ایئر انڈیا: کراچی سے شروع ہونے والی ایئرلائن جو دنیا میں انڈیا کی پہچان بنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
Getty Images
1970 کی دہائی تک ایئر انڈیا کے 54 ممالک میں 10 ہزار ملازم تھے
ایئر انڈیا کی کہانی غیر منقسم انڈیا میں کراچی کے ایک چھوٹے سے ایئر فیلڈ پر اکتوبر 1932 کی ایک خوشگوار صبح کو شروع ہوئی تھی جب ایک معروف کاروباری خاندان کا 28 سالہ بیٹا جہانگیر رتن جی دادابھائی ٹاٹا ایک انجن والے جہاز میں بمبئی کے لیے روانہ ہوا۔

ٹاٹا نے انگلینڈ سے دو پس موتھ طیارے خریدے تھے جن میں ایک کے ذریعے وہ ہفتہ وار ڈاک سروس شروع کر رہے تھے۔

ہوائی جہاز نے 100 میل فی گھنٹہ (160 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کیا اور اس ’گرم اور جھٹکوں سے بھرپور پرواز میں‘ سامنے سے آنے والی تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک پرندہ بھی کیبن میں اندر پہنچ گیا تھا اور اسے مارنا پڑا۔

یہ پرواز کافی جھٹکے سہتی ہوئی گجرات کے شہر احمد آباد میں ایندھن حاصل کرنے کے لیے اتری جہاں بیل گاڑی پر لاد کر لایا گیا تیل جہاز میں ڈالا گیا۔

طیارہ دیر دوپہر بمبئی (اب ممبئی) میں مٹی کی ہموار سطح پر اترا۔ کچھ ڈاک اتارنے کے بعد دوسرا منتظر طیارہ اپنے باقی سامان کے ساتھ جنوبی انڈیا کے دو شہروں کے لیے روانہ ہوا۔

ان طیاروں کو ان کے آگے لگے پنکھوں کو ہاتھ سے گھما کر سٹارٹ کیا جاتا تھا۔ سمت کی نشاندہی کرنے یا لینڈنگ کروانے کی لیے کوئی آلات نہیں تھے اور نہ ہی ریڈیو کمیونیکیشن تھا۔

یہ جہاز روزانہ ممبئی کے ایک ساحل کے قریب مٹی کی ہموار سطح والے میدان سے اڑا کرتے تھے اور ٹاٹا نے بعد میں اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جہاں سمندر اس سے نیچے تھا جسے ہم ائر فیلڈ کہا کرتے تھے اور مون سون میں سمندر کی اونچی لہر کے دوران ٹیک آف اور لینڈنگ کی جگہ زیرِ آب ہوا کرتی تھی۔‘

جب وہ جگہ مکمل طور پر زیرِ آب آ گئی تو ایئر لائن کے دو جہازوں، تین پائلٹس اور تین مکینِکس کو وہاں سے 150 کلومیٹر جنوب میں پونے شہر کی ایک چھوٹی سی ایئر فیلڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

اس زمانے میں خطے کے چیف سول ایوی ایشن سر فریڈرک ٹِمز نے 1934 میں ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دنیا میں شاید ہی کہیں حکومت کی مدد کے بغیر کوئی فضائی سروس چل رہی ہو۔ یہ صرف آپریٹر کو مالی خسارے کے خطرے میں ڈال کر کیا جا سکتا تھا اور ٹاٹا اینڈ سنز یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھے۔‘

آنے والے سالوں میں یہ ڈاک سروس دوسرے شہروں تک پھیل گئی اور ان میں ایک مسافر کو بھی جگہ دی جانے لگی۔ سنہ 1937 میں ٹاٹا کے دو طیاروں نے دلی اور بمبئی کے درمیان ایک سروس شروع کی۔

ہر طیارے میں 3500 خط اور ایک مسافر ہوا کرتا تھا۔ ائیر لائن شروع کرنے کے چھ سال کے اندر ہی ایئرلائن کے پاس 15 طیارے، 15 پائلٹ، اور تین درجن انجینیئر تھے۔ ایئرلائن نے 99.4 فیصد سے زیادہ وقت کی پابندی کا دعویٰ بھی کیا۔

ٹاٹا کے سوانح نگار روسی ایم لالہ نے لکھا ’ٹاٹا کے پائلٹوں کو ان کے پیچھے والی سیٹ پر انسانی سواری کے عادی ہونے میں کچھ وقت لگا۔ ایک دن ایک پائلٹ نے مرغی کی ایک ٹانگ کھائی اور ہڈی کو کاک پٹ سے باہر پھینک دیا جو ہوا سے واپس مسافر کی گود میں آ گری۔‘

ٹاٹا خود ہوابازی کے نہایت شوقین تھے اور اُنھوں نے 25 سال کی عمر میں اکیلے ہی ایک طیارہ اڑایا تھا۔

وہ ہمیشہ ایک عالمی سطح کی ایئر لائن بنانا چاہتے تھے۔ سنہ 1940 کی دہائی کے اوائل میں اُنھوں نے آنے والے وقت میں ‘ہوائی دور’ کے بارے میں واضح طور پر بات کی کہ کس طرح ’ہوائی سفر ریلوے اور سٹیمر کی سہولیات کی طرح وسیع پیمانے پر عام اور دستیاب ہو جائے گا۔‘

سنہ 1946 تک انڈیا میں ہر تین مسافروں میں سے ایک ٹاٹا کی نئی نویلی ایئر لائن میں سفر کر رہا تھا اور یہ کمپنی ملک میں کام کرنے والے تقریباً 50 طیاروں میں سے نصف کی مالک تھی۔

دو سال بعد ایئر انڈیا انٹرنیشنل ہو گئی اور ایک بالکل نیا لاک ہیڈ کنسٹلیشن طیارہ جس کا نام مالابار پرنسز رکھا گیا تھا، بمبئی سے لندن کے لیے روانہ ہوا۔

ٹاٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ ایشیائی ایئرلائن کی پہلی پرواز تھی جو مشرق اور مغرب کو باقاعدہ سروس کے ذریعے جوڑتی تھی۔‘

اس سال کے آخر تک ایئر انڈیا منافع کمانے لگی تھی۔

چین کی سرحد کے قریب انڈین ایئر فورس کا طیارہ لاپتہ

کیا انڈیا اسرائیل سے ’آواکس‘ نظام خرید کر چین کے خلاف استعمال کرے گا؟

ایئر انڈیا نے تیزی سے دنیا بھر میں شہرت اور برانڈ کا درجہ حاصل کیا۔ سنہ 1968 تک اس کے 75 فیصد مسافر بیرونی ممالک سے آتے تھے۔

برطانوی گلوکار جارج ہیریسن اور امریکی راک بینڈ دی ڈورز نے بھی اس ایئرلائن میں سفر کیا تھا جبکہ ہسپانوی آرٹسٹ سیلواڈور ڈیلی نے بھی ایک خصوصی ایش ٹرے ڈیزائن کر کے ایئرلائن کو تحفے میں دیا تھا۔

اپنے کاروبار پر کڑا کنٹرول رکھنے والے بزنس مین کے طور پر ٹاٹا کو پروازوں کے دوران ملنے والی سروس کا بہت خیال رہتا تھا۔

ایک بار انھوں نے فلائٹ میں ملنے والی چائے کے رنگ پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ رنگ کافی کے رنگ جیسا ہے۔

وہ کیبن اٹینڈنٹس کو ڈیوٹی کے دوران گیلی میں سگریٹ نوشی سے روکا کرتے تھے۔

ایک بار انھوں نے شکایت کی کہ فرسٹ کلاس کے ناشتے میں ملنے والا بیکن اور ٹماٹر ‘بہت ٹھنڈے’ ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے اپنے عملے کو نامناسب طریقے سے تیار ہونے کی وجہ سے بھی ٹوکا۔ سنہ 1951 میں اُنھوں نے اپنے ایک مینیجر کو نوٹ میں لکھا کہ ’ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ عجیب، مضحکہ خیز اور پرکشش ہونے کے درمیان لکیر کہاں کھینچنی ہے۔ کسی کی قلمیں شرٹ کے کالر تک پہنچ رہی ہیں تو کسی کی مونچھیں بے تحاشا نیچے تک لٹک رہی ہیں، تو کسی ائیر ہوسٹس کا جُوڑا اس کے سر سے بھی بڑا ہے۔ برائے مہربانی میک اپ اور ظاہری حلیے پر خصوصی توجہ دیں۔‘

جون 1953 میں ایئر انڈیا کو حکومت نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ انڈیا کی ہوا بازی کی صنعت مشکل میں تھی۔ منافع کم ہو رہا تھا، بہت سارے ہوائی جہاز خرید لیے گئے تھے اور کم از کم دو ایئر لائنز بند ہو چکی تھیں۔

حکومت نے تقریباً ایک درجن ایئرلائنز کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ صرف ایئر انڈیا واحد مضبوط ائیر لائن تھی جو اپنا تشخص برقرار رکھ سکی۔ ٹاٹا کے اس بارے میں ملے جلے جذبات تھے۔

اگلی تین دہائیوں تک ایئر انڈیا کامیاب ہوتی رہی۔ ایئرلائن کی نشانی چھوٹے قد کا مہاراجہ انڈیا کی سب سے زیادہ مانوس علامتوں میں سے ایک بن گیا۔ اشتہاری پوسٹرز میں کبھی یہ برطانوی تو کبھی فرانسیسی انداز میں ڈھلتا دکھائی دیا۔

طیاروں کے نام شاہی شخصیات اور ہمالیہ کی چوٹیوں کے نام پر رکھے گئے۔ ایئر انڈیا کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور کتاب دی ڈیسینٹ آف ایئر انڈیا کے مصنف جتیندر بھارگئو کا کہنا ہے کہ 1970 کی دہائی تک ایئر انڈیا کے 54 ممالک میں 10 ہزار ملازم تھے۔

یہاں تک کہ 1980 کی دہائی میں بھی یہ ایک برانڈ تھی جس کا شمار دنیا کی بڑی ایئر لائنز میں کیا جاتا تھا۔ یہ اس وقت چند انڈین کمپنیوں میں سے ایک تھی جو عالمی سطح پر اپنی پہچان رکھتی تھیں۔ اس میں گلیمر اور جوش و خروش تھا۔‘

نوّے کی دہائی سے حالات بگڑنے لگے۔ مقابلہ سخت ہو گیا تھا۔ ایئر انڈیا کا خسارہ بڑھنے لگا اور 2007 میں ملکی سطح پر چلنے والی سرکاری ایئرلائن کے اس میں انضمام کے بعد اس نے فعال رہنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر انحصار کرنا شروع کر دیا اور یہ مذاق کا موضوع بن گیا۔

اس ایئرلائن کو ایک دن میں تقریباً 26 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا اور اس پر 8 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کا بوجھ تھا۔ ایئرلائن کے پاس اب بھی کچھ بہترین پائلٹ تھے لیکن اس کی وقت کی پابندی اور سروس خراب ہوگئی۔

اب ایئر انڈیا انڈیا کے سب سے بڑے کاروباری گروپ ٹاٹا گروپ میں واپس آگیا ہے۔ ایک جذباتی نوٹ میں جہانگیر رتنجی دادابھائی (جے آر ڈی) ٹاٹا کے کزن رتن ٹاٹا نے کہا کہ جے آر ڈی کے تحت ایئرلائن نے ’دنیا کی سب سے معزز ایئر لائنز میں سے ایک ہونے کی شہرت حاصل کی تھی۔‘

اُنھوں نے کہا ’ٹاٹا کو اس کی وہ ساکھ اور تشخص بحال کرنے کا موقع ملے گا جو اسے گزرے سالوں میں حاصل تھی۔‘

سو اپنی سیٹ بیلٹس باندھ لیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments