یسری رضوی کی بے بس دلہن کے روپ میں تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث: ’معاشرہ ہم سے ہے، ہمیں اپنے آپ کو کمزور تصور کرنا بند کر دینا چاہیے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی اداکارہ اور مصنفہ یسریٰ رضوی نے اپنی ’زنجیروں میں جکڑی دلہن‘ بنے کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ ان تصاویر اور ان کے ساتھ درج کہانی پر مسلسل جاری بحث پر یسریٰ کہتی ہیں کہ ’میں نے جس مسئلے پر بات کی ہے، اُس پر اِن تلخ اور تکلیف دہ تصاویر کے بغیر بات شاید ممکن نہیں۔۔۔ شائستگی سے کی گئی بات کوئی نتائج برآمد نہیں کر رہی۔۔۔‘

اداکارہ نے دو روز قبل اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے تین تصاویر پوسٹ کیں۔

ان تصاویر میں وہ ایسی دلہن بنی نظر آ رہی ہیں، جو زنجیروں میں لپٹی ہے اور تشدد کا شکار بھی ہے۔ ایک تصویر میں ان کے گلے میں زنجیر لٹک رہی ہے، اور وہ گھٹنوں پر چل کر، اس دلہن کی حالت کو پالتو کتے سے مماثلت دے رہی ہیں۔

یسریٰ نے ان تصاویر کے ساتھ دیکھنے والوں کے لیے ایک پیغام بھی پوسٹ کیا ہے۔ جس سے ان تصاویر کے پیچھے چھپی کہانی یا مقصد کی وضاحت ہوتی ہے۔

یسریٰ لکھتی ہیں کہ ‘شادی کرنا یا نہ کرنا کسی بھی انسان کی زندگی کا ایک اہم اور ذاتی فیصلہ ہے۔ کس سے، کیسے اور کیوں یہ طے کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اور اگر یہ فیصلہ کرنے میں کوئی غلطی ہو جائے اور اپنی مرضی سے کی گئی شادی بھی ایک ناخوشگوار تجربہ بن جائے تو اُسے ختم کر دینا بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

یہ کوئی مغربی ایجنڈا نہیں بلکہ وہ شخصی آزادی ہے، جو ہر مذہب اور ہر قانون عقل (کامن سینس) کے تحت سب افراد کو دیتے ہیں۔‘

زنجیروں میں جکڑی، تشدد کی شکار اور نم آنکھوں کی دلہن بنی تصاویر سے یسریٰ رضوی نے بچیوں کی رضامندی کے بغیر ہونے والی اور خوشی کے بغیر چلائی جانے والی شادیوں کے مسئلے پر آواز اٹھائی ہے۔

جس پر ایک جانب سوشل میڈیا پر صارفین تلخ حقیقت کی اسی انداز میں وضاحت پیش کرنے پر یسریٰ کی کاوش کو سراہا رہے ہیں، تو دوسری جانب کچھ صارفین اسے نوجوان نسل خصوصاً ’لڑکیوں کو شادی سے دور کرنے‘ کی مہم قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یسریٰ رضوی کہتی ہیں کہ ’یہ مستقبل قریب کے میرے ایک ’مونولوگ‘ پراجیکٹ کا حصہ ہیں، جس میں دو گھنٹے تک میں ان مختلف مسائل پر، جو میں دنیا میں دیکھتی ہوں، بات کر رہی ہوں۔ یہ تین تصاویر بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ ہیپی برائیڈل شوٹ نہیں، تصاویر چبھنے والی ہیں، اس لیے لوگ اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

لوفی رائٹنگ نامی ایک صارف نے اداکارہ یسریٰ رضوی کی پوسٹ کی گئی تصاویر اور پیغام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ نے جو بات لکھی ہے آپ اسے اسلام سے ثابت کر دیں میں آپ کو چیلنج کرتا ہے۔‘

ایک اور صارف مائرہ لون نے لکھا کہ ’تو کیا آپ سنت سے انکاری ہیں؟ کیا آپ مسلمان ہیں؟‘

ایسے ہی ایک اور تبصرے میں ایک صارف نے لکھا کہ یہ تصاویر ایک مسئلے کے صرف ایک پہلو کی نمائندگی کرتی ہیں، جس سے مرد کو ظالم ثابت کیا جا رہا ہے۔

یسریٰ کہتی ہیں کہ ’تنقید کا میں جواب نہیں دیتی۔ میں نے تصاویر کے ساتھ بہت وضاحت سے لکھا ہے کہ یہ زبردستی کرائی گئی شادی جیسے مسئلے کے بارے میں ہے، جب یہ ہوتا ہے تو وہ دلہن خوش نہیں رہتی، وہ ایسی ہی ہو جاتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آپ اپنی بہن، بیٹی کو ایسی دلہن دیکھنا چاہتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔۔۔‘

یسریٰ رضوی کی ان تصاویر اور پیغامات کو ہزاروں صارفین کے علاوہ ساتھی اداکاراؤں غنا علی اور ثروت گیلانی کی جانب سے بھی حمایت اور تعریف حاصل ہوئی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ہم شائستگی سے بہت عرصے سے بات کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سرِ عام خواتین پر چھریاں چلائی جا رہی ہیں، تیزاب پھینکے جانے کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں۔ میرے گھر میں جو خاتون ملازمہ ہے، اس کی دو کم عمر بہنوں کی گذشتہ برس ہی زبردستی شادی کرائی گئی۔

دونوں کو شادی کے بعد ان کے شوہر نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اب وہ دونوں اپنے گھر واپس آ گئی ہیں۔ لیکن ان شادیوں کے لیے گھر والوں نے جو قرض لیا تھا، وہ اسی طرح باقی ہے۔

مریم بٹ کے نام سے انسٹاگرام ہینڈل نے اداکارہ کی تصاویر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بہت ہی عمدہ بات ہے، کاش معاشرہ اس بات کو تسلیم کر سکے۔‘ جس کے جواب میں یسریٰ رضوی لکھتی ہیں کہ ’معاشرہ ہم سے ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو کمزور تصور کرنا بند کر دینا چاہیے۔‘

یسریٰ رضوی نے اس سلسلے کی آخری اور مسائل کی شکار دلہن کی قدرے پرعزم نظر آنے والی تصویر کے ساتھ پیغام میں عوام سے کہا ہے کہ ’اپنے بیٹیوں اور بہنوں، دوستوں، خواتین رشتے داروں کے لیے کھڑے ہوں اور تشدد کرنے والے پڑوسیوں یا ریستورانوں میں اپنے بیوی کو پیٹنے والے اس شوہر کے خلاف کھڑے ہوں جو آپ کو کہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سے پہلے کے آپ اپنے کسی پیارے کو اٹھا کر قبرستان لے کر جا رہے ہوں۔ کیونکہ آپ شائستگی سے مسئلہ حل کرنے میں مصروف تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ٹی وی پر یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ عورت اپنا دفاع خود کر سکتی ہے‘

سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حقیقی زندگی، سوشل میڈیا زندگی سے کتنی مختلف ہے؟

’طالبان گلوکاروں کو برداشت نہیں کرتے، لیکن میں موسیقی نہیں چھوڑ سکتی‘

کیا ایسی مہم زبردستی کی شادیوں اور پُرتشدد رشتوں میں رہنے جیسے مسائل کا حل ہو سکتی ہیں؟

بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں اداکارہ یسریٰ کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی معاشرہ بہت انا پرست معاشرہ ہے، جہاں جانتے بوجھتے بھی لوگ صرف ’زبان‘ کی لاج رکھنے کے لیے اپنے پیاروں کو ایسے رشتوں میں جھونک دیتے ہیں۔

میں اپنے معاشرے سے متعلق کسی مسئلے کا حل مہم سے نکل آنے کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں مگر ظلم کے قریب خاموش کھڑے رہنا ظالم کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، جس پر ہم سب جوابدہ ہوں گے۔’


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21116 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments