پاکستان اور ٹی ٹی پی کے ’مذاکرات‘: پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے کب کب معاہدے کیے اور ان کا نتیجہ کیا نکلا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Nek Mohammad and military at Shakai talks
Getty Images
اپریل 2004 میں شکئی معاہدہ جنوبی وزیرستان میں نیک محمد اور حکومت کے درمیان طے پایا
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے ٹی آر ٹی نیوز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان، کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے مختلف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور پاکستان کے عسکری حکام نے بھی اس بات چیت کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے ایک وفد نے افغانستان میں ملاقات کی ہے جو پاکستان کی حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد کی گئی۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ عام معافی مشروط ہو گی۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی سے منسلک کچھ نام ایسے ہیں جنھیں معاف کرنے کے حوالے سے فوج انکاری ہے اور یہ کہ ان ناموں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے جو ایسی کسی ’ایمنسٹی‘ سکیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی سکیورٹی رپورٹ کے مطابق اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے چھ سے ساڑھے چھ ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ پاکستان کی حکومت، فوج اور طالبان کے درمیان معاہدے یا مذاکرات کی بات چیت کی گئی ہے۔

ماضی میں پاکستان نے کئی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ باقاعدہ تحریری اور بعض اوقات غیر تحریری معاہدے کیے ہیں۔ ان میں تین بڑے معاہدے سوات اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے۔

ان تمام معاہدوں سے متعلق دو اہم حوالے قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ ان معاہدوں یا مذاکرات کے وقت ان علاقوں میں ریاست کی رٹ بالکل ختم ہو چکی تھی، فوج کو بھاری نقصان کا سامنا تھا لہٰذا حکومت کی پوزیشن نہایت کمزور اور شدت پسند تنظیموں کا پلڑا بھاری تھا۔

دوسرا یہ کہ تقریباً تمام معاہدے ناکام ثابت ہوئے اور ان کے نتیجے میں شدت پسند تنظیموں کو نہ صرف ان علاقوں میں قدم جمانے کا موقع ملا بلکہ ان تنظیموں نے دیگر علاقوں میں پھیلنا شروع کر دیا۔

ذیل میں ان چند معاہدوں کی تفصیل ہے جو پاکستان اور شدت پسند تنظیموں خصوصاً طالبان کے ساتھ طے پائے گئے۔

شکئی امن معاہدہ

نیک محمد

BBC
نیک محمد

اپریل 2004 میں شکئی امن معاہدہ کیا گیا۔ یہ پاکستان مخالف شدت پسندوں اور حکومت کے درمیان اپنی طرز کا پہلا معاہدہ تھا۔

شکئی معاہدہ جنوبی وزیرستان میں نیک محمد اور حکومت کے درمیان طے پایا۔ پاکستانی فوج کی جانب سے جی او سی میجر جنرل صفدر حسین نے 27 سالہ نیک محمد سے ملاقات کی۔

اس معاہدے سے قبل پاکستانی فوج نے وہاں اس وقت امریکہ کے کہنے پر آپریشن شروع کیا جب افغانستان سے القاعدہ سے منسلک غیرملکی جنگجو منتقل ہوئے۔ تاہم فوج کو آپریشن میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد بات چیت کا فیصلہ کیا گیا۔

نیک محمد پر الزام تھا کہ ان کی پناہ میں تقریباً چار سو کے قریب غیر ملکی جنگجو تھے جو افغانستان اور پاکستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔

ان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عرب، ازبک، چیچن، چینی اور افغان جنگجو جبکہ افغان طالبان سے منسلک افراد بھی شامل تھے۔

یہی وجہ ہے کہ نیک محمد پہلے ہی امریکہ کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ اس سے قبل جب 2003 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا تو امریکہ کی خفیہ ایجنسی نے انھیں بتایا کہ اس حملے میں نیک محمد کا ہاتھ ہے۔

اسلام آباد میں سی آئی اے کے اس وقت کے سٹیشن چیف نے صدر جنرل ر پرویز مشرف سے ملاقات کی اور انھیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ نیک محمد کے خلاف آپریشن کریں۔ انھوں نے کہا ’آپ کو انھیں مارنا پڑے گا ورنہ یہ ہمیں مار دیں گے۔‘

پاکستان نے آپریشن میں مؤثر نتائج حاصل نہ ہونے پر نیک محمد کو مذاکرات کی پیشکش کی جسے نیک محمد نے قبول کیا۔

شکئی امن معاہدے کے مطابق پاکستان نے یہ شرط قبول کی کہ وہ نیک محمد کے گرفتار ساتھیوں کو رہا کرے گا جبکہ فوجی آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے مقامی افراد جن میں جنگجو شامل ہیں کو رقم دی جائے گی۔

اس کے علاوہ شدت پسندوں کو رقم دی جائے گی تاکہ وہ القائدہ سے لیا گیا قرض واپس کر سکیں۔

جبکہ نیک محمد سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیر ملکی جنگجوؤں کی تفصیل دیں گے اور افغانستان میں حملے بند کریں گے۔

معاہدے پر دستخط کے بعد نیک محمد نے غیر ملکی جنگجوؤں کو فوج کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور ان مقامی عمائدین کو قتل کرنا شروع کر دیا جنھوں نے ان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اس معاہدے نے نیک محمد، جو اس سے پہلے قبائل میں خاص اثرورسوخ نہیں رکھتے تھے، کو انتہائی مضبوط کیا۔ شکئی معاہدہ دستخط ہونے کے بعد ہی ختم ہو گیا اور فوج نے اُسی سال جون میں فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔

ٹھیک ایک ماہ بعد جب نیک محمد اپنے اس سیٹلائٹ فون پر کسی سے گفتگو کر رہے تھے جس پر ریڈیو کو انٹرویو دیا کرتے تھے، امریکی حکام نے اس کال کو انٹرسیپٹ کیا اور اس وقت وزیرستان کے اوپر موجود ڈرون سے ’ہیل فائر‘ نامی میزائل فائر کیا گیا اور نیک محمد ہلاک ہو گئے۔

سراروغہ امن معاہدہ

فروری 2005 میں جنوبی وزیرستان میں ہی سراروغہ کا مشہور امن معاہدہ ہوا۔ چھ شقوں پر مشتمل یہ معاہدہ بیت اللہ محسود کے ساتھ کیا گیا جو دو سال بعد تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے۔

طالبان

AFP
بیت اللہ محسود

معاہدے کے مطابق بیت اللہ محسود نے حکومتی اہلکاروں اور دفاتر پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور یہ بھی کہ وہ غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ فراہم نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے میں ان کے لیے ساتھیوں سمیت معافی کا اعلان کیا گیا۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد طالبان کا شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں کی جانب پھیلاؤ روکنا تھا مگر یہی مقصد حاصل نہ ہو سکا اور تحریک طالبان مضبوط تر ہوتی گئی اور طالبان اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں کئی گنا اضافہ ہوا، جبکہ شہری علاقوں میں خودکش حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔

طالبان کا اثرورسوخ تمام قبائلی علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ اسی دوران بیت اللہ محسود کی سرپرستی میں ان علاقوں میں موجود کئی گروہوں نے مل کر تحریک طالبان پاکستان چیپٹر کا اعلان کیا۔

پاکستانی فوج نے اس دوران آپریشن ’ٹرائی سٹار‘ کا آغاز کیا جس میں پاکستان کی تمام مسلح افواج شامل تھیں۔ اس کے تسلسل میں جنوری 2008 میں آپریشن زلزلہ کا آغاز کیا گیا۔

بیت اللہ محسود آخر کار اگست 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے مگر وہ حکیم اللہ محسود کے لیے ایک نہایت مضبوط تحریک طالبان پاکستان چھوڑ گئے۔

فوج نے بعد میں آپریشن راہ نجات جیسے آپریشنز بھی شروع کیے اور علاقے کو کلیئر کرنا شروع کیا۔ یوں دوسرا بڑا امن معاہدہ بھی ناکام ثابت ہوا۔

سوات امن معاہدہ

تیسرا بڑا اور اہم امن معاہدہ سوات میں مئی 2008 میں کیا گیا۔ سوات میں 2001 میں ہی شدت پسندی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

سوات

Getty Images
حملے دوبارہ شروع ہونے کے بعد بالآخر فوج نے سوات میں آپریشن راہ حق کا آغاز کیا

ملا فضل اللہ اور ان کے ماننے والوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا اور وہ سوات سمیت پورے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ملا ریڈیو کے نام سے مشہور ملا فضل اللہ حکومت اور فوج خلاف ایف ایم پر خطبے دیتے، لڑکیوں کے سکول جلائے گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیا۔

سنہ 2007 میں اسلام آباد میں لال مسجد واقعہ نے انھیں ایک بہترین موقع دیا کہ وہ اپنے شدت پسندانہ پیغام کو زیادہ پھیلائیں اور انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔

سنہ 2008 میں خیبرپختونخوا میں پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہوئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سوات کے حالات قابو میں کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

مئی 2008 میں 16 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا۔ تاہم معاہدے کے چند دن بعد ہی ملا فضل اللہ اور صوفی محمد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستانی فوج پہلے اس علاقے سے نکلے اور ساتھ ہی ان کے گرفتار کیے گئے ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔

حملے دوبارہ شروع ہوئے اور بالآخر فوج نے آپریشن راہ حق کا آغاز کیا۔

پرتشدد واقعات کو روکنے کے لیے خیبرپختونخواہ کی حکومت فروری 2009 میں سوات میں طالبان کا شریعت پر مبنی ’نظام عدل‘ نافذ کرنے پر مان گئی جس کے بعد ملا فضل اللہ نے سیز فائر کا اعلان کیا، تاہم یہ معاہدہ بھی ناکام ہو گیا۔

اس دوران فضل اللہ کی زیرقیادت طالبان مزید طاقتور ہو چکے تھے اور انھوں نے مینگورہ، شانگلہ اور بونیر ڈسٹرکٹ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا تھا۔

حکومت اور فوج نے آپریشن راہ راست کا اعلان کیا۔ ملا فضل اللہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت سوات سے سابق فاٹا میں فرار ہو گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی یا تو ہلاک ہو گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔

اس جنگ کے دوران بھی پاکستانی فوج نے مقامی افراد جو طالبان کے ہمراہ فوج کے خلاف لڑ رہے تھے، کے لیے معافی کا اعلان کیا۔ اسی موقع پر ان کے لیے فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز قائم کیے اور ان کی نئے سرے سے تربیت کی گئی۔

فضل اللہ نے فرار کے بعد کارروائیاں جاری رکھیں۔ انھیں 2013 میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی قیادت سونپی گئی۔

انھوں نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، میجر جنرل ثنااللہ اور آرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ افغانستان فرار ہوئے اور صوبہ کنڑ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

غیر تحریری معاہدے

کئی ایسے معاہدے بھی ہیں جو تحریری طور پر نہیں کیے گئے۔ ان معاہدوں کی شرائط لگ بھگ انھی تین بڑے معاہدوں کی طرز پر رہیں۔

ان معاہدوں کا مقصد عام طور پر کسی بھی علاقے میں اس چھوٹے گروہ کی کارروائیوں کو روکنا ہوتا تھا تاکہ اس دوران فوج کو منصوبہ بندی کا وقت مل سکے۔ بعض اوقات ان کا مقصد ان گروہوں سے ہتھیار ڈلوانا ہوتا تھا، تاہم ان میں سے بھی بیشتر ناکام رہے۔

ایسے ہی غیرتحریری معاہدوں میں سے ایک سراروغہ کی طرز پر شمالی وزیرستان میں کیا گیا۔ یہ ایک متنازعہ معاہدہ تھا جو 2006 میں حافظ گل بہادر کے ساتھ کیا گیا۔

گل بہادر شوریٰ مجاہدین گروپ کی سربراہی کر رہے تھے اور ان پر افغانستان میں حملوں کا الزام لگتا تھا۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے اور ان کی طرح یہ بھی امریکی افواج کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے۔ یہ انھی گروپس میں سے ایک ہیں جن کے لیے ‘گڈ طالبان’ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔

پاکستان نے ان سے معاہدہ کیا کہ وہ پاکستانی فوج اور شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ 2008 میں بھی دوبارہ کیا گیا اور اس گروہ نے فوج کے خلاف کارروائیاں نہیں روک دیں۔

آپریشن

Getty Images
تاہم 2014 میں جب پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو حافظ گل بہادر گروپ نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا

تاہم 2014 میں جب پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو حافظ گل بہادر گروپ نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اب وہ ’افغانستان میں اپنی کارروائیاں روک رہے ہیں اور پہلے پاکستانی فوج سے نمٹیں گے۔‘

خیال رہے کہ یہ وہی گروپ ہے جس نے وزیراعظم کی جانب سے طالبان سے بات چیت کے حالیے بیان کے بعد سیزفائر کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح کا ایک اور امن معاہدہ خیبر ڈسٹرکٹ میں لشکر اسلام (منگل باغ) اور انصار الاسلام (قاضی محبوب) گروپس کے ساتھ کیا گیا۔ یہ معاہدہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور ان گروپس کے خاتمے کے لیے آپریشن صراط مستقیم شروع ہوا۔

سنہ 2008 میں ہی باجوڑ میں مولوی فقیر حسین کے ساتھ معاہدہ کیا گیا مگر وہ بھی نہ چل سکا اور بالآخر فوج کو آپریشن شیردل کرنا پڑا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21093 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments