ہنزہ میں دولھا دلہن کی کرین پر بارات کی وائرل ویڈیو: ’اگر میں زندہ دلی کا مزہ لینا چاہتا ہوں تو یہ میرا حق ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’نہ میں نے کسی کو نقصاں پہنچایا نہ کسی کو تکلیف دی۔ اپنی شادی کے موقع پر صرف چند منٹ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر خوشی منائی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس پر کسی کو کیا پریشانی ہو سکتی ہے۔ کون سی ثقافت اور کلچر کی نفی ہوئی ہے؟‘

یہ کہنا ہے گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کے علاقے گلگن کے رہائشی کریم احمد خان کا، جن کی شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ اس ویڈیو میں میں وہ اپنی بارات کے موقع پر نئی نویلی دلہن کو ایک ایکسکویٹر (مٹی کھودنے والی کرین) پر بیٹھا کر لا رہے ہیں۔

وہ اپنی شادی کی ویڈیو وائرل ہونے پر کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں، ہمارے گھر والوں اور دوستوں کو خوشی مل رہی ہو تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘

بی بی سی نے جب کریم احمد خان سے بات کی تو وہ اس وقت اپنی اہلیہ ناہیدہ پروین کو لے کر اسلام آباد جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد اس لیے جا رہے ہیں کیونکہ اُن کی اہلیہ کا بیرون ملک سکالر شپ کے لیے امتحان ہے اور اگر وہ کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اُن کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھجوائیں گے۔

کریم احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ تعمیرات میں استعمال ہونے والی بھاری مشنیری کے کام سے منسلک ہیں۔ انھوں نے سنہ 2007 میں ہیوی مشینری چلانے کی تربیت حاصل کی تھی، جس کے بعد وہ گلگت بلتستان میں نہ صرف سی پیک منصوبے میں کام کرنے والی دو چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کر چکے ہیں بلکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انھوں نے سنہ 2014 میں دبئی کی ایک تعمیراتی کمپنی میں بھی ملازمت اختیار کی مگر سنہ 2017 میں ایک حادثے کے بعد وہ واپس ہنزہ آ گئے اور تب سے اپنے بہنوئی کی سیاحتی کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں۔

کریم احمد خان اور ان کے دوستوں نے دلہن کو ایکسکویٹر پر بٹھانے کی پوری منصوبہ بندی اور تیاری کی تھی۔

ایکسکویٹر پر دلہن کو بٹھانے کا خیال کیسے آیا؟

کریم احمد خان نے بتایا کہ جب ان کی شادی طے ہوئی تو گلگت بلتستان میں ان کے کچھ دوستوں نے، جنھیں کریم نے ہیوی مشینری چلانے کی تربیت دی تھی، تجویز دی کہ اس شادی کو یادگار بناتے ہیں اور دلہن کو ایکسکویٹر پر بٹھا کر لاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے بھی یہ تجویز پسند آئی، کیونکہ یہ صرف میرا کام ہی نہیں ہے بلکہ ان بڑی مشینوں سے مجھے دلی لگاؤ بھی ہے۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اپنی شریک حیات کے ساتھ اپنی نئی زندگی کو شروع کرتے ہوئے اپنی مشینوں کو بھی ساتھ رکھا جائے۔‘

اُن کے مطابق اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے اپنے گھر والوں اور علاقے کے بزرگوں سے بات کی، انھوں نے بھی یہ سب کرنے کی اجازت دے دی۔

کریم احمد خان کا کہنا تھا کہ ان کے ایک دوست نے ایکسکویٹر کا انتظام کیا جبکہ دیگر دوستوں نے اس کی سجاوٹ کے ساتھ ساتھ اس پر عارضی صوفے نصب کیے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایکسکیوٹر کو ہر طرح سے آرام دہ بنایا گیا تھا۔‘

پہلے ڈر لگا پھر زندگی کے ساتھی پر بھروسہ کیا

کریم احمد خان نے بتایا کہ انھوں نے اپنی دلہن ناہیدہ پروین کو اس منصوبے کے متعلق پہلے نہیں بتایا تھا لیکن بارات جب تین چار گھنٹے کی مسافت کے بعد اُن کے گاؤن کے قریب پہنچی تو انھوں نے اپنی شریک حیات کو بتایا کہ وہ بارات کیسے لا رہے ہیں۔ ’پہلے تو وہ کچھ پریشان ہو گئی لیکن پھر وہ ایکسکویٹر پر بیٹھنے کے لیے آمادہ ہو گئیں۔‘

ناہیدہ پروین کا کہنا تھا کہ ’طویل سفر اور شادی کی مختلف تقریبات کے باعث ہم لوگ تھکے ہوئے تھے۔ جب کریم نے مجھے کہا کہ ایکسکویٹر پر بیٹھ کر گھر تک جانا ہے تو میں ایک دم ڈر گئی کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ اس میں خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

ناہیدہ کہتی ہیں کہ ’مگر جب انھوں نے کہا کہ ان پر اعتماد کروں تو میں نے حامی بھر لی۔ وہ میری زندگی کے ساتھی ہیں، ان کی موجودگی میں یقینی طور پر مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’یہ میں ہوں، یہ میرے دادا ہیں اور ہم ان کی شادی کروا رہے ہیں‘

جب ایک شہزادہ عام سی لڑکی کے لیے بارات لے کر پاکستان آیا

دولہے کی وجاہت اور دلہن کی خوبصورتی بیان کرتی سہرے کی روایت

’انھوں نے پوچھا کہ کیا ہم نے نیچے کپڑے پہن رکھے ہیں؟‘

ایکسکویٹر پر بیٹھنے کا پہلا تجربہ تھا

ناہیدہ پروین کا کہنا تھا کہ ایکسکویٹر پر بیٹھنے کا یہ ان کی زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔

’ہم لوگ صوفوں پر بیٹھے اور جب ایکسکویٹر چلا تو مجھے شروع میں ڈر لگا۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں ڈر ختم ہو گیا اور میں اس کا بھرپور لطف اٹھانے لگی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ایکسکویٹر کے کم رفتار سے چلنے کی وجہ سے شاید پانچ منٹ کا راستہ ہم نے تقریباً دس منٹ میں طے کیا تھا۔ ’لوگ میرا استقبال کر رہے تھے۔ کوئی ویڈیو بنا رہا تھا تو کوئی تصاویر، کریم بھی اس موقع پر بہت پُرجوش تھے۔ ان کو خوش دیکھ کر میں بھی بہت خوش تھی۔‘

وہ اس منفرد اور یادگار لمحے کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’یقینی طور پر ہم سے پہلے اس طرح کسی کی شادی میں نہیں ہوا ہو گا اور شاید ہمارے بعد بھی ایسا نہ ہو۔‘

ویڈیو لمحوں میں وائرل ہو گئی

کریم احمد خان کا کہنا تھا کہ بارات جب گھر پہنچی تو وہ شادی کی مختلف رسموں میں مصروف ہو گئے، اس دوران اُن کے دوستوں اور بھائیوں نے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ویڈیو شیئر کرنے کے کوئی دو تین گھنٹے بعد مجھے پتہ چلا کہ ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے فون آنا شروع ہو گئے، میرے غیر ملکی دوستوں سمیت کئی ایسے لوگوں نے جنھیں میری شادی کا نہیں پتا تھا اُن کو بھی پتہ چل گیا تھا۔ ان سب نے اس ویڈیو سے لطف اٹھایا اور مجھے مبارکباد دی۔‘

کریم کہتے ہیں کہ وائرل ویڈیو پر مختلف تبصرے ہو رہے تھے۔ کوئی منفرد انداز پر تعریف کر رہا تھا تو کوئی یہ سوچے بغیر کہ یہ ہماری زندگی اور خوشی ہے، فضول باتیں کر رہا تھا۔

کریم احمد خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لوگوں کے ان تبصروں سے بڑی مایوسی اور افسوس ہوا کہ زندگی تو خوش دلی کا نام ہے اور اگر میں کا اس زندہ دلی سے لطف لینا چاہتا ہوں تو یہ میرا حق ہے۔‘

ان کی اہلیہ ناہیدہ پروین کہتی ہیں کہ ‘میں نے کریم کو سمجھایا ہے کہ فضول باتوں کو دل برا نہ کریں۔ آپ اور میں خوش ہیں ہمارے گھر والے مطمئن ہیں تو ہمیں کسی سے کیا لینا دینا۔ ہم نے نئی زندگی شروع کی ہے، مل کر اس کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کریں گے۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21822 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments