میڈیکل کے طلبہ کا احتجاج: ’بچپن سے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا لیکن نظام کے آگے بے بس ہو گئی ہوں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’بچپن سے شوق تھا کہ ڈاکٹر بنوں گی۔ میرے والد اس وقت فوت ہو گئے تھے جب میں چار سال کی تھی۔ امی کی اپنی بھی خواہش تھی لیکن وہ مجھے بتاتی ہیں کہ میرے والد چاہتے تھے کہ میری ایک بیٹی ضرور ڈاکٹر بنے اور اپنی پانچ بہنوں میں سے میں نے یہ خواب پورا کرنے کی ٹھان لی تھی لیکن اس نظام کے آگے میں بے بس ہو گئی ہوں۔‘

صد گنج بلوچ، بلوچستان کے شہر تربت کی رہائشی ہیں۔ والد فوت ہو چکے ہیں اور اُن کے بڑے بھائی اب اُن کی کفالت کر رہے ہیں۔ تربت میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صد گنج بلوچ میٹرک کے بعد سال 2018 میں کوئٹہ چلی گئی تھیں جہاں انھوں نے ہاسٹل میں رہائش اختیار کی تھی۔

’ہم چند لڑکیاں ایک ساتھ پڑھائی کرتی تھیں۔ لائبریری اور اکیڈمی سب ایک ساتھ ہوتا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ کون کتنا پڑھ رہا ہے۔ ایف ایس سی میں اچھ نمبر ملے تو یہ امید بندھ گئی تھی کہ انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘

پاکستان میں اس وقت میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہشمند طلباء اور طالبات احتجاج کر رہے ہیں اور یہ احتجاج نئے تجرباتی نظام کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

صد گنج بلوچ بتاتی ہیں کہ وہ 2018 سے اپنے گھر والوں سے دور کوئٹہ میں ایک ہاسٹل میں مقیم تھیں۔ ’زیادہ وقت پڑھائی میں گزرتا تھا۔ اس دوران اکیڈمی اور دیگر ٹیسٹ کے اخراجات بھی برداشت کرنے پڑے، اور سب سے بڑھ کر ہمارا قیمتی وقت اس پر صرف ہوا لیکن صرف ایک امتحان جو نئے تجربے کی بنیاد پر لیا گیا اس سے ہمارے ساری محنت پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔‘

احتجاج کہاں کہاں؟

صد گنج بلوچ اور ان کی طرح کی ہزاروں لڑکیاں اور لڑکے ان دنوں احتجاج کر رہے ہیں اور وہ امتحانی طریقہ کار کے موجودہ نظام کے خلاف ہیں۔

یہ احتجاج اسلام آباد اور کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد کے ڈی چوک پر جاری احتجاج اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ اسی طرح اس سے پہلے کوئٹہ میں بھی پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کی تھیں۔

ان طلبا مظاہرین کی کوشش تھی کہ اسلام آباد کے ڈی چوک سے وزیر اعظم ہاؤس تک جائیں تاکہ وزیر اعظم کے سامنے اپنے مطالبات رکھ سکیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اسی سلسلے میں کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر طلبا کے احتجاج کے مختلف ٹرینڈز چل رہے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے پی ایم سی کے اس امتحانی نظام کے خلاف ٹرینڈز سوشل میڈیا پر جاری ہیں۔

ان طلبا اور طالبات سے جب معلوم کیا گیا تو اُنھوں نے مختلف ایسے نکات اٹھائے جس سے اس نظام کے بارے میں ابہام ضرور پیدا ہو جاتا ہے۔

میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان کے لیے تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار طلبا نے رجسٹریشن کروائی تھی اور ہر اُمیدوار سے اس امتحان کے لیے 6000 روپے کی فیس وصول کی گئی تھی۔

اس امتحان میں پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے 20 ہزار نشستیں مختص ہیں جن میں نجی کالجز بھی شامل ہیں۔

پشاور میں اساتذہ نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی تحلیل اور ایک نئے ادارے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے قیام کے بعد نئے فیصلے کیے گئے اور یہ فیصلے انتہائی اہم تھے۔

کیا پڑھا، کیا امتحان دیا؟

پی ایم سی کے قیام سے قبل ہر صوبے کے اپنے کورسز اور اپنے بورڈ کے امتحان اور کالجز میں داخلے کے لیے ٹیسٹ ہوتے تھے اور یہ ٹیسٹ اسی کورس سے آتے تھے۔ پی ایم سی کے قیام کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب تمام صوبوں کے طلبا اور طالبات کے لیے یکساں کورس ہو گا اور اس کورس میں زیادہ تر حصہ وفاقی بورڈ اور پنجاب بورڈ سے لیا گیا ہے۔

اب یہ ان طلبا کے لیے مشکل گھڑی تھی کہ امتحان کے لیے تیاری کیسے کی جائے، کون سی کتابیں پڑھی جائیں، کس سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ اس کے لیے ان طلبا نے صوبہ پنجاب اور مرکز کی آن لائن اکیڈمیز کو بھاری فیسیں دے کر رجسٹریشن کروائی تھیں۔

لکی مروت سے تعلق رکھنے والے طالبعلم آفتاب نواب نے بتایا کہ اُنھوں نے ایف ایس سی کے امتحان میں 945 نمبر حاصل کیے اور داخلے کے امتحان کی تیاری کی۔ آفتاب نواب نے بتایا کہ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ گئے تھے اور 12 ستمبر کو جب انھوں امتحان دیا تو وہاں سوال انتہائی آسان تھے جو اُنھوں نے فوری طور پر حل کر دیے۔

یہ بھی پڑھیے

میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے نصاب میں تبدیلی طلبہ کے لیے ذہنی اذیت

’میڈیکل کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ کی تاریخ بار بار بدلنا تعلیمی دہشت گردی ہے‘

’جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے یہ فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے گا یا انجینیئر‘

‘میں اتنا خوش تھا کہ جیسے میں نے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کر لی ہو لیکن جب نتیجہ آیا تو میں فیل تھا اور میرے نمبر 131 تھے جبکہ 137 سے زیادہ نمبر والے پاس قرار دیے گئے ہیں۔’

آفتاب نواب نے بتایا کہ ’میں حیران تھا یہ کیسے ہوا۔ میں نے جو کچھ پڑھا تھا وہ یاد کر کے گیا تھا اور جو سوال آئے تھے وہ سارے مجھے آتے تھے، ایسے میں میرے جواب غلط کیسے ہو گئے۔‘

احتجاج کرنے والے طلبا کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ انھیں وہ سوالات اور تمام جوابات فراہم کیے جائیں جو پی ایم سی اور یہ امتحان لینے والی کمپنی ٹی ای پی ایس کے مطابق درست ہیں۔ طلبا کے بقول انھیں یہ جوابات فراہم نہیں کیے جا رہے۔

احتجاج

BBC

احتجاج کرنے والے طلبا اور طالبات کو یہ بھی شکایت ہے کہ یکم ستمبر سے 30 ستمبر تک یہ امتحان ملک کے مختلف مراکز میں منعقد کیے گئے اور روزانہ ہر شہر میں دو ٹیسٹ یعنی صبح اور شام کے اوقات میں منعقد ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ ماضی میں میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ کسی بھی صوبے میں مختلف امتحانی مراکز کے ذریعے ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں لیا جاتا تھا۔

طالبعلموں کا کہنا تھا کہ ایک ماہ تک مختلف اوقات میں پرچہ لینے سے نقل کے امکانات اور خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ بعض اوقات صبح کے پرچے میں چند سوالات شام کے پرچے میں بھی شامل ہوتے تھے۔

آن لائن امتحان اور انٹرنیٹ کے مسائل

یہ امتحان آن لائن تھا جہاں طالبعملوں کو پرچہ حل کرنے کے لیے ٹیبلٹ کمپیوٹرز دیے گئے تھے۔ طالبعلموں کے مطابق بعض امتحانی مراکز میں ایسی صورتحال بھی پیش آئی کہ وہاں کا انٹرنیٹ معطل ہو گیا اور انھیں پرچہ حل کرنے میں مشکل پیش آئی۔

انٹرنیٹ کے مسائل کے ساتھ ساتھ طالبعلموں کی جانب سے ٹیبلٹ کمپیوٹرز کے ’ہینگ‘ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض طلبا کے مطابق امتحان کے دوران اگر کسی طالبعلم نے 50 سوال حل کر دیے ہیں اور اس کا ٹیبلٹ کمپیوٹر ہینگ ہو گیا ہے تو بس پھر اس کو ان 50 سوالات کے جوابات کے نمبر ہی ملیں گے۔

ان ٹیبلیٹ کمپیوٹرز کے سافٹ ویئر پر تنقید کرتے ہوئے ان طالبعلموں کا کہنا تھا کہ اس میں بھی چند نقائص تھے مثلاً اگر کسی طالبعلم نے پرچے میں شامل کل 210 سوالات میں سے آخری 50 سوالات کو پہلے حل کرنے کا انتخاب کیا تو اس کے پاس باقی ماندہ سوالات کو حل کرنے لیے پرچے کے شروع میں واپس آنے کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔

پشاور میں ایف ایس سی کے طالبعلموں کو کیمسٹری پڑھانے والے استاد وقار بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ملنے والی معلومات کے مطابق طالبعلموں کو مشق کے لیے جو پیپر دیے گئے تھے ان میں بہت غلطیاں تھیں اس کے علاوہ کورس زیادہ تر پنجاب بورڈ سے لیا گیا ہے۔

انھوں نے امتحان لینے کے لیے استعمال کیے گئے سافٹ ویئر میں ممکنہ نقائص کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جس میں صرف سافٹ ویئر کی خرابی کے باعث کئی امیدوار فیل ہوئے ہیں۔

احتجاج

BBC

متضاد رائے کیا ہے؟

ایسے طلبا سے بھی رابطہ ہوا جنھیں اس ٹیسٹ میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا یا بہت کم مسائل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ایسے اُمیدواروں کی تعداد کافی کم تھی۔

ایک طالبعلم نے بتایا کہ ہر کسی کا مسئلہ انفرادی طور پر تھا جس کا انھوں نے سامنا کیا ہے لیکن انھیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ اُنھوں نے کہا کہ انھیں انٹرنیٹ کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اور اس کے علاہ سوالات حل کرنے کے دوران انھوں نے اپنے جوابات تبدیل کیے لیکن کوئی مسئلہ در پیش نہیں آیا۔

تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ پرچے میں تقریباً دو فیصد سوالات نصاب سے باہر سے شامل کیے گئے تھے۔

وقار بیگ نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق بھی ایسے سوالات آئے ہیں جو یا تو اس پرانے کورس سے آئے ہیں جو اب نہیں پڑھائے جاتے جبکہ کچھ سوالات عمومی نوعیت کے بھی شامل کیے گئے تھے۔

احتجاج پر بیٹھے طالبعلموں کا مطالبہ ہے کہ ایک تو یہ امتحان دوبارہ لیا جائے، ایک ہی دن میں تمام امیدواروں کا امتحان لیا جائے اور جوابات کا پرچہ سامنے لایا جائے جس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کسی سوال کا صحیح جواب کیا ہے۔

پی ایم سی کے حکام کیا کہتے ہیں ؟

اس بارے میں اس ادارے کے حکام کو بی بی سی کی جانب سے پیغامات بھیجے گئے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، تاہم چند روز پہلے پی ایم سی کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں طلبا کے الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔

ستائیس ستمبر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ دینے والے طالبعلوں کے ایک وفد نے 23 ستمبر کو پی ایم سی کے صدر سے ملاقات کی جس میں اس امتحان سے متعلق طالبعلموں کے اعتراضات پیش کیے گئے۔

پی ایم سی کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ دینے والے طالبعلموں کی جانب سے تین بڑے اعتراضات پیش کیے گئے ہیں جن میں

  • امتحانی مراکز میں انٹرنیٹ کے مناسب کام نہ کرنے کے باعث متعدد طلبا پرچے کے چند سوالات کے جوابات نہیں دے سکے
  • امتحانی نظام میں تکنیکی نقائص تھے جس کے باعث طلبا نے پرچے میں شامل اگر کوئی سوال چھوڑ دیا تو دوبارہ واپس جا کر اسے حل نہیں کر سکے
  • سوالات کورس سے باہر سے شامل کیے گئے تھے۔

اس بیان میں طلبا کے مطالبات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جیسے ایم ڈی کیٹ کا امتحان دوبارہ لیا جائے، پاس ہونے کے لیے جو نمبر چاہییں وہ کم کیے جائیں یا اضافی نمبر دیے جائیں، اور ہر امیدوار کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنا پیپر دیکھ سکے اور خود چیک کر سکے۔

اس بارے میں پی ایم سی کے حکام نے ان پیغامات کا جائزہ بھی لیا جو امیدواروں کی جانب سے بھیجے گئے تھے جس پر غور و فکر کے بعد ان اعتراضات کے جواب دیے ہیں۔

انٹرنیٹ کے مسائل

پی ایم سی کے مطابق جن مراکز میں امتحان لیے گئے وہاں انٹرنیٹ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ یہ امتحان اوپن انٹرنیٹ پر نہیں بلکہ یہ امتحان لوکل ایریا نیٹ ورک کے نظام کے تحت منسلک تھا اس لیے خراب انٹرنیٹ کا اعتراض بے غلط ہے۔

تمام طالبعلموں کی جانب سے آخر جوابات تک سسٹم میں شامل ہوئے ہیں۔

ایسے سوالات جنھیں طالبعلموں نے چھوڑے دیا یا ان سے رہ گئے وہ سسٹم میں نہیں آئے اس بارے میں پی ایم سی کے حکام کا کہنا ہے کہ صرف صفر اعشاریہ ایک تین فیصد ایسے جوابات سامنے آئے جو سکپ یا چھوڑے گئے تھے۔

پی ایم سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق اوسطاً ہر پانچ امیدواروں میں سے ایک امیدوار کی جانب سے کوئی سوال رہ گیا یا چھوڑا گیا جو کہ ایم سی کیوز امتحان کی عمومی اوسط سے بہت کم ہے۔ لہذا اس بارے میں امیدواروں کا اعتراض صحیح نہیں ہے۔

نصاب سے باہر کے سوالات

پی ایم سے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کورس نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ نے ایم ڈی سی اے ٹی 2021 کے لیے ترتیب دیا ہے اور اس نصاب کی تیاری کے لیے تمام بورڈز کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے اپنے بورڈز کے نصاب سے آگاہ کریں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نصاب گذشتہ برس کے نصاب جیسا ہی ہے اور طلبا اور طالبات کو اس کورس سے آگاہی تھی بلکہ اس مرتبہ مشکل سوالات کو کم شامل کیا گیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام اعتراٰضات اور نظام کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ امتحان نصاب کے مطابق لیا گیا ہے اور یہ کہ امتحانی طریقہ کار مناسب تھا اور عبوری نتائج بالکل درست ہیں جبکہ حتمی نتائج بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جب طلبہ کو دو سال تک ایک کورس پڑھایا گیا تو اچانک اسے تبدیل کر کے دوسرا کورس منتخب کرنے کا اختیار بورڈ کے حکام کو کیسے ہو سکتا ہے جبکہ طلبہ کو وہ کورس پڑھایا ہی نہیں گیا تھا۔

لیکن صدگنج بلوچ سمیت ہزاروں طلبا اور طالبات اب بھی پراُمید ہیں کہ ان کا امتحان دوبارہ لیا جائے گا اور انھیں ایک اور موقع فراہم کیا جائے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21116 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments