اندھی گولی کا نشانہ بننے والی خاتون کے دل میں چھ ماہ تک پیوست رہنے والی گولی کا کامیاب آپریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’مریضہ کا سینہ ہمارے سامنے کھلا پڑا تھا۔ ہم نے آپریشن شروع وہیں سے کیا تھا جہاں ہمیں توقع تھی کہ گولی پھنسی ہو گی تاہم ہم نے دل کے آس پاس تلاش کیا، رگوں کو ہٹا کر دیکھا مگر گولی کا کوئی نشان نہ ملا۔ اس وقت تک میں مریضہ کے لیے انتہائی فکرمند ہو چکا تھا کیونکہ چھ ماہ سے اُس بندوق کی گولی ان کے سینے میں ہی پیوست تھی۔‘

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر زاہد علی شاہ کے لیے یہ کوئی حیران کن صورتحال نہ تھی۔ شعبہ تھرویسک سرجری کے سربراہ کے طور پر انھوں نے ماضی میں بھی کئی ایسے مشکل آپریشن کیے ہیں۔

لیکن اس روز ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ ’گولی گئی تو کہاں گئی‘

اندھی گولی، جسے ’نکالا نہیں جا سکتا‘

نازیہ ندیم پشاور کے ایک نواحی گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ ان کے شوہر ندیم خان آفریدی کراچی میں ملازمت کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے تین بچوں سمیت اپنے ساس، سسر، دیور اور دیورانی کے ساتھ رہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’فروری کے آخری دن تھے اور ہم سب شام کے وقت اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے تھے۔ اچانک مجھے ایسے لگا کہ کوئی چیز میرا سینہ چیرتی ہوئی میرے جسم میں داخل ہوئی ہے اور میں زور سے زمین پر گر پڑی۔‘

نازیہ کے مطابق ان کے سسرال والوں نے انھیں فوراً ہسپتال پہنچایا جہاں ان کا آپریشن ہوا۔

’آپریشن کے بعد بتایا گیا کہ مجھے اندھی گولی لگی ہے جسے نکالا نہیں جا سکتا تاہم خون بہنے کا سلسلہ اور سینے کو ہونے والے نقصان کو ٹھیک کرنے کے لیے سرجری کر دی گئی ہے۔‘

جس وقت نازیہ کو گولی لگی اس وقت ان کے گاؤں میں تین، چار شادیاں ہو رہی تھیں اور سب میں ہی وقفے وقفے سے فائرنگ ہو رہی تھی اس لیے یہ اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں تھا کہ گولی کہاں سے آئی۔

نازیہ ندیم کے خاوند ندیم خان آفریدی بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں شادی بیاہ کے موقع پر ہوائی فائرنگ معمول کی بات ہے لیکن ان اندھی گولیوں کا نشانہ بن کر کئی لوگوں کی جانیں بھی جا چکی ہیں۔

’میری اہلیہ بھی ایسی ہی کسی گولی کا نشانہ بنی تھیں جس نے ہماری قسمت میں چھ ماہ کی تکلیف اور پریشانی لکھ دیے۔‘

’تکلیف جینے نہیں دیتی تھی‘

نازیہ ندیم بتاتی ہیں کہ پشاور میں ہونے والے آپریشن کے بعد انھیں مسلسل سینے اور جگر میں بہت تکلیف ہوتی تھی، اتنی زیادہ کہ وہ اٹھ بیٹھ بھی نہیں سکتی تھیں۔

’میرے تین بچے ہیں، سب سے چھوٹا ڈیڑھ سال کا ہے۔ میری اندر اتنی ہمت بھی نہیں ہوتی تھی کہ میں اٹھ کر اپنے بچوں کا کوئی کام کر سکوں۔ ہلکا سا وزن اٹھانا بھی میرے لیے ممکن نہیں تھا۔‘

تین چھوٹے بچوں کی ماں کی زندگی عام طور پر بہت مصروف ہوتی ہے اور انھیں ہر وقت بچوں کے پیچھے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے لیکن نازیہ اپنی تکلیف کے باعث درد کی گولیاں لے رہی تھیں جن کی وجہ سے وہ دن کا زیادہ تر حصہ بے ہوشی کے عالم میں گزارتی تھیں۔

تاہم گھر میں مشترکہ خاندانی نظام ہونے کے باعث اس دوران ان کے ساس، سسر اور دیورانیوں نے ان کے حصے کا کام بھی سنبھال لیا۔

’وہ لوگ ہی میرے بچوں کی دیکھ بھال کرتے تھے، اس حد تک کہ میں اپنے چھوٹے بچے کو گود میں بھی نہیں اٹھا سکتی تھی۔ وہ تکلیف مجھے جینے نہیں دیتی تھی۔‘

ڈاکٹروں کی فیسیں بھرنے کے باوجود کوئی علاج نہیں

ندیم آفریدی بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی خبر ملتے ہی کچھ دن کی چھٹیاں لے کر کراچی سے پشاور پہنچ گئے جہاں آپریشن کے بعد وہ اہلیہ کو گھر تو لے آئے مگر وہ ہر وقت سینے اور جگر میں تکلیف کی شکایت کرتی رہیں۔

ندیم آفریدی کے مطابق جب ان کی اہلیہ کو درد ہوتا تو وہ بالکل بے حال ہو جاتی تھیں، انھیں اپنا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔ ’ایسی صورتحال میں، میں نے مزید چھٹیاں لیں اور پشاور کا کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں چھوڑا جس سے اہلیہ کا چیک اپ نہ کروایا ہو۔‘

ندیم کے مطابق ان چھ ماہ کے دوران وہ ہر ہفتے نازیہ کو لے کر کسی نہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے۔ زیادہ تر ڈاکٹر چیک اپ کے بعد بتاتے کہ گولی ایک ایسے مقام پر ہے جہاں سے اسے نکالنا ممکن نہیں۔

’وہ ہمیں بتاتے کہ ایسا ہونا کوئی انہونی بات نہیں لیکن درد اور تکلیف کے حوالے سے وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے۔‘

’اکثر ایک ڈاکٹر مجھے دوسرے کی طرف بھیج دیتے اور اس طرح میں نے ڈاکٹروں کی فیسوں اور مختلف ٹیسٹس، ایکسرے، سی ٹی سکین، الڑا ساونڈ وغیرہ پر پانچ سے چھ لاکھ روپے خرچ کر دیے۔ دیگر اخراجات اس کے علاوہ تھے۔‘

ندیم کے مطابق اس وقت تک ان کا پورا خاندان اور بچے ان کی بیوی کی حالت کی وجہ سے متاثر ہو رہے تھے۔ ان کے مطابق ’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں، کہاں جاؤں۔‘

ندیم آفریدی بتاتے ہیں کہ کسی نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر زاہد علی شاہ کے پاس جائیں کیونکہ وہ اس طرح کے مشکل کیسز میں مہارت رکھتے ہیں۔

’جب ہم نے ان سے چیک کروایا تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ ایک اور آپریشن کرنے کی ضرورت پڑے گی مگر یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘

اس طرح یہ کیس ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ایبٹ آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی شاہ کے پاس پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹروں نے دھڑکتے دل کا آپریشن کرنا کیسے سیکھا

پاکستان میں پہلی مرتبہ مختلف بلڈ گروپ کے باوجود جگر کا کامیاب ٹرانسپلانٹ

پاکستان کا پہلا ’آٹو ٹرانسپلانٹ‘: جب مریض کا اپنا ہی جگر اسے واپس لگا دیا گیا

ڈاکٹر زاہد بتاتے ہیں کہ خاتون کے معائنے اور ابتدائی رپورٹس سے انھوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ گولی دل کے پاس کہیں موجود تھی اور ایک پیچیدہ آپریشن کر کے اسے نکالا جاسکتا تھا۔

ان کے مطابق وہ ایسے پیچیدہ آپریشن پہلے بھی کر چکے ہیں اس لیے وہ پراعتماد تھے۔ ’میں نے دو سال قبل ایسا ہی ایک آپریشن کیا تھا جس میں ایک نو سال کے بچے کو گولی لگی تھی۔ اس کے بارے میں بھی کہا جا رہا تھا کہ گولی سینے میں لگی ہے مگر جب سینہ کھولا تو معلوم ہوا کہ گولی دراصل دل میں ہے۔‘

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کہتے ہیں کہ آپریشن شروع کیا تو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ آپریشن پانچ گھنٹے تک چلا جائے گا۔ ہم نے سینہ کھولا تو جہاں پر ہمیں توقع تھی کہ کسی مقام پو گولی پھنسی ہوئی ہو گئی وہاں سے آپریشن کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر زاہد کا کہنا تھا کہ انھوں نے جب خاتون کے دل کو ہاتھ سے چھوا تو انھیں سمجھ آ گیا کہ گولی تو دل میں پیوست ہے۔

’ایکسرے کیا تو دل کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ گولی کا اوپر نیچے ہونا بھی نظر آ گیا۔ سینہ میرے سامنے کھلا پڑا تھا۔ میں مریضہ کے لیے انتہائی پریشان ہو چکا تھا کہ یہ شاید چھ ماہ سے اپنے سینے میں گولی لیے بیٹھی تھی۔‘

’ان کی زندگی تھی کہ وہ اب تک زندہ تھیں مگر اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ان کی زندگی اور موت میں بال برابر فرق تھا بلکہ وہ آتش فشاں کے دہانے پر تھیں۔‘

تیسری کوشش میں کامیابی ملی

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے لیے انتہائی ماہر اینستھیزیا ڈاکٹر رحمت کا ساتھ حاصل تھا۔

’میں نے اللہ کا نام لے کر دل کے دائیں خانے میں، جہاں پر گولی پیوست تھی انتہائی احتیاط سے راستہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ کارڈیک سرجن اپنے آپریشن کے لیے مشین کے ذریعے سے دل پر کنٹرول حاصل کرتے ہیں جبکہ میرے پاس ایسی کوئی سہولت دستیاب نہ تھی۔‘

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انھیں اس خاتون کے دھڑکتے دل کے ساتھ ہی کام کرنا تھا۔ انتہائی نازک رگوں پر کام کرتے ہوئے دھڑکتے دل کے ساتھ جب دل حرکت کرتا تو معمولی سے غلطی بھی انتہائی خطرناک ہوسکتی تھی۔

’دو دفعہ کوشش کی جس میں گولی کے پاس پہچنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ تیسری مرتبہ مجھے کامیابی ملی۔‘

ایک تھرویسک سرجن (thoracic surgeon) نے دل کا آپریشن کیسے کر لیا؟

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کہتے ہیں کہ ایک بات سمجھ لیں کہ پورے ملک میں تھرویسک سرجنز کی تعداد غالبا 80 یا 90 ہو گی جبکہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں یہ تعداد نو یا دس ہے۔

تھرویسک سرجری میں سینے کے اندر موجود تمام اعضا کی سرجری ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹراما کے اسی، نوے فیصد کیسز تھرویسک سرجری کو دیکھنے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے آرتھوپیڈک سرجری کی تربیت حاصل کررہا تھا مگر مجھے لگا کہ طب اور سرجری میں اگر اس وقت کسی شعبہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے تو وہ تھرویسک سرجری کے شعبے میں ضرورت ہے اور اسی لیے میں اس طرف آ گیا۔‘

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ویسے بھی ہمارے پاس وسائل کم ہوتے ہیں۔ ’جب ایک مرتبہ سینہ کھول لیا جائے تو متعلقہ ماہر کو کال تو ضرور کی جاتی ہے مگر انفرادی قوت کم ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ متعلقہ ماہر کسی اور سرجری میں مصروف ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ہسپتال کے اندر بے حد مصروف رہتے ہیں۔

’صرف اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ گذشتہ ہفتہ منگل کو آپریشن شروع کیے تھے اور جمعرات تک بغیر وقفے کے آپریشن کرتے رہے تھے۔ ایسے حالات کے اندر کارڈیک سے متعلق چیزیں بھی سیکھنا پڑی تھیں۔‘

پندرہ سے بیس سیکنڈ میں کامیابی کی نوید

ڈاکٹر زاہد علی شاہ کہتے ہیں کہ پانچ گھنٹے کے طویل آپریشن کو تنہا دیکھا تھا۔ اس دوران تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا تاہم کچھ دیر کے لیے خود کو تازہ دم کرنے کے لیے آرام ضرور کیا تھا۔

’بس ایک ہی جنون تھا کہ مریضہ کو بچانا ہے۔ جس کے لیے میں سر دھڑ کی بازی لگا چکا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ گولی تک پہنچ گئے اور اس کو نکالا تو پندرہ سیکنڈ کے لیے مریضہ کا بلڈ پریشر کم ہو گیا۔ اس دوران ان کا ایک بیگ سے زائد خون بھی نکل چکا تھا۔ گولی نکالتے وقت کے وہ پندرہ سیکنڈ انتہائی خطرناک تھے۔

’ایک دم ان کو خون فراہم کیا اور دل کی دھڑکن کو جاری رکھنے کے اقدمات کیے۔ اگلے بیس سیکنڈ کے اندر مریضہ کی حالت مستحکم ہو گئی۔ مجھے سمجھ میں آ گیا تھا کہ چھ ماہ تک اپنے دل میں گولی رکھنے والی مریضہ کی حالت اب مستحکم ہے۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21235 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments