خواتین کی شادی اور بچے پیدا کرنے سے متعلق بیان پر تنقید کے بعد ریاستی وزیر کی وضاحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
Getty Images
’شادی اور بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ عورت کا ہی ہونا چاہیے‘
’انڈیا کی ماڈرن خواتین کنواری رہنا چاہتی ہیں اور وہ شادی کے بعد بچے نہیں پیدا کرنا چاہتیں۔‘

ریاست کرناٹک کے صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر سدھاکر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا اور اب انھوں نے خواتین سے متعلق اپنے اس متنازعہ بیان پر وضاحت پیش کی ہے۔

انھوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ انڈیا کی حاندانی اقدار آجکل ذہنی صحت کے مسائل کا شکار لوگوں کو ان مسائل سے نکلنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ان کے اس بیان کے ایک چھوٹے سے حصے کو سامنے لا کر اس پر تنازع پیدا کیا گیا ہے جبکہ ان کی پوری تقریر 19 منٹ کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود ایک بیٹی کا باپ ہوں اور ڈاکٹر بھی ہوں اس لیے میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں کہ ذہنی صحت اور خواتین کے مسائل کتنے حساس ہوتے ہیں‘۔

وزیر کی جانب سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ ‘مغربی معاشرہ انفرادیت کو فروغ دیتا ہے جبکہ بھارتی معاشرہ اجتماعیت کے بارے میں بات کرتا ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون شامل ہوتا ہے اور خاندان سماجی ڈھانچے کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے، اس لیے انڈیا اور ایشیائی لوگ اپنے خاندان کے لوگوں کا زیادہ خیال رکھتے ہیں’۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ تقریر میں ‘نوجوانوں کی شادی نہ کرنے اور بچے پیدا کرنے سے بچنے’ کی ان کی بات سروے پر مبنی تھی۔ ان کے مطابق ’یوگو منٹ سی پی آر ملینیئل سروے‘ سے پتہ چلا ہے کہ 30 سال سے کم عمر کے لوگ شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور انیس فیصد وہ ہیں جو بچے چاہتے ہیں لیکن شادی نہیں کرنا چاہتے۔‘

تقریر میں کیا کہا گیا تھا؟

اس سے قبل اتوار کو انہوں نے کہا تھا کہ ’ماڈرن انڈین خواتین کنواری رہنا چاہتی ہیں، شادی کے بعد بچے نہیں پیدا کرنا چاہتیں اور سروگیسی کے ذریعے بچے پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ یہ ہماری سوچ میں ایک بڑی تبدیلی ہے جو اچھی نہیں ہے۔‘

وزیر نے یہ بیان دماغی صحت کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔

خواتین اپنے فیصلے خود کر رہی ہیں

خواتین کے مسائل پر کالم لکھنے والی نیشا سوزن کا کہنا تھا کہ دماغی صحت کے دن کے موقع پر ان کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ ’وہ صرف مردوں کی ذہنی صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔‘

سوزن کہتی ہیں کہ ’وزیرِ موصوف کا کہنا تھا کہ ذہنی مسائل اور دباؤ کے شکار مرد زیادہ ہیں تاہم ایسا اس لیے ہے کیونکہ عورتیں خود اپنے فیصلے لے رہی ہیں کیونکہ اگر ایک عورت اپنی سہولت کے مطابق کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ معاشرے اور مردوں کو ناگوار گزرتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: کروڑوں خواتین کام کیوں چھوڑ رہی ہیں؟

’اپنی تصویر کے ساتھ ’برائے فروخت‘ لکھا دیکھ کر میں پریشان ہو گئی‘

انڈیا: ماہواری کے دوران گھر سے بے دخل ہونے والی خواتین کے لیے ’بہتر اور محفوظ‘ جھونپڑیاں

ریپ کا ذمہ دار عورت کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟

کتنے بچے پیدا کرنے ہیں؟ فیصلہ حکومت کا ہوگا یا عورت کا

ایک مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ‘ایک رستوران میں میری ساتھ والی میز پر کچھ نوجوان بیٹھے تھے، وہ آپریشن سے بچوں کی پیدائش کی بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آجکل لڑکیاں ’سی سیکشن‘ سے بچہ اس لیے کرواتی ہیں کیونکہ وہ ان کے لیے آسان ہے’۔

سوزن کہتی ہیں کہ ‘آپریشن سے بچہ پیدا کرنا آسان نہیں مشکل ہے، جس میں عورت کی حالت بہتر ہونے میں وقت لگتا ہے تو یہ کب سے آسان ہو گیا ہے؟ تاہم یہ تاثر یا ذہینیت اپنے آپ میں تکلیف دہ ہے کہ جو چیز خواتین کے لیے آسان ہے وہ صحیح نہیں ہے۔‘

سوشل میڈیا پر بحث

وزیر سدھاکر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا۔

ٹوئٹر پر پرتیکشا سنگھ لکھتی ہیں ’خواتین کے بارے میں آپ کا بیان درست نہیں ہے۔ کوئی بھی عورت کی پاکیزگی کے معیار کو طے نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی عورت تنہا رہنا چاہتی ہے تو رہ سکتی ہے۔ آپ کی معلومات کے لیے انڈیا پہلے ہی آبادی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ یہاں کنوارہ مرد سب برداشت کرتے ہیں، لیکن کنواری لڑکی برداشت نہیں کی جا سکتی’۔

ایک اور صارف نہاریکا لکھتی ہیں ‘آخر کار خواتین نے شادی اور ماں کے آگے بھی سوچنا شروع کر دیا ہے’۔

فائل فوٹو

BBC
’ ایک خاندان میں بہو سے ساس ، سسر یا شوہر کے خاندان کی دیکھ بھال کی توقع کی جاتی ہے لیکن اسے کبھی نہیں کہا جاتا کہ وہ آپ اپنے والدین کا بھی خیال رکھے۔‘

2011 کی مردم شماری کے مطابق خواتین کی کل آبادی میں تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد گذشتہ مردم شماری کے 11.79 فیصد سے بڑھ کر 65.46 فیصد ہو گئی ہے۔

ان میں تنہا خواتین یعنی طلاق یافتہ یا شوہر سے علیحدہ ہونے والی خواتین یا جنہوں نے کبھی شادی نہیں کی ان کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور ایسی حواتین میں 35 سے 44 سال کی عمر کی خواتین کی تعداد بڑھ کر 68 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ہندی اور میتھلی ادب میں پدم شری حاصل کرنے والی مشہور مصنفہ ڈاکٹر اوشا کرن خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘معلوم نہیں کہ وزیر موصوف کونسی ماڈرن ماؤں کی بات کر رہے ہیں جو ماں نہیں بننا چاہتیں۔ زیادہ تر عورتیں ماں بننا چاہتی ہیں اور جو شادی یا بچہ نہیں چاہتیں ان کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی عورت شادی کرتی ہے تو اسے بچہ کب پیدا کرنا ہے، یہ فیصلہ اس کا ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ انڈین عورت کا شادی کرنا ضروری ہے، یہ بھی غلط ہے کیونکہ یہ ایک عورت کا فیصلہ اور اس کی خواہش ہونی چاہیے’۔

سینیٹر فار سوشل ریسرچ کی ڈائریکٹر اور حقوق نسواں کی حامی رنجنا کماری نے وزیر کے بیان کو صنفی امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کا جسم ان کا اپنا ہے اور فیصلہ بھی وہیں کریں گی کہ کیا کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ماں کے کردار کو رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ دراصل بہت محنت کا کام ہے۔ ایک ہی وقت میں، تمام ذمہ داری ایک ماں پر ڈال دی جاتی ہے کیونکہ انڈین معاشرے میں مشترکہ طور پر ماں اور باپ کا ساتھ مل کر بچے کی پرورش کرنے جیسا کوئی تصور نہیں ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’آج وزرا سروگیسی کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں کتنی بار ان کے جیسی تنظیموں نے سروگیٹ ماں کی مدد کی اپیل کی ہے، مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آیا’۔

مغرب کا راستہ

وزیر سدھاکر نے انڈین معاشرے پر مغربی ثقافت کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم مغرب کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے والدین ہمارے ساتھ رہیں’۔

نیشا سوزن کا کہنا ہے کہ ’ایک خاندان میں بہو سے ساس، سسر یا شوہر کے خاندان کی دیکھ بھال کی توقع کی جاتی ہے لیکن اسے کبھی نہیں کہا جاتا کہ وہ آپ اپنے والدین کا بھی خیال رکھے۔‘

وہ کہتی ہیں ’انڈین معاشرے میں جہاں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے پرائے گھر، روایات، رسومات اور سسرال کی دیکھ بھال کے سبق سکھائے جاتے ہیں ایسے میں اگر عورت صدیوں سے جاری خاندانی سانچے میں ڈھلنے کے علاوہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو پھر اس پر انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں۔‘

ذمہ داری کس کی؟

پنجاب یونیورسٹی میں ویمن سٹڈیز کے شعبے کی ڈاکٹر امیر سلطانہ کا کہنا ہے کہ جب بھی خواتین کے حقوق کی بات آتی ہے تو خواتین کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

ساتھ ہی وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ ’ہمیں یہ کیوں سوچنا چاہیے کہ ہر عورت شادی کرنا چاہتی ہے اور ماں بننا چاہتی ہے، مردوں کے بارے میں ایسے بیانات کبھی نہیں دیے جاتے۔‘

وہ کہتی ہیں ‘یہ عورت اور مرد کے درمیان کی لڑائی نہیں ہے، لیکن اگر کوئی مرد اکیلا رہنا چاہتا ہے یا شادی کے بعد باپ نہیں بننا چاہتا تو معاشرے کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن اگر یہی بات عورت کہتی ہے تو انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں کہ ایسا کیوں اور اسے مغربی جامہ پہنا دیا جاتا ہے’۔

ان کے مطابق ‘ہمارا معاشرہ اتنا کمزور نہیں ہے اور وزیر کو اس طرح کے بیان سے گریز کرنا چاہیے تھا’۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21123 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments