پنجاب میں ’سہرے‘ کے انداز: مرزا غالب اور ابراہیم ذوق کی لڑائی، خواجہ فرید کی بہادری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صوبہ پنجاب کے جنوبی حصے کے ایک گاؤں کا منظر ہے جہاں ایک گھر میں لڑکے کی شادی کے جشن کا آغاز ہوا ہے۔ شام ڈھلے گاؤں کی خواتین اس گھر کا رُخ کرتی ہیں۔ دولہے کی والدہ اور بہنیں ان خواتین کا استقبال کرتی ہیں۔

سب مل بیٹھتی ہیں، میٹھا تقسیم ہوتا ہے اور پھر ڈھولک کی تھاپ پر نشست جمتی ہے۔ گانے والی خواتین جو مصرعے گاتی ہیں وہ ان کی اپنی تخلیق ہیں۔ اُن میں دولہے کی وجاہت، دلہن کی خوبصورتی، دونوں کی خوش قسمتی اور آنے والی خوش و خرم زندگی کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔

ایک سے دوسرا مصرعہ ملتا جاتا ہے اور ’سہرے‘ کی شکل ترتیب پاتی جاتی ہے۔ صوبہ پنجاب کے سرائیکی خطے میں یہی سہرے کی ابتدائی شکل تھی۔

بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر بتاتے ہیں کہ کئی مواقع ایسے بھی تاریخ کا حصہ بنے جہاں بیک وقت سینکڑوں خواتین نے سہرا گانے کی تقریبات میں شرکت اختیار کی۔ ’ہمارے خطے میں بنیادی طور پر سہرا انھی خواتین کا مرہونِ منت ہے۔ یہ باقاعدہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہوتا تھا۔‘

ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کئی دہائیوں تک ریڈیو پاکستان کے ساتھ براڈکاسٹر کی حیثیت سے منسلک رہنے کے بعد سنہ 2006 میں ریٹائر ہوئے تاہم اس سے قبل وہ ’سرائیکی شاعری کی ہزار سال پر محیط مستقل تصانیف‘ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سہرا گانے والی خواتین جو شعر پڑھتی تھیں وہ نہ صرف وزن میں ہوتے تھے بلکہ جب ان کی نشست مکمل ہوتی تھی تو اس کے بعد ایک باقاعدہ سہرا تشکیل پا چکا ہوتا تھا۔

یہی سہرے دہائیوں تک تقریبات میں چلتے رہے۔ ان میں سے کچھ مشہور گلوکاروں نے اپنائے، خود بھی مقبول ہوئے اور سہرے کو بھی مزید پذیرائی ملی۔ بعض شعرا نے بھی سہرے کے میدان میں قلم آزمایا۔

تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے سہرے کی روایت ختم ہوتی نظر آئی۔ اس کی ایک وجہ شاید جدت کا فقدان تھا۔ دہائیوں سے وہی پرانے سہرے گائے اور بجائے جا رہے تھے۔

حال ہی میں ریڈیو پاکستان کے ملتان سٹیشن کی پروڈیوسر نسرین فرید اور ان کے ساتھی ایک نئے خیال کے ساتھ سامنے آئے۔ انھوں نے ایک نیا سہرا منتخب کیا اور اس کی موسیقی ترتیب دینے میں روایتی سازوں کے ساتھ ساتھ جدید سازوں کا بھی استعمال کیا۔

’تیہکوں مہندیاں لاواں، حاں ٹھردا اے۔ تیرے سہرے گاواں حاں ٹھردا اے‘ سرائیکی شاعر ریاض باکھری کا کلام ہے جسے حال ہی میں ملتان سٹوڈیو میں نئی دھن کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔ مقامی گلوکارہ ثوبیہ ملک اور روزینہ مشرف نے اسے آواز دی اور میوزک ڈائریکٹر افتخار حیدر تھے۔

یہ سہرا تاحال باقاعدہ طور پر ریڈیو ملتان سے نشر نہیں کیا گیا تاہم ریکارڈنگ کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر حال ہی میں سامنے آئی اور وائرل ہو گئی۔

سہرے کی دُھن ہی ایسی ہے کہ سُننے والا جھومے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے سرائیکی زبان پر عبور حاصل ہونا بھی ضروری نہیں۔

سہرا گایا نہیں، تحفے میں بھی دیا جاتا تھا

ریڈیو ملتان کے اسی سٹوڈیو سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلوکارہ ثوبیہ ملک نے بتایا کہ اس سہرے کی موسیقی کے لیے درجن بھر سے زیادہ سازوں کو بیک وقت ترتیب دیا گیا۔

’ہم نے اس کی کافی دھنیں بنائیں اور آخر میں ہم نے اس کا انتخاب کیا جو ہمیں لگا ہمارے کلچر سے زیادہ قریب ہے۔‘

روایتی طور پر ڈھول اور شہنائی سہرے کے ساز ہوا کرتے تھے۔ شادی بیاہ کے موقع پر دولہے کا سہرا نہ صرف گایا جاتا تھا بلکہ اسے یادگار کے طور پر بھی رکھا جاتا تھا یا فریم کروا کر تحفے میں دیا جاتا تھا۔

خوبصورت انداز میں سہرا لکھ کر ساتھ دلہے اور اس کے گھر والوں کی تصاویر لگائی جاتی ہیں اور پھر اسے فریم کروا کر گھر میں رکھا جاتا ہے۔

گلوکارہ ثوبیہ ملک نے بتایا کہ تقریبات میں جب وہ سہرا گاتی ہیں تو اکثر دولہے کے رشتہ دار ان کے پاس آ کر فرمائش کرتے ہیں کہ اس میں دولہے کا نام بھی شامل کیا جائے۔ زیادہ تر سہروں میں اس کی گنجائش ہوتی ہے۔

جیسے ایک سہرا کچھ یوں ہے کہ ’اج خوشبو مچدی پئی اے، میہنڈے سانول مہندی لئی اے۔‘ اس میں لفظ ’سانول‘ کو دولہے کے نام کے ساتھ بدل دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر فرمائش پر شخصیات کے لیے شہرے لکھنے یا کہنے کا رواج بھی نیا نہیں۔

سہرے کے سہارے مرزا غالب اور ذوق کی لڑائی

محقق اور سابق براڈکاسٹر ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بعض شعرا نے خاص طور پر مخصوص شخصیات کے لیے یا ان کی فرمائش پر باقاعدہ طور پر سہرے لکھے ہیں۔ تاہم ان کے خیال میں ’یہ روایت سرائیکی سہرے میں موجود نہیں تھی اور اردو شاعری کے اثر میں سامنے آئی۔‘

اردو شاعری میں سہرے کی ایک مشہور روایت 19ویں صدی کے شعرا مرزا غالب اور ذوق سے جڑی ہے۔ یہ سہرے کا سہارا لیتے ہوئے ان دونوں کی آپس کی لڑائی کی روداد ہے جو آخری مغل بادشادہ بہادر شاہ ظفر کے دربار میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ سنہ 1852 میں بہادر شاہ ظفر نے اپنے بیٹے مرزا جواں بخت کی شادی انتہائی دھوم دھام سے کی۔ شادی کی تقریب کے لیے بہادر شاہ ظفر کی ملکہ زینت محل نے مرزا غالب سے سہرا لکھنے کے لیے کہا۔

اس واقعے کو تاریخ دان اور مصنف ولیم ڈیلرمپل نے اپنی کتاب ’دی لاسٹ مغل‘ میں تحریر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی ثقافت کی لندن کی سڑکوں پر عکاسی

افغان پناہ گزینوں کے پاکستانی ثقافت پر گہرے نقوش

جب ایک شہزادہ عام سی لڑکی کے لیے بارات لے کر پاکستان آیا

مرزا غالب نے فوراً تعمیل کی۔ لیکن سہرے کے ایک شعر میں انھوں نے لکھ دیا کہ ان سے بڑھ کر کوئی سہرا نہیں لکھ سکتا۔

‘ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں،

دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا’

بہادر شاہ ظفر سمجھ گئے کہ اس شعر کا ہدف ابراہیم ذوق تھے جو بادشاہ کے استاد اور ملک الشعرا مقرر کیے گئے تھے۔ بادشاہ نے ہتک محسوس کی۔ انھوں نے ذوق سے جواب لکھنے کو کہا۔

ذوق نے جواب تحریر کیا جس میں غالب پر وار بھی شامل تھا۔

‘جن کو دعوٰی ہو سخن کا یہ سنا دو ان کو،

دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخن ور سہرا’

بادشاہ کی طرف سے ناراضی کے اظہار پر غالب کو معذرت بھی لکھنا پڑی تاہم معذرت میں بھی انھوں نے ہار نہیں مانی۔ ایک شعر میں انھوں نے یہ ضرور لکھ دیا کہ

‘صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ،

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے’

سہرا نعتیہ اور نوبت کے انداز میں بھی سامنے آیا

ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کہتے ہیں کہ سرائیکی شاعری میں اس نوعیت کے تعریفی سہرے لکھنے کی ایک روایت وہ بھی تھی جسے نوبت کی طرز پر کہا گیا۔

’ایک روایت کے مطابق ریاست بہاولپور کے نواب صادق محمد خان کے لیے گانے والے خاندان کے فنکار ہر صبح نواب صاحب کی تعریف میں نوبت کہا کرتے تھے جس میں ان کی تعریف کی جاتی تھی۔‘

تاہم ساتھ ہی ایک تیسری روایت نعتیہ سہرے کی بھی پائی جاتی ہے۔ انیسویں صدی کے آخر کے دور میں کئی شعرا نے سہرے کے انداز کو نعتیہ شکل بھی دی۔

’یعنی وہ سہرے کو نبی کی شان بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے جہاں انھیں دولہے سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ معراج کے واقعہ کو بھی اس انداز میں بیان کیا گیا۔‘

خواجہ فرید نے سہرے کے سہارے آزادی کی بات کہہ دی

ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کہتے ہیں کہ سرائیکی شاعری میں سہرے کا ایک چوتھا انداز برصغیر کی جدوجہدِ آزادی کے رنگ میں بھی نظر آتا ہے۔ انیسویں صدی کے صوفی شاعر خواجہ فرید نواب آف بہاولپور کے استاد بھی تھے اور ان کے بہت قریب تھے۔

’ایک موقع پر جب نواب صاحب نے اپنے لیے کچھ کلام لکھنے کو کہا تو خواجہ فرید نے سہرے کا سہارا لے کر انگریز کی غلامی سے آزادی کی بات کہہ دی جو اس دور یوں کہہ دینا ہی بڑی بہادری کی بات تھی۔ اس دور میں ایسی بات کہنا بھی بغاوت کے زمرے میں آتا تھا۔‘

ڈاکٹر نصراللہ خاں ناصر کے مطابق خواجہ فرید نے نواب صاحب کے لیے لکھا کہ صادق محمد تیری شاہی قائم رہے اور تیری عمر لمبی ہو۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ’اپنڑی نگری آپ وسا تو، پٹ انگریزی تھانڑے‘ یعنی خود اپنی حکومت قائم کرو اور انگریز کی حکومت سے نجات حاصل کرو۔

ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کہتے ہیں اس دور میں عام آدمی تو جدوجہدِ آزادی کے حق میں تھا تاہم خطے کے امرا اور وڈیرے اپنی جاگیروں کے لیے انگریز کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ ایسے وقت میں خواجہ فرید کے لے ایسی بات کہنا بڑی بات تھی اور اسے کہنے کے لیے انھوں نے سہرے کا سہارا لیا۔

تاہم ڈاکٹر نصراللہ کے مطابق سرائیکی خطے میں سہرے کی سب سے پرانی اور مقبول روایت وہ سہرا ہے جو خواتین دولہے اور دلہن کے لیے گاتی تھیں اور یہ روایت کسی حد تک آج بھی قائم ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21129 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments