نور مقدم قتل کیس: مقتولہ کے فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے عدالت کا مشورہ، ’مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ لیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں نامزد دو ملزمان ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کی جانب سے دائر کردہ ضمانت کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

اس کیس کے نامزد مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی پر اعانت جرم کا الزام ہے۔

ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے اپنی ضمانت مسترد ہونے کے بعد اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں جب ضمانت کی اپیلوں پر سماعت شروع ہوئی تو اس مقدمے کے مدعی اور نور مقدم کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور روسٹم پر آئے اور انھوں نے ملزمان کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کے خلاف دلائل دینا شروع کیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے اس مقدمے کے بارے میں کچھ حقائق رکھنا چاہتے ہیں۔

اُن کے مطابق 20 جولائی 2021 کو جب یہ وقوعہ ہوا تو اس وقت مرکزی ملزم ظاہر جعفر اپنے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کے ساتھ رابطے میں تھا۔

فون ریکارڈ کی مدد سے تفتیش میں پیش رفت

مدعی مقدمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے کہ بلکہ ان دونوں ملزمان کے زیر استعمال جو موبائل فون تھے ان کے ریکارڈ کی روشنی میں وہ یہ بات کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وقوعہ کے روز شام سات بج کر تین منٹ سے لے کر سات بج کر پنتالیس کے درمیان پانچ مرتبہ رابطہ ہوا اور ’یہی وہ وقت تھا جب نور مقدم کو فرار کی ناکام کوشش کے بعد دوبارہ گھسیٹ کر ظاہر جعفر اپنے ملازمین کی مدد سے گھر کے اندر لے گئے تھے اور بعدازاں نور کو قتل کرنے کے بعد اُن کا سر دھڑ سے الگ کر دیا تھا۔‘

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے وقوعہ کے روز شام چھ بج کر 35 منٹ پر نور مقدم نے اپنی زندگی بچانے کے لیے گھر کی پہلی منزل سے چھلانگ لگائی تھی۔

zahir zakir

BBC
پولیس کے مطابق ظاہر جعفر مسلسل اپنے والدین سے رابطے میں تھا

اس دوران ملزمان کے وکیل خواجہ حارت نے سوال اٹھایا کہ استغاثہ کو کیسے معلوم ہوا کہ مقتولہ نے اپنی جان بچانے کے لیے جب گھر کی پہلی منزل سے چھلانگ لگائی تھی تو اس وقت شام بج کر 35 منٹ ہی ہوئے تھے جس پر شاہ خاور کا کہنا تھا کہ یہ وقت سی سی ٹی وی فوٹیج کی اس ویڈیو میں درج ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’فرد جھوٹ بول سکتا ہے، مشینیں جھوٹ نہیں بول سکتیں۔‘

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ’جس وقت نور مقدم نے اپنی جان بچانے کے لیے پہلی منزل سے چھلانگ لگائی تھی تو اس وقت گھر کے چوکیدار افتخار نے ذاکر جعفر کو فون کر کے اس واقعہ کے بارے میں بتایا تھا لیکن ذاکر جعفر نے پولیس کو مطلع کرنے کی بجائے ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے انچارج طاہر ظہور کو سات بج کر سات منٹ پر فون کر کے اپنے بیٹے کی مدد کے لیے جائے وقوعہ پر جانے کا کہا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کے جواب میں طاہر ظہور نے سات بج کر بارہ منٹ پر فون کر کے بتایا کہ وہ اور اس ادارے میں کام کرنے والے دیگر افراد کو لے کر ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملزمہ عصمت آدم جی نے بھی شام چھ بج کر 48 منٹ پر چوکیدار افتخار سے بھی بات کی تھی۔

جسٹس عامر فاروق نے مدعی مقدمہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع کب ملی تھی، جس پر اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انھیں رات پونے دس بجے کے قریب ایک شخص محمد زبیر نے فون کر کے اطلاع دی کہ وہاں پر کوئی وقوعہ ہوا ہے جس پر پولیس دس بجے کے قریب جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جس وقت نور مقدم کو قتل کیا گیا تب کیا وقت ہوا ہو گا؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ’نور مقدم کا قتل شام سوا سات بجے سے ساڑھے سات بجے کے درمیان ہوا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’والد نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں، لاش ٹھکانے لگانے کے لیے بندے آ رہے ہیں‘

نور مقدم قتل کیس: ’مقدمہ منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں‘

نور مقدم کیس: تھیراپی ورکس کے مالک سمیت چھ ملزمان کی ضمانت منظور

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے انچارج طاہر ظہور اور دیگر افراد کتنے بجے جائے وقوعہ پر پہنچے تھے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق طاہر ظہور اور سینٹر کے دیگر افراد آٹھ بج کر پانچ منٹ پر وہاں پہنچے اور سیڑھی لگا کر گھر کے اندر داخل ہوئے کیونکہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے گھر کا دروازہ اندر سے بند کیا ہوا تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق طاہر ظہور نے وقوعہ کے روز عمصت آدم جی کو آٹھ بج کر 16 منٹ پر کال کر کے صورتحال سے آگاہ کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا موبائل فون کا تمام ریکارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ صرف واٹس ایپ کا ریکارڈ نہیں ملتا باقی موبائل فون سے ہونے والی کالز اور میسجز کا ریکارڈ حاصل ہو جاتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے سے جڑے ہوئے تمام افراد کے موبائل کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے فون کی سکرین ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس موبائل سے کیے گئے پیغامات کو صیح طریقے سے نہیں پڑھا جا رہا جبکہ مقتولہ نور مقدم کے زیر استعمال موبائل فون کا پاس ورڈ نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس آئی فون تھا جس پر بینچ کے سربراہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں بھی موبائل فون کو نہیں کھولا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ’مارکیٹ سے کسی بھی ہیکر کو پکڑ لیں وہ کام کر دے گا‘ بینچ کے سربراہ کے اس ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ بلند ہوا۔

نور مقدم

BBC
وہ مکان جہاں نور مقدم کا قتل ہوا

ملزم کے والدین کا ری ہیبلیٹیشن سینٹر سے تعلق

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عصمت آدم جی کا اس ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ وہ اس سینٹر کی کنسلٹنٹ رہی ہیں جبکہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر وہاں پر زیر علاج بھی رہے ہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

عدالت نے سوال کیا کہ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے یہ افراد کیسے پھر گھر کے اندر داخل ہوئے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ گھر کی صرف ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور اس سینٹر کے افراد سیڑھی لگا کر گھر کے اندر داخل ہوئے۔

تفتیشی افسر کے مطابق سب سے پہلے امجد نامی شخص گھر کے اندر داخل ہوا جس پر مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔

شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ وقوعہ کے روز ملزم ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کراچی میں تھے لیکن ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم اور اپنے بیٹے ظاہر جعفر کے ساتھ نور مقدم کے پہلی منزل سے چھلانگ لگانے سے لے کر اس کو قتل کرنے اور پھر اس کا سر دھڑ سے الگ کرنے تک مسلسل رابطے میں تھے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ذاکر جعفر کی طرف سے ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے ذمہ دارن کو فون کرنے کی بجائے متعقلہ تھانے کو فون کر دیا جاتا تو نور مقدم کی جان کو بچایا جا سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس سٹیشن جائے حادثہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔

شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں 18 گواہان ہیں جن میں سے صرف دو عام شہری ہیں جبکہ باقی سرکاری ملازمین ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ان اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم مقدمہ ہے اور اس پر فیصلہ مستقبل میں فوجداری مقدمات میں ایک گائیڈ لائن کا تعین کرے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان اپیلوں کی سماعت کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21131 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments