انڈیا کی صارف عدالت کا ماڈل کے غلط بال کاٹنے پر سیلون کو دو کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بال
Getty Images
انڈیا کی ایک ’کنزیومر کورٹ‘ (صارف کے حقوق کا تحفظ کرنے والی عدالت) نے ایک سیلون کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ماڈل کے غلط بال کاٹنے پر دو کروڑ انڈین روپے ہرجانہ ادا کرے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون (مدعی) کے بال چونکہ کافی لمبے تھے جس کی وجہ سے انھیں بالوں سے متعلقہ مصنوعات بنانے والی کمپنیوں میں جزوقتی نوکریاں مل جایا کرتی تھیں، مگر سیلون نے متاثرہ خاتون کی ہدایات کے برعکس اُن کے لمبے بال کاٹ دیے، جس سے انھیں کافی زیادہ نقصان ہوا۔

سیلون، جو دہلی کے ایک معروف ہوٹل چین کا حصہ ہے، کو اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ سیلون نے ابھی تک اس عدالتی فیصلے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

صارف عدالت نے قرار دیا کہ لمبے بال کٹنے کی وجہ سے متاثرہ خاتون جزوقتی ملازمتوں کے معاہدوں سے محروم ہوئیں اور سیلون کے اس عمل نے ان کا لائف سٹائل یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور ان کے ملک کی ٹاپ ماڈل بننے کے خوابوں کو بھی چکنا چور کر دیا ہے۔

عدالت نے مزید کہا متاثرہ خاتون اپنے بالوں کو کاٹنے میں غفلت کی وجہ سے شدید ذہنی تناؤ اور صدمے سے گزریں اور اس دوران اپنی نوکری پر توجہ نہیں دے سکی اور آخر کار اپنی ملازمت سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں۔

غلط بال کاٹنے کا یہ واقعہ 2018 میں پیش آیا تھا مگر اس پر عدالتی فیصلہ رواں ہفتے سُنایا گیا ہے۔

متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ سنہ 2004 سے اِسی سیلون میں جا رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں انھیں ایک انٹرویو کے لیے جانا تھا جس کی تیاری کے سلسلے میں وہ سیلون گئی تھیں جہاں انھوں نے عملے کو بال کاٹنے کے حوالے سے ہدایات دیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ سیلون کے عملے کی ایک رُکن ہیئر ڈریسر الیم سنگلیر سے بال کٹوانا چاہتی تھیں لیکن سیلون نے کرسٹین ہو سے بال کٹوانے کی تجویز پیش کی۔ انھوں نے کرسٹین سے بال کٹوانے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ماضی میں ان کے کام سے مطمئن نہیں تھیں۔

خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس کے برعکس سیلون کے عملے نے انھیں یہ کہہ کر اطمینان دلایا کہ کرسٹین کا کام پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو چکا ہے۔

بال

Getty Images

عدالت میں دائر کردہ شکایت میں خاتون نے مزید کہا کہ چونکہ انھوں نے ’ہائی پاورڈ‘ چشمہ پہن رکھا تھا اور اسی لیے ہیئر ڈریسر نے ان سے سر کو مسلسل نیچے رکھنے کی درخواست کی تھی، اور اسی وجہ سے آئینے میں خود کو واضح طور پر دیکھنے سے محروم تھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ جیسے بال کاٹنے کی ہدایت انھوں نے کی تھی وہ ایک سادہ سا سٹائل تھا لیکن جب ہیئر ڈریسر کو بال کاٹنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگا تو انھوں نے تاخیر کی وجہ دریافت کی۔ ہیئر ڈریسر نے جواب دیا کہ وہ انھیں ’لندن ہیئر کٹ‘ دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہتکِ عزت کا مقدمہ، 17 سال بعد طالبہ کی جیت

’لوگ کہتے تھے دھوپ میں نہ بیٹھو پہلے ہی سانولی ہو‘

مکھیوں کو پروٹین سے بھرپور غذا بنانے کا منفرد تجربہ جو کئی فوائد کا حامل ہو سکتا ہے

شکایت کنندہ کے مطابق انھوں نے کمپنی کے اعلیٰ حکام سے شکایت کی، حالانکہ اس کے بعد ان کے بالوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کمپنی نے مفت ٹریٹمنٹ دیا لیکن اس سے ان کے بالوں کو مزید نقصان ہوا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’ہیئر ڈریسر نے ان کے پورے ’سکلپ‘ کو اپنے ناخنوں سے اس بہانے سے کھرچا اور کاٹ دیا کہ وہ بالوں کے ‘کوٹیکل’ کھول رہے ہیں۔ اور جب انھوں نے امونیا سے بھری ہوئی ایک کریم لگائی تو ان کی ’سکلپ‘ جل گئی۔‘

عدالتی دستاویزات کے مطابق ہیئر سٹائلسٹ نے ان کے لمبے بالوں کا ایک بڑا حصہ کاٹ دیا اور محض ’اوپر سے صرف چار انچ بال بچے تھے جو بمشکل بس کندھوں تک پہنچ رہے تھے۔‘

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ اس کے بعد ’انھوں نے خود کو آئینے میں دیکھنا بند کر دیا۔ وہ کمیونیکیشن کے پیشے میں ہیں اور ان کے لیے میٹنگز اور لوگوں سے ملنا جلنا ضروری ہے۔ لیکن چھوٹے بالوں کی وجہ سے انھوں نے خود اعتمادی کھو دی۔‘

جب انھوں نے سیلون سے شکایت کی تو سیلون نے غلطی کی تلافی کے لیے بالوں کو مفت میں ٹھیک کرنے کی پیشکش کی گئی۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ یہ علاج ’مشکوک‘ تھا اور اس کے نتیجے میں ان کے بالوں کو نقصان پہنچا۔

عدالت نے کہا کہ ’بالوں کے غلط طریقے سے کٹنے کے بعد خاتون کو ذہنی اذیت پہنچی اور اس واقعے کے بعد گذشتہ دو برسوں تک درد اور صدمے کا شکار رہی ہیں۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments