انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والے پنڈت ڈاکٹر کے بیٹے کا رد عمل: ’تعزیت کے لیے آنے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، مجھے نہیں لگتا ہمارے پاس وطن چھوڑنے کی کوئی وجہ ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر
Getty Images
’ہمارے والد عوام دوست تھے اور لوگوں نے مذہبی تفریق کے بغیر اُن کی عزت کی ہے۔ میرے گھر پر تعزیت کے لیے آنے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے پاس وطن چھوڑنے کی کوئی وجہ ہے۔‘

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں چند روز کے دوران کئی غیر مسلم شہریوں کی ہلاکت کے بعد ایک طرف اگر وادی میں تشدد میں اضافے کا خدشے کا اظہار کیا جا رہا تو دوسری طرف ان حملوں میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر بندرو کے بیٹے کا یہ رد عمل سامنے آیا ہے۔

گذشتہ ہفتے وادیِ کشمیر میں ایک معروف ڈاکٹر سدھارتھ بِندرو ایک ریستوران کی طرف جارہے تھے کہ اُن کے پالی کلِنِک سے فون آیا جس پر بتایا گیا: ’’پاپا نہیں رہے‘۔ سدھارتھ کے والد مکھن لعل بِندرو کو نامعلوم مسلح افراد نے اُن کے پالی کلِنِک میں 5 اکتوبر کی شام کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اس واقعے کے فوراً بعد مسلح افراد نے انڈین ریاست بہار کے رہنے والے ایک چھاپڑی فروش ویرنیدر پاسوان اور بانڈی پورہ میں ایک مقامی مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کو بھی نزدیک سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

بِندرو خاندان کشمیری پنڈت کہلانے والے اُن 800 سے زیادہ کشمیری بولنے والے ہندو خاندانوں میں سے ہے جو دیگر کشمیری پنڈتوں کی طرح شورش اور جان لیوا حملوں کے باعث وادی چھوڑ کر انڈیا کے مختلف شہروں میں نہیں گئے۔

ڈاکٹر سِدھارتھ بندرو بھی اپنے ہی والد کے پالی کلِنِک میں مریضوں کا علاج کرتے ہیں تاہم اُس دن اُن کی چھٹی تھی۔ ان کا کہنا تھا ’پاپا کو چِکن شوارما بہت پسند ہے، انھوں نے دن میں فون کیا اور کہا شام کو شوارما لیتے آنا، میں شوارما خریدنے جا ہی رہا تھا کہ فون آیا۔‘

بندرو خاندان کئی دہائیوں سے کشمیر میں معیاری ادویات فروخت کرنے کے لیے بے حد مقبول ہے۔ مکھن لعل بندرو کا بیٹا سدھارتھ بندرو ذیابطیس کا ماہر ڈاکٹر ہے جبکہ اُن کی بیٹی شردھا بندرو ایک فیزیوتھیرپسٹ ہیں۔

اس ہلاکت سے کشمیر میں رہنے والے پنڈتوں اور گذشتہ دس سال کے دوران حکومت ہند کے نوکری پیکیج کے تحت لوٹنے والوں میں عدم تحفظ کی لہر پھیل گئی۔ غیرمہاجر پنڈتوں کی انجمن کے سربراہ سنجے تِکو کا کہنا ہے کہ محفوظ کیمپوں میں حالیہ برسوں کے دوران لوٹ کر آنے والے کئی پنڈت گھرانے اس واقعے کے بعد دوبارہ جموں چلے گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے گھر سے اُٹھا کر ایک ہوٹل میں محصور کرکے رکھ دیا گیا۔ جب میں گورنر آفس کو خبردار کرتا تھا کہ اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات کریں تو جواب نہیں ملتا تھا، اب یہ واقعہ ہوا تو مجھے سیکورٹی دی جارہی ہے۔‘

واضح رہے کشمیر میں اکتوبر کے پہلے ہی ہفتے میں سات عام شہریوں کو مسلح افراد نے ہلاک کردیا تھا۔ بندروں کی ہلاکت دو روز بعد مسلح افراد نے سرینگر کے سنگم علاقے میں ایک سکول میں داخل ہوکر سکھ فرقے سے تعلق رکھنے والی پرنسپل سُپندر کور اور جموں کے رہنے والے دیپک چند کو مسلمان سٹاف سے علیحدہ کر کے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

سپندر کور کے خاوند رام ریشپال سنگھ کہتے ہیں کہ وہ دو روز تک بات نہیں کرپائے۔ ’میں نے کسی سے نہیں پوچھا کہ میری بیوی کو کیسے مارا گیا، جب میں نے فون پر اُن کی لاش دیکھی تو باقی تفصیلات کا میں کیا کرتا۔‘

رام ریشپال سنگھ کے گھر پر تعزیت کرنے والوں میں مسلمانوں کی اکثریت موجود تھی، تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ واردات رونما ہوتے وقت سکول میں ایک درجن سے زیادہ مسلمان اساتذہ موجود تھے لیکن انھوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ سُپیندر کے مسلمان پڑوسیوں کو اس ہلاکت پر صدمہ ہے۔ ایک پڑوسی عبدالمجید کہتے ہیں کہ سپیندر نے ایک مسلمان یتیم لڑکی کو بھی گود لیا تھا جس کی تعلیم اور دیگر اخراجات پر وہ اپنی تنخواہ سے ماہانہ پندرہ ہزار روپے خرچ کرتی تھی۔

سدھارتھ بندرو اور سُپندر کور کی ہلاکت سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کی لہر پھیل گئی ہے۔ تاہم سکھ فرقے کے نمائندوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ وادی چھوڑ کر نہیں جائیں گے تاہم انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلتیی فرقے کے سرکاری ملازمین کی سلامتی کا بہتر انتظام کیا جائے۔

ان ہلاکتوں کے بعد سیاسی حلقوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر کی نیم خودمختاری کا خاتمہ کر کے امن اور خوشحالی کے جو وعدے کیے گئے تھے وہ سراب ثابت ہوئے۔

سابق وزرائےا علیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے ان واقعات پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ موجودہ حالات دوبارہ 1990 جیسے ہوگئے ہیں جب شہری ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ موجودہ حالات نئی دلی سے کیے جانے والے امن اور خوشحالی کے دعووں کی عیاں تردید ہیں۔

کئی حلقوں سے سلامتی کی صورتحال پر قابو کھو دینے کے الزامات کے بعد مقامی پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے وادی بھر میں تلاشیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینکڑوں ایسے کشمیریوں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے جو یا تو ماضی میں عسکریت پسند تھے یا ہندمخالف مظاہروں کی پاداش میں جیل جاچکے ہیں۔

دریں اثنا جنوبی کشمیر میں گذشتہ دو روز کے دوران کئی مسلح تصادم ہوئے جن میں اب تک چار عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے جانے والے عسکریت پسندوں میں ایک گاندربل کا رہنے والا ہے اور اُس نے بہار کے ویریندر پاسوان کو ہلاکت کرنے کے بعد شوپیان میں پناہ لی تھی۔

اس دوران پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب ایک مسلح جھڑپ میں ایک افسر سمیت پانچ فوجی مارے گئے ہیں۔

کشمیر

Getty Images

قابل ذکر ہے کہ ہلاکتوں اور مسلح تشدد میں ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب مودی حکومت کے کم از کم 70 وزرا نے باری باری جموں اور کشمیر صوبوں کا دورہ کیا اور ان دوروں کے دوران دعویٰ کیا کہ 2019 میں کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کرنے کے بعد تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگیا ہے۔

کشیدہ حالات کے دوران صرف اقلیتیں ہی پریشان نہیں ہیں۔ محمد اسلم نامی ایک شہری کے لیے 1990 کے حالات کو یاد کرنا بھی انھیں خوفزہ کردیتا ہے۔ اُن دنوں کراس فائرنگ کے واقعہ میں اپنے بھائی کو کھونے والے محمد اسلم کہتے ہیں: ’ایک صدمہ یہ تھا کہ پنڈت چلے گئے، دوسرا یہ تھا کہ پھر پوری وادی کا کریک ڈاوٴن کر کے لوگ نئی مصیبت میں پھنس گئے۔‘

غور طلب ہے کہ گذشتہ اٹھارہ سال کے دوران اقلیتی شہریوں پر حملے نہیں ہوئے تھے۔ مارچ 2000 میں نامعلوم مسلح افراد نے جنوبی کشمیر کے چھٹی سنگھ پورہ میں ایک گاؤں پر دھاوا بول کر 30 سے زیادہ سکھ شہریوں کو قتل کیا تھا۔ اسی طرح 2003 میں نامعلوم مسلح افراد نے پلوامہ کے نادی مرگ علاقے میں ایک پنڈت آبادی کو نشانہ بنا کر بیس سے زیادہ پنڈتوں کو ہلاک کیا تھا۔

تازہ واقعات سے کشمیر میں پھر ایک بار خوف اور عدم تحفظ کی لہر ہے جبکہ تلاشیوں اور گرفتاریوں نے غیریقینی کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیے انڈیا کے وزیرداخلہ امیت شاہ اگلے ہفتے کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21790 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments