سعد رضوی: لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ نے مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔

جمعے کے روز سعد رضوی کی نظربندی کے لیے جاری کردہ وفاقی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے خلاف ان کے چچا کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے مختصر فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

عدالت کی طرف سے نظربندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سعد رضوی کو رہا کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں تاحال گرفتار نہیں تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت انھیں مزید کسی مقدمہ میں گرفتار کرتی ہے یا نہیں۔

کیا سعد رضوی اب رہا بھی ہو سکیں گے؟

یاد رہے کہ رواں برس 9 جولائی کو سعد رضوی کو وفاقی حکومت کی طرف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن پر دوبارہ نظربند کر دیا گیا تھا۔ اسی روز انھیں رہا کیا جانا تھا کیونکہ ہائی کورٹ کے نظرثانی بورڈ نے پنجاب حکومت کی طرف سے سعد رضوی کی ایم پی او کے تحت نظربندی میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

سعد رضوی کے چچا کے وکیل نے حالیہ درخواست کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے نوٹیفیکشن میں سعد رضوی کی دوبارہ نظربندی کی وجوہات نہیں بتائیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے متعدد بار حکومت سے یہ وجوہات بتانے کی درخواست کی گئی تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔

عدالت میں پنجاب اور وفاقی حکومت کے وکلا نے سعد رضوی کی نظربندی کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔

لاہور تحریک لبیک

Getty Images
فائل فوٹو

یاد رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو اپریل کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہر پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد رضوی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی کون تھے؟

احتجاج ختم لیکن تحریک لبیک کے گرفتار افراد کی رہائی پر ’کنفیوژن‘ موجود

سعد رضوی کی گرفتاری کا پس منظر

حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

اس کے بعد تنظیم نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 12 اپریل کو احتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔

سعد رضوی کون ہیں؟

خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی اٹھارہ رکنی شوری نے گذشتہ برس ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔

لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

سعد رضوی اس وقت لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوزرغفاری میں درس نظامی کے طالبعلم ہیں۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

سعد کے قریبی دوستوں کے مطابق سعد کا کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات سے گہرا رابطہ ہے۔ وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹویٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21131 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments