اسرائیلی شہر حائفہ میں برطانوی راج کے لیے لڑنے والے انڈین فوجیوں کی بہادری کے قصے کیوں پڑھائے جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی جنگ عظیم میں اپنی جان گنوانے والے برطانوی راج کے لیے لڑنے والے انڈین فوجیوں کو شمالی اسرائیل کے ساحلی شہر حائفہ میں جمعرات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران اس شہر پر سلطنت عثمانیہ، جرمنی اور آسٹریا کی مشترکہ افواج کا قبضہ تھا۔

برطانوی راج کے لیے لڑنے والے انڈین فوجیوں نے اس شہر کو متحدہ فوج کے قبضے سے آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس جنگ کو جیتنا ضروری تھا کیونکہ اتحادیوں کی فوجوں کے لیے سامان کی ترسیل کا سمندری راستہ یہاں سے گزرتا تھا۔

برطانوی حکومت کے لیے لڑتے ہوئے 44 انڈین فوجی مارے گئے تھے جسے تاریخ میں گھڑسواروں کی آخری بڑی لڑائی کی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اسرائیل کا شہر حائفہ ہر سال 23 ستمبر کو ان فوجیوں کی یاد میں یوم حائفہ مناتا ہے اور تین انڈین کیولری ریجمنٹ میسور، حیدرآباد اور جودھ پور لانسرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو 15 ویں امپیریل سروس کیولری بریگیڈ کا حصہ تھے۔

اسرائیل میں موجود سینئر صحافی ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ ‘اس دن کے جشن کا آغاز اسرائیل میں 2003 سے کیا گیا تھا۔ لیکن اس سال 23 ستمبر کو ملک میں کئی تہوار تھے جس کی وجہ سے طے شدہ تاریخ کو جشن نہیں ہو سکا اور اسے ملتوی کر دیا گیا اور جشن کے لیے 7 اکتوبر کی تاریخ طے کی گئی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

پہلی جنگ عظیم: ہندوستانی فوجیوں کی غیر معمولی کہانیاں

ڈنکرک کے فراموش کردہ فوجی جن میں بانیِ پاکستان کے معاون بھی شامل تھے

پہلی عالمی جنگ کے زمانے کی ’موت کی سرنگ‘ کیسے دریافت ہوئی؟

ہٹلر کی وہ غلطیاں جنھوں نے دوسری عالمی جنگ کا رخ موڑ دیا

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اسرائیل میں انڈیا کے سفیر سنجیو سنگھلا نے حائفہ میں انڈین فوجیوں کے قبرستان میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انڈین فوجیوں کے اس حملے کو ایک ایسی کارروائی قرار دیا، جو مشین اور ٹیکنالوجی کے سہارے جنگ لڑنے کے دور میں شاید گھڑ سواروں کے لیے اپنی نوعیت کی آخری جنگ تھی۔

حائفہ اور انڈین فوجی

ایک مقامی مورخ ایگل گریور نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ انڈیا کے گھڑسوار ریجمنٹ کے پاس اس جنگ میں تلواریں اور نیزے تھے اور انہوں نے اپنی روایتی بہادری سے اپنے دشمنوں کو ماؤنٹ کارمل کی پتھریلی ڈھلوانوں سے مار بھگایا تھا۔

صحافی ہریندر مشرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘یہ جنگ ایسی تھی جس میں انڈین فوجیوں نے ایک ایسی فوج کا مقابلہ کیا جس کے پاس گولہ بارود اور مشین گنیں تھیں۔ بھارتی فوجیوں نے گھوڑوں پر سوار تلواروں اور نیزوں سے دلیری سے مقابلہ کیا تھا۔’

انھوں نے مورخ ایگل گریور کا مزید حوالہ دیتے ہوئے کہا ‘چڑھائی کی وجہ سے وہاں جانا ناممکن تھا پھر بھی انڈین فوجیوں نے چڑھائی کی اور سمجھا جا رہا تھا کہ زیادہ تر فوجی مارے جائیں گے لیکن اس لڑائی میں صرف چھ بھارتی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے اور انڈین فوجیوں نے بالآخر حائفہ پر قبضہ کر لیا۔

دلپت سنگھ ہیرو

میجر دلپت سنگھ کی جرت اور بہادری کے قصے سے اسرائیل اور خاص طور پر حائفہ کے لوگ دنگ رہ گئے اور اس دن ‘حائفہ کے ہیرو’ سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔

ہریندر مشرا بتاتے ہیں کہ دلپت سنگھ کے والد شاہی خاندان کے معزز گھڑ سوار تھے اور اس وجہ سے دلپت سنگھ بھی گھڑ سواری میں ماہر ہو گئے۔

حائفہ سکول میں تیسری سے پانچویں کلاس میں پڑھنے والے بچوں کو تاریخ کی کتابوں میں حائفہ کی آزادی کی کہانی اور اس میں انڈین فوجیوں کی شراکت کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

ہریندر مشرا بتاتے ہیں ‘کتابوں میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ دلپت ‘حائفہ کے ہیرو’ ہیں کیونکہ انھوں نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ اس لڑائی میں انڈین فوجیوں نے جنگ جیت لی تھی لیکن دلپت سنگھ آخری حملے سے پہلے ہلاک ہو گئے اور ان کے بعد کیپٹن امن سنگھ بہادر کو ذمہ داری سونپی گئی تھی’۔

دلپت سنگھ کو بعد میں فوجی اعزاز ملٹری کراس سے نوازا گیا تھا۔

ساتھ ہی کیپٹن امن سنگھ بہادر اور دفدار زور سنگھ کو اس جنگ میں اپنی بہادری دکھانے پر انڈین آرڈر آف میرٹ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ کیپٹن انوپ سنگھ اور سیکنڈ لیفٹیننٹ ساگت سنگھ کو ملٹری کراس سے نوازا گیا۔

انڈیا میں حائفہ چوک

دارالحکومت دہلی میں واقع تین مورتی چوک کا نام بدل کر تین مورتی حائفہ چوک کر دیا گیا۔

اس وقت کے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی انڈیا میں اس تقریب میں شرکت کی تھی۔ انھوں نے میموریل بک میں دستخط اور پیغامات بھی لکھے تھے۔

ہریندر مشرا بتاتے ہیں کہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں انڈین فوجیوں کے لیے احترام بھی بڑھ گیا ہے اور ایسی تفصیلات بھی سامنے آرہی ہیں کہ حائفہ میموریل سوسائٹی اب یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ انڈین فوجیوں نے عالمی جنگ میں کیا کیا راستے اختیار کیے تھے۔ اس پر مطالعہ کرنے کے لیے بات چیت بھی ہو رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21087 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments