8 اکتوبر 2005 زلزلہ کے متاثرین آج بھی چھتوں کے منتظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8اکتوبر 2005 کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ وہ دن تھا کہ جب زمین نے ایسی کروٹ بدلی کہ چند ہی لمحوں میں شہر کے شہر صفحہ ہستی مٹ گئے۔ صبح 8 بج کر 52 منٹ پر ٹوٹنے والی اس قیامت کے نتیجے میں آزاد کشمیر اور کے پی کے کے دوردراز کے دلکش پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع شہر اور گاؤں تلپٹ ہو گئے۔ پاکستان کے لئے تو یہ گھڑی قیامت صغری کی طرح تھی، یہ اس ملک میں مجموعی طور پر چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔

بتانے والے تو بتاتے ہیں کہ 8 بج کر باون منٹ پر ایک دفعہ تو ایسے لگتا تھا کہ زمین اوپر اٹھ کر آسمان سے جاکر ٹکرا رہی ہے۔ اس سانحہ میں کے پی کے کا علاقہ بالاکوٹ تو پورے کا پورا شہر ہی تباہ ہو گیا جبکہ مظفر آباد، ہزارہ، راولاکوٹ 80 سے نوے فیصد تک تباہ ہو گئے۔ اسلام آباد کے مارگلہ ٹاور کا ایک حصہ گر گیا۔

اس زلزلے کے نتیجے میں 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تعداد سکول میں موجود بچے اور کالجوں، یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء کی تھی۔ مارگلہ ٹاور کے اپارٹمنٹس میں سے ایک اپارٹمنٹ میں مقیم اظہر خان جو اس وقت بسلسلہ تعلیم اسلام آباد میں مقیم تھے، اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے ان کے چہرے پر مایوسی اور خوف کے رنگ آ گئے، بتاتے ہیں کہ یہ وہ لمحہ تھا جسے وہ چاہ کے بھی دوبارہ یاد نہیں کر سکتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ خوش قسمتی سے اس دن وہ محمد علی جناح یونیورسٹی کے چوتھے فلور کی کمپیوٹر لیب میں موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ جس وقت زلزلہ آیا بس وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ موجود رہے۔ ان کے مطابق یہ وہ لمحہ تھا کہ خوف کے عالم میں وہ مفلوج ہو کر رہ گئے حتی کہ نیچے جانے کا بھی نہیں سوچا۔

ان کے مطابق ایک لمحہ کو تو انہیں لگا کہ اب بھاگ دوڑ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، بس یہی لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت یہ عمارت گر جائے گی۔ مگر اللہ پاک کے کرم سے وہ اس زلزلے میں محفوظ رہے۔ مگر اس زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس وہ ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے جس کے بعد کھلے میدان میں چلتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا۔ اظہر خان گھر والوں کے اصرار پر اپنے آبائی گاؤں میں واپس آ گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے تعلیمی سال کا بھی نقصان ہوا۔

ماہرین کے مطابق سات اعشاریہ چھ کے اس زلزلہ کے بعد 987 سے زائد آفٹر شاکس بھی آئے۔ جس کے باعث نہ صرف امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کئی نیم منہدم عمارات بھی ان آفٹر شاکس کی نظر ہو گئیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس واقعے کو سولہ سال ہوچکے ہیں لیکن راولا کوٹ اور بالا کوٹ کے زلزلہ متاثرین ابھی تک بحالی کے منتظر ہیں۔

جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ بالاکوٹ کا پچانوے فیصد علاقہ ہی صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ جس کے بعد یہاں کے بچ جانے والے متاثرین کو عارضی ٹینٹوں، خیموں اور ٹین کے گھروں کی صورت میں آباد کیا گیا۔ یہ شہر بھی ترکی اور سعودی عرب کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ ایرا اور حکومت کی جانب سے نیو بالاکوٹ سٹی کے نام سے نیا شہر بسانے کا اعلان کیا گیا مگر یہ اعلان بھی بس اعلان تک ہی محدود رہا۔ بالاکوٹ میں 5 ہزار سرکاری سکول تباہ ہوئے مگر اس کے بعد تادم تحریر صرف چند سو ہی تعمیر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے یا تو ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں یا پھر خاندانوں کو تعلیم کے لئے دوسرے شہروں میں منتقل ہونا پڑا ہے۔ خالد محمود ان چند خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جو اس زلزلہ میں زندہ بچ گئے تھے، بالاکوٹ کے رہائشی خالد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تو بحالی کے لئے فوری اقدامات میں ٹینٹ اور شیلٹر بنا دیے گئے مگر وہ پشاور میں اپنے رشتے داروں کی طرف منتقل ہو گئے۔

ان کے مطابق 2010 میں وہ واپس بالاکوٹ لوٹے تو حکومت کی جانب سے اس علاقے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے تعمیرات پر پابندی کی وجہ سے وہ اپنی مدد آپ کے تحت بھی تعمیرات کرنے سے قاصر ہیں۔ خالد محمود کے مطابق سپریم کورٹ میں سکولوں کی تعمیر نہ ہونے پر دائر درخواست میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے علاقے کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کے بعد نیو بالاکوٹ سٹی کے منصوبے پر تھوڑی بہت پیشرفت دیکھنے میں آئی۔ مگر پھر سے یہ معاملہ فائلوں کی نظر ہو گیا۔ ملبے کے ڈھیر پرانے بالاکوٹ سے 23 کلومیٹر دور بکریال میں نیو بالاکوٹ سٹی کی تعمیر تو کیا بالاکوٹ سے اس کی طرف جانے والی چند کلومیٹر کی سڑک کو بھی تعمیر نہیں کیا گیا ہے۔

جبکہ تباہ ہونے والے بالاکوٹ میں بھی نہ کوئی جدید سرکاری ہسپتال ہے نہ ہی انفراسٹرکچر، خالد محمود کے مطابق ابھی تک ہزاروں خاندان فائبر گلاس کے عارضی گھروں میں کسمپرسی کی حالت میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر کے صدر مقام مظفرآباد جو کہ 30 ہزار سے زائد اموات اور دو لاکھ سے زائد عمارات کی تباہی کے ساتھ نقصان میں پہلے نمبر پر تھا کو تو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ مگر دور دراز کے علاقوں میں ابھی بھی کئی متاثرین ایسے ہیں جن کے پاس اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کے وسائل نہیں تھے وہ ابھی بھی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لئے تشکیل دیے گئے ادارے ایرا پر منصوبہ جات مکمل نہ کرنے اور غیر ملکی فنڈز میں گھپلوں اور کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے۔

اس حوالے سے کئی کیسز بھی بنے اور انکوائریاں بھی کی گئیں۔ مگر نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلا نہ ہی متاثرین کے لئے کچھ کیا گیا ہے۔ خالد محمود کے مطابق 2005 کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں تو بحالی کے کام ہوتے رہے۔ تعمیرات کا کام بھی تیزی سے جاری رہا، مگر جونہی سابق صدر کی حکومت کا خاتمہ ہوا، اسی کے ساتھ تعمیرات کے منصوبے کھٹائی میں پڑے بلکہ بحالی کا کام بھی بس فائلوں میں جاری رہا ہے۔ قدرتی آفت کا شکار ہونے والے افراد آج بھی حکومت سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے درد کا کوئی درماں بن جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments