ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ’محسن پاکستان‘ کہلائے جانے والے جوہری سائنسدان جنھیں حکومت نے غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے الزام میں نظر بند کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


قدیر

Getty Images

27 مئی 1998 کی دوپہر میں مقامی انگریزی اخبار کے دفتر میں کام میں مصروف تھا کہ ایک صحافی سکندر حیات کا فون آیا۔ انھوں نے پوچھا ’عمر، ڈاکٹر خان (ڈاکٹر عبد القدیر خان) نے آج شام مجھے اپنے گھر چائے پر مدعو کیا ہے۔ کیا آپ میرے ساتھ جانا چاہیں گے؟‘

یقیناً میرا جواب ‘ہاں’ میں تھا کیونکہ انڈیا کی جانب سے جوہری دھماکے کرنے کے بعد اس معاملے پر میرے اخبار کے ایڈیٹر پہلے ہی مجھ سے تقاضا کر رہے تھے کہ میں اس معاملے پر انھیں کوئی ‘ایکسکلوسِو’ (خاص) خبر لا کر دوں۔ سکندر صاحب نے یہ بتانے کے بعد کہ وہ کس وقت مجھے میرے دفتر سے لیں گے، فون رکھ دیا۔

کچھ دیر ہی گزری تھی کہ مجھے آرمی کے ایک میجر کا فون آیا۔ انھوں نے اپنا تعارف ڈاکٹر خان کے سکیورٹی افسر کے طور پر کروایا۔ سکیورٹی افسر تصدیق چاہتا تھا کہ کیا اس شام میں ڈاکٹر خان کے گھر آرہا ہوں۔

اس شام ڈاکٹر خان بہت اداس تھے۔ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہمیشہ پاکستان کو محفوظ بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ یہ انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔‘

ڈاکٹر خان نے طویل نیم جذباتی تقریر کی جسے سمجھنے کے لیے جوہری محاذ پر ملک میں ہونے والی حالیہ پیش ہائے رفت کے تناظر سے آگاہی ضروری تھی۔

ڈاکٹر خان کو جوہری دھماکے کے لیے ہونے والی تیاری و انتظامات سے الگ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان یہ دھماکے انڈیا کی طرف سے چند ہفتے قبل کیے جانے والے جوہری دھماکوں کے جواب میں کرنے جارہا تھا۔

پاکستان کی طرف سے جاری ان تیاریوں کی نگرانی ‘اٹامک انرجی کمیشن’ (پاکستان کا جوہری امور سے متعلق ادارہ) اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کر رہے تھے۔ ڈاکٹر ثمر کی قومی میڈیا میں شہرت ڈاکٹر خان کی مقبولیت کے مد مقابل آ گئی تھی۔

پرسکون انداز اور حلیم لہجے میں انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’ہمارے پاس بم پہلے ہی موجود ہے، عملی تجربہ کریں یا نہ کریں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ 1990 کے وسط میں ہم اپنے بم کے کمپیوٹر پر تجربات کر چکے ہیں۔ ہمارے بموں کے ‘وائبریشن ٹیسٹ’ (لہریں پیدا کرنے والے تجربات) پہلے ہی ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ہمارے پاس بم موجود ہیں اور ہمارا دشمن یہ بات پہلے ہی جانتا ہے۔‘

عبدالقدیر

Getty Images

ملاقات کے بعد کے حصے میں ڈاکٹر خان تھوڑے جارحانہ نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نوازشریف اس خدشے کے پیش نظر پہلے ہی غوری میزائل نصب کرنے کا حکم دے چکے ہیں کہ ہمارا دشمن مہم جوئی کی کوشش کر سکتا ہے۔ میں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بارے میں بھی سنا ہے کہ فضائیہ ‘ہائی الرٹ’ ہے۔‘

اس دن کے بعد سے مجھے کئی مرتبہ ڈاکٹر خان سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا لیکن اس شام کے ملاقات کے بعد پھر کبھی میں نے انھیں اداسی کی اس حالت میں نہ پایا۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جوہری پروگرام کے بانی سمجھے جانے والے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد میں 85 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں، وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔

’جوہری پروگرام سے منسلک واحد سویلین تھے جن کی قومی میڈیا میں متحرک لابی تھی‘

ڈاکٹر خان میڈیا کے سامنے بڑی مہارت سے اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کے مزاح کا بے ساختہ انداز بے ذوق صحافیوں کو بھی ان کا مداح اور گرویدہ بنا دیتا تھا۔

27 مئی 1998 کی اس شام میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جوہری دھماکوں کے عملی تجربے کے اس تاریخی موقع پر بٹن دبانے کا موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔

ڈاکٹر خان کا نام دراصل جوہری پروگرام کے ساتھ کچھ اس طرح منسلک ہو چکا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کا نام آتے ہی ایک نام ذہن میں آتا تھا اور وہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھا۔

اسی لیے جب انھیں دشمن ملک کے دھماکوں کے جواب میں جوہری تجربات کی تیاریوں کی ذمہ داری اپنے حریف ادارے کو سونپنے کی خبر ملی ہو گی تو ڈاکٹر خان نے ملک کی سلامتی کے انتظام و انصرام کے ذمہ داروں کے بے حس رویے کو ضرور محسوس کیا ہو گا۔

ملک کی سلامتی کے نظام میں امور انجام دینے والے غالباً وہ واحد سویلین تھے جن کی قومی میڈیا میں ایک متحرک اور موثر لابی تھی۔ عامل صحافی ان کے جاں نثار حامیوں میں شامل تھے۔

اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ صحافی اور میڈیا مالکان (جن میں الیکڑانک میڈیا کے اس وقت کے انقلابی بھی شامل تھے) ان کی حمایت میں نہ صرف لابی بلکہ معذرت خواہی بھی کرتے تھے۔

جب صدر مشرف کی حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کا الزام لگایا

قدیر

Getty Images

ان حامیوں اور ساتھیوں کے علاوہ آرمی کے افسران کی بڑی تعداد، سیاسی کارکنان، دانشور اور میڈیا مینجرز کا بھی لامتناہی قافلہ ان کے لیے کلمہ خیر کہنے والوں پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ خاموشی سے ان کی حمایت میں الفاظ کے پھول بکھیرتے جاتے اور جب بھی جوہری ہتھیاروں کی بات یا بحث چھڑتی تو وہ ان کی پر زور وکالت کرتے۔

صدر مشرف کی حکومت کو ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری صلاحیت کی منتقلی میں ڈاکٹر خان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی خبریں شائع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے منتخب کردہ چند صحافیوں کے ایک گروپ کو بلایا اور انھیں ڈاکٹر خان کی غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

میں اس زمانے میں ایک نیوز چینل کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس بریفنگ کے بعد جب ہم باہر آئے تو میرے ڈائریکٹر نیوز کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی جانب سے ڈاکٹر خان کی گرفتاری کی تصدیق کے بغیر ‘بریکنگ نیوز’ چلانے پر آمادہ نہیں تھے۔

دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام میں ڈاکٹر خان کو 31 جنوری 2004 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ چار فروری کو پاکستان ٹیلی ویڑن پر انھوں نے ایک بیان پڑھا جس میں انھوں نے ان کارروائیوں کی تمام ذمہ داری قبول کر لی تھی جبکہ فوج اور حکومت کو بری الزمہ قرار دے دیا تھا۔

یہ وہ دعویٰ تھا جو بہت سارے جوہری ماہرین تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ اگلے دن صدر پرویز مشرف نے انھیں معافی دے دی لیکن 2009 تک انھیں ان کے گھر میں نظربند رکھا گیا۔

ڈاکٹر خان کے بالخصوص مغربی ناقدین نے ایک ایسے شخص کے ساتھ حکومتی نرم رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا جو ’دنیا میں جوہری پھیلاؤ کا سب سے بڑا کردار‘ بن کر سامنے آیا تھا۔

بہت سارے پاکستانیوں کے لیے ڈاکٹر خان قومی عزت و وقار کی علامت تھے۔ انھیں ہیرو تصور کیا جاتا تھا جنھوں نے انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنایا تھا۔

پاکستان میں اگر جوہری پروگرام کے ساتھ ڈاکٹر خان کا نام جڑا ہوا ہے تو مغربی ممالک میں ان کا نام ’جوہری پھیلاؤ‘ سے منسلک ہے۔ مغربی ماہرین کے الفاظ میں ڈاکٹر خان نے اپنی زندگی کا سفر ’جوہری پھیلاؤ کرنے والے کے طور پر شروع کیا اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا اختتام بھی ان کی مبینہ جوہری پھیلاؤ کی سرگرمیوں پر ہی ہوا۔‘

جب ذوالقفار علی بھٹو نے عبدالقدیر خان کو پاکستان واپس آنے کو کہا

عبدالقدیر

Getty Images

1972 کی بہار میں ڈاکٹر خان نے ‘فزیکل ڈائینامکس ریسرچ لیبارٹری’ میں یورینکو(URENCO) کی ڈچ شراکت دار ذیلی ٹھیکدار کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ برطانیہ، جرمنی اور ڈچ (ہالینڈ) کی کمپنیوں کے اشتراک سے یورینکو(URENCO) وجود میں آئی تھی جسے 1971 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ ‘سینٹری فیوجز’ (مختلف اجزا کو الگ کرنے کے عمل) کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی تیاری اور تحقیق ممکن ہو۔

یہ ‘سینٹری فیوجز’ انتہائی تیز رفتار سے کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر خان کو نچلی سطح کی سکیورٹی کلیئرنس دی گئی لیکن نگرانی کے کمزور عمل کی وجہ سے انھیں ‘سینٹری فیوج ٹیکنالوجی’ کی مکمل معلومات تک رسائی حاصل ہو گئی۔

انھوں نے ‘ایل میلو’ (مشرقی ہالینڈ کا شہر) میں قائم ڈچ پلانٹ کا متعدد مرتبہ دورہ کیا۔ ان کی ایک ذمہ داری جدید ترین سینٹری فیوجز سے متعلق جرمن دستاویزات کا ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا بھی شامل تھا۔

17 ستمبر 1974 کو ڈاکٹر خان نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا جس میں انھوں نے ایٹم بم بنانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کیں۔ اس خط میں ان کی رائے تھی کہ سینٹری فیوجز کو استعمال کر کے جوہری بم بنانے کا راستہ پلوٹونیم (جس سے پاکستان پہلے ہی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا) کے ذریعے بم بنانے سے بہتر ہے کیونکہ اس میں ‘جوہری ری ایکٹرز’ اور ‘ری پراسیسنگ’ ہوتی ہے۔

اگست 2009 میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ڈاکٹر خان نے بتایا تھا کہ میں نے ستمبر 1974 میں بھٹو کو خط لکھا کہ میرے پاس مطلوبہ مہارت ہے۔ بھٹو کا جواب بہت حوصلہ افزا تھا، دو ہفتوں بعد انھوں نے مجھے جوابی خط لکھا جس میں مجھے پاکستان واپس آنے کے لیے کہا۔

ان کے مطابق ’دسمبر 1974 میں پاکستان واپسی پر میں بھٹو سے ملا۔ میں نے ٹیکنالوجی کے بارے میں منیر احمد خان اور ان کی ٹیم کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہالینڈ واپسی سے قبل ان سے ‘انفراسٹرکچر’ کی تیاری کے لیے کہا۔‘

’1975 میں دوبارہ میں پاکستان واپس آیا۔ میں ہر سال کراچی میں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے آتا تھا۔ 1975 میں بھٹو نے مجھے ‘سائٹ’ (متعلقہ جگہ) کا معائنہ کرنے کے لیے کہا تاکہ دیکھ سکوں کہ کوئی پیش رفت ہوئی یا نہیں۔ میں نے بھٹو سے کہا کہ مجھے ہالینڈ واپس جانا ہے؛ تاہم ان کا اسرار تھا کہ میں واپس نہیں جاسکتا اور مجھے یہاں رہنا ہوگا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے بھٹو کو بتایا کہ وہاں (ہالینڈ میں) میری نوکری ہے اور مجھے واپس جانا ہو گا۔ میں مقامی سائنسدانوں کی سمت کی جانب رہنمائی کر سکتا ہوں۔ میری صاحبزادیاں ہالینڈ میں زیر تعلیم ہیں اور میری اہلیہ نے اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنا ہے۔‘

’میں نے بھٹو سے کہا کہ مجھے سوچنے کا کچھ وقت دیں اور مجھے اپنی اہلیہ سے مشورہ کرنے دیں۔ جب میں نے اپنی اہلیہ سے بات کی کہ ہم ہالینڈ واپس نہیں جائیں گے تو وہ حیران اورپریشان ہو گئیں اور اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔

’میرے جھوٹ نہ بولنے کی ‘ساکھ’ کی بنا پر کچھ دیرتوقف کرنے کے بعد انھوں (اہلیہ) نے محسوس کیا کہ میں اپنے ملک کے لیے کچھ کر سکتا ہوں۔‘

’میرے سوا پاکستان کے لیے یہ کام کوئی نہیں کر سکتا‘

عبدالقدیر

Getty Images

’میں نے اہلیہ سے کہا کہ میں بلند و بانگ دعوؤں سے بچتے ہوئے یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میرے سوا پاکستان کے لیے یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اس طرح اُن کا ذہن بدل گیا اور انھوں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔‘

دسمبر 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو ڈاکٹر خان سے ملے اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ جوہری بم کے حصول کے لیے وہ پاکستان کی جس حد تک مدد کر سکتے ہیں کریں۔ اگلے سال ڈاکٹر خان نے مبینہ طور پر سینٹری فیوجز کی ‘ڈرائنگز’ (نقشے یا خاکے) چرائیں اور بنیادی طورپر مغربی سپلائرز کی فہرست تیار کی جو اس کام کے لیے پرزہ جات فراہم کر سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان وفات پا گئے

کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ’دھمکی‘ نے 1987 میں پاکستان، انڈیا جنگ ٹالی تھی؟

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی

’شمالی کوریا کی ٹیکنالوجی پاکستان سے بہت بہتر ہے‘

15 دسمبر1975 کو ڈاکٹر خان نیدرلینڈز (ہالینڈ) سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور دو صاحبزادیاں بھی تھیں۔ اس سفر میں وہ مبینہ طور پر اپنے ہمراہ ‘بلیوپرنٹ’ (نقشے یا خاکے) اور پرزے فراہم کرنے والوں کی فہرست پاکستان لا رہے تھے۔

ابتدا میں ڈاکٹر خان نے پاکستان اٹامک انرجی کمشن (پی اے ای سی) کے ساتھ کام کیا لیکن ادارے کے سربراہ منیر احمد خان سے ان کے اختلافات ہو گئے۔

1976 کے وسط میں ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر ڈاکٹر خان نے ‘انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری’ (ای آر ایل) قائم کی تاکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جائے۔ مئی 1981 میں اس لیبارٹری کا نام ‘خان ریسرچ لیبارٹری’ یا ‘کے آر ایل’ رکھ دیا گیا جس کا مرکز کہوٹہ میں تھا۔

ڈاکٹر خان نے جرمن نمونے کے مطابق سینٹری فیوج کا ابتدائی نمونہ تیار کیا اور ضروری اجزا کی درآمد کے لیے پرزے فراہم کرنے والوں کی فہرست استعمال کی۔ پرزے فراہم کرنے والوں میں دیگر کے علاوہ سوئس، ڈچ، برطانوی اور جرمن کمپنیاں شامل تھیں۔

انڈیا سے ہجرت کی کہانیاں سنانے کے شوقین

عبدالقدیر

Getty Images

ڈاکٹر خان انڈیا سے ہجرت کرنے اور قیام پاکستان میں اپنے کلیدی کردار کے بارے میں کہانیاں سنانے کے بہت شوقین تھے۔ آخری مرتبہ جب میں نے ان کا انٹرویو کیا تو انھوں نے اپنی انڈین صحافی سے اس بحث کے بارے میں بتایا جس میں انھوں نے اپنے سٹرٹیجک اور سیاسی تصورات کی تشکیل میں اپنی مسلمان ہونے کی شناخت کے اہم کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔

1947 میں ڈاکٹر خان کے بچپن میں انڈیا اور برصغیر کے مشرق و مغرب کے مسلمان علاقوں پر مشتمل پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ڈاکٹر خان 1952 میں مغربی پاکستان آ گئے اور 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے ‘میٹالرجی’ (دھاتوں کے علم) میں سند حاصل کی۔

اگلی دہائی میں انھوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی۔ پہلے وہ مغربی برلن گئے اور پھر نیدرلینڈز کے شہر ڈیلفٹ میں زیر تعلیم رہے جہاں 1967 میں انھوں نے ‘میٹالرجی’ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

1972 میں انھوں نے بیلجئیم میں ‘میٹالرجیکل انجینئیرنگ’ میں ‘لووَن’ کی کیتھولک یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا۔ اس دوران 1964 میں انھوں نے ایک برطانوی خاتون ‘ہیندرینا ریترینک’ سے شادی کرلی جو ڈچ نژاد والدین کے ہاں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئیں اور شمالی روڈیشیا (موجودہ زیمبیا) میں پلی بڑھی تھیں پھر نیدرلینڈز آگئیں۔

انڈیا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یا پھر کسی انڈین صحافی سے بات چیت کے دوران ڈاکٹر خان جارحانہ انداز اختیار کرلیتے تھے۔ وہ کئی مرتبہ انڈیا کے خلاف جوہری دھمکی استعمال کرنے کے لیے پاکستانی فوج اور سکیورٹی کے ذمہ داران کو اکسانے پر بھی اتر آتے تھے۔

اکثر وبیشتر ان کی شعلہ بیانی اخبارات کی شہہ سرخیوں کی زینت بن جاتی تھی۔ ان کے انٹرویوز میں سے ایک میں ڈاکٹر اے کیو خان نے وضاحت کے ساتھ ان دنوں کی یادداشت دہرائی تھی جب انڈیا کی دس لاکھ سے زائد فوج اور 1300 ٹینک پاکستان کے صوبہ سندھ کی سرحد پر جمع ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ ’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے کے اس دن کیا ہوا تھا جب مشاہد حسین چائے پرغیر رسمی گپ شپ کے لیے انڈین صحافی کو میرے گھر لائے تھے۔‘

انڈین صحافی کا انٹرویو جو دھمکی کے طور پر سمجھا گیا

انڈین صحافی کلدیپ نایر کے ساتھ ہونے والے اپنے مکالمے کے بارے میں ڈاکٹر خان نے مجھے بتایا تھا۔ اسی گفتگو کے نتیجے میں سینیئر انڈین صحافی کلدیپ نایر نے وہ مشہور خبر لکھی تھی جس کی بنیاد پر انڈیا کی ‘براس ٹیک’ کے نام سے فوجی مشقوں کے نتیجے میں ہونے والی کشیدہ صورتحال میں اسے پاکستان کی طرف سے جوہری دھمکی سمجھا گیا تھا۔

28 جنوری 1987 کی دوپہر کا آخری پہر تھا جب پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر اے کیو خان اسلام آباد کے ‘ای۔7’سیکٹر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اہلیہ کے ہمراہ اکیلے تھے۔ ان کا ملازم چھٹی پر تھا۔ اچانک گھنٹی بجی اور گھر کے سکیورٹی افسر نے آ کر ڈاکٹر خان کو آگاہ کیا کہ چند بن بلائے مہمان آئے ہیں۔

محافظ نے مزید تفصیل بیان کی کہ آنے والوں میں سے ایک پاکستان کے ممتاز صحافی مشاہد حسین ہیں۔ ڈاکٹر خان نے محافظ افسر کو مخاطب کرکے انھیں اندر لانے اور مہمانوں کے کمرے میں بٹھانے کی ہدایت کی۔

ڈاکٹر خان جب انھیں ملنے آئے تو مشاہد حسین کے ساتھ آنے والے دوسرے مہمان کو کلدیپ نایر کی صورت پہچان لیا جو انڈین پنجاب سے تعلق رکھتے تھے اور انڈیا کے جانے مانے صحافی تھے۔

عبدالقدیر

Getty Images

مشاہد حسین نے ڈاکٹر خان کو بتایا کہ کلدیپ نایر ان کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہیں جو اگلے ہفتے ہونے جا رہی ہے۔ چائے کے دوران تینوں کی مختلف موضوعات پر گپ شپ ہوئی جس میں پاکستان اور انڈیا کے تعلقات سے لے کر انڈین تاریخ اور ہندومسلم تعلقات سب شامل تھے۔

آخر میں گفتگو کا رخ پاکستان کے جوہری پروگرام کی طرف مڑ گیا جو ڈاکٹر اے کیو خان کی نگرانی میں حال ہی میں شروع ہوا تھا۔

ڈاکٹر اے کیو خان نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انھیں اس ملاقات کی تمام تفصیل اچھی طرح سے یاد ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’مشاہد حسین کی شادی ہو رہی ہے اور کلدیپ نایر اس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ ہوائی اڈے سے مشاہد حسین چائے کے کپ پر گپ شپ کے لیے انہیں سیدھا میرے گھر لے آئے۔ میرے گھر میں ملازم نہیں تھے، اس لیے میری اہلیہ نے ہی ہمارے لئے چائے بنائی تھی۔‘

ڈاکٹر اے کیو خان نے کلدیپ نایر کی تقسیم کے موضوع پر گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’کلدیپ نایر نے کہا کہ میں سیالکوٹ کا ہوں لیکن اب نئی دہلی میں رہتا ہوں، آپ بھوپال سے ہیں لیکن اب اسلام آباد میں رہتے ہیں۔‘ کلدیپ نایر کی دلیل تھی کہ تقسیم محض ایک سراب تھا۔

ڈاکٹر خان نے مجھے بتایا کہ انھوں نے کلدیپ نایر کے جواب میں کہا کہ ’آپ نے ابھی جو بیان کیا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔۔۔ آئیے آگے بڑھیں اور اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کریں۔‘

اس نمائندے سے گفتگو میں ڈاکٹر خان نے بتایا تھا کہ ’پھر انھوں (کلدیپ نایر) نے کہا کہ اگر آپ 10 بم بناتے ہیں تو ہم ایک سو بنائیں گے۔۔۔ اور میں نے جواب دیا تھا کہ اتنے زیادہ بم بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں طرف تین یا چار ہوں تو کافی ہیں۔‘

ڈاکٹر خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ’نایر نے اس غیر رسمی گفتگو کو ایک جعلی انٹرویو یا خبر کی صورت میں 20 ہزار پاؤنڈز کے عوض لندن آبزرور کو بیچ دیا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی انٹرویو نہیں ہوا تھا۔ یہ چائے کے کپ پر محض گپ شپ تھی۔‘

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسلام آباد میں زندگی گزاری جو پاکستان کے دارالحکومت کے کلچر کے مطابق مکمل طاقت سے بھرپور تھی اور انھوں نے اس کلچر پر اپنا بڑا گہرا نقش چھوڑا ہے جو ان کی سرپرستی کے بڑے نیٹ ورک کی صورت موجود تھا جسے وہ دارالحکومت میں چلاتے رہے۔

جوہری بیانیے پر ڈاکٹر خان کی اجارہ داری کا سقوط

عبدالقدیر

Getty Images

مئی 1998 کے جوہری دھماکے کرنے کے حق کو حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر خان نے اسلام آباد کی بیوروکریسی کے پورے نظام کے اندر جنگ لڑی۔ ان کے مدمقابل پاکستان اٹامک انرجی کمشن کا ادارہ تھا۔

2000 میں ‘پاکستان ڈیفنس جرنل’ (پاکستان کا دفاعی مجلہ) میں شائع ہونے والی ان کی بیوروکریسی کے خلاف جنگ کی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر اے کیو خان نے مئی 1998 کے دوسرے ہفتے میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے سامنے اپنا کیس پیش کیا۔

رپورٹ کے مطابق انھوں نے زور دیا کہ ’کے آر ایل پوری طرح سے تیار ہے اور اگر ‘ڈی سی سی’ (کابینہ کی دفاعی کمیٹی) حکم دے تو دس دن کے اندر جوہری دھماکے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہ کہ کے آر ایل ہی تھا جس نے پہلی بار یورینیم افزودہ کی،اسے دھات میں بدلا، نیم دائروں میں دھات کو مشین میں ڈھالا اور اپنی قسم کے جوہری بم کی شکل دی اور پھر اپنے طور پر اس کے ‘کولڈٹیسٹ’ (کمپیوٹر پر جوہری دھماکوں کو جانچنے کا طریقہ) کئے۔‘

’یہ سب کامیابیاں ‘پی اے ای سی’ کی کسی مدد کے بغیر حاصل ہوئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ جوہری شعبے میں کے آر ایل مکمل طورپر خودمختار تھا۔ ڈاکٹر خان نے اس حد تک کہا کہ چونکہ پاکستان کے لیے جوہری شعبے میں پہلی رسائی کے آر ایل کی وجہ سے ہوئی تھی لہذا پاکستان کے پہلے جوہری دھماکوں کو انجام دینے کا اعزاز بھی اسے ہی ملنا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ادارہ مایوسی اور بددلی محسوس کرے گا۔‘

بعد ازاں جوہری دھماکوں کی تیاریوں کے انتظامات کے انچارج اور ڈاکٹر خان کے مدمقابل ابھرنے والے مرکزی کردار ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ڈاکٹر خان کا بلوچستان میں جوہری دھماکوں کے مقام چاغی پر ہونے والے انتظامات سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔‘

ڈاکٹر ثمرمبارک مند کا کہنا تھا کہ ’میں نے پہلی بار 1981 میں چاغی کا دورہ کیا تھا ۔۔۔ جب دھماکے کیے گئے تھے تو ہماری ٹیم 20 مئی کو وہاں پہنچی تھی اور 28 مئی کو علی الصبح (جوہری دھماکوں کے لیے کھودی گئی) سرنگوں کے منہ بند کر دیے گئے تھے اور جوہری دھماکے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔‘

’28 مئی کو سہہ پہر تین بجے کے قریب کا وقت جوہری دھماکے کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس وقت تقریباً دو بج کر پینتالیس منٹ کے قریب ہمارے کچھ مہمان بھی پہنچ چکے تھے جو جوہری دھماکے کا مشاہدہ کرنے آئے تھے اور ان میں سے ایک ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی تھے۔۔۔ یہ چاغی کا ان کی زندگی کا پہلا دورہ تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ پاکستان اٹامک انرجی کمشن کے چیئرمین کی دعوت پر وہاں آئے تھے اور وہ جوہری دھماکوں سے پندرہ منٹ پہلے آئے تھے۔‘

مشاہد حسین سید

AFP

’عبدالقدیر خان کو پاکستان کی سلامتی کی علامت سمجھا جاتا تھا‘

پاکستانی معاشرے میں ڈاکٹر خان کو بے مثل جوہری سائنسدان تصور کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں کسی کو ان کے ہم پلہ نہیں سمجھا جاتا، کسی اور کا ان سے کوئی موازنہ نہیں ہوسکا، وہ پاکستان کی سلامتی کی علامت اور جوہری بم کے خالق و بانی سمجھے جاتے ہیں۔

بعدازاں جب امن کے حامی کارکن ڈاکٹر خان کا تعارف سائنسدان کے بجائے دھاتوں کے ماہر کے طور پر کرانے لگے تو ڈاکٹر خان کے حامیوں نے پاکستانی بم کے لیے افزودہ مواد کی تیاری میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا شروع کر دیا۔

انتہائی زیادہ اور اعلی معیار کی افژودہ یورینیم کی تیاری ان مشینوں کی مدد سے خان ریسرچ لیبارٹری میں کی گئی جو ڈاکٹر خان نے جرمنی سے لائی جانے والی ٹیکنالوجی اور تکنیکی معلومات کی مدد سے تیار کی تھیں۔ یہ جزو پاکستانی اور مغربی بیانیہ میں یکساں ہے کہ (پاکستانی بیانیے کے مطابق) یہ ٹیکنالوجی اور تکنیکی معلومات ‘امپورٹڈ’ ہیں یا (مغربی بیانیے کے مطابق) مغربی جوہری لیبارٹریوں سے چوری کردہ ہیں۔

’پاکستان کے جوہری ہتھیار‘ کے عنوان سے یکم اگست 2016 کو ’امریکی کانگریس ریسرچ سروس‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ’پاکستان کے سابق جوہری سائنسدان ڈاکٹر اے کیو خان اس کے حصول کا ذریعہ بنے اور نتیجتاً یورینیم افزودگی سے متعلق ڈیزائن اور مواد کی لیبیا، شمالی کوریا اور ایران کو فراہمی کے لیے اسی طرح کا نیٹ ورک استعمال کیا۔‘

پاکستانی بیانیے کی کہانی میں یہ بات پاکستانی جوہری دھماکوں کے وقت سے شامل ہونا شروع ہوئی کہ ڈاکٹر خان کبھی بھی جوہری بم کے ڈیزائن سے منسلک نہیں رہے بلکہ ان کی کاوشیں انتہائی اعلیٰ معیار کی افزودہ یورینیم کے مواد کی تیاری تک محدود تھیں۔

یہ ہی وہ وقت تھا جب ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ جوہری دھماکوں کے ڈیزائن کے کولڈ ٹیسٹ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ان کی نگرانی میں 1980 کے وسط میں کیے تھے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بیانیے کو اسی طرح کی کہانیوں کے طور پر پیش کیا۔

پاکستان ڈیفنس جرنل کی بہار 2000 میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ’پی اے ای سی اور کے آر ایل نے یکساں طورپر ہدف کو طے کیا تاہم پی اے ای سی کو دو اضافی امتیاز حاصل تھے جو کے آر ایل کو نہیں تھے۔ اول، یہ پی اے ای سی ہی تھا جس نے چاغی میں پاکستان کے جوہری دھماکوں کے مقام کو تیار کیا تھا۔‘

’دوم، پی اے ای سی کو کے آر ایل کے مقابلے میں کولڈ ٹیسٹ کرنے کا زیادہ تجربہ تھا۔‘

یہ پاکستانی معاشرے میں جوہری بیانیے پر ڈاکٹر خان کی اجارہ داری کے اختتام کا آغاز تھا۔ یہ اجارہ داری پہلے ہی امن کے حامی کارکنوں کی طرف سے حملے کی زد میں تھی۔ لیکن اب ریاستی مشینری کے اندر سے آوازیں اس بیانیے پر ڈاکٹر خان کے مکمل کنٹرول پر سوالات اٹھا رہی تھیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21130 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments