ریاست لسبیلہ کا عروج و زوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست لسبیلہ کی تاریخ بے شمار جنگوں پر مشتمل ایک پوشیدہ تاریخ رکھتی ہے۔ جس سے پردہ اٹھانا ایک اور جنگ کا محاذ کھولنے کا مترادف ہے۔ ہر ریاست تاریخ کو مسخ کر کے اپنی ایک جھوٹی تاریخ متعارف کراتی ہے۔ تاکہ وہ جھوٹ کی بنیاد پر باآسانی حکمرانی کرسکیں۔ اس طرح ریاست لسبیلہ کے جدگال حکمرانوں نے ایک جھوٹی تاریخ پر اپنی ریاست قائم کی۔ اپنے بھائیوں کو دھوکہ دے کر ریاست پر قبضہ جمایا۔ حالانکہ ریاست لسبیلہ کے اصل وارث صرف جاموٹ کی ذیلی شاخ عالیانی نہیں ہیں۔

بلکہ گنگو اور برفت اقتدار میں برابر کے شراکت دار ہیں۔ ان کے درمیان یہ معاہد طے ہوا تھا کہ باری باری ریاست کی سربراہی ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے کو منتقل کی جائے گی۔ لیکن جاموٹوں نے نواب آف مکران اور خان قلات کی مدد حاصل کر کے ریاست پر دوبارہ بزور قبضہ جمایا۔ اور گنگو اور برفت جدگالوں کو اقتدار سے باہر پھینک دیا۔

جاموٹ، گنگو، برفت، ہمالانی (ملک) اور ساسولی قبائل کا تعلق جدگال نسل سے ہیں۔ جدگال کا مطلب ہے ہماری بولی نہیں بولنے والا۔ ایک جدا بولی بولنے والا۔ دراصل جدگال زبان بلوچی، فارسی اور سندھی کا مرکب ہے۔ آج بھی جدگالی زبان لسبیلہ، کراچی، ایران سمیت خلیج کے دیگر ممالک میں بولی جاتی ہے۔ جدگال بلوچ قوم میں ایک طاقتور اور جنگجو قبائل میں شمار ہوتا ہے۔ جام عالیانی اپنے آپ کو راجپوت نسل سے بتاتے ہیں لیکن اس کے کوئی تاریخی شواہد نہیں ملتے ہیں۔ بلوچوں میں صرف گچکی قبیلہ ایک ایسا قبیلہ ہے جو نسلا راجپوت ہیں۔

جدگال بلوچوں کی ریاست دشتیار (ایران) سے لے کر کوٹری (سندھ) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس ریاست کی آخری والی مائی چاہ گلی تھی۔ مائی چاہ گلی کے بھائی نہ ہونے کی وجہ تمام جدگال قبائل نے متفقہ طور پر مائی چاہ گلی کو ریاست کا سربراہ مقرر کیا۔ مائی چاہ گلی نے جدگال ریاست کو بیرونی حملہ آوروں سے بچانے کے لئے ریاست کا تخت (دارالخلافہ) بیلہ سے کوٹری منتقل کر دیا۔

مائی چاہ گلی کے دور میں دشتیار سے لے کر کوٹری تک عدل و انصاف کا بول بالا تھا۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ وہ آخری ایام تک کوٹری میں رہی۔ اس کی قبر آج بھی کوٹری میں ہے۔ اس کے انتقال کے بعد آہستہ آہستہ ریاست زوال کی طرف گامزن ہو گئی۔ اور سکڑ کر لسبیلہ تک محدود ہوتی ہے۔

اور اس طرح ریاست لسبیلہ بھی 1742 سے 1955 تک اپنا سفر طے کر کے زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ اور ریاست لسبیلہ کا پاکستان سے الحاق کیا گیا۔ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی کے دادا جام غلام قادر عالیانی ریاست لسبیلہ کے آخری والی تھے۔ اس طرح یہ عروج اور زوال کا سفر جام علی خان سے آغاز ہوتا ہے اور جام غلام قادر تک زوال پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ سلسلہ گیارہ پشتوں تک چلتا ہے۔

2018 کو ایک اچانک پارٹی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ جس کا نام بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کا نام دیا گیا۔ چند ماہ میں باپ پارٹی نے 2018 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت نشستیں حاصل کرلی۔ اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنالی۔ کچھ حلقوں نے اس کامیابی کو جام کمال کا کمال قرار دیا۔ جبکہ بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جام کمال کے کمالات کے پیچھے اسلام آباد کی کرامات ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments