واجد علی شاہ: اودھ سلطنت کے آخری بادشاہ عیش و نشاط کے رسیا ’نااہل حکمران‘ تھے یا آرٹ کو فروغ دینے والے ہردلعزیز بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنؤ یعنی اودھ کی بادشاہت کے بارے میں ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’یہ ایک خیال تھا کہ دماغ میں آیا اور نکل گیا، ایک خواب تھا، پوری طرح دیھکنے بھی نہ پائے تھے کہ آنکھ کھل گئی۔۔۔ ایک طلسم تھا کہ دم کے دم میں بنا۔۔۔ اور پھر چشم زدن میں ایسا ٹوٹا کہ کہیں نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ تاہم یہ طلسمی منظر کچھ ایسا دلفریب تھا کہ آج تک لوگوں کو یاد ہے، زمانے کے انقلاب اور آسمان کی گردش اس کو بھلا نہ سکی اور اس کا بیان اس وقت بھی لطف اندوز اور پُرکیف ہے۔‘

یہ جملے محمد تقی احمد کی کتاب ’واجد علی شاہ‘ کے پیش لفظ میں تحریر ہیں اور اودھ کے آخری بادشاہ واجد علی شاہ کی طلسماتی شخصیت کی کچھ حد تک عکاسی کرتے ہیں۔

واجد علی شاہ اپنی شان و شوکت اور اپنی دلچسپیوں کے سبب نوابیت کی ایسی مثال بن گئے تھے جس کے اردگرد بھی کوئی نہ پہنچ سکتا تھا۔ چنانچہ کوئی بھی کبھی نوابی یا شان و شوکت کا اظہار کرتا تو اسے طعنہ دے کر کہا جاتا ’ایسے تم واجد علی شاہ کے پوتے‘ یا ’بڑے آئے واجد علی شاہ!‘

واجد علی شاہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد معرض وجود میں آنے والی اودھ سلطنت کے آخری تاجدار تھے جنھیں ان کے شوق اور عشق و محبت کی داستانوں کی وجہ سے ’نااہل حکمراں‘ قرار دیا گیا لیکن شاید ایسا کہنا اُن کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔

اُردو کی معروف ویب سائٹ ریختہ پر واجد علی شاہ کے کوائف کے تحت یہ تحریر ہے کہ ’اودھ کے آخری تاجدار واجد علی شاہ اختر ایک پیچیدہ شخصیت کے مالک تھےاور شخصیت کی اسی پیچیدگی نے ان کو متنازع بنائے رکھا۔ اگر ایک طرف انگریزوں نے اودھ پر قبضہ کرنے کی غرض سےانھیں ایک نااہل اور عیاش حکمراں قرار دیتے ہوئے ان کی کردار کشی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تو دوسری طرف ان کے طرفدار بھی اُن کی شخصی کمزوریوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اُن کی شخصیت کا وہی رُخ دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جو اُن کو پسند ہے۔‘

چنانچہ معروف ادیب سید مسعود حسن رضوی ادیب اپنی کتاب ’واجد علی شاہ: ایک تاریخی مرقع‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں: ’انگریز اپنی الحاق کی پالیسی کے ماتحت ہندوستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کر کے تقریباً سارے ملک پر قبضہ کر چکے تھے۔ اب سب سے بڑی ریاست اودھ پر قبضہ کرنے کی فکر تھی۔‘

’اس مقصد کو سامنے رکھ کر انگریزوں نے اودھ کے آخری شریف النفس اور ہردلعزیز بادشاہ سلطان عالم واجد علی شاہ کے خلاف پراپگینڈہ کی ایسی کامیاب مہم چلائی کہ اُن کا نام عیاشی، بدنظمی، رقص و موسیقی کی علامت بن گیا۔ واجد علی شاہ نے ہندوستان کی ثقافتی زندگی، موسیقی، رقص اور اداکاری کی اصلاح و ترقی کے لیے جو خدمتیں انجام دیں وہ بھی ان کی عیش کوشی قرار دے دی گئیں۔‘

واجد علی شاہ کی ابتدائی زندگی

واجد علی شاہ کی ولادت 30 جولائی 1822 کو اس وقت ہوئی جب غازی الدین اودھ کے بادشاہ تھے۔ جب وہ 15 سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی شادی کر دی گئی اور جب 20 سال کی عمر کو پہنچے تو ان کے والد امجد علی تخت نشین ہوئے اور سنہ 1942 میں وہ شہزادہ ولی عہد قرار دیے گئے۔

ان کے ایک بڑے بھائی میر مصطفیٰ حیدر تھے لیکن مختلف وجوہات کے سبب کبھی بھی تخت نشینی کے لیے اُن کے نام پر غور نہیں کیا گیا۔ بہرحال ان کے چھوٹے بھائی جنرل صاحب کے بارے میں والدین کی رائے بہتر تھی لیکن واجد علی شاہ کی قسمت کا ستارہ اپنے عروج پر تھا۔

جب وہ پانچ سال کے ہوئے تو غازی الدین بادشاہ کی وفات ہو گئی اور اُن کی جگہ نصیر الدین حیدر سنہ 1827 میں بادشاہ بنے۔ ان کے بعد محمد علی شاہ سنہ 1837 سے 1842 تک اور پھر امجد علی شاہ سنہ 1842 سے سنہ 1847 تک اودھ کے سلطان رہے جبکہ ان کی موت کے بعد واجد علی شاہ آخری تاجدار بنے جنھیں انگریزوں نے معزول کر کے لکھنؤ سے دور کلکتہ کے مٹیا برج میں جلاوطن اور اسیر کر دیا۔

جب ان کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام قیصر زمان واجد علی شاہ رکھا گیا۔ ’افضل التواریخ‘ میں لکھا ہے کہ ان کی پیدائش کے وقت شاہی نجومیوں نے کہا کہ ’اس لڑکے میں جگ کا جوگ ہے‘ یعنی یہ بڑا ہو کر جوگی بنے گا، اس لیے رفع نحوست کی تدبیر واجب ہے۔ اگر عہد سلطنت میں حالت فقیری اختیار کی جائے تو نحوست سعادت میں بدل جائے گی۔‘

اس کے بعد سے واجد علی شاہ کے ہر یوم پیدائش پر انھیں جوگیوں کے پیلے یا گیروئے لباس میں ملبوس کیا جانے لگا اور یہ رسم ان کے بادشاہ بننے کے بعد اور بھی جوش و خروش سے منائی گئی۔

اُردو کے معروف ناقد و مصنف گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب ’ہندوستان کی تحریک آزادی اور اُردو شاعری‘ میں ’مشترکہ ہندوستانی معاشرت‘ کے تحت لکھنؤ اور دہلی کے میلوں ٹھیلوں کا ذکر کیا ہے اور قیصر باغ کے میلے کی ایک جھلک پیش کی ہے جسے واجد علی شاہ نے حکومت سنبھالنے کے بعد سنہ 1848 میں تعمیر کرانا شروع کیا اور وہ اس وقت کے 80 لاکھ روپے کی لاگت سے سنہ 1850 میں مکمل ہوا۔

انھوں نے لکھا کہ ’واجد علی شاہ کے زمانے میں لکھنؤ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اس وقت کا لکھنؤ ہندوستان کے کسی بھی شہر کے لیے لائق رشک ہو سکتا تھا۔ کامرانی اور فراغت کا یہ عالم تھا کہ ہر گوشہ دامانِ باغبان اور کفِ گل فروش بنا ہوا تھا۔‘

واجد علی شاہ کا حلیہ و بشرہ

واجد علی شاہ خوبرو اور خوش شکل تھے۔ ہٹے کٹے تھے اور گھڑسواری بھی خوب کیا کرتے تھے لیکن انگریزی حکومت کو ان کی جوانمردی اور فوج تیار کرنے کی دھن بالکل راس نہ آئی اور انھوں واجد علی شاہ کے اس شوق میں رخنہ ڈالنا شروع کر دیا حتی کہ وہ ایک بار پھر رنگ رلیوں میں ڈوب گئے۔

واجد علی شاہ کے نین نقش، خد و خال اور طرز و انداز کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ آمنہ مفتی نے لکھا ’نواب واجد علی شاہ کی تصویریں دیکھیں تو ایک شاندار نواب نظر آتا ہے، گھنی، پُرپیچ کاکلیں، ذہین آنکھیں، روشن پیشانی، کانوں میں مروارید کی صراحیاں، بر میں انگرکھا، مروارید کا ست لڑا زیبِ گلو، بازو بند، پہنچیاں، سب جڑاؤ اور جڑت بھی کیا گویا آسمان پر ستارے ٹنکے ہوں۔

’اس پیارے پیا نے غزلیں لکھیں، گیت گائے، ڈرامے لکھے، رقص کیا، فنِ تعمیر کو ترقی دی۔ لحیم شحیم نواب کی فطرت میں اتنی نزاکت تھی، اتنی نفاست تھی کہ تاریخ کے اس بے رحم ترین دور میں بھی جب لالچ اور مفادات کا اندھا ہاتھی ایسٹ انڈیا کمپنی، اپنی طاقت کے نشے میں بدمست، ہندوستان کی عظیم گنگا جمنی تہذیب کو اپنے مہیب قدموں تلے روند رہا تھا، اختر پیا، ٹھمری گا رہے تھے اور کھیل رچا رہے تھے۔‘

واجد علی شاہ اور عشق کی داستانیں

واجد علی شاہ کی عیش پرستی اور عشق بازی کو اُن کی تصنیف سے بھی بہت حد تک ہوا ملی۔

انھوں نے ’عشق نامہ‘ کے عنوان سے فارسی زبان میں ایک تصنیف لکھی جسے اُردو میں مرزا فدا علی خنجر نے ’محل خانہ شاہی‘ کے نام سے تحریر کیا ہے جبکہ تحسین سروری نے ’پری خانہ‘ کے نام سے اس کا ترجمہ کیا ہے۔

اس میں انھوں نے آٹھ برس کی عمر سے 26 سال کی عمر تک کے اپنے عاشقی و دلبری کے قصے درج کیے ہیں اور شاعر بننے کے حالات بھی بتائے کہ کس طرح عشق کے تیر سے گھائل ہونے کے بعد ہجر کے دور میں انھوں نے شاعری کی جانب رُخ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

جہاں آرا: شاہجہاں کی بیٹی جو دنیا کی ’امیر ترین‘ شہزادی بنی

مغل حرم سے منسلک عیش و نشاط کے تصور کو بدلنے والی شہزادی

دو ریاستوں کی وارث ’غیرمعمولی‘ شہزادی جو صرف دو سوٹ کیس لے کر پاکستان آ گئیں

اس کتاب میں انھوں نے 132 عشق و عاشقی کے واقعات لکھے ہیں جو آٹھ سال کی عمر میں اس وقت شروع ہوتے ہیں جبکہ ایک معمر خاتون نے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور جنسی طور پر انھیں ہراساں کیا اور ساتھ میں انھیں دھمکاتی بھی رہی کہ اگر انھوں نے کسی سے ذکر کیا تو وہ ان کی شکایت ان کے والد سے کر دیں گی۔

اس کے بعد ان میں شعور بیدار ہوتا گیا اور ان کے عشق پروان چڑھنے لگے یہاں تک کہ جب ان کے والد کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے ان کا نکلنا بند کروا دیا لیکن جب انھوں نے کھانا پینا ترک کر دیا تو بادل نخواستہ اس نوکرانی کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

اسی طرح کے سو سے زیادہ واقعات کا ذکر اس کتاب میں ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وجہ تصنیف میں انھوں نے کجھ اور ہی لکھا ہے اور اسے ’بے وفائی نامہ‘ کہا ہے۔

ان کے دیباچے کے ایک اقتباس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے:

’میں امید کرتا ہوں کہ جو کوئی اس بے وفائی نامے کو پڑھے گا اپنے دل کو عورتوں کی محبت سے باز رکھے گا اور اپنا روپیہ پیسہ ان کے معاملے میں برباد نہ کرے گا، کیونکہ اس کا انجام جو ہوتا ہے وہ بُرا ہے۔ یہ لوگ اگر حضرت یوسف کو بھی پائيں تو اپنی بے وفائی سے ہاتھ نہ اٹھائیں۔ لہذا ان سے دور ہی رہنا بہت اچھا ہے۔۔۔ میرے جیسے خوبصورت اور خوب سیرت بادشاہ سے جس کی ثنا و صفت میں کتابیں بھری پڑی ہیں ناز برداری کے باوجود یہ نہ رہیں تو کوئی دوسرا ان سے کیا پائے گا۔‘

فوج میں اصلاحات

واجد علی شاہ نے بادشاہ بننے کے بعد سب سے پہلا فرمان جو جاری کیا اس میں کسی کو برطرف یا معزول کرنے کے بجائے سب کو ان کے عہدے پر قائم رہنے کا اطمینان دلایا۔

’شاہی فرمان صادر کیا جاتا ہے کہ ہر اہلکار پوری دلجمعی اور کامل اطمینان کے ساتھ اپنے عہدے پر قائم رہ کر احتیاط اور ہوشمندی کا کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھے اور کسی مفسد و سرکش کو سر نہ اٹھانے دے اور سرکاری مال وصول کر کے بھیجتا رہے۔‘

مسعود حسن رضوی ادیب لکھتے ہیں کہ بادشاہ بننے کے بعد ’جان عالم‘ نے سب سے پہلے فوج کی درستگی پر توجہ دی۔ انھوں نے تاریخ داں بھٹناگر کے حوالے سے لکھا کہ بادشاہ نے سنہ 1847 کے آخر میں سخت احکام نافذ کیے کہ اگر کسی فوجی افسر نے یا دفتر بخشی گری کے کسی اہلکار نے ایک حبہ بھی رشوت میں لیا تو اس کو ایسی سخت سزا دی جائے گی جس سے دوسروں کو عبرت ہو اور اسی سال فوجیوں کو جدید اسلحے اور عمدہ وردیاں دی گئیں۔

لکھنؤ کے آغا میر نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے اور لکھنؤ کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے خورشید انور عرف رومی نواب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اودھ کے پانچویں اور آخری بادشاہ نواب واجد علی شاہ نے حکومت ملتے ہی سب سے پہلے فوج کو منظم کرنا شروع کیا اور انھیں مختلف رسالوں (بٹالین) میں تقسیم کیا اور تمام فوجی قوانین خود مرتب کیے اور پریڈ کی نگرانی خود اپنے ذمے لی۔ ہر بٹالین کی پوشاکیں بھی مختلف رنگوں کی بنائی گئیں۔‘

تخت نشینی کے تیسرے سال انھوں نے فوج کو اس طرح ترتیب دیا اور اپنے مختلف رسالوں کے نام سلطانی، غازی، منصوری، غضنفری، اسدی، دکھنی، بانکا، ترچھا، حسینی، حیدری، بادشاہی، خاقانی خسروی اور رسالہ یکہ ہا رکھے۔

اسی طرح انھوں نے اپنے توپ خانے کے نام بھی رکھے تھے۔ توپ خانہ خسروی، توپ خانہ کلاں، توپ خانہ باغ براون، توپ خانہ قیصر سلیمان، توپ خانہ بالک گنج، توپ خانہ عنایتی، توپ خانہ جہاز سلطانی وغیرہ۔

زنانہ پلٹن

رومی نواب بتاتے ہیں کہ ’بادشاہ نے عورتوں کی ایک زنانہ پلٹن بھی بنائی تھی جس کے قوا‏عد اور تربیت کی ذمہ داری انھوں نے خود لی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک یا حکومت کی یہ پہلی زنانہ فوج تھی جس کے بانی نواب واجد علی شاہ تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’غدر (1857) کے زمانے میں اسی پلٹن نے بيگم حضرت محل کے ساتھ جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ بے محل نہ ہو گا کہ سکندر باغ کی لڑائی میں جب انگریزوں نے دھوکے سے ہندوستانی فوجیوں کے لاشوں کے انبار لگا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو امام باڑہ شاہ نجف کے قریب قدم رسول کے پاس ایک پیپل کے پیڑ کے نیچے پانی کے گھڑے رکھے ہوئے تھے۔ ان گھڑوں سے پیاس بجھانے کے لیے کوئی انگریز جب پاس آتا تو مارا جاتا۔‘

’انگریز فوجیوں کی لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر انگریز افسر ڈاسن چونک گیا۔ اس نے اپنے ساتھی سپاہیوں سے کہا کہ درخت پر دیکھو کون ہے۔ اس نے دیکھا لیکن کچھ معلوم نہ کر سکا۔ اس کے بعد ڈاسن نے پیڑ پر گولی چلانے کے حکم دیا، جواب میں پیڑ سے بھی گولی چلی جس سے ڈاسن کا ساتھی مارا گیا۔ اس کے بعد ڈاسن نے گولیاں برسانے کا حکم دیا جس کے بعد درخت سے ایک فوجی گرا۔ پتا چلا کہ وہ کوئی خاتون فوجی ہے۔ تاریخ دانوں نے اس کا نام عمدہ جبیں لکھا ہے۔‘

قیصر باغ

Getty Images
واجد علی شاہ نے قیصر باغ 80 لاکھ روپے کی لاگت میں بنوایا تھا

معروف ادیب عبدالحلیم شرر ’حزن اختر‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ’شاہی محل کی بھشتن تک نواب آب رساں بیگم تھی اور مہترانی نواب مصفا بیگم۔‘ یہ عورتیں جو بیگم کہلاتی تھیں اکثر و بیشتر ناچنے گانے کی خدمت پر مامعور تھیں۔

خود واجد علی شاہ نے لکھا ہے کہ وہ اپنی نگرانی پر ملازم خواتین محا‌فظوں کو فارسی زبان اور رقص و آداب شاہی سکھاتے تھے اور وہ چند ہی دنوں میں وہ اتنی ماہر ہو جاتی تھیں کہ انگریز ان پر رشک کرتے تھے۔

مسعود حسن ادیب نے لکھا ہے واجد علی شاہ فوج کی تنظیم میں ہمہ تن منہمک ہو گئے۔ احکام صادر کیے گئے کہ فجر کی نماز کے بعد پانچ بجے لکھنؤ کی تمام رجمنٹوں کو روزانہ پریڈ کرنی ہو گی۔ بادشاہ کا معمول تھا کہ وہ جنرل کی وردی میں فوج کو روزانہ چار پانچ گھنٹے قواعد کرواتے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں یہ حکم صادر کیا کہ اگر سلطنت کی ضرورتوں کے علاوہ وہ پریڈ میں غیرحاضر ہوں تو ان پر دو ہزار روپے جرمانہ کر کے فوج میں تقسیم کر دیا جائے اور اگر کوئی رجمنٹ پریڈ میں وقت پر نہ پہنچے تو اس پر بھی اتنی ہی رقم کا جرمانہ کیا جائے۔‘

رومی نواب نے بتایا کہ مشق کے دوران اگر بادشاہ پر دھوپ سے بچاؤ کے لیے چھتری کرنا چاہتا تو وہ منع کر دیتے اور کہتے کہ اگر فوجی دھوپ میں مشق کر سکتے ہیں تو میں ان کی نگرانی کیونکر نہیں کر سکتا ہوں۔

بہر حال بادشاہ کی جانب سے فوج کی تربیت اور مشق میں اس قدر دلچسپی سے انگریز ریزیڈنٹ میں بدگمانی پیدا ہو گئی اور ان سے کہا گیا کہ اگر وہ اپنے اور ملک کی تحفظ کی ضرورت کے تحت ایسا کر رہے ہیں تو انھیں انگریز فوجی رکھنے چاہیے اور اس طرح اختر پیا بادشاہ بننے کے بعد پھر سے رقص و سرود کی محفل میں ڈوب گئے۔

انصاف اور دادرسی

اسی زمانے میں انھوں نے دادرسی کا نیا طریقہ اپنایا اور لوگوں کی فریاد سننے کے لیے ان کی سواری کے ساتھ دو صندوق ہوتے تھے جن پر ’مشغلہ سلطانی عدل نوشیروانی‘ کے الفاظ کندہ تھے۔ اس میں ہر شخص کو بے روک ٹوک اپنی عرضی ڈالنے کی اجازت تھی۔ بادشاہ ان صندوق کو خود کھولتے اور عرضیوں پر مناسب حکم صادر فرماتے، جن کی فورا تعمیل کی جاتی۔

‘یہ سلسلہ کئی مہینے تک جاری رہا پھر ختم کر دیا گیا۔ اس کا خاص سبب یہ ہوا کہ داد خواہوں کی عرضیوں سے بددیانت اہلکاروں اور خائن مصاحبوں کی قلعی کھلتی تھی۔ اس لیے انھوں نے صندوقوں میں ایسی فتہ انگیز تحریریں ڈلوانا شروع کیں جو نوجوان بادشاہ کے خلاف مزاج ہوتی تھیں۔‘

بہر حال جب انگریزوں نے بادشاہ کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کی فوج اور اہل کاروں نے مقابلے کی بات کہی لیکن بادشاہ نے جان کے بے دریغ زیاں اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگریز ریزیڈنٹ کی بات مان لی۔ جبکہ رومی نواب کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی ایما پر پہلے کانپور اور پھر کلکتے کا سفر اختیار کیا۔

کہا جاتا ہے کہ جب انھیں معزول کیا گیا تو انھوں نے دربار سجا کے اپنی ٹھمری ’مورا نیہر چھوٹا جائے‘ پر رقص کیا اور اس موقع پر موجود تمام درباری اشک بار تھے۔

لکھنؤ سے رخصت ہونے کا اظہار ان کے ایک شعر میں اس طرح ملتا ہے:

در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں

خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

واجد علی شاہ اور بیگم حضرت محل کے پڑپوتے اور شاہ اودھ مزار اور سبطین آباد امام باڑہ ٹرسٹ کے سینیئر ٹرسٹی عرفان علی مرزا نے بی بی سی کو اپنے جد امجد کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’واجد علی شاہ شاعر بادشاہ تھے لیکن وہ بادشاہ سے زیادہ شاعر تھے۔ اور اس کا اظہار ان کی انسان دوست حکمرانی میں ہوتا ہے جس کے تحت انھوں نے لکھنؤ کو شاعری، فن، ثقافت اور ادب کا مرکز بنانے کی کوشش کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کی حکمرانی کچھ ایسی تھی جیسے افلاطون کی جمہوریہ کی طرز پر کوئی شروعات ہو جس میں افلاطون کے برخلاف فلسفیوں اور شاعروں کو، نہ کہ سیاستدانوں کو دنیا پر حکمرانی کرنی چاہیے۔‘

’اور وہ اپنے اس خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں تقریباً کامیاب ہو گئے تھے یہاں تک کہ انگریزوں نے مداخلت کرکے 1856-57 کی ہنگامہ آرائی کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ تھی کہ بیگم حضرت محل کو لکھنؤ کے شاعری سے محبت کرنے والے لوگوں کی زبردست حمایت ملی جب انھوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی اور علم و تمدن کے اس ابھرتے ہوئے مرکز کو بچانے کی کوشش کی۔‘

انھوں نے لکھنؤ کے موجودہ حال پر اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا ’لیکن لکھنوی ثقافت کا زوال جو واجد علی شاہ کی جبری برطرفی سے شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ واجد علی شاہ کا جگمگاتا ہوا لکھنؤ آج ایک بوالہوس کا خوفزدہ اور برباد شہر ہے۔‘

بہر حال واجد علی شاہ نے لکھنؤ سے نکلنے کے بعد ’مٹیا برج کو چھوٹا لکھنو بنانے کی کوشش کی اور لکھنؤ کے طرز کی عمارتیں بنوائیں۔ امام باڑہ سبطین، رئیس منزل، تمام باغات اور عمارتیں جن سے لکھنؤ کی یادیں وابستہ تھیں، مٹیا برج میں نمودار ہوئیں، مٹیا برج میں ان کی راتیں مشاعروں، مجلسوں اور محفلوں کے لیے وقف تھیں۔‘

واجد علی شاہ نے ’مباحثہ بین النفس والعقل‘ میں اپنے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور اس میں اپنی پرانی زندگی پر اظہار تاسف کیا ہے لیکن اولاد کی کثرت پر خدا کا شکر بھی ادا کیا ہے۔

اس رسالے کی وجہ تالیف میں اپنا نسب نامہ تفصیل سے بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ والد کی جانب سے ان کا نسب امام موسیٰ کاظم تک پہنچتا ہے اور ماں کی طرف سے امام حسین تک۔

مزید پڑھیے

فورٹ ولیم کالج: انگریزوں کا قائم کیا گیا وہ تعلیمی ادارہ جس نے برصغیر کی تقدیر بدل دی

نور جہاں: مغل ملکہ جو حقوق نسواں کی علمبردار کہلائيں

جہانگیر کے دربار میں برطانوی شاہ کا ‘شیخی باز’ سفیر

بہاولپور کا نور محل: محبت کی یادگار یا مہمان خانہ

اپنی قید کے سلسلے میں لکھتے ہیں کہ ’صفدر جنگ وزیر اودھ (مغلوں کے وزیر جنھوں نے سلطنت اودھ کی بنا رکھی) کے جد اعلی قرا یوسف تھے، ان کے بیٹے شاہ بداغ، ان کے حسن علی میرزا، ان کے ناظر میرزا، ان کے بیٹے منصور میرزا تھے، جن کو شاہ عباس ثانی نے تبریز میں قید کر کے ایک لاکھ درھم ان کے گزارے کے لیے مقرر کر دیے تھے۔ عجب اتفاق ہے کہ بادشاہ انگلستان نے میرے لیے بھی اتنا ہی گزارہ مقرر کیا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’26 مہینے قید رہا، 19 سال سے مٹیا برج میں مقیم ہوں جس کا ایک نام موچی کھولا بھی ہے۔ تین سال سے ماہ رمضان میں نمازیں، دعائيں، تلاوت قرآن ایک مجمع کے ساتھ کرتا ہوں۔ ان تین سالوں میں نفس نے جو سوال کیے اور عقل نے جو جواب دیے وہ میں نے لکھ دیے۔‘

عبدالسلام ندوی اپنے ایک مضمون ’لکھنؤ کی آخری شمع‘ میں واجد علی شاہ اختر کی نسبت سے روایت کیا ہے کہ ’مٹیا بُرج میں جب آپ کا اخیر وقت تھا، آپ تکلیف نزاع سے کراہتے تھے، اس وقت کل بیگمات محلاتِ شاہی سے نکل کر سرِ بالیں آ گئی تھیں، سبھوں نے ہم زبان ہو کر کہا کہ حضرت شگون بد ہے آپ کراہیں نہیں۔ اس تکلیف شدتِ نزع میں رنگینیٔ مزاج و حاضر جوابی نہ گئی تھی، بے ساختہ آپ کی زبان سے یہ شعر نکلا:

آہ کرنے سے تو سب لوگ خفا ہوتے ہیں

اے نسیمِ سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں

اور اسی کے ساتھ 21 ستمبر سنہ 1887 کو اس بادشاہ نما فقیر نے وفات پائی۔

معزولی کے بعد واجد علی شاہ اپنا زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف میں صرف کرتے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر چھوٹی بڑی تقریباً سو کتابیں لکھیں۔

انھوں نے سینکڑوں گیت لکھے اور لکھنوی ٹھمری اور بھیرویں کی مقبولیت ان ہی کا کارنامہ ہے۔ ان کی مشہور ٹھمری ’بابل مورا نیہر چھوٹو ہی جائے‘ ہے۔

انھیں اُردو ناٹک کا موجد کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، انھوں نے موسیقی کی سرپرستی کے ساتھ رقص کو بھی سرپرستی فراہم کی جبکہ خود بھی اعلیٰ درجے کے کتھک ڈانسر تھے۔

کتھک رقص کی بین الاقوامی شہرت یافتہ اما شرما نے ’قومی آواز‘ کے 26 جنوری 1973 کو شائع ہونے والے جمہوریہ نمبر میں اپنے ایک مضمون میں لکھا: ’عام طور پر جاگیردار اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے رقاصاؤں کو رکھتے تھے لیکن ان میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو حقیقتاً آرٹ کی پجاری تھی اور جس نے کتھک کی پاکیزگی برقرار رکھنے میں پورا تعاون کیا، وہ تھے واجد علی شاہ، شاعر، حکمراں اور اودھ کے آخری نواب۔۔۔ بعد میں وہ لکھنؤ گھرانے کے موجد شری ٹھاکر پرشاد کے شاگرد بن گئے۔ ٹھاکر پرشاد کے دو لڑکے کالکا پرشاد اور بندادین ہمہ گیر شہرت کے مالک ہیں اور واجد علی شاہ کی سرپرستی کی وجہ سے ان دونوں نامور ہستیوں نے کھتک کی کلاسیکی روایات کو برقرار رکھا۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21235 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments