ستر برس بعد بھی انڈیا میں مختلف مذاہب کی آبادی کے تناسب میں کوئی فرق نہیں پڑا، ہندو آبادی کا تقریباً 80 فیصد جبکہ مسلمان آبادی کا 14 فیصد ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Indian Hindu devotees gesture before attempting to form a human pyramid in a bid to reach and break a dahi-handi (curd-pot) suspended in air during celebrations for the Janmashtami festival, which marks the birth of Hindu god Lord Krishna, in Mumbai on August 18, 2014.
AFP
انڈیا کی ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی میں ہندو 80 فیصد ہیں۔
غیر سرکاری تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ تحقیق کے مطابق انڈیا میں ہر مذہب کے ماننے والوں کی آبادی کی شرحِ پیدائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے نتیجے میں سنہ 1951 کی مردم شماری سے لے کر اب تک انڈیا میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔

ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی کے دو بڑے گروہ، ہندو اور مسلمان، انڈیا کی آبادی کا 94 فیصد بنتے ہیں۔ جبکہ مسیحی، سکھ، بدھ مت کے ماننے والے، اور جین مذہب کے پیروکار کُل ملا کر انڈیا کی آبادی کا چھ فیصد بنتے ہیں۔

پیو ریسرچ نے انڈیا کے ہر دہائی پر ہونے والے اعداد و شمار اور نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی معلومات کی بنیاد پر اس بات کا جائزہ لیا کہ ملک میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کی آبادی کے تناسب میں کیا تبدیلی آئی ہے، اور اس تبدیلی کے کیا اسباب ہیں۔

سنہ 1947 کے بٹوارے، جب محکوم انڈیا کو ایک ہندو اکثریتی ملک انڈیا اور مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں تقسیم کیا گیا تھا، سے لے کر اب تک انڈیا کی آبادی میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

سنہ 1951 کی مردم شماری کے وقت انڈیا کی آبادی 36 کروڑ تھی جو سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، ایک ارب، بیس کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ (آزاد انڈیا میں پہلی مردم شماری سنہ 1951 میں ہوئی تھی ا ور آخری مردم شماری سنہ 2011 میں ہوئی تھی۔

پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق اس عرصے میں ہر مذہب کے پیروکاروں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوؤں کی آبادی 30 کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ کر 96 کروڑ 60 لاکھ ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے 17 کروڑ 20 لاکھ ہو چکی ہے۔ اور مسیحیوں کی آبادی 80 لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ اسی لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔


India Muslims

AFP
انڈیا میں مسلمانوں کی بہت زیادہ آبادی ہے، جو صرف مسلم اکثریتی ملک، انڈونیشیا سے کم ہے۔

مختلف مذاہب کا آبادی میں تناسب

  • سنہ 2011 کی مردم شماری میں انڈیا کی ایک ارب بیس کروڑ آبادی میں 79.8 فیصد ہندو ہیں۔ دنیا کے 94 فیصد ہندو انڈیا میں رہتے ہیں۔
  • مسلمانوں کی تعداد انڈیا کی آبادی کا 14.2 فیصد ہے۔ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک ملک ہے۔ صرف انڈونیشیا میں مسلمان آبادی کی تعداد انڈیا کے مسلمانوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔
  • مسیحی، سکھ، بدھ مت کے ماننے والے اور جین مت کے پیروکار کل ملا کر انڈیا کی آبادی کا چھ فیصد حصہ بننتے ہیں۔
  • سنہ 2011 کی مردم شماری میں صرف تیس ہزار افراد نے اپنے آپ کو لادین بتایا۔
  • تقریبا 80 لاکھ افراد نے کہا کہ ان کا چھ بڑے مذہبی گروہوں میں سے کسی سے تعلق نہیں ہے۔
  • انڈیا میں 83 چھوٹے مذہبی گروہ تھے اور ہر ایک کے کم از کم 100 پیروکار تھے۔
  • انڈیا کی آبادی میں ہر ماہ تقریباً دس لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کی آبادی سنہ 2030 تک آج کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین سے بڑھ جائے گی۔

(سورس: مردم شماری سنہ 2011، پیو ریسرچ سینٹر)


بڑے مذہبی گروہوں میں اب بھی مسلمانوں میں سب سے زیادہ شرح پیدائش (2015 میں 2.6 بچے فی عورت) ہے۔ اس کے بعد ہندوؤں کی شرح پیدائش شرح (2.1) بنتی ہے۔ جین برادری میں سب سے کم شرح پیدائش یعنی 1.2 فی عورت ہے۔

تحقیق کے مطابق عمومی طور پر شرح پیدائش کا تناسب بڑی حد تک وہی ہے جو سنہ 1992 میں تھا، جب مسلمانوں میں سب سے زیادہ شرح پیدائش تھی (4.4) اس کے بعد ہندو (3.3) تھے۔

محققین کہتے ہیں کہ ‘انڈیا کے مذہبی گروہوں کے درمیان بچے پیدا کرنے میں فرق عام طور پر پہلے کی نسبت بہت کم ہے۔’

India chart

BBC

آبادی میں اضافے کی سست روی انڈیا کے اقلیتی گروہوں میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے جن میں ابتدائی دہائیوں میں شرح پیدائش ہندوؤں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔

پیو سینٹر میں امورِ مذاہب کی محقق، اسٹیفنی کرامر کہتی ہیں کہ مسلمانوں کی ایک نسل میں 25 سال سے کم عمر کے دو بچوں کی پیدائش میں کمی قابل ذکر ہے۔

سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں انڈیا کی خواتین کے بچوں کی پیدائش کی تعداد اوسطاً 3.4 فی عورت سے سنہ 2015 میں 2.2 فی عورت رہ گئی تھی۔ اسی طرح اسی عرصے میں مسلمانوں میں شرح پیدائش 4.4 فی عورت سے 2.6 فی عورت سے بھی زیادہ کم ہو گئی۔

ان ساٹھ برسوں میں انڈیا کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ چار فیصد بڑھا، جبکہ ہندوؤں کا حصہ تقریباً اتنے ہی تناسب سے کم ہوا۔ جبکہ باقی دیگر مذاہب میں اضافے کا رجحان مستحکم رہا۔

اسٹیفنی کرامر نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ڈیموگرافک تبدیلی کی معمولی مقدار کو اس حقیقت سے سمجھایا جا سکتا ہے کہ مسلم خواتین نے کم از کم حال ہی میں دیگر انڈین خواتین کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ بچے پیدا کیے ہیں۔’

تحقیق کے مطابق، خاندانی سائز بہت سے عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ‘یہ بتانا ناممکن ہے کہ آیا صرف مذہبی وابستگی شرح پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے۔’ بہت سے ممالک کے برعکس، انڈیا میں آبادیاتی تبدیلی پر ہجرت یا مذہبی تبدیلی کے اثرات ‘نہ ہونے کے برابر’ ہیں۔

اب تک انڈیا میں مذہبی آبادی کی معمولی سی تبدیلی کا ‘سب سے بڑا سبب’ شرح پیدائش رہی ہے۔

آبادی میں اضافہ اس حقیقت کی وجہ سے بھی ہوا کہ ایسے اوسطاً جوان گروہ جن میں نوجوان عورتوں کی تعداد قدرے اوسطاً بوڑھے گروہوں کی نسبت زیادہ تھی وہ ‘بچے پیدا کرنے کے اپنے ابتدائی برسوں میں جلد داخل ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بوڑھی آبادی کے مقابلے میں ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔’

اس تحقیق کے مطابق، سنہ 2020 تک ہندوؤں کی اوسط عمر 29 ہے، جبکہ مسلمانوں کی 24 اور عیسائیوں کی 31 ہے۔

Fertility rates in India

BBC

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

کتنے بچے پیدا کرنے ہیں؟ فیصلہ حکومت کا ہوگا یا عورت کا

انڈیا میں مسلمان ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوں؟

انڈیا میں آبادی میں اضافے کے دیگر اسباب میں خواتین میں تعلیم کی سطح (اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اکثر دیر سے شادی کرتی ہیں اور کم تعلیم یافتہ خواتین کے مقابلے میں ان کا پہلا بچہ بعد میں ہوتا ہے) اور دولت (غریب خواتین زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں تاکہ وہ گھریلو کام میں حصہ ڈال سکیں اور آمدنی میں اضافہ کرسکیں)۔

یہ نتائج مکمل طور پر حیران کن نہیں ہیں کیونکہ حالیہ دہائیوں میں انڈیا کی مجموعی شرح پیدائش تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اوسطاً ایک عام انڈین عورت کی شرح پیدائیش2.2 ہے۔

یہ امریکہ (جہاں 1.6 بچے فی عورت شرح پیدائش ہے) جیسے ممالک کی شرحوں سے زیادہ ہے، لیکن خود انڈیا کی سنہ 1992 میں (3.4) یا سنہ 1950 (5.9) کی شرح پیدائش سے کم ہے۔

اس تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف چند انڈین ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر مذہب کے خانے کو خالی چھوڑنے والوں کی تعداد – مسیحیوں اور مسلمانوں کے بعد – تیسرے نمبر آتی ہے۔

اسٹیفنی کرامر کا کہنا ہے کہ ‘اس لیے یہ دلچسپی کی بات ہے کہ اتنے بڑے ملک میں مذہب سے لاتعلق افراد بہت ہی کم تعداد میں ہیں۔’

اس کے علاوہ کئی مذہبی گروہ انڈیا میں ‘غیر معمولی حد تک’ مرکوز ہیں، دنیا بھر کی ہندوؤں کی کل آبادی کا 94 فیصد حصہ انڈیا میں رہتا ہے، اسی طرح جینوں کی اکثریت اور 90 فیصد سے زیادہ سکھ بھی انڈیا میں رہتے ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر سکھ صرف ایک انڈین ریاست پنجاب میں رہتے ہیں۔

اگر انڈیا کا موازنہ چین سے کریں، جس کی آبادی انڈیا سے زیادہ ہے، دنیا کے بدھ مت کے پیروکاروں کی نصف آبادی چین میں رہتی ہے اور سب سے زیادہ لا دین افراد کی آبادی بھی چین میں رہتی ہے۔

لیکن چین میں ‘کسی بھی بڑے مذہبی گروہ کی 90 فیصد آبادی جیسی صورت نہیں ہے۔’

اسٹیفنی کرامر کہتی ہیں کہ ‘واقعی کوئی ایسا ملک نہیں جو انڈیا جیسا مذہبی منظر نامہ پیش کرتا ہو۔’

چارٹس بشکریہ محمد کاوس / بی بی سی مانیٹرنگ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21235 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments