من کہ مسّمی منیر نسیم (1)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”من کہ مسمی اے ایس آئی منیر نسیم، متعینہ تھانہ جوہر آباد امشب بحکم ایس ایچ او بہادر جعفر نقوی، علاقہ گشت پہ تھا کہ مخبر خاص، جہانگیر بھورے کے ذریعے یہ اطلاع ملی تھانے کے قرب و جوار میں واقع ایک غیر قانونی طور پر قائم شدہ ٹال کے پہلو میں، لکڑی کے بے ترتیب ڈھیر کی آڑ میں ایک نوجوان جوڑا دنیا و مافیا سے بے خبر والہانہ انداز میں باہم بوس و کنار ہے۔ ان کا یہ فعلِ قبیحہ، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 294 کی اور قابل دست اندازی پولیس کی زد میں آتا ہے۔

اطلاع موصول ہوتے ہی افسر ہذا ہمراہ گواہاں جہانگیر بھورے اور توقیر پکھیرو کے موقع پر پہنچا۔ فعل قبیحہ کا اجرا اپنی گنہ گار آنکھوں سے دیکھا۔ سعی گرفتاری میں جزوی ناکامی کا سبب یہ ہے کہ مرد ملزم جو شکل سے عیار، مہاجر اور علاقہ مکیں دکھائی پڑتا تھا، مانند چھلاوے کے تاریکی کا فائدہ اٹھا کر مقامی محاورے میں پتلی گلی سے پھوٹ لیا۔ ملزمہ خوش شکل، بدن بدرجہ مائل بہ فربہی، زبان و حلیے سے افغانی اور اردو سے پریشان کن حد تک ناواقف دکھائی دی اسے ہمراہ ملازمان گرفتار کیا۔

خوبرو ملزمہ اپنا نام بمشکل زر تاج اور والد کا نام حضرت گل بتاتی ہے۔ اس کی گرفتاری کا اہتمام کرکے روزنامچے میں اندراج اور بحکم ایس ایچ او بہادر مزید قانونی کاروائی کا آغاز کیا۔ مفرور ملزم تاحال دست اندازی پولیس سے محفوظ ہے، ہر چند کہ تلاش مسلسل جاری ہے۔ داخلہ چالان مسل(فائل) مقدمہ و بیانات گواہان اور بہ ہمراہی ملزمہ بغرض کاروائی عدالت پیش خدمت ہے۔ “

ارے یہ کیا؟ ہمارے اردو کے شاعر ایس پی صاحب منور علی خان (جن کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ وہ علاقے بھر سے جوئے، شراب اور منشیات کے دھندے سے ایک روپیہ رشوت کا نہیں لیتے، البتہ زمین اور ہر طرح کی عورت کا قبضہ وہ خواب میں بھی نہیں چھوڑتے) انہوں نے میری ایف۔ آئی۔ آر کی ڈپٹی کمشنر صاحب سے کیا تعریف کی کہ اب میرا قلم لاشعوری طور پر ہر تحریر کا آغاز بالکل ویسے ہی کرتا ہے جیسا میں نے اس ایف آئی آر کا کیا تھا۔

ہمارے رامپور والے ڈی ایس پی خواجہ دلدار نظامی صاحب کا ادبی ذوق بہت شستہ تھا۔ ان کے لیے کالے کتے والی شراب کی بوتل اور میرٹھ کباب والوں کے ہاں سے چھ سیخ کباب اور دو مغز بھنے کا شبینہ من جانب تھانہ ہذا، ایک ماہ میں دو مرتبہ پہنچانا میرے ذمے تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بھئی منیر نسیم، سندھ پولیس کی ایف آئی آروں میں واللہ کوئی غالب کا شعر تلاش کرنا چاہے تو تمہاری ایف آئی  آر پڑھ لے۔ ان کی تعریف سے خوش ہوکر میں نے پانچ سو روپے اس پانچ ہزار روپے کی رقم سے جو ایس ایچ او صاحب نے ہفتہ واری بھجوائی تھی پوچھ کر رکھ لیے۔

چلو جی ایف آئی آر پر تو مٹی پاﺅ۔ اس کے تو ملزمان بھی بری ہو گئے۔ ملزمہ زر تاج، آغا مجسٹریٹ اللہ ڈینو شاہانی صاحب کو زیادہ ہی اچھی لگی تھی۔ کسی فروٹ چاٹ میں قتلہ قتلہ ہوکر مل جانے کو بے تاب آڑو جیسی۔ وہ اسے اپنے ساتھ رکشے میں بٹھا کر اسٹیل ٹاﺅن (گلشن حدید) لے گئے۔ عدالت کا پیش کار ان کا راز داں اور خزانچی تھا۔ سائلان و وکلا صاحبان سے مال کی وصولی اور مجسٹریٹ صاحب تک محفوظ ترسیل کا ذمہ اسی ناہنجار کا تھا۔ انہوں نے تابعداری کا لابھ لیتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ وہ ملزمہ کو رکشہ دلانے کے بہانے سول ہسپتال کے کونے تک جائے۔ وہ خود وہاں تک، غوثیہ مرغ چھولے والے کے سامنے والے پچھلے دروازے سے نکل کر پیدل آ جائیں گے وہ ہسپتال کے کونے پر رکشہ روک کر انتظار کرے۔

ظفیر پیش کار جس کا نام وہ ہمیشہ سے مظفر لیتے تھے، وہ لیاقت چپراسی کے ساتھ چل پڑا۔ رکشہ والے کو منھ مانگے دام پیشگی ادا کرکے جب وہ دونوں عدالت کی جانب واپس آرہے تھے پیش کار ظفیر کہنے لگا ہو گا سسرے سے ہوگا کچھ نہیں مگر مجسٹریٹ صاحب نے ہمیں سڑک پر بھڑوا بنا دیا۔ ہم سے چھوکری یہاں منگوائی، رکشے والا کیا سوچ رہا ہوگا۔ ہم دلال ہیں۔

 سن انیس سو چوراسی میں سندھ سے آئے ہوئے دیہاتی مختار کار سے مجسٹریٹ درجہ سوئم بنے افسران کراچی آن کر بولائے بولائے پھرتے تھے۔ آوک جاوک کے لیے پیشکار کے فراہم کردہ رکشوں کا استعمال کرتے تھے۔ اسٹیل مل ان دنوں خوب چلتی تھی۔ بیٹا وہاں بطور اسٹنٹ انجینئر ملازم تھا۔ وہ تربیت کے لیے اُن دنوں روس گیا ہوا تھا۔ گھر خالی تھا۔

مجسٹریٹ صاحب نے زر تاج کو اسی سرکاری رہائش گاہ میں شرف میزبانی سے سرفراز کیا۔ وہ کہاں ٹک کر رہنے والی تھی۔ ہفتے بعد وہاں سے بھی سٹک گئی۔ مجھے پتہ چلا کہ تھانہ ملیر کے ہیڈ کانسٹبل عبدالمنان کے ساتھ دوڑ گئی ہے۔ وہ بھی سرگودھا میں ہمارے علاقے یعنی بھلوال ہی کا تھا۔ میں اور ہیڈ کانسٹبل عبدالمنان کبھی اسکول میں ساتھ تھے۔ بعد میں ابا جی کی علاقہ مٹھا ٹوانہ میں بطور ہیڈ ماسٹر تعیناتی ہوگئی تو ہم نے وہیں مستقل ڈیرہ ڈال لیا اور بھلوال مڑ کے نہیں آئے۔ مٹھا ٹوانہ میں ہی میرے جگری دوست علی اشرف کا ننھیال تھا۔ وہیں ہماری دوستی ہوئی۔ دہلی کے مہاجر اسے دانت کاٹے کی دوستی کہتے ہیں۔ علی اشرف قوم کا راجپوت اور گاﺅں علاقہ سدوال، ضلع چکوال تھا۔ گھر میں مذہبی رواداری بہت تھی۔ بیٹا بیٹی سنی تو بیوی بہو اور داماد شیعہ تھے۔

خاکسار نے ہی اپنے پیٹی بند بھائی اور سابقہ گرائیں عبدالمنان کو بتایا تھا کہ زر تاج کو مجسٹریٹ اللہ ڈینو شاہانی صاحب لے گئے ہیں۔ چالاک آدمی تھا۔ ہر دفعہ عدالت میں موجودگی کی تصدیق کر لیتا کہ مجسٹریٹ بہادر اپنی عدالت عالیہ میں انصاف کے صفحات پر عدل کا نور بکھیر رہے ہیں تو یہ شہوتوں کا ستایا، عوام کے جان و مال کا محافظ سپاہی، مجسٹریٹ صاحب کے فرزند کے سرکاری گھر پر داد عیش دینے پہنچ جاتا۔ بہلوال کے اس چیتے چالباز نے سرکاری کوارٹر کے دو چکر لگائے۔ تیسرے چکر میں زر تاج آغا کو منھ میں دبوچ کر لے اڑا۔ وہ جاتے جاتے چھوٹا موٹا مال بھی سرقہ کر گئی تھی۔ اللہ ڈینو صاحب بے چارے ریٹائرمنٹ کے قریب تھے۔ مال کے اس سرقے کو جان اور نوکری کا صدقہ سمجھ کر چپ سادھ لی۔ ایسے معاملہ فہم عدالتی افسران اب کہاں؟

مجسٹریٹ صاحب اکثر مجھ سے پوچھتے تھے کہ” منیر نسیم جو روح کو تڑپا دے اور قلب کو گرما دے۔ اس قسم کی کوئی ایف آئی آر اب کیوں نہیں لکھتے؟ میں بھی سر جھکا کر بہت مودبانہ لہجے میں جواب دیتا کہ ”صاحب ایسی ایف آئی آر کو سرکاری کوارٹر میں سنبھال کر رکھنا آسان نہیں ہوتا، خشک سیروں تنِ افسر کا لہو ہوتا ہے“۔ وہ بھی معاملہ فہم آدمی تھے۔ کہتے تھے” تم سچ کہتے ہو افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت تباہی آئی ہے۔ فوجی بھی بہت پریشان ہیں۔ بڑی میٹنگوں میں ہم سے پوچھتے ہیں کہ” افغانستان سے آنے والی بے سہارا عورتوں اور روز مرہ کی دہشت گردی کا کیسے مقابلہ کریں۔ یہ چک چورانوے کے کپتان۔ میجر قسم کے افسر ہم پرانے سندھی افسروں کے تجربے کو بہت قدر اوردھیان سے دیکھتے ہیں۔ مارشل لا ہے۔ بس ان کو رقم کا اشارہ مل جائے تو خوش ہوتے ہیں ورنہ ہر بات کا ہریسہ بنا دیتے ہیں۔ میرے کو ریڈز پر لے جاتے ہیں تو میں ان کے کاغذ پر آنکھ بند کر کے سائن ٹھوک دیتا ہوں۔ یہ گولیمار میں بولیں کہ ہم نے محمد بن قاسم کا قاتل سرسید گرلز کالج میں اس کی گرل فرینڈ سمیت پکڑلیا ہے تو میں لکھوں گا بی فور میں ایڈمی ٹیڈ کریکٹ اور دستخط، مہر سمیت “ میرے کو ان فوجیوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ ہمیں اس آوارہ حسینہ زر تاج اور سابقہ مختار کار حالیہ مجسٹریٹ درجہ اول اللہ ڈینو شاہانی صاحب سے کیا لینا۔ یوں بھی یہ بات پانچ سات سال پرانی ہے۔ چلو مٹی پاﺅ

اس سے پہلے کہ میری داستان حسرت کچھ آگے بڑھے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ خاکسار کا پورا نام منیر نسیم ٹُلّا ہے۔ والد کا نام نسیم جمال، ہماری ذات۔ ٹُلّا ہے۔ ٹُلّا، جٹوں کا ایک چھوٹا سا قبیلہ ہے، قد چھ فٹ، چوڑی چھاتی، ماتھا کشادہ، مزاج مائل بہ اداسی، شناختی علامت چہرے پر کان کے نیچے پیدائشی داغ، دور سے دیکھیں تو وہ اٹلی کا نقشہ لگتا ہے۔ ہمارے چکوال کی پینڈو جٹیاں مذاق  میں اسے جوتے کا علامتی نشان کہتی تھیں۔ جو پیدائش سے ایک ماہ پہلے میرے والد صاحبہ نے کس کر والدہ صاحبہ کے پیٹ پر مارا تھا۔ شاید یہ جوتا میرے گال اور گردن پر لگا اور خون جم گیا۔ ہمارے بارہ بنکی یوپی والے ڈی ایس پی خواجہ دلدار نظامی صاحب اکثر ماتحتوں سے کہتے رہتے تھے کہ جاہل عورتوں کا مذاق بھی جاہلانہ ہوتا ہے۔

ہم ٹلے، چھج دو آبہ جٹ ہیں، پہلے ہم خانہ بدوش ہوتے۔ جہاں پانی گھاس دیکھی، مال مویشیوں سمیت ڈیرے ڈال لیے۔ ممکن تھا کہ میں یہاں کراچی میں تعیناتی کے بعد بھی خود کو منیر نسیم ٹُلّا ہی کہلوانا پسند کرتا مگر وہ ہمارے فیض آباد لکھنو کے مہاجر ایس ایچ او جعفر نقوی صاحب کراچی کے مزاج سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے سمجھایا کہ کراچی کے چھچھورے مہاجر لڑکے پولیس والوں کو تمسخر اور تضحیک سے ٹلا پکارتے ہیں۔

وہی مزید بتا رہے تھے کہ کبھی کبھار مقدمے میں جب کوئی قانونی شق سمجھ نہ آرہی ہو تو ہم قانون کے رکھوالے، صرف ٹلا کی آواز مارنے کو کار سرکار میں مداخلت اور دھمکی کا درجہ دے کر ان لفنگے پرندوں پر مقدمہ ٹھونک دیتے ہیں۔ اب اگر تم نے ٹُّلا اپنے نام ہی کا حصہ بنا لیا تو یہ ٹپوڑی تمہارا مذاق بھی اڑائیں گے اور تم کچھ کر بھی نہ پاﺅ گے۔ نقوی صاحب اپنے نیشنل اسٹڈیم جتنے کولہوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے اس کو بے چارگی کو ہم اہل لکھنو کولہے کی چوٹ کہتے ہیں یعنی وہ زخم جسے پتلون یا گھاگرا نیچا کرکے کو دوسروں کو دکھاتے ہوئے خود بھی شرمندگی محسوس ہو۔ بات تو سچ تھی گو بات تھی رسوائی کی۔ دل کو لگی اسی لیے جی جان سے مان لی۔

خادم نے بی اے الحمدللہ سرگودھا سے کیا۔ جنرل ضیا الحق صاحب اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے انہون نے تازہ مارشل لا لگایا تھا۔ میرے بڑے بہنوئی کرنل صاحب مارشل ڈیوٹی پر تعینات ہوکر ملتان پہنچے تو خاکسار کا اپائنٹ منٹ پنجاب پولیس میں بلا کسی دشواری کے بطور اے۔ ایس۔ آئی ہو گیا۔ لاہور کے کسی بھی تھانے میں تعیناتی میں سب سے مشکل مسئلہ یہ تھا کہ ہر نو بھرتی شدہ ہر ایس۔ اے۔ آئی کا کوئی نہ کوئی عزیز مارشل لا کے دامن فیض رساں سے جڑا تھا۔ یوں مال بناﺅ تھانوں میں پوسٹنگ پکڑنا محال ہوچلا تھا۔ سفارشوں کی چمپینز ٹرافی میں بڑے عہدے، چھوٹے عہدوں پر غالب آگئے۔ جرنیل بریگیڈئیر پر چھا گیا، کرنل، کپتان پر حاوی ہو گیا۔ ہمارے پنجاب میں رینک کا بہت احترام ہے۔

اسی وجہ ہمارے پولیس کے بڑے کم بخت چالباز افسران نے تربیت کے خاتمے پر میرے کرنل بہنوئی کو تسلے میں چاند دکھایا (جھوٹی تسلی)۔ انہیں بہلا پھسلا کر مجھ غریب کے بال کو اسپیشل برانچ میں دے مارا۔ اللہ جانے ان کے پاس میری علمیت، وجاہت، طبیعت میں فطری لٹک اور لبھاﺅ، فنون لطیفہ سے لگاﺅ، دھیمی گفتگو، معاملہ فہمی، قسم کے درست کوائف کہاں سے پہنچے تھے۔ ان افسران بالا نے مجھے پنجاب یونی ورسٹی میں طالب علموں کی جاسوسی پر لگادیا۔ میرے ابا جی حاجی نسیم جمال ٹلا صاحب کہا کرتے تھے کہ چینی حکما کا قول ہے کہ ذہین آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اس کو اگر سمندر میں دھکا دیا جائے تو وہ مچھلی سمیت باہر نکلے۔

خاکسار نے خفیہ پولیس کے ایس۔ پی۔ صاحب کو باور کرایا کہ ہم اسپیشل والوں کا جاسوسی کے لیے اب برآمدے میں کرسی ڈال کر سر پر جناح کیپ اور ٹرین کے بیروں والی واسکٹ پہن کر بیٹھنا طریق متروک ہے۔ بہتر ہوگا اگر خاکسار کو ایم۔ اے اردو میں داخلے کے لیے فیس، ہاسٹل کا معاوضہ اور ایک عدد اسکوٹر دیا جائے تو فرائض منصبی کی بجا آوری بہتر انداز میں کی جا سکے گی۔ ایس پی صاحب بھی گھاگ تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کم از کم ایم۔ اے کی ڈگری کے حصول تک تو یہ ناہنجار علم کے اس زنگ زدہ کھونٹے سے بندھا رہے گا۔

خاکسار کی طالب علموں کے بارے میں جاسوسی کی غرض سے فراہم کردہ اطلاعات کے بارے میں اسپیشل برانچ میں یہ بات عام ہو گئی کہ یہ گھوڑے کے منھ سے کھینچ کر لائی گئی کسی گھاگ ڈینٹسٹ کی اطلاعات ہیں۔ خاکسار ہی وہ گناہ گار ہے جس نے الحمرا ہال میں Nude Paintings کی نمائش پر سرکار کے ایما پر ایک مذہبی طالب علم جماعت کے غنڈوں کی مدد سے دھاوا بولا تھا اور مسز حسین اور کولن ڈیوڈ کا ایک ایک نیوڈ شہ پارا بھی چرایا تھا۔ تبادلے کے بعد کراچی میں ایک گجراتی سیٹھ کو یہ شہ پارے بیچنے کی وجہ خاکسار کو ایک معقول رقم ملی۔ یہ جنرل ضیاالحق کا دور زرین تھا۔

یونی ورسٹی میں کوئی اور قابل ذکر بات نہ ہوئی سوائے اس کے کہ مجھے وہاں شعبہ اردو میں قصبہ ہڈالی۔ ضلع خوشاب، جو بہت رنگ برنگی ہستی مشہور صحافی خوشونت سنگھ کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوا، وہاں کی یاسمین بشریٰ مل گئی۔ حسین تو نہ تھی مگر سیکسی بہت تھی۔ قریب بیٹھی ہو تو دودھ، لسی، دیسی گھی، گڑدھانی کے ذائقے یاد آ جاتے تھے۔ کلاس میں ہوتی تو سب لڑکوں کے دماغ بیڈ روم بن جاتے تھے۔ راجہ سہیل شاہد کا تعلق پنڈدادن خان سے تھا۔ وہ شعبہ انگریزی میں ہم سے ایک سال سینئر تھا۔ میرے اس سے مراسم بھی اچھے تھے۔ یاسمین بشریٰ میرے آنے سے دو ہفتے قبل ہی اس کی دلدل الفت میں گوڈے گٹے دھنس چکی تھی۔

یاسمین بشریٰ اور راجہ سہیل کے تعلقات کے بارے میں لڑکے طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ جن میں سے بھی ایک بات تھی کہ وہ دونوں سی ایس ایس کی یعنی مقابلے کے امتحان کی تیاری کے علاوہ بھی بہت کچھ کرتے ہیں۔ ان کے بہت کچھ کرنے کا مجھے پختہ یقین تھا۔ راجہ مجھ سے ڈیٹ مارنے کے لیے پرائیوٹ نمبر پلیٹ والی سرکاری اسکوٹر مانگ کر لے جاتا۔ یاسمین بشریٰ تاحد نظر تک تو سیٹ پر پیچھے بیٹھی دکھائی دیتی تھی مگر جب ڈیٹ کے اختتام پر اسکوٹر مجھے واپس کی جاتی تو اس کی سیٹ  کا بیلنس بھی آﺅٹ ہوتا۔ یاسمین بشریٰ  کو اسکوٹر کی سیٹ پر بیٹھتے وقت پیچھے سے دامن اٹھا کر بیٹھنے کی عادت تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ اس کا شمار بھی مارلن منرو کی طرح ان دوشیزاﺅں میں ہوتا تھا جن کے کولہوں میں بھی چین اور تائیوان والی پیہم مخاصمت اور لڑائی چلتی رہتی تھی۔ بعض دفعہ دوران نشست و خرام ایسا لگتا تھا ان خواتین کے کولہے ایک دوسرے سے منھ بسور ایک واضح خط تقسیم یا واگہ اٹاری کی سرحدی چوکی بن کر بیٹھے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ دوران فلم بندی مارلن منرو کو اگر پتلا جھل مل کرتا چسپاں چسپاں سا گاﺅن پہننا ہوتا، جیسا اس نے صدر کینیڈی کی سالگرہ پر پہنا تھا تو وہ کولہوں کے درمیان سوکھی ڈبل روٹی کا ٹکڑا ٹشو میں لپیٹ کر رکھ لیتی تھی۔ معاملہ ان تازہ بے وطن، شہیدان وفا، تنکوں کا تھاجو واپسی کے سفر میں میانی سے چپکے ہوتے۔ واپسی کے سفر میں ریشہ ریشہ پولیسٹر ملے حاسد سیٹ کور نے جو مہلت اور قربت اسے ملی ہوتی وہ ان میں سے کچھ تنکے ثبوت کے طور پر خود سے چپکالیا کرتاتھا۔

اس جوڑے کی واپسی پر چونکہ عشا کی نماز کا وقت ہوتا اور یاسمین بشریٰ  کو غسل کی جلدی ہوتی لہذا وہ یہ سیٹ کور صاف کیے بغیر ہی ہاسٹل دوڑ جاتی تھی۔ ان کی ناراضگی کی وجہ یہ بنی کہ کسی نے راجہ سہیل کے نام سے ایک شعر یاسمین بشریٰ  کی دوست کو سنادیا۔ شعر یہ تھا

 اے یاسمین بشریٰ ، میری د ل نشین بشریٰ

تیرے عشق میں ہو گیا میں آدمی سے کھسرہ

یونی ورسٹی کی زبان میں یہ لائن پیٹنے کی مذموم حرکت تھی۔ گوندلوں کی یاسمین بشریٰ  شعر سن کر ہتھے سے اکھڑگئی۔ یونی ورسٹی میں اس طرح کے ترک تعلقات پر معاملہ یوں ہوتا تھا کہ رویا نہ تو نہ میں۔

راجہ سہیل شاہد امتحان کے بعد غائب ہوگیا۔ یاسمین بشریٰ  نے اپنی عصمت کا بلیدان دے کر بہت سنہرے سپنے دیکھے تھے۔ اس شاعرانہ تضحیک سے ایسی ٹوٹی کہ ہڈیالی میں پہلے توسرکاری اسکول میں  اردو کی استانی لگی اور پھر رفتہ رفتہ نائب صدر مدرس بن گئی۔ راجہ سہیل البتہ سی ایس ایس کرکے ڈی ایم جی میں لینڈ کر گیا اور اچھے اچھے عہدوں پر فائز ہوکر بہت مال پیٹا۔

ایم اے میں ابھی ایک سال باقی تھا یاسمین بشریٰ  میری سیٹ کی خانہ ویرانی دیکھ کر دل مسوس کر رہ جاتی۔ ایک دن میں نے سمجھایا کہ ہڈالی اور مٹھا ٹوانہ کے گاﺅں جیسے بانہہ بیلی، سنگی ساتھی ہیں ہمیں بھی مل جل کر جب تک یہاں ہیں دن گزارنے چاہیئں۔ وہ مان گئی چونکہ میری اسکوٹر کی پچھلی سیٹ سے خصوصی لگاﺅ ہو چلا تھا لہذا اسے یقین آ گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے دور رراز قطعہ  ہائے اراضی پر لیٹ کر سبزہ نورستہ کو پامال کرنے والا کوئی مجھ سے بہتر اور محفوظ کسی اور جاٹ کا ساتھ نہ مل پائے گا۔ ایم اے کے نتیجے تک ہم دونوں ایک دوسرے سے جڑے رہے۔

 میرے بہنوئی کے بریگیڈیئر صاحب کی مارشل لا ڈیوٹی میں سندھ میں تعیناتی ہوئی تو کرنل بہنوئی صاحب بھی وہاں سدھار گئے خاکسار کو چند دنوں بعدلا اینڈ آرڈر کی ایک میٹنگ کے دوران جب بہنوئی نے ہوم سیکرٹری مظہر چوہدری صاحب جو ہمارے اپنے ہی پنجاب کے تھے مجھے پنجاب سے سندھ پولیس میں بلا کر کراچی تعینات کرنے کی سفارش کی تو وہ بلا تامل مان گئے۔ وہ سندھ پولیس میں پنجابی افسران کی بھرمار دیکھنا چاہتے تھے تاکہ وہاں پنجاب میں نئی نئی ملازمتیں نکلیں۔ ایسی ہر درخواست پر Purely on Humanitarian Grounds لکھ کر اپنے ڈی او لیٹر کے ساتھ بڑھا دیتے تھے۔ ایسا خط افسران عالی مقام کے درمیان مراسلہ خصوصی کا درجہ رکھتا تھا

انہوں نے پہلا کام دفتر جاکر یہ کیا کہ ایک خط حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو لکھ دیا۔

خط میں درج تھا کہ اسٹوڈنٹس پالیٹکس میں سیاسی ریشہ دوانیوں اور کراس بارڈر مداخلت کے اسرار و رموز پر من کہ مسمی منیر نسیم پنجاب بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ یہی سبب ہے کہ خاکسار کی سندھ پولیس میں آمد وہی اہمیت رکھتی ہے جو اسلام کے حوالے سے محمد بن قاسم کی محسوس کی جاتی ہے۔ ان کے محکمے کا ایک افسر بھارتی قیدیوں کے واہگہ بارڈر کے راستے روانگی کے انتظامات کا جائزہ لینے جا رہا تھا۔ اسے یہ خط دستی پہنچانے کو کہا اور فون پر پنجاب میں اپنے ہم پلہ ڈی ایم جی سیکرٹری سے گفتگو بھی کرلی۔ ورنہ آپ تو جانتے ہیں ایسی سینکڑوں درخواستیں سرکار میں ردی کے بھاﺅ بکنے اور پنجاب کے دفاتر میں سردی میں باہر کے عملے کے رات کو آگ تاپنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ایک ماہ کے اندر خاکسار نہ صرف کراچی آن پہنچا بلکہ پے در پے تعیناتیاں بھی بہنوئی کی مداخلت کی وجہ سے ایک سے بڑھ کر ایک ہوئیں۔ یوں نوکری اچھی چلی۔ مال بھی بنتا رہا، ایک آدھ پلاٹ بھی کے ڈی اے کے ڈی۔ جی۔ نظامی صاحب کو عید پر سلامی کرنے پہنچا تو تحفہ میں مل گیا۔

آپ کا خادم من کہ مسمی منیر نسیم اے ایس آئی، ان دنوں معطل ہے۔ معاملہ کچھ خاص نہیں تھا مگر ہم پنجابی ملازمان، سندھی میں کہتے ہیں” شل نہ“ جس کا مطلب ہوتا ہے ’اللہ نہ کرے‘ ہم غیر پی ایس پی ان کم بخت ڈی ایم جی افسران کے ہتھے چڑھ جائیں۔ میری معطلی کے احکامات خاص طور پر سیکر ٹری محکمہ داخلہ سے موصول ہوئے تھے۔ ہم پولیس والوں سے تو یوں بھی یہ زکوٹے جن، اینٹ کتے کی دشمنی رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)

نوٹ: زیر اشاعت کہانی مشہور و موقر ادبی جریدے سویرا کے حالیہ شمارے نمبر 99 میں شائع ہوئی

ہمارے دیوان صاحب ایک طویل عرصے تک کراچی کی انتظامی عدلیہ سے منسلک رہے۔ بشری زیدی کے حادثے کے دن سے کراچی کے بگاڑ کے عینی شاہد، ایک طویل عرصے تک مجسٹریٹ اور ایک مختصر عرصے تک جیل خانہ جات کے آئی جی اور کئی محکموں کے سیکرٹری بھی رہے۔ کراچی کی مافیا، سیاست اور دنیائے جرائم کو بہت قریب سے دیکھا۔

کراچی پولیس اور عدالتی نظام اور سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے سن اسی سے براہ راست وابستگی کی بنیاد پر حاصل شدہ تجربات اور مشاہدے سے کشید کی گئی اس کہانی کا عرصہ کارزار سنہ 1980-90 کی دہائی پر محیط ہے۔ یہ کہانی زیر طباعت کتاب” چارہ گر ہیں بے اثر“ میں شامل ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 83 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments