انڈیا میں کسانوں کی ’بھارت بند‘ ہڑتال: کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسان احتجاج، انڈیا
Getty Images
انڈیا میں کسانوں کا احتجاج ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے اور پیر کو سینکڑوں کسانوں نے ریاست پنجاب اور ہریانہ کی کئی سڑکوں کو بند کر دیا تھا۔

انڈیا کے کسان گذشتہ برس نومبر سے دارالحکومت دلی کی سرحد پر زرعی قوانین کی منسوخی کے لیے کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔

کسان یونینز اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو چکے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ زرعی قوانین سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا جبکہ کسان یونینز کے مطابق یہ قوانین غیر منصفانہ اور استحصال کا باعث ہیں۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندرمودی نے ان زرعی اصلاحات کو ملک کے شعبہ زراعت کے لیے ’انتہائی اہم‘ قرار دیا ہے لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ کاشتکاری اور پیداوار میں اضافے کے وعدوں کے برعکس یہ قوانین انھیں غربت میں دھکیل دیں گے۔

انڈین پارلیمان سے ان قوانین کی منظوری کا ایک برس مکمل ہونے کے موقع پر پیر کو ’بھارت بند‘ یا ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔

کانگریس سمیت اپوزیشن کی بڑی جماعتوں اور ریاستی حکومتوں نے اس ہڑتال کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا جو انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہی۔

کسانوں کی 40 یونینز پر مشتمل گروپ سمیوکتہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے آج ملک بھر کے تعلیمی اداروں، دفاتر اور دکانوں کو بند رکھنے کی اپیل کی ہے تاہم ایمرجنسی سہولیات کام کرتی رہیں گی۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی ریاست کیرالہ تقریباً مکمل طور پر بند ہے جبکہ دیگر ریاستوں میں بھی ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ پنجاب، ہریانہ اور دلی کو ہمسایہ ریاستوں سے ملانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

کسان احتجاج، انڈیا

Reuters

نئے زرعی قوانین کیا ہیں؟

آئیے ان تین نئے قوانین پر ایک نظر ڈالیں جو اس تنازعے کا سبب بنے ہیں۔

دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020 کے قانون کے مطابق کسان اے پی ایم سی یعنی ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مطلع شدہ منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر فروخت کر سکتے ہیں۔

دوسرا قانون ہے فارمرز اگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020 (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن)۔ اس کے مطابق کسان کانٹرکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ کاشتکاری کر سکتے ہیں اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔

تیسرا قانون ہے اسسینشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020۔ اس میں پیداوار، ذخیرہ کرنا، اناج، دال، کھانے کے تیل اور پیاز کو غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہر کر دیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی مدد سے کسانوں کو مزید آپشن ملیں گے اور ان کو قیمت بھی اچھی ملے گی۔

اس کے علاوہ زرعی منڈیوں، پروسیسنگ اور بنیادی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ کسانوں کو لگتا ہے کہ نئے قانون سے ان کا موجودہ تحفظ بھی ختم ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے کسان آخر چاہتے کیا ہیں؟

کسانوں کا احتجاج جاری، انڈین سپریم کورٹ کا زرعی قوانین کے نفاذ پر حکمِ امتناع

ریحانہ کی ٹویٹ کے خلاف بالی ووڈ متحد: ’انڈیا اپنے خلاف تبصرے برداشت نہیں کرے گا‘

کسان

Reuters
انڈیا کے یوم جہموریہ کے موقع پر زرعی قوانین کے خلاف ریلی اس وقت پرتشدد ہو گئی جب کسانوں نے دلی کے تاریخی لال قلعے تک پہنچنے کے لیے پولیس کی رکاوٹوں کو توڑ ڈالا

کسانوں کا مسئلہ کیا ہے؟

انڈیا میں کسانوں کی تحریک کی تاریخ پرانی ہے اور گذشتہ سو برسوں میں پنجاب، ہریانہ، بنگال، جنوبی اور مغربی انڈیا میں بہت سارے مظاہرے ہوئے ہیں۔

اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کیونکہ کسانوں کا خیال ہے کہ وہ جو چاہتے تھے وہ نئے قانون میں نہیں۔

مرکزی حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ حقیقت میں نیا قانون صرف کسانوں کے مفاد کی بات کرتا ہے کیونکہ اب کسان اپنی فصلیں نجی کمپنیوں کو بیچ پائیں گے اور زیادہ رقم کمائیں گے لیکن کسان تنظیموں نے اس پیشکش کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ انھوں نے تو یہ کبھی طلب ہی نہیں کیا تھا۔

انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں اب بھی کسان اپنی پیداوار نجی خریداروں کو فروخت کر سکتے ہیں لیکن یہ قوانین اس کو قومی سطح پر لے جائیں گے۔

کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

کسان احتجاج، انڈیا

Getty Images

حالات اب کہاں کھڑے ہیں؟

حکومت نے قوانین میں تبدیلی کی تجویز دی ہے اور جاری مذاکرات کے باوجود ان قوانین کو 18 ماہ تک معطل کرنے کی پیشکش بھی کی ہے لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ ان قوانین کی مکمل منسوخی سے کم کسی بھی چیز کے لیے تیار نہیں۔

26 جنوری کو انڈیا کے یوم جہموریہ کے موقع پر ان قوانین کے خلاف ایک ریلی اس وقت پرتشدد ہو گئی تھی جب کسانوں نے دلی کے تاریخی لال قلعے تک پہنچنے کے لیے پولیس کی جانب سے رکھی رکاوٹوں کو توڑ ڈالا تھا۔

اس واقعے میں ایک احتجاجی شخص ہلاک جبکہ تقریباً 500 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ کسان یونینز کے رہنماؤں نے تشدد کی مذمت کی اور اس پرامن مارچ میں انتشار کا الزام سرکش عناصر پر عائد کیا تھا۔

کچھ افراد نے کہا تھا کہ تشدد کے بعد مظاہروں نے اپنی قانونی حیثیت کھو دی جبکہ کچھ نے کہا کہ کسانوں کو حکومت کی جانب سے اصلاحات معطل کرنے کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہیے۔

سمیوکتہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے مطابق دلی کی شدید سردی اور جھلسا دینے والی گرمی میں کئی ماہ جاری رہنے والے احتجاج میں 400 سے زائد کسان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پنجاب کی حکومت 200 اموات کی تصدیق کرتی ہے تاہم مودی انتظامیہ کے مطابق اس کے پاس ان اموات کے بارے میں کوئی اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔

فروری کے اوائل سے دارالحکومت دلی کے داخلی راستوں پر مظاہرین کو روکنے کے لیے لوہے کے کیل، سلاخیں، خاردار تاریں، پتھر اور عارضی دیواریں استعمال کی جاتی رہی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21236 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments