ٹیکس کے ترمیمی بل 2021 کا جواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چوتھے ترمیمی ٹیکس بل 2021 کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے ذریعے اب ٹیکس دینے والوں کی ڈیٹا تک رسائی دے دی گئی ہے۔ اس نئے ترمیمی ٹیکس قانون کے حوالے سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ یہ رد عمل انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 198 کو ختم کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ جس میں قومی اسمبلی کے ممبران اور سرکاری ملازمین کو ٹیکس کی تفصیلات سے چھوٹ حاصل تھی۔ نئے آرڈیننس کے مطابق وہ تفصیلات بتانے کے پابند بنائے گئے ہیں۔ جب کوئی بھی اپنے بارے میں تفصیلات غلط دے گا یا چھپائے گا تو اس کو سزا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ قومی احتساب بیورو کو ڈیٹا تک رسائی نادرا کے ذریعے یقینی بنائی گئی ہے۔

دنیا کے ہر کسی ملک میں ٹیکس کا نظام موجود ہوتا ہے۔ شہری بڑی خوشی اور ایمانداری سے وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس وصولی کے ہدف بہتر نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔ شہری اس لئے ٹیکس ادا کرتے ہیں کیوں کہ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ان کے ادا کیے گئے ٹیکس سے ہی حکومت اپنے اور عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے۔ اور ٹیکس ادا کرنے کے بدلے میں شہریوں کو تعلیم، صحت، فلاح و بہبود اور عام ترقی کی سہولیات فراہم کردی جاتی ہیں۔ اسی طرح ٹیکس لینے اور دینے والوں کے درمیان ایک بھروسے کا رشتہ ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں شروع سے لے کر اب تک ٹیکس وصولی کی صورتحال کچھ خاص نہیں رہی۔ مختلف اقسام کے ٹیکس وصولی کے بعد حکومت عوام کو بنیادی سہولیات تک نہیں دے پائی۔ جس کی وجہ سے عوام کو ہمیشہ سے حکومتوں سے شکایات ہوتی آئی ہیں۔ اور عوام اپنی شکایات میں درست بھی ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنے گزر سفر کے وسیلے خود کرتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کا معاشی وزن بھی خود ہی اٹھاتا ہے۔ بجلی، پانی اور گیس کے بھاری اور بلا جواز بل بھی خود ہی ادا کرتا ہے۔

اضافی ٹیکس دے کر ایک طرح سے حکومت کو بھی پالتا آیا ہے۔ اگر ٹیکس کے نظام کو آسان بنا دیا جاتا اور عوامی فائدے اور سہولیات یقینی بنایا جاتا تو ہر ایک شہری خوشی سے ٹیکس ادا کرتا جاتا۔ عام یا خاص لوگوں کا ٹیکس نہ دینے کا مطلب یہی ہے کہ عوام کو بدلے میں کچھ بھی نہیں ملتا۔ نتیجے میں اس کو لوٹ لیے جانے کا احساس ہوتا ہے۔

جہاں تک پی ٹی آئی کی حکومت کا تعلق ہے اس کے نئے پاکستان کے ویژن میں ٹیکس کو بہتر کرنے کا بھی نکتہ شامل تھا۔ پی ٹی آئی کے مینی فیسٹو 2018 میں ایسا اظہار موجود رہا ہے۔ مثال کے طور پر اس میں ایک جگہ پر یہ کہا گیا تھا کہ ہم بیرون ممالک میں چھپائی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائیں گے۔ آج تحریک انصاف کی حکومت کو 3 سال ہو گئے ہیں مگر کسی کو یہ معلوم نہیں کہ لوٹی ہوئی دولت بیرون ممالک سے کتنی واپس آئی ہے۔ اسی مینی فیسٹو میں ایک عوام دوست ٹیکس نظام بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ پر کسی بھی عام آدمی سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ اس کے گھر کا چولہا کیسے جلتا ہے۔ پتہ لگ جائے گا۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک وسیع پیمانے پر ٹیکس نظام لگایا جائے جو سادہ اور سمجھ میں آنے والا صاف شفاف ہونا چاہیے۔ ایسے نظام کو تیار کرنا اور پھر لاگو کرنے کے کچھ خاص جماعتوں اور گروہ کو ہدف بنانے سے بہتر ہے کہ عوام کے وسیع تر مفادات کو ترجیح دی جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نادر علی، نوشہرو فیروز کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments