افغانستان: افغان بچی کا پرندہ جس کا خیال رکھنا اب فرانسیسی سفیر کی ذمہ داری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد کابل سے محفوظ مقام کے لیے نکالے جانے والی ایک افغان بچی کا پالتو پرندہ اب ابوظہبی میں فرانس کے سفیر کے پاس ہے۔

یہ پرندہ ایک مینا ہے جس کا نام جوجی ہے۔ پرندہ اب فرانسیسی سفیر ہاویئر شتیل کے پاس رہ رہا ہے اور کئی دنوں کی تربیت کے بعد اس نے فرانسیسی زبان کا لفظ ‘بوں ژو’ بولنا سیکھ لیا ہے۔ بوں ژو کا مطلب ہے ہیلو۔

افغان بچی کو ابو ظہبی سے فرانس جانے والی پرواز پر اپنے پالتو پرندے کو لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

فرانسیسی سفیر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ افغان بچی اور اس کے مینا کو دوبارہ ملوانے کی پوری کوشش کریں گے۔

14 اگست سے 30 اگست کے دوران افغانستان سے ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کو مختلف پروازوں کے ذریعے نکالا گیا۔ 14 اگست وہ دن تھا جب طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا تھا جبکہ 30 اگست کے روز افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہو گیا تھا۔

خطرے سے دوچار تقریباً دو ہزار چھ سو افغان شہری فرانسیسی پروازوں کے ذریعے ملک سے نکل گئے تھے۔

فرانسیسی سفیر ہاویئر شتیل نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ‘ایک بچی دافرا ایئر بیس پر پہنچی، وہ نڈھال تھی اور اس کے پاس ایک غیر معمولی سامان تھا، ایک پرندہ۔ اس نے کابل ایئرپورٹ سے یہاں آنے تک اپنی اس قیمتی چیز کو ساتھ لے جانے کے لیے پوری جدوجہد کی تھی۔’

سفیر نے مزید لکھا کہ حفظانِ صحت کی وجوہات کی بنا پر پرندے کو جہاز میں نہیں رکھا جا سکا۔ ‘وہ خاموشی سے رو رہی تھی۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں نے اپنی رہائش گاہ پر پرندے کا خیال رکھنے کا وعدہ کیا۔ وہ جب چاہے واپس آ کر اس سے مل سکتی ہے اور واپس لے جا سکتی ہے۔’

فرانسیسی سفیر نے جوجی کے لیے ایک پنجرہ خریدا، اس کی کھانے پینے کا خیال رکھ رہے ہیں اور ہر صبح اسے باہر لے کر جاتے ہیں تاکہ وہ دوسرے پرندوں سے مل سکے۔

‘جوجی آخر کار گھل مل گیا اور اس نے عجیب و غریب الفاظ بولنا شروع کر دیے۔ یہ الفاظ ایسی زبان میں تھے جو ہماری سمجھ سے باہر تھی۔’

یہ بھی پڑھیے

افغانستان کی اخلاقی پولیس: جو ’نیکیوں کا حکم دے کر برائی سے روکے‘ گی

محبوبہ سراج: امریکہ سے افغانستان آنے والی خاتون جو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہاں ہیں

’وہ کہتے ہیں ہمیں افغان خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ لیکن میں ڈرتی ہوں‘

ہاویئر شتیل کو یہ معلوم تھا کہ مینا ایک ایسا پرندہ ہے جو انسانوں کی بولی کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے مشہور ہے۔ انھوں نے جوجی کو کچھ فرانسیسی سکھانے کی کوشش کی اور اس کا آغاز فرانسیسی لفظ بوں ژو (ہیلو) سے کیا۔

وہ کہتے ہیں ‘مسئلہ یہ ہے کہ جوجی کو مرد پسند نہیں ہیں۔ وہ مجھے گھورتا تھا اور بظاہر غصے سے دیکھتا تھا جبکہ خواتین کو دیکھ کر قہقہے لگاتا تھا۔ مگر میں پھر بھی روزآنہ اسے بوں ژو سکھانے کی کوشش کرتا رہا۔ حالانکہ مجھے یقین تھا کہ وہ میری بات نہیں سنے گا۔’

فرانسیسی سفیر ہاویئر شتیل نے مزید لکھا ‘یہاں تک کہ ایک روز فرانسیسی رہائش گاہ کی خاتون مینیجر نے مجھے یہ بوں ژو بھیجا جو سیدھا میرے دل میں اتر گیا۔’

https://twitter.com/Xavier_Chatel_/status/1445335859868413952?s=20

https://twitter.com/Xavier_Chatel_/status/1445337377493471233?s=20

ہاویئر شتیل نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا کہ پرندے کی مالک بچی، جس کی شناخت وہ عالیہ کے نام سے کرتے ہیں، پیرس سے ان سے رابطے میں ہے اور اس بات پر بہت خوش ہے کہ اس کے پرندے کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

https://twitter.com/Xavier_Chatel_/status/1445338511347961861?s=20

انھوں نے لکھا ‘عالیہ تمھارا پرندہ سفارت خانے کا حصہ بن چکا ہے لیکن یہ یہاں پر تمھارے لیے ہے۔ اور اگر میں یہ کر سکا تو ایک دن اسے لے کر خود تمھارے پاس آؤں گا۔’


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21094 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments