کراچی: آئی بی اے نے محمد جبرائیل کا داخلہ بحال کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع تعلیمی ادارے انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن نے طالب علم محمد جبرائیل کا داخلہ بحال کردیا ہے۔ انھوں نے ادارے میں مبینہ حراسگی کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا اور ادارے نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں ان کا داخلہ منسوخ کردیا تھا۔

محمد جبرائیل نے آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر زیدی سے منگل کو ملاقات کی تھی جس کے بعد انھوں نے ادارے سے اپنے داخلے کی منسوخی کے خلاف اپنی اپیل واپس لے لی اور ان کا داخلہ غیر مشروط طور پر بحال کردیا گیا۔

اس ملاقات کے بعد محمد جبرائیل نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر زیدی کو بھیجی گئی ای میل میں بتایا تھا کہ ہے کہ وہ اپنی اپیل واپس لے رہے ہیں اور ان کا داخلہ اور ہاسٹل کو بحال کر دیا جائے۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ درخواست سے دستبردار ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جو معاملہ میں نے اٹھایا تھا وہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ میں آپ سے گزراش کرتا ہوں کہ اس کو سنجیدہ لیں اور اس پر کارروائی کریں، مجھے آپ کے قول پر یقین ہے اور حراسگی کا ایشو ہے، جس کو میں نے ہائی لائیٹ کیا ہے۔

محمد جبرائیل نے اکبر زیدی سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبا تنظیموں کی بحالی اور دیگراصلاحات کی جو بات ہوئی تھی امید ہے کہ مزید اصلاحات سے آئی بی اے کو بہتر اور محفوط جگہ بنایا جائے گا۔

آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر زیدی نے محمد جبرائیل کی ای میل کے جواب میں بھیجی گئی ای میل میں کہا ہے کہ وہ انھیں طالب علم کے طور پر قبول کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ گریجوئیٹ ہو جائیں گے۔ ’آئی بی اے انتظامیہ آپ کے اور دیگر طلبا کے ساتھ اس ادارے کو بہتر اور قابل فخر بنائے گی‘۔

واقعہ ہوا کیا تھا؟

واضح رہے کہ محمد جبرائیل نے فیس بک پر ہراسانی کے واقعے کے بارے میں ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انھوں نے 25 اگست کو آئی بی اے کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں ایک واقعے کا حوالہ دیا تھا جس کے وہ خود چشم دید گواہ تھے اور انھوں نے ڈیپارٹمنٹ کے منیجر کو ایک خاتون ملازم پر چیختے چلاتے اور یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ ’میں تمہیں ساری رات یہاں بیٹھا کر رکھوں گا‘۔

آئی بی اے انتظامیہ نے انھیں یہ پوسٹ ہٹانے کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا، جس کے بعد ان کا داخلہ منسوخ کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’سیف کیمپس‘ محفوظ تعلیمی ماحول کو کیسے یقینی بنائے گا

خواتین ہراسانی کے خلاف آواز کیسے بلند کر سکتی ہیں؟

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراس: ’گھر والوں کو لگتا ہے کہ استاد کبھی غلط نہیں ہو سکتا‘

آئی بی اے نے فیس بک پیج پر شیئر کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ محمد جبرائیل کو انسٹی ٹیوٹ کے واضح کیے گئے طریقہ کار استعمال کرنے کے بجائے واقعے کی رپورٹنگ کے لیے سوشل میڈیا کا انتخاب کرنے پر سزا سنائی گئی۔ انھیں اپنے اس اقدام پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا گیا بعد میں انضباطی کمیٹی نے طالب علم کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے یہ قرار دیا کہ ایسا اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ آئی بی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے لیے صفر عدم برداشت کی پالیسی ہے۔

سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے محمد جبرائیل کے داخلے کی منسوخی پر ٹوئٹر پر تقنید کی جس کے بعد متعدد طلبا نے اس بحث میں حصہ لیا۔ ان میں سے اکثر کا یہ خیال تھا کہ آئی بی اے حراسگی کرنے والوں کی ہمت افزائی کرنا چاہتی ہے۔ اس اقدام سے جو لوگ حراسگی کی نشاندی کرتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے بھی اکبر زیدی کو خط لکھ کر محمد جبرائیل کے داخلہ کی بحالی کا مطالبہ کیا جبکہ آئی بی اے کے طلبا نے ادارے میں محمد جبرائیل کی حمایت میں ریلی بھی نکالی تھی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21094 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments