طوفان گلاب سندھ کی بھٹکی ہوئی بلائنڈ انڈس ڈولفنز کو بچانے میں کیسے مددگار ثابت ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ سندھ میں دریائے سندھ سے بھٹک کر مخلتف نہروں میں جانے والی 13 انڈس بلائنڈ ڈولفنز میں سے تین کو محکمہ وائلڈ لائف سندھ نے مدد فراہم کر کے واپس دریائے سندھ پہنچا دیا ہے جبکہ 10 ڈولفنز ابھی بھی مختلف نہروں میں موجود ہیں۔

نہروں میں موجود ڈولفنز کے بارے میں محکمہ وائلڈ لائف کا خیال ہے کہ ان کو آنے والے سال جنوری میں ہی مدد فراہم کرنا ممکن ہوسکے گا۔

سکھر ڈویثرن میں تعنیات ڈپٹی کنزرویٹر محکمہ وائلڈ لائف سندھ عدنان حمید خان کے مطابق اس وقت دریائے سندھ سے ملحق نہروں میں پانی زیادہ سے زیادہ مقدار میں دریا کے بہاؤ کے برابر بہہ رہا ہے اس لیے بلائنڈ ڈولفنز کا راستہ بھٹک کر نہروں میں چلے جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلائنڈ ڈولفنز کے راستہ بھٹک کر نہروں میں جانے کی اطلاعات محکمے کو ان ڈولفنز کی نگرانی کے وضع کردہ نظام کی بدولت ملی تھیں جس کے بعد ہی بلائنڈ ڈولفنز کی تلاش اور مدد کے آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔

ڈولفنز کی نگرانی کے نظام میں مختلف مقامات پر ڈیوٹی کے لیے تعنیات اہلکار، مقامی لوگ اور مچھیرے شامل ہیں۔

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ ’جس بہاؤ سے دریا سے نہروں میں پانی چھوڑا جا رہا تھا اس کو دیکھ کر ہمارا پہلا اندازہ تو یہ ہی تھا کہ کسی بھی ڈولفن کی مدد کرنا جنوری سے پہلے ممکن نہیں ہوگا مگر سندھ میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے نہروں میں ایک دو روز پانی نہ چھوڑے جانے کی وجہ سے ہمیں آپریشن کرنے کا موقع مل گیا تھا۔‘

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں دریائے سندھ کے ساتھ ملحق ایک لاکھ آٹھ ہزار کلومیٹر پر محیط نہری نظام ہے۔ ’ہمیں ہماری نگرانی کے نظام کے تحت پتا چلا کہ 11 بلائنڈ ڈولفنز کون کون سی نہروں میں کہاں کہاں موجود ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت نہروں میں پانی اپنی پوری مقدار میں چھوڑا جا رہا اور بہہ رہا تھا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر یہ نہریں سو فٹ تک گہری ہیں۔ ان میں درخت، پتھر پڑے ہوئے ہیں۔ جہاں پر آپریشن کرنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اس سے غوطہ خور اور تیراک کی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے۔

طوفان گلاب بلائنڈ ڈولفنز کے لیے مددگار

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ اس دوران انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان کی ٹیم 11 ڈولفنز کی کڑی نگرانی کرے گی اور جب بھی موقع ملا ان کو مدد فراہم کی جائے گئی۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ باقی دو لاپتہ ڈولفنز کی تلاش کا کام بھی جاری رکھا کہ اس دوران طوفان گلاب کے اثرات پاکستان اور سندھ تک پہنچ گئے۔

طوفان گلاب کے باعث سندھ کے کئی شہروں میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ جب بارش ہوتی ہے تو اکثر نہریں بند کردی جاتی ہیں۔ اس بارش کے دوران بھی کچھ نہریں پہلے اور کچھ بعد میں بند کی گئیں تھیں۔

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی نہروں میں جن کو بند کردیا گیا تھا، باقی ڈولفنز کی تلاش کا کام کیا گیا۔

’سکھر کی اپنی حد میں ہمیں گزشتہ جمعے کو ایک ڈولفن نظر آئی۔ یہ نہر بند تھی۔ ہم نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور فی الفور اس ڈولفن کو مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔’

’ڈولفن کو مدد فراہم کرنے کا بہترین وقت تھا‘

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ اس ڈولفن کو ان کے ایک اہلکار عبدالجبار نے مسلسل اپنی نظروں میں رکھا ہوا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’بلائنڈ ڈولفن نہر میں پچاس کلو میٹر نیچے کی طرف موجود تھی۔ ہمارے اہلکار ڈولفن کو نگاہ میں رکھ کر دس بارہ کلومیٹر پیدل چلے تو انھیں وہاں پر ایک اور ڈولفن نظر آگئی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو حادثاتی طور پر دو ڈولفنز نظر آچکی تھیں اور نہر کا پانی بند تھا۔ ان کے مطابق یہ ڈولفنز نہر میں دو گھنٹوں کے دوران بارہ کلومیٹر کا سفر طے کر چکی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں واپس دریا میں لانے کے لیے ان کے پاس اس سے اچھا کوئی اور موقع نہیں ہوسکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ڈولفن ریسیکو ٹیم کے اہلکار موجود تھے۔ ڈولفن کو مدد فراہم کرنے کے لیے زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں تیراک اور غوطہ خور درکار ہوتے ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر مقامی لوگوں اور مچھیروں سے مدد طلب کی گئی تھی۔

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ پانی کی صورتحال دیکھی تو پتا چلا کہ پانی زیادہ نہیں ہے۔

‘یہ ساری صورتحال انتہائی موزوں ہوچکی تھی۔ ہم نے ڈولفن کو مدد فراہم کرنے والے تمام آلات سپرے، سٹریچر، گاڑیوں کو موقع پر پہنچایا۔ جال لگائے گئے۔’

ڈولفن کو موت سے بچانے کے لیے دو سے اڑھائی منٹ

عدنان حمید خان کہتے ہیں کہ ڈولفن کو مدد فراہم کرنے کا آپریشن بہت حساس ہوتا ہے۔ ’عام صورتحال میں ڈولفن پانچ سے آٹھ منٹ کے درمیان ایک مرتبہ پانی کی سطح پر سانس لیتی اور چھوڑتی ہے۔ جب یہ دوڑ رہی ہو، تناؤ یا کشیدہ صورتحال کا شکار ہو تو یہ دورانیہ دو سے اڑھائی منٹ پر محیط ہوجاتا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران اگر وہ پانی کے نیچے جال میں پھنس جائے تو دو منٹ سے اڑھائی منٹ میں اس کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یکم اکتوبر کو دن دو بجے ’ہم لوگوں نے آپریشن کا آغاز کیا اور نہر میں جال لگانے کے بعد انتظار کیا کہ ڈولفن ہمارے پسندیدہ مقام پر پہنچ جائیں۔ جال کو کھینچنے کے لیے لوگوں کو مختص کیا اور شام پانچ بجے کے قریب ایک ڈولفن جال میں پھنس گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جال اور ڈولفن کو ریسکیو ٹیم نے 15 سے 16 سیکنڈز کے اندر کھینچ کر پانی سے باہر نکال لیا تھا۔ پہلی ڈولفن کے تقریباً ایک منٹ بعد دوسری ڈولفن بھی اسی مقام پر جال میں پھنس گئی۔

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ دوسری ڈولفن کو بھی دس سیکنڈز کے اندر اندر کھینچ کر باہر نکال لیا گیا تھا۔ اس طرح آپریشن کے دوران دونوں ڈولفن کو ہلاک ہونے کے خطرے سے بچا لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

معدومیت کی شکار بلائنڈ انڈس ڈولفن کو شکار کرنے والا ماہی گیر گرفتار

مارخور، انڈس ڈولفن بدستور معدومیت کے خطرے سے دوچار

دریائے سندھ میں ’بلائنڈ انڈس ڈولفن‘ کی تعداد میں اضافہ

دریا میں چھوڑنے تک کی حفاظتی تدابیر

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ اب انھیں ڈولفنز کو خشکی پر محفوظ رکھ کر دریا میں پہنچانے کا مرحلہ درپیش تھا۔ جس کے لیے خصوصی طور پر پانی کی ٹینکی کا انتظام کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس پانی کی ٹینکی میں دریائی پانی کے علاوہ دوسرا پانی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ پانی کی ٹینکی میں گدا بچھایا جاتا ہے۔ اس پر فوم لگائے جاتے ہیں۔ اس پر ڈولفن کو لٹا کر تولیے میں لپیٹا جاتا ہے تاکہ دھوپ سے اس کی موت نہ ہو۔ تولیہ میں لپیٹ کر اس پر متواتر پانی ڈالا جاتا ہے۔

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا خیال تھا کہ ہم اس صورتحال میں دو اڑھائی گھنٹے تک کا سفر کر کے ان کو دریا میں چھوڑ دیں گے۔ مگر عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہوا۔ سفر شروع کرنے کے چند ہی منٹ بعد بتایا گیا کہ ایک ڈولفن تناؤ کا شکار ہو چکی ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ سکھر میں دریائے سندھ کی حدود تک پہنچنے کے لیے نوے کلومیٹر کا سفر تھا جبکہ جہاں وہ موجود تھے اس کے قریب ہی چار کلو میٹر کے فاصلے پر ایک نواحی علاقے تک کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم 15 منٹ کے اندر اس مقام پر پہنچ گئی تھی۔ جہاں پر ہم نے دونوں ڈولفن کو سپرد دریا کر دیا۔ ’ہم دیکھ رہے تھے کہ تناؤ کا شکار ڈولفن آہستہ آہستہ نارمل ہوتی جارہی تھی۔ جن کو دیکھ کر موقع پر سب خوشی سے تالیاں بجا رہے تھے۔‘

عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ دو اکتوبر بروز سنیچر وہ اپنے دفتر میں موجود تھے کہ ایک دوسری نہر میں ایک اور ڈولفن کی اطلاع ملی۔ ‘فی الفور اپنی ٹیم کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ ہمارے پاس وقت کم تھا کیونکہ وہ نہر اب بھی بند تھی مگر کسی بھی وقت اس میں پانی دوبارہ چھوڑا جا سکتا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ‘اس ڈولفن کو بھی ہم نے دو گھنٹے کے آپریشن کے بعد دریا میں چھوڑ دیا۔’

ان کا کہنا تھا کہ جن ڈولفنز کو مدد فراہم کی گئی ہے وہ تینوں مادہ تھیں۔ ان ڈولفنز کی عمریں آٹھ سے نو ماہ تھیں، لمبائی تین فٹ اور وزن گیارہ سے چودہ کلو تھا۔

انھوں نے بتایا کہ دیگر نہروں میں موجود ڈولفنز خطرے کا شکار نہیں ہیں۔ اگر کسی موقع پر نہروں میں پانی کچھ دیر کے لیے بند ہوتا ہے تو وہ فی الفور آپریشن کر کے انھیں دریائے سندھ میں چھوڑ دیں گے ورنہ پانچ جنوری کو جب نہروں کا پانی بند ہوگا تو ان کو مدد فراہم کردی جائے گئی۔

پاکستان میں موجود انڈس ڈولفنز

سندھ وائلڈ لائف کے کنزرویٹر جاوید احمد مہر کے مطابق سندھ میں 2019 کے ایک سروے کے مطابق انڈس ڈولفنز کی تعداد 1419 تھی جبکہ سنہ 2009 میں کیے جانے والے سروے میں یہ تعداد 900 کے لگ بھگ تھی۔ مگر اب نئے اندازوں کے مطابق اس کی تعداد 1900 کے لگ بھگ ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ستر اور ساٹھ کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی آماجگاہیں اٹک پر دریائے سندھ کے مقام سے شروع ہو جاتی تھیں۔ تاریخی طور پر انڈس ڈولفن دریائے ستلج، جہلم، راوی اور چناب میں بھی پائی جاتی تھیں۔

جاوید احمد مہر کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج تک دریائے سندھ کا علاقہ انڈس ڈولفن کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ جہاں پر ڈولفن کا شکار مکمل طور پر ممنوع ہے اور محکمہ اس حوالے سے انتہائی سخت کارروائی کرتا ہے۔ اس علاقے میں انڈس ڈولفنز مکمل طور پر محفوظ ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21235 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments