شہباز شریف کے منجمد اکاؤنٹس بحال، تحقیقات کس کی ایما پر ہوئیں، پاکستان میں بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ پر عدالت کی جانب سے پاکستانی پارلیمان میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے منجمد اکاؤنٹس کی بحالی کے بعد پاکستان میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ان تحقیقات کا آغاز حکومتِ پاکستان کی ایما پر ہوا تھا یا یہ ادارے کا اپنا عمل تھا۔

شہباز شریف اور سلیمان شہباز کے بینک اکاؤنٹس دسمبر 2019 میں عدالتی حکم پر منجمد کیے گئے تھے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ نے پیر کو لندن میں عدالت میں نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے جمع کروائی جانے والی ایک رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس ادارے نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے کو اس معاملے میں ‘کلین چٹ’ دے دی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں 21 ماہ کی تحقیقات کے دوران دو دہائی کے مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا اور شہباز شریف اور ان کے خاندان کے برطانیہ کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں موجود اکاؤنٹس کے بارے میں تحقیقات کی گئیں تاہم اسے شہباز شریف یا سلمان شہباز کے بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ، بدعنوانی یا کسی مجرمانہ سرگرمی کے ثبوت نہیں ملے۔

اطلاعات کے مطابق این سی اے کی اس رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیا۔

یہ خبر سامنے آنے کے بعد شہباز شریف نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ برطانوی عدالت کا فیصلہ نہ صرف ان کی اور ان کے بھائی اور سابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف بلکہ پاکستان کی بھی بریت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یقیناً سچ تمام جھوٹوں، من گھڑت کہانیوں اور کردار کشی سے بہت بڑی طاقت ہے۔’

تاہم شہباز شریف کے اس بیان کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف اور سلمان شہباز کی ‘مبینہ بریت’ کی خبر درست نہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا ‘کوئی ٹرائل تھا ہی نہیں جو بریت ہوتی۔’

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ‘این سی اے نے خود سلیمان شہباز کی مشکوک ٹرانزیکشن کی رقم کو منجمد کیا۔ بعد میں اس کی منجمدی ختم کر دی۔ نہ کوئی مقدمہ تھا نہ کوئی پاکستان کی شکایت نہ کوئی کیس چل رہا تھا۔ اب خود کو بری قرار دے کر دھمالیں ڈال رہے ہیں کوئی یہ بھی پوچھے اثاثے منجمد کیوں ہوئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

سیاستدانوں کے ٹیکس گوشوارے: اسد عمر کی شہباز شریف کو اثاثوں کے تبادلے کی پیشکش

شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا، حکومتی موقف کہ ’فیصلے سے متعلق درخواست نہیں ملی‘

شہزاد اکبر کا یہ بھی کہنا تھا کہ این سی اے نے رقم منجمد کی تھی اور انھوں نے ہی اس رقم کے بارے میں مزید تحقیقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انھوں نے کہا کہ ‘اکاؤنٹس غیرمنجمد کرنے کا حکم اس بات کی تصدیق نہیں کہ یہ رقم جائز ذرائع سے حاصل کردہ تھی۔’

مشیرِ داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سلمان شہباز آج بھی لاہور کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں مفرور ملزم ہیں۔

شہزاد اکبر نے پیر کی شب جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بھی کہا کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کو جو معلومات حکومتِ پاکستان کی طرف سے فراہم کی گئی تھیں ان کے سلسلے میں رابطہ این سی اے کی جانب سے کیا گیا تھا اور یہ خبر درست نہیں کہ تحقیقات شروع کرنے کی درخواست پاکستان کی جانب سے کی گئی تھی۔

https://twitter.com/ShazadAkbar/status/1442505499627327489

تاہم پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے شہزاد اکبر کی ٹویٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے ہی بولے جانے والے جھوٹ کے وزن کے نیچے آکر کچلی جائے گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر پہلے بولے جانے والے جھوٹ چھپانے کے لیے مزید جھوٹ بول رہے ہیں اور برطانوی عدالت نے اپنے فیصلے میں دوٹوک اور واضح طورپر شہبازشریف اور ان کے خاندان کو عمران خان کی طرف سے عائد کردہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے گھٹیا اور سیاسی انتقام پر مبنی بےبنیاد الزامات سے بری کر دیا ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق دس دسمبر2019 کو نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل نے لندن میں این سی اے کے حکام سے ملاقات کی تھی اور شہزاد اکبر کی سربراہی میں قائم وزیراعظم آفس کے ایسٹ ریکوری یونٹ کے بیرسٹر ضیاء نسیم کی طرف سے 11 دسمبر 2019 کو ایک درخواست دائر کی گئی جس کے بعد شہباز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثہ جات کی تحقیقات شروع ہوئیں۔

مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد ایسٹ ریکوری یونٹ کے حکام کی طرف سے نیشنل کرائم ایجنسی کو اس معاملے میں معاونت دینے کے لیے ایک ای میل بھی بھیجی گئی تھی۔

ان کے مطابق یہ ناقابل تردید حقائق ہیں جن کی تصدیق برطانوی عدالت میں پیش کردہ شواہد کرتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21234 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments