’ترچھی نظروں والی کلوئی‘ اپنی وائرل میم فروخت کر رہی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کم سن لڑکی جو صرف دو برس کی عمر میں انٹرنیٹ پر ایک سلیبرٹی بن گئی تھی جب اس کی تصویر وائرل ہوگئی تھی، اور سالوں بعد اب وہ اسی تصویر کا این ایف ٹی ہزاروں ڈالر میں نیلام کر رہی ہیں۔

این ایف ٹی ایک ڈیجیٹل ٹوکن یا سند ہے جو آرٹ کے ان نادرِ روزگار نمونوں کے لیے جاری کی جاتی ہے جو طبعی حالت میں موجود نہیں ہوتے۔

کلوئی کلیم، جن کی عمر اب دس سال ہے، 2013 میں اس وقت مشہور ہوگئی تھیں جب ان کی والدہ نے کلوئی کی ایک تصویر انٹرنیٹ پر شیئر کی جس میں وہ ڈِزنی لینڈ کے سرپرائز ٹرِپ پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی ہیں۔

ان کی یہ تصویر تشویش یا ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے مقبول میم بن چکی ہے۔

این ایف ٹی فن کے کسی نادر نمونے کے لیے ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ یا سند کا کام کرتا ہے، مگر اس کے کاپی رائٹ نہیں ہوتے۔ اس لیے نیلامی بولی جیتنے والے کو ڈیجیٹل ٹوکن تو مل جائے گا مگر میم کی ملکیت اس کے پاس نہیں ہوگی۔

این ایف ٹی عام طور پر کرپٹوکرنسی میں خریدے جاتے ہیں تاکہ ٹرانزیکشن بلاک چین کہلانے والے کھاتوں پر ہوں جسے عام لوگ دیکھ سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل آرٹ ورکس حالیہ عرصے میں ماحولیاتی خدشات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں کیونکہ کرپٹوکرنسی کو مائن کرنے، ٹرانزکشن کرنے اور بلاک چین کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی بہت زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے۔

تِرچھی نظر

ستمبر 2013 میں کلوئی کی ماں کیٹی نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں ان دو سالہ بیٹی ڈزنی لینڈ کے ایک سرپرائز وزِٹ پر ردعمل دکھا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک لڑکی للی نے رونا شروع کر دیا، ’مگر جب کیمرا کلوئی کی طرف گیا تو اس نے ترچھی نظروں سے دیکھا اور باقی کام انٹرنیٹ نے کر دیا۔‘

یہ ویڈیو 20 ملین مرتبہ دیکھی گئی اور کلوئی کا ردعمل انٹرنیٹ سینسیشن یا سنسنی بن گیا۔

ان کی ماں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے ٹمبلر کھولا تو وہاں صفحے کے صفحے کلوئی کے چہرے سے اٹے پڑے تھے۔

’یہ بہت عجیب اور حاوی ہو جانے والا محسوس ہوا۔ میرے رشتہ دار اور دوست مجھے یہ میم بھیجنے لگے، اور آج بھی جب کلوئی کی میم انھیں انٹرنیٹ پر نظر آتی ہے تو بھیجتے ہیں۔‘

دس سالہ کلوئی کلیم اپنی ماں کیٹی کے ساتھ

Katie Clem
دس سالہ کلوئی کلیم اپنی ماں کیٹی کے ساتھ

اب کلوئی کے گھروالوں نے اس امیج کو بطور این ایف ٹی نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بولی کا آغاز پانچ ایتھِریم (کرپٹوکرنسی) سے ہوگا جس کی اس وقت قدر تقریباً 15 ہزار ڈالر کے برابر ہے۔

والدہ کا کہنا ہے کہ یہ کلوئی کے کسی فین کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ اس میم کی ملکیت حاصل کر لے۔ کلوئی نے بھی ’دیٹ از پرٹی کول‘ (یہ تو بہت اچھی بات ہے) کہہ کر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

حال ہی میں کئی ملین ڈالر کے این ایف ٹی کی فروخت کے بعد ڈیجیٹل آرٹ کے حقوق ملکیت کی مارکیٹ زوروں پر ہے۔

مارچ میں ٹوئٹر کے بانی جیک ڈورسی نے ملائشیا کے ایک بزنس مین کو اپنی پہلی ٹویٹ 2.9 ملین ڈالر میں فروخت کی تھی۔

اپریل میں ڈیزاسٹر گرل میم میں آنے والی خاتون نے وہ امیج پانچ لاکھ ڈالر میں فروخت کی تھی۔ اوورلی اٹیچڈ گرل فرینڈ نامی میم چار لاکھ 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی۔

اگست میں گریفیٹی آرٹسٹ بینکسی کے ایک مداح کو کسی ہیکر نے ان کی ویب سائٹ سے ایک جعلی این ایف ٹی فروخت کر دی تھی۔ تاہم ان کی خوش قسمتی تھی کہ ہیکر نے تین لاکھ 36 ہزار ڈالر کا، جو انھوں نے ادا کیے تھے، زیادہ تر حصہ واپس کر دیا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

’ڈیزاسٹر گرل‘: 17 برس پرانی تصویر لاکھوں ڈالرز میں فروخت

شعیب اختر اور وسیم اکرم اپنے ’قیمتی‘ ڈیجیٹل اثاثے کیوں بیچ رہے ہیں؟

’میمز تو مجھے وائٹ ہاوس بھی لے گئیں‘

کلوئی کی ماں کا کہنا ہے کہ اس نیلامی سے ملنے والی تمام رقم وہ اپنی بیٹی کی تعلیم پر خرچ کریں گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’کلوئی تو کہتی ہے کہ میں تو ایک گھوڑا خریدوں گی، میں تو والٹ ڈزنی ورلڈ بناؤں گی، مگر میں انھیں کالج سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘

انسٹاگرام پر کلوئی کے پانچ لاکھ فالوورز ہیں اور برازیل میں گوگل کے ایک اشتہار کے لیے بھی کام کیا ہے۔

کیٹی کلیم کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ سب مزیے کی چیزیں کرنے کے لیے برازیل کا سفر کیا۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ گھر پر وقت گزارنے والی عورت ہوں۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21116 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments