزائل تجربے کچھ ممالک کو کیوں پریشان کر سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمالی کوریا
Reuters
گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور ان میں جاپان کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

بیلسٹک میزائلوں کی نسبت کروز میزائلوں کی پرواز آڑھی ترچھی ہو سکتی ہے جس کے باعث ان میں مختلف زاویوں سے حملہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کے حملے کرنے کے لیے پیچیدہ اور متنوع طریقے ڈھونڈنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔

یہ واضح ہے کہ عالمی وبا، متعدد قدرتی آفات اور اندرونی معاشی مشکلات بھی شمالی کوریا کو اس کے اپنے جوہری ہتھیاروں کو ترجیح دینے کی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹا پائے۔

یہ تازہ ترین کامیاب تجربہ متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جیسے شمالی کوریا یہ اس وقت کیوں کر رہا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور یہ ہمیں اس کی ترجیحات کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

شمالی کوریا کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی

شمالی کوریا سنہ 2019 کے اوائل سے اپنی جوہری صلاحیتوں کو معیاری اور وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان فروری 2019 میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ویت نام میں ہونے والی ناکام ملاقات کے بعد سے اس بات کا اعادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں مزید سرمایہ کاری کریں گے اور ملک کی قومی دفاعی حکمت عملی ‘خود انحصاری’ پر مبنی ہو گی۔

لیکن غذائی قلت اور بگڑتے معاشی بحران کے باوجود شمالی کوریا ایسا کرنے پر کیوں مصر ہے؟ کیونکہ اس سے اس کے متعدد مفادات پورے ہوتے ہیں۔

داخلی اعتبار سے، ان تجربوں کے نتیجے میں کم جونگ ان کے قومی دفاع میں خود انحصاری کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے اور عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

تاہم اگر عملی جائزہ لیا جائے تو کروز میزائل جیسی نئی صلاحیتیں حاصل کرنے سے شمالی کوریا کے دشمنوں کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور اب انھیں ان کے حساب سے حکمت عملی بنانی کرنی ہو گی۔

بیلسٹک میزائلوں کے برعکس کروز میزائلوں کی اپنے نشانے تک پرواز کی رفتار آہستہ اور نیچی ہوتی ہے۔

جن کروز میزائلوں کا تجربہ شمالی کوریا نے کیا ہے وہ 1500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی پرواز کا دورانیہ دو گھنٹے سے کچھ زیادہ ہے۔

اتنے ہی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل چند منٹ میں یہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں لیکن شمالی کوریا کی کروز میزائلوں میں دلچسپی کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے حریفوں کو ان کی لانچ کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف دفاع میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ان تجربوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کم جونگ ان جہاں ملک کو درپیش مشکلات کو سر عام تسلیم کرتے ہیں وہیں ملک کی جوہری صلاحیتوں میں جدت لانے پر مصر ہیں۔

جب تک ہم شمالی کوریا کی جانب سے ترجیحات میں تبدیلی کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیکھ لیتے یا امریکہ کی جانب سے کامیاب سفارتی کوشش، پیونگ یینگ سے اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافے کی امید رکھنا غلط نہیں ہو گا۔

تاہم کیا یہ اہم ہے کہ شمالی کوریا نے اس ہتھیار کا تجربہ اس موقع پر کیا ہے؟

حالانکہ تجزیہ کاروں کی جانب سے اس بارے میں بحث کی گئی ہے لیکن ان ہتھیاروں کے تجربے کا بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی یا 9/11 حملوں کے 20 سال مکمل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے کی صلاحیت

جنوبی کوریا، جاپان اور بین الاقوامی برادری کے لیے جو بات سب سے زیادہ تشویش ناک ہے وہ یہ کہ شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان میزائلوں کو ‘سٹریٹیجک ہتھیار’ کہا گیا ہے۔

اس کا عام طور پر یہی مطلب ہوتا ہے کہ یہ میزائل جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوں گے۔

اس سے قبل شمالی کوریا کا کوئی بھی کروز میزائل سسٹم جوہری ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام نہیں دیتا تھا۔

تاہم ان کروز میزائلوں کو بنانا کچھ زیادہ اچھنبے کی بات بھی نہیں ہے۔ کم جونگ ان نے جنوری 2021 میں اعلان کیا تھا کہ اس طرح کا نظام ابھی بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے بظاہر یہ بھی کہا تھا کہ یہ میزائل نظام کو مستقبل میں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا نے مشرقی بحیرہ میں دو بیلسٹک میزائل داغے: جنوبی کوریا

کیا بائیڈن شمالی کوریا کے جال میں پھنسیں گے؟

شمالی کوریا کے پاس موجود ’دنیا کا سب سے طاقتور ہتھیار‘ کیا ہے

شمالی کوریا کا ’بھاری بھر کم‘ نیا میزائل امریکہ کے لیے تشویش کا باعث

ان میزائلوں کے بارے میں ہم مزید کیا جانتے ہیں؟

کروز میزائل کام کرنے کے اعتبار سے بھی بیلسٹک میزائلوں سے مختلف ہیں جو شمالی کوریا نے کچھ روز قبل ٹیسٹ کیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں شمالی کوریا کو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے سے تو روکتی ہیں لیکن کروز میزائلوں کے تجربے سے نہیں۔

یہ اس لیے ہے کیونکہ ان کے نزدیک کروز میزائل زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہ بڑے اور زیادہ طاقت ور پے لوڈ سے لیس ہو سکتے ہیں اور یہ طویل فاصلے تک مار کرنے کے علاوہ زیادہ تیز رفتار پرواز کر سکتے ہیں۔

تاہم بیلسٹک میزائل کے برعکس کروز میزائلوں میں پرواز کے بیشتر حصے کے دوران مختلف زاویوں پر گھومنے اور مڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس سے انھیں مختلف زاویوں سے حملہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بیلسٹک میزائل آخری لمحے تک سمت تبدیل نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ ان کی نیچی پرواز کے باعث زمین پر نصب ریڈار نظام انھیں پرواز کے آخری لمحات میں ہی پکڑ سکتے ہیں اور شاید اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو۔

کروز میزائل صرف شمالی کوریا کی مخصوص نئی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ کئی سالوں سے اس نے سوویت کروز میزائلوں میں جدت لانے کی کوشش کی ہے جو بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

گذشتہ ہفتے جن میزائلوں کا تجربہ کیا گیا وہ پرانے کروز میزائلوں کی پراوز کے فاصلوں سے کہیں زیادہ فاصلے تک مار کر سکتے ہیں۔

تاہم یہ کروز میزائل شمالی کوریا کی وسیع تر کوششوں کا صرف ایک حصہ ہیں۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ پیونگ یینگ نے یونگ بیون گیس گریفائیٹ ری ایکٹر میں کام کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ یعنی انھوں نے پلوٹونیئم کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے۔

کروز میزائلوں کے تجربے کے کچھ دن بعد بیلسٹک میزائلوں کے تجربے اس امکان کو تقویت بخشتے ہیں کہ میزائلوں کی ڈیولپمنٹ، تجربے اور تجزیے آنے والے دنوں میں بھی تسلسل کے ساتھ ہوتے رہیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21152 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments