ینگ ڈاکٹرز کے مسائل: کیا اب پاکستان میں ڈاکٹر بننا ’گھاٹے کا سودا‘ بن چکا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹرز
BBC
ایک وقت تھا کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی یہ منصوبہ بندی شروع ہو جاتی تھی کہ اسے ڈاکٹر بنایا جائے یا انجینیئر۔ والدین کی اس نوعیت کی خواہشات اور اُن کا بار بار تذکرہ بچوں کے ذہن میں یہ سوچ پختہ کر دیتا تھا کہ اُن کی کامیابی کا تمام تر دارومدار ڈاکٹر یا انجینیئر بننے پر ہی ہے۔

اور وقت کے ساتھ والدین کا یہ خواب بچوں کا خواب بن جاتا اور ’بڑے ہو کر کیا بنوں گی/گے‘ کا جواب اکثر ’بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں گی‘ یا ’انجینیئر بنوں گا۔‘

مگر ایسا لگتا ہے کہ حالات نے اب کچھ پلٹا کھایا ہے اور ’ڈاکٹر‘ بننے کا خواب نہ تو بچوں اور نہ ہی ان کے والدین کو کچھ زیادہ لبھاتا ہے۔

پاکستان میں آئے روز ہی ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری رہتا ہے۔ بی بی سی نے ملک کے بعض سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے اِن ینگ ڈاکٹرز سے ملاقات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ وہ مسائل جن کا ان کے بقول ’انبار لگا ہے‘ آخر ہیں کیا؟

ڈاکٹر بننے پر خرچہ کتنا ہوا؟

ڈاکٹر حیدر عباس، پمز

BBC
ڈاکٹر حیدر عباس

ان ڈاکٹروں سے سب سے پہلے یہ بات ہوئی کہ ڈاکٹر بننے پر آخر ان کا خرچہ کتنا ہوا؟

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر حیدر عباس نے بتایا کہ ڈاکٹر بننے پر بے پناہ اخراجات آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’سرکاری میڈیکل کالجز میں یہ خرچہ کم ہے مگر پرائیویٹ کالجز میں یہ کئی گنا زیادہ ہے۔ مہینے کی فیس بھی لاکھوں میں ہے اور ہر سال گزرنے کے ساتھ یہ فیس بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔ سرکاری کالجز میں فیس کی مد میں تو بہت کم خرچ ہوتا ہے مگر کتابیں، ہاسٹلز اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں پر تو اخراجات آتے ہیں اور ایک غریب فیملی کا بچہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ ایم بی بی ایس کرے گا۔‘

ان کی اس بات سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر عادل بھی متفق ہیں۔ یہ دونوں ڈاکٹر سرکاری میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ہیں۔

ڈاکٹر عادل کہتے ہیں کہ ’ایک ڈاکٹر بنانے میں حکومت کا چالیس سے پچاس لاکھ روپے خرچ آتا ہے جبکہ خود طالب علم کو مختلف اخراجات کی مد میں سالانہ چار سے پانچ لاکھ روپے دینے پڑتے ہیں۔ ایسا سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے ہے مگر پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں یہ سالانہ دس سے بارہ لاکھ کا خرچ ہے۔‘

دوسری جانب چین سے تعلیم مکمل کرنے والی ڈاکٹر سخرا، جو اس وقت گوجرانوالہ کے ڈی کیو ہسپتال میں تعینات ہیں، کہتی ہیں کہ ان کا پچاس لاکھ روپے سے زائد خرچ ہوا۔

ڈاکٹرز کو تنخواہ کیا ملتی ہے؟

ڈاکٹر سخرا ڈی ایچ کیو ہاسپٹل گوجرانوالہ

BBC
ڈاکٹر سخرا

ڈاکٹر سخرا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’پاکستان میں پرائیویٹ یا بیرون ملک میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کے دوران تنخواہ نہیں دی جاتی۔‘

ڈاکٹر حیدر عباس کہتے ہیں کہ ’ابتدا میں سرکاری میڈیکل کالجز سے آنے والے ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب میں پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، پھر ہم نے احتجاج کیا تو یہ تنخواہ ستر ہزار کی گئی اور اب حال ہی میں ایک لاکھ کر دی گئی ہے۔‘

لیکن ڈاکٹر عادل کے مطابق یہ تنخواہ بہت کم ہے۔ ’بطور ڈاکٹر اس تنخواہ میں ہمیں اپنی روزمرہ زندگی کی ضروریات پر ہی سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ گزارہ بہت مشکل ہے اور سیونگ یا پیسے بچانے کا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

’مریض کی جان چلی جائے تو الزام ڈاکٹر پر لگایا جاتا ہے‘

دوسرا بڑا مسئلہ ’سکیورٹی‘ ہے یعنی ڈاکٹرز کے مطابق انھیں مریضوں کے لواحقین یا اہلخانہ کی جانب سے حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔

ان ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کے حالات ابتر تو ہیں ہی بعض اوقات مریضوں اور ان کے اہلخانہ کا رویہ بھی ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر حیدر عباس کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں جب ایک ڈاکٹر صبح ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اسے یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ واپس گھر کس حالت میں جائے گا۔‘ ان کا اشارہ پمز سمیت کئی سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر ہونے والے حملے ہیں۔

ان کے مطابق حال ہی میں پمز میں ایک سینیئر ڈاکٹر کو مبینہ طور پر قتل بھی کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر حیدر عباس کہتے ہیں کہ ’ایسے واقعات کے دوران بھی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اور بعد میں بھی پولیس اور انتظامیہ رسمی کارروائی کرتے ہیں جس کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کسی مریض کی جان چلی جائے تو اس کا الزام ڈاکٹر پر لگایا جاتا ہے یا ہسپتال میں اگر انتظامیہ یا حکومت نے کوئی سہولت نہیں دی، کوئی مشین نہیں یا خراب ہے تو اس کا الزام بھی ڈاکٹر پر ہی لگایا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر سخرا کے مطابق ’گالم گلوچ تو معمول ہے، بات ہاتھا پائی تک چلی جاتی ہے، مریض کے اہلخانہ اسلحہ ساتھ لے کر آتے ہیں۔ یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ سامنے ایک خاتون ڈاکٹر ہے مگر خاتون ہو یا مرد، وہ حملے سے پہلے یہ سب نہیں دیکھتے۔‘

ڈاکٹرز کی ڈیوٹی کے طویل اوقات کار

ڈاکٹر عادل، لیڈی ریڈنگ

BBC
ڈاکٹر عادل

اس کے ساتھ ہی ڈاکٹرز کا ایک بڑا مسئلہ ڈیوٹی کے طویل اوقات کار ہیں۔ ڈاکٹر سخرا کہتی ہیں کہ انھیں ہفتے میں دو بار چھتیس گھنٹے کی شفٹ کرنا پڑتی ہے۔

’ہسپتالوں میں کوئی ایسا انتظام نہیں کہ ایک خاتون ڈاکٹر کو ایک گھنٹہ آرام کا وقت ملا ہے تو وہ کسی کمرے میں آرام کر لے، ہاسٹلز دور ہیں اور موجود حالات میں رات گئے وہاں جانا خود خاتون کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر حیدر عباس کے مطابق ڈیوٹی آورز کے علاوہ بھی ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر کو ایک مخصوص ریڈیس میں رہنا پڑتا ہے اور وہ ہسپتال سے دور نہیں جا سکتے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں وہ ہسپتال پہنچ سکیں ’یعنی ہم اس وقت بھی آن کال ہوتے ہیں جب طویل ڈیوٹی آورز ختم ہو جائیں۔‘

دوسری جانب اسی بارے میں پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے نائب صدر علی رضا کہتے ہیں کہ پی ایم سی نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ ڈاکٹرز کے اوقات کار کو منظم کیا جائے تاہم ان کے مطابق ’یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ڈاکٹر کس شعبے میں کام کر رہا ہے۔ مثلاً سرجری کے ڈیوٹی آورز زیادہ ہوں گے اور اسی طرح بعض دیگر شعبوں میں بھی یہ لازمی ہے کہ مقررہ ڈیوٹی آورز مکمل کیے جائیں جو کہ زیادہ ہو سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹرز اور مریضوں میں تناسب کے فرق میں اضافہ

ان ڈاکٹرز کا ایک اور شکوہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں اب ڈاکٹرز اور مریضوں میں تناسب کا فرق بہت بڑھ گیا ہے۔ آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا مگر ہسپتال بنے نہ ہی ڈاکٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ڈاکٹرز کی تعداد دو لاکھ 22 ہزار سے زائد ہے جبکہ دانتوں کے ڈاکٹر 23 ہزار سے زیادہ ہیں۔ ملک میں کل رجسٹر نرسز کی تعداد صرف ایک لاکھ پینتالیس ہزار ہے اور پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے۔

عالمی معیار کے مطابق ایک ہزار افراد پر مشتمل آبادی کے لیے دو ڈاکٹر، ایک دانتوں کا ڈاکٹر اور آٹھ نرسز کا ہونا ضروری ہے۔ اس فہرست کے مطابق پاکستان فی الحال کافی پیچھے ہے۔

ڈاکٹر سخرا نے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی کمی اور مریضوں کی تعداد کے حوالے سے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں ’او پی ڈی میں ایک دن میں چار ہزار سے زیادہ جبکہ ٹراما وارڈز میں دو ہزار سے زیادہ مریض آتے ہیں۔ پانچ ڈاکٹر پانچ سو مریض دیکھتے ہیں، اس میں نہ ڈاکٹر کا قصور ہے نہ مریض کا، سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی تعداد بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔‘

کچھ یہی حالت اسلام آباد میں بھی ہے۔ ڈاکٹر حیدر عباس جو اس وقت وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں تعینات ہیں، کہتے ہیں کہ ’سرکاری ہسپتال کے ایک ڈیپارٹمنٹ کی او پی ڈی میں چار سو سے پانچ سو مریض آ جاتے ہیں اور ان کے علاج کے لیے صرف چار یا پانچ ڈاکٹرز ہوتے ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے پی ایم سی کے نائب صدر علی رضا کہتے ہیں کہ ڈاکٹرز کم ہونے کی وجہ خواتین کا تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس پیشے کو خیرآباد کہنا بھی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں طالبات کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے لیکن پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں میں خواتین کی شرح صرف 23 فیصد ہے۔

علی رضا کے مطابق اس فرق کی وجہ سماجی رویے ہیں۔ کئی عورتیں شادی کے بعد کئی وجوہات کی وجہ سے اپنے کیریئر کو خیرآباد کہہ دیتی ہیں جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی ایک وجہ ڈیوٹی کے سخت اوقات کار بھی ہیں۔

علی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ایسے ’اقدامات پر کام کیا جا رہا ہے جو ان خواتین کو واپس پریکٹس میں لانے کے لیے پیش کیے جائیں گے۔‘

’مشکلات اور رکاوٹیں عبور کرتے کرتے ڈاکٹر خود نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں‘

ڈاکٹرز

BBC

ڈاکٹر عادل کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت ’اینٹی ڈاکٹرز‘ ہے جو پالیسیوں کو تبدیل تو کر رہی ہے تاہم انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔

پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2018 کے اختتام تک ملک بھر میں 1279 سرکاری ہسپتال اور 5671 ڈسپنسریاں ہیں جبکہ پاکستان میں اوسطاً ہر 1580 مریضوں کے لیے ایک بستر موجود ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے اپنے شعبے میں آگے بڑھنا بھی ممکن نہیں۔

ڈاکٹر عادل کے مطابق ’بیرون ملک کوالیفیکیشن کے لیے جو رقم درکار ہے وہ پاکستان میں ملنے والی تنخواہ سے پوری نہیں کر سکتے۔‘

اسی طرح ڈاکٹر سخرا کہتی ہیں کہ کوئی ڈاکٹر اپنی کوشش سے ترقی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے لیکن سسٹم میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔

تاہم ڈاکٹر حیدر عباسی کہتے ہیں مریض زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کو یہ موقع ضرور ملتا ہے کہ وہ اچھا تجربہ حاصل کر سکیں اور اپنے شعبے کے لیے اسکلز میں اضافہ کر سکیں ’مگر یہی مریضوں کا زیادہ ہونا دراصل خود ایک مسئلہ ہے کیونکہ ڈاکٹرز پر بوجھ بہت بڑھ جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایسے سکالر شپس اور مواقع میسر ہونے چاہیے کہ قابل ڈاکٹر دیگر ممالک میں جدید کورسز کر سکیں۔

ڈاکٹر عادل نے ینگ ڈاکٹرز کے مسلسل احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سسٹم کی بہتری کے لیے احتجاج کرتے ہیں اور طبی عملے اور مریضوں دونوں ہی کی بہتری کی بات کرتے ہیں۔ نظام میں خرابی ہے اور حکومت سننے کو تیار نہیں۔‘

ان کے مطابق ’اب ڈاکٹرز کو کنٹریکٹ پر لایا جا رہا ہے تو اگر میری جاب ہی محفوظ ہی نہیں تو میں پوری قابلیت کے ساتھ کیسے اپنی خدمات سرانجام دے سکتا ہوں؟‘

یہی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر عباس نے بھی اس حکومتی فیصلے پر تنقید کی جس کے مطابق اب ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں میں مستقل ملازمت کی بجائے کنٹریکٹ پر ہی ملازمت کر سکیں گے۔

ڈاکٹر عادل کے مطابق ’موجودہ حکومت سے ہم ڈاکٹرز کو بہت سی امیدیں تھیں، حال ہی میں ایک بڑی تعداد میں ڈاکٹرز واپس آئے مگر یہاں حالات دیکھ کر کچھ تو واپس بیرون ملک چلے گئے جبکہ دیگر نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کیا کیونکہ حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات ہمارے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مشکلات اور رکاوٹیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ’انھیں عبور کرتے کرتے ڈاکٹرز خود نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ یہ ریکارڈ نہیں کیا جاتا مگر ہم خود اینٹی ڈپریشن ادویات لینا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے مسائل اور ان سے پیدا ہونے والی فرسٹریشن کو نہ تو حکومت دیکھتی ہے نہ ہسپتالوں کی انتظامیہ کو کوئی فرق پڑتا ہے۔‘

کیا اب پاکستان میں ڈاکٹر بننا گھاٹے کا سودا ہے؟

یہ مسائل سننے کے بعد ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا اب پاکستان میں ڈاکٹر بننا گھاٹے کا سودا ہے؟

ڈاکٹر حیدر کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو خدمت کرنے کا شوق ہے اور آپ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں، تب تو یہ (ڈاکٹر بننا) گھاٹے کا سودا نہیں لیکن جو حالات اور مایوسی ہے، اس میں تو یہ گھاٹے کا سودا ہی ہے۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21093 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments