شادی پر برسوں پرانے خاندانی جوڑے پہننے کا رواج: ’میں وہ خوش نصیب ہوں جس نے والدہ اور ساس دونوں کی شادیوں کا جوڑا اپنی شادی پر پہنا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی کسی کی بھی زندگی کا ایک انتہائی اہم موقع ہوتا ہے اور اکثر اس کی تیاری کئی مہینوں پہلے شروع کر دی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں تو یہ تیاری اکثر برسوں پہلے ہی شروع کر دی جاتی ہیں۔

ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی شادی کے دن انتہائی خوبصورت لگے اور اس خوبصورتی کو نکھارنے کے دلہن کی ہر چیز اور خاص طور پر سب سے زیادہ توجہ دلہن کے بارات اور ولیمے کے جوڑوں پر دی جاتی ہے۔

اکثر خواتین اپنی شادی کا جوڑا نہ صرف پوری زندگی سنبھال کر رکھتی ہیں بلکہ انھیں اپنی اگلی نسل تک منتقل بھی کرتی ہیں۔

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر چند خواتین نے ایسی بہت سی تصاویر شیئر کی ہیں کہ جب انھوں نے اپنی شادی کے موقع پر اپنی والدہ، ساس یا دادی، نانی کا جوڑا پہنا۔ بی بی سی نے چند ایسی ہی خواتین سے بات کی ہے۔

’میں وہ خوش نصیب ہوں جس نے والدہ اور ساس دونوں کی شادیوں کا جوڑا پہنا‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے نمرہ حامد نے کہا کہ شادی کے موقع پر اپنی والدہ کا جوڑا پہننا صرف ایک روایت ہی نہیں بلکہ یہ وہ خوبصورت احساس ہے جو لڑکی کے دل کے بہت قریب ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے اور میری امی نے بھی ان احساسات کو محسوس کیا۔ میری امی نے اپنی شادی کی جیولری اپنی بیٹیوں اور بہو میں تقسیم کی۔ یہی نہیں بلکہ ان کے شادی کے جوڑے بھی میں نے اپنی شادی پر پہنے کیونکہ جیسے زیورات مہنگے ہیں ویسے ہی شادی کا جوڑا بھی اب لاکھوں میں بنتا ہے۔‘

’میں نے اپنی امی کی شادی کے کپڑے اپنی شادی پر پہنے اور وہ لمحہ میرے اور امی کے لیے بہت جذباتی تھا۔ یہ تو چلو ایک عام بات ہے کہ لڑکیاں اپنی ماؤں کے کپڑے پہن لیتی ہیں لیکن میری لیے سب سے خاص یہ تھا کہ میری ساس نے بھی مجھے اپنے ولیمے کا جوڑا دیا جو میں نے ولیمے کے دن پہنا۔‘

’میرے لیے وہ ایک یادگار لمحہ تھا کہ میری ساس نے مجھے اپنی بیٹی سمجھا اور اپنا جوڑا مجھے دے دیا۔ میں ہی نہیں میری ساس نے اپنے جوڑے اپنی بیٹیوں اور دوسری بہوؤں میں بھی بانٹے جو ہم سب نے پہنے۔‘

نمرہ کا کہنا ہے کہ پرانے زمانے میں بننے والے کپڑوں کو آج بھی اٹھا کر دیکھ لیں تو وہ خراب نہیں ہوتے۔

’ویسا ہی کام اور ویسی ہے چمک موجود ہوتی ہے۔ حالانکہ جو باقی دنوں کے کپڑے میں نے اپنی شادی کے لیے بنوائے تو اُن پر ہوا کام کچھ ہی عرصے میں کالا پڑنے لگ گیا اور دیکھا جائے تو لاکھوں روپے میں یہ کپڑے بنتے ہیں لیکن پھر بھی ان کا بُرا حال ہو جاتا ہے۔‘

’میری امی کی دادی کی شادی کا سو سال پرانا جوڑا‘

فاطمہ فصیح کی والدہ کا تعلق انڈیا سے ہے اور وہ شادی کے بعد اپنی سسرال میں پاکستان آئیں۔

فاطمہ فصیح بتاتی ہیں ’میرے ابا اور امی آپس میں کزن ہیں اس لیے آج بھی ہمارے رشتے دار انڈیا میں رہتے ہیں۔ جب میری شادی ہونی تھی تو اس سے پہلے میری امی انڈیا میری نانی سے ملنے گئیں۔ جب وہ واپس آئیں تو نانی نے میری والدہ کو ان کی دادی کی شادی کا وہ جوڑا دیا جو انھوں نے میری نانی کو بطور تحفہ دیا تھا۔‘

’میری نانی اور امی تو وہ جوڑا نہ پہن سکیں لیکن میں خوش نصیب ہوں کہ میں نے اپنی امی کی دادی کا سو سال پرانا جوڑا پہنا۔‘

یہ بھی پڑھیے

لہنگے کے بجائے پرانا پینٹ سوٹ، دلہن کی تعریف بھی، ٹرولنگ بھی

ہنزہ میں دلہن کی کرین پر رخصتی: ’بیگم کو بتایا بارات ایکسکویٹر پر لا رہا ہوں تو وہ پریشان ہو گئیں‘

گوجرانوالہ کے ہسپتال میں شادی: ’دلہن نے کہا میں اس حالت میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’میری نانی اور ان کا سسرال پرانی دلی میں رہتے تھے اور میری امی کے دادا دلی کی جامع مسجد میں امام تھے۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے کہ جوڑا بھی انھوں نے دلی سے ہی بنوایا تھا لیکن آج بھی اگر آپ اس پر ہوا کام دیکھیں تو اس کی چمک ویسی ہی ہے۔ اس سو سال پرانے دوپٹے، قمیض اور آستین پر سونے کا کام اندرون دلی سے کروایا گیا اور یہ خالص سونے کی زری اور دبکے کا کام تھا۔‘

’تاہم جب یہ سوٹ میری امی نے پاکستان واپس آ کر مجھے دیا تو اس کے غرارے اور قمیض کے کپڑے کی حالت تھوڑی خراب تھی لیکن دوپٹہ بالکل ٹھیک تھا۔ میں نے قمیض کا کام اتار کر سلک کے کپڑے پر لگوایا اور غرازہ نیا بنوا لیا جبکہ دوپٹے پر ویلوٹ لگوائی۔ جس کے بعد میں نے اسے نکاح کے دن پہنا۔‘

فاطمہ کا کہنا ہے کہ اس جوڑے کا تعلق ان کے جذبات کے علاوہ تاریخ سے بھی ہے اس لیے یہ جوڑا انھیں بہت عزیز ہے۔

’میں نے زیورات اپنی نانی کے پہننے جو اس جوڑے کے ساتھ بے حد خوبصورت لگے۔ میرے شوہر آج بھی مجھے کہتے ہیں کہ شادی کے تمام دنوں میں سے، نکاح کے دن تم سب سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔‘

’کپڑے صرف بہانہ ہیں، محبت اور روایات لوگوں کو جوڑے رکھتی ہیں‘

مریم سلمان کہتی ہیں کہ ان کے خاندان میں اس روایت کو بہت اچھا سمجھا جاتا ہے کہ لڑکیاں اپنے بڑوں کے کپڑے پہنیں۔

’لیکن میرا حساب تھوڑا مختلف رہا۔ میں نے اپنی پھپو وغیرہ کے شادی کے کپڑے تو پہننے لیکن میری امی کے خوبصورت جوڑوں تک مجھے رسائی آسانی سے نہیں ملتی تھی کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ کہیں ہم ان کے کپڑے خراب نہ کر دیں لیکن تبدیلی اس وقت آئی جب میری شادی ہوئی اور میں امی سے دور رخصت ہو کر چلی گئی۔‘

’اس کے بعد میرے لیے میری امی کے ان قیمتی جوڑوں کی الماری کھل گئی اور اس کے بعد میں نے ان کے شادی کے جوڑے سمیت ان کے جہیز کی ساڑھیاں تک پہنی ہیں اور آج بھی ان سے مانگ کر پہنتی ہوں۔‘

’مجھے یاد ہے کہ میرے ابا نے اپنی شادی ہونے سے پہلے ہی ایک انتہائی خوبصورت بنارسی ساڑھی میری امی کے لیے لے کر رکھی تھی۔ جو میری امی کسی کو نہیں پہننے دیتی تھیں لیکن اب جب میں نے امی سے کہا تو انھوں نے مجھے وہ بھی پہننے کی اجازت دے دی۔‘

’اگر آج کے دور میں دیکھیں تو وہ ساڑی لاکھوں میں ملے گی۔ میرے پہننے کے بعد میری بھابی نے بھی مانگی تو امی کو ان کو بھی دینی پڑی۔‘

مریم سلمان سمجھتی ہیں کہ یہ محبت اور روایات ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہیں ورنہ کپڑے تو صرف بہانہ ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21116 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments