نام لینے کے بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم پی پی کے بغیر انگڑائی لے کر خود نمائی میں مصروف ہے اور حکومت کے لیے مسلسل جگ ہنسائی اور رسوائی کا سامان کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے روح رواں نواز شریف اور مریم نواز بنی گالا کی روحانی قوتوں کے ساتھ ساتھ پنڈی والوں کی روحوں کے لیے بھی مسلسل درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ہائبرڈ حکومت کی بے بسی، لاچارگی اور درماندگی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ لوٹوں، نوٹوں، بوٹوں اور جھوٹوں میں سخت ناکامی کے بعد اب اسے ”ٹوٹوں“ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ سفارتی محاذ پر پسپائی اور رسوائی کے علاوہ معیشت کے میدان میں بھی حکومت چاروں شانے چت ہو چکی ہے۔ وزیراعظم صاحب کی بے بسی دیدنی اور دریدہ دہنی جائے عبرت ہے۔ وہ اگلے دن جس چیز کے نرخ کم کرنے کا اعلان فرماتے ہیں دوسرے دن اس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو جاتا ہے۔

نیب چئیر مین کی مدت ملازمت میں متنازع توسیع کے معاملے پر اپوزیشن کے ہاتھوں حکومت کی درگت بن رہی ہے۔ امید ہے کہ مذکورہ آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج ہو جائے گا اور چئیر مین صاحب کو بوریا بستر گول کرنا پڑے گا۔ چند روز پیشتر نواز شریف نے بیان دیا تھا کہ اب جو احتساب ہو گا اس کا تماشا دنیا دیکھے گی۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے اس بیان کو محض بیان یا خالی دھمکی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کا پس منظر معنی خیز اور پیش منظر ہیجان انگیز ہے۔

میڈیا میں ابھی اس بیان کی بازگشت باقی تھی کہ مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی کہ ان کے والد اور ان کے خلاف بنائے جانے والے کیسز نہ صرف انجینئرڈ ہیں بلکہ اس کے پیچھے مقتدرہ کے سب سے طاقتور منصب دار کا بنیادی کردار ہے۔ حکومت کے حالی موالیوں اور ترجمانوں سمیت سب دانتوں تلے انگلیاں دبائے بیٹھے ہیں اور ”مفاہمتی“ چھٹ بھیوں کو دانتوں پسینا آ رہا ہے۔

ادھر ہمارے سابق ڈی جی آئی ایس آئی افغانستان میں چائے پینے پہنچے اور اپنا فیض عام ارزاں کرنے کی سعی کی مگر یہ کوشش یوں سعیٔ لا حاصل ثابت ہوئی کہ ہم نے طالب علموں کی سر پرستی کے ایسے انہونے دعوے شروع کر دیے کہ جو ہمارے اتحادیوں کے لیے نہ صرف ناقابل قبول تھے بلکہ ان کے لیے باعث ننگ تھے اور ان پر سنگ ملامت بن کر برس رہے تھے۔ موصوف نے اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے تھے مگر امریکی دورے میں ان کی شناسائی کی بات مانند خوشبو نہ پھیل سکی اور نہ کسی نے ان کی پذیرائی فرمائی۔

ادھر مریم نواز کے لیے میدان صاف ہو گیا۔ ایک ڈیڑھ سال سے جاری حکومت کے سرپرست اعلٰی اور ماتحتوں کے درمیان نوع بہ نوع مسائل پر ہونے والی اختلاف کی لکیر گہری ہوتی گئی اور ”سر جی“ کے کچھ اقدامات لاڈلوں کے لاڈلے کے لیے درد سر بننے لگے۔ مستقبل کا منظر نامہ یوں بنتا دکھائی دے رہا ہے کہ حمید کا فیض تو شاید جاری نہ رہ سکے مگر جاوید کا قمر عسکری آسمان پر توسیع کے بعد ایک سال مزید چھب دکھا سکتا ہے۔

مریم نواز نے لوہا گرم دیکھا تو کاری ضرب لگائی اور ممولے کو شہباز سے لڑانے کی ٹھانی۔ اللہ اللہ! کہاں وہ وقت تھا کہ لوگ جس ادارے کا نام بھی اشارے کنائے میں لیتے تھے۔ کبھی حساس ادارہ تو کبھی مقتدرہ، کبھی اسٹیبلشمنٹ تو کبھی عسکری قیادت یا خفیہ والے۔ مگر آج اسی ادارے کے سب سے طاقتور شخص کا نہ صرف سر عام نام لیا جا رہا ہے بلکہ اسے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس سے کڑا حساب لینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جب نون لیگ کہتی تھی کہ ہمارے خلاف سب کیا دھرا امپائر کا ہے تو شوخ و شریر اینکرز طنز سے معمور مسکراہٹ اور تعریض سے بھرے لہجے میں سوال کرتے تھے کہ آپ امپائر کا نام کیوں نہیں لیتے۔ اس پر باذوق خواتین و حضرات جواب دیتے کہ

میں اس کا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

مگر پھر بھی اصرار بڑھتا رہا۔ نون لیگیوں کی طرف سے احتیاط برتی جاتی رہی کہ پردہ نشینوں کے نام طشت از بام کر کے ادارے کی رسوائی کا سامان نہ کیا جائے مگر اینکرز اس کے باوجود بضد رہے کہ جرات رندانہ اور شجاعت مجاہدانہ کا مظاہرہ کر کے امپائر کا نام نامی لبوں پر لا یا جائے۔ بلکہ کچھ ستم ظریفوں نے تو بقول جون ایلیا مریم بی بی کو اس طرح زچ کر رکھا تھا کہ

آپ، وہ، اجی، مگر یہ سب کیا ہے
تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں

اور اب جب مریم بی بی نے امپائر کا نام سر بازار لیا تو سب کے ہوش اڑ گئے۔ اب ہر کوئی مریم بی بی اور نون لیگ کی جان کو آ رہا ہے کہ ان بد بختوں نے ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اب بڑ بولے اینکرز بھی چپ ہیں اور شیخ رشید جیسے مقتدرہ کے لاوٴڈ سپیکر کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ ادھر نون لیگ کونے میں کھڑی اس دلچسپ صورت حال کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہوئے زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ

میں اس کا نام لے بیٹھا تھا اک دن
زمانے کو بہانہ چاہیے تھا

نام لینے کا چیلنج دینے والوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ نام لینے کے بعد والی صورت حال کو کس طرح سنبھالیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments