راکیش جُھنجُھن والا: پانچ ہزار روپے کی سرمایہ کاری سے کام شروع کرنے والے انڈین سرمایہ کار چھ ارب ڈالر کے مالک کیسے بنے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے معروف سرمایہ کار راکیش جُھنجُھن والا نے پانچ اکتوبر کو اپنی اہلیہ ریکھا جھُنجھُن والا کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’راکیش جُھنجُھن والا سے مل کر بہت اچھا لگا، وہ اپنی طرح کے واحد شخص ہیں۔ وہ فعال، بصیرت افروز اور انڈیا کے بارے میں بہت پُرامید ہیں۔‘

اس ملاقات کے کچھ دن بعد یعنی 11 اکتوبر کو یہ اطلاع سامنے آئی کہ وزارت شہری ہوا بازی نے راکیش جُھجُھن والا کی حمایت یافتہ ’اکاسا ایئر‘ کو ایک انتہائی کم لاگت والی نئی ایئر لائن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس ایئرلائن کی پہلی متوقع پرواز اگلے سال کے موسم گرما میں پرواز بھرے گی۔

راکیش جُھنجُھن والا نے اس ایئرلائن میں 35 ملین ڈالر یا تقریباً 264 کروڑ انڈین روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اس ایئرلائن کے لیے 70 طیارے خریدنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اکاسا ایئر کو حاصل ہونے والی اس منظوری کو جھُنجھُن والا کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے پس منظر میں رکھ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کے دوران لی گئی ایک تصویر میں جُھنجُھن والا کرسی پر بیٹھے نظر آرہے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ ریکھا اور وزیر اعظم نریندر مودی ان کے سامنے دست بستہ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

اس تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کو طنز اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

لیکن ان سب کے درمیان راکیش جُھنجُھن والا سب کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں اور سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر یہ کون ہیں اور وہ کون سی خوبیاں ہیں جن کے باعث ان کی شخصیت اتنی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

کم عمری میں کریئر کی ابتدا

پانچ جولائی 1960 کو پیدا ہونے والے جُھنجُھن والا ممبئی میں پلے بڑھے۔ ان کے والد انکم ٹیکس افسر تھے۔ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی طرف اُن کا جھکاؤ نوعمری میں شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اُن کے والد اُن سے اس بات پر توجہ دینے کے لیے کہا کرتے تھے کہ کس طرح دن بھر کی خبریں سٹاک مارکیٹ کو متاثر کرتی ہیں۔

سٹاک مارکیٹ میں جُھنجُھن والا کی دلچسپی بڑھتی رہی۔ جُھنجُھن والا نے سنہ 1985 سے سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانا شروع کیا جبکہ وہ ابھی کالج میں تعلیم حاصل کر ہی رہے تھے۔

چارٹرڈ اکاؤنٹنسی مکمل کرنے کے بعد جب انھوں نے اپنے والد سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ان کے والد نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس کے لیے ان سے یا ان کے دوستوں سے پیسے نہ مانگیں۔ ان کے والد نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ سٹاک مارکیٹ کے کاروبار میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے اپنا کیریئر شروع کر سکتے ہیں۔

ان کے قریبی حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ راکیش جُھنجُھن والا نے سٹاک مارکیٹ میں صرف پانچ ہزار روپے کی قلیل رقم سے سرمایہ کاری شروع کی اور دنیا بھر کے امیروں کی دولت کا جائزہ پیش کرنے والے میگزین فوربز کے مطابق آج اُن کی مجموعی دولت چھ ارب ڈالر یعنی تقریبا 45،328 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سونے کی سمگلنگ میں انڈیا کی اجارہ داری ختم کرنے والے پاکستان کے ’گولڈ کنگ‘ سیٹھ عابد

دنیا میں ہر 17 گھنٹے بعد ایک نیا ارب پتی، بیجنگ ارب پتی افراد کی لسٹ میں سرِفہرست

انڈیا کے ارب پتی جوڑے کا سنیاس لینے کا فیصلہ

فوربز کے مطابق ان کا سب سے قیمتی اثاثہ گھڑیاں اور زیورات بنانے والی کمپنی ’ٹائٹن‘ ہے جو کہ ٹاٹا گروپ کا حصہ ہے۔ جُھنجُھن والا نجی کمپنیوں جیسے سٹار ہیلتھ انشورنس، میٹرو برانڈز اور کونکورڈ بائیوٹیک میں بھی حصص کے مالک ہیں۔

سنہ 1986 میں جُھنجُھن والا نے ایک کمپنی کے پانچ ہزار شیئرز خریدے۔ انھوں نے یہ شیئر 43 روپے فی شیئر کے حساب سے خریدے تھے، لیکن تین ماہ کے اندر ایک شیئر کی قیمت بڑھ کر 143 روپے ہو گئی۔ اس سرمایہ کاری میں تین گنا سے زیادہ اضافہ جُھنجُھنن والا کے لیے کامیابی کا پہلا زینہ چڑھنے کے مترادف تھا۔

کیا وہ انڈیا کا وارن بفیٹ ہیں؟

وارن بفیٹ کو دنیا کا سب سے کامیاب سرمایہ کار سمجھا جاتا ہے۔ فوربز کے مطابق فی الحال بفیٹ کی مجموعی مالیت 102 ارب ڈالر یا تقریبا 7،69،903 کروڑ روپے ہے۔

بفیٹ کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے 11 سال کی عمر میں سب سے پہلا شیئر خریدا اور انھوں نے پہلا ٹیکس صرف 13 سال کی عمر میں ادا کیا تھا۔

اسی لیے جُھنجُھن والا کو اکثر ’انڈیا کا وارن بفیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم جُھنجُھن والا کو یہ موازنہ بہت اچھا نہیں لگتا۔

سنہ 2012 میں روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جُھنجُھن والا نے کہا تھا کہ یہ منصفانہ موازنہ نہیں ہے اور یہ کہ بفیٹ ہر لحاظ سے ان سے بہت آگے ہیں، چاہے وہ پیسہ ہو، کامیابی ہو یا پختگی۔

اسی انٹرویو میں جُھنجُھن والا نے کہا تھا: ’میں کسی کا کلون (کاپی/نقل) نہیں ہوں۔ میں راکیش جُھنجُھن والا ہوں۔ میں زندگی کو اپنی شرائط پر گزارتا ہوں۔ میں وہی کرتا ہوں جو مجھے پسند ہے۔ میں جو کرتا ہوں اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔’

تنازعات

جھُنجھُنن والا وقتاً فوقتاً سٹاک مارکیٹ سے متعلق تنازعات میں بھی رہے ہیں۔

رواں سال جولائی میں جُھنجُھن والا، ان کی اہلیہ ریکھا جھُنجھُن والا اور آٹھ دیگر افراد نے اپٹیک لمیٹڈ کے حصص کی اندرونی تجارت سے متعلق کیس میں 37 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی۔ اس رقم میں سیٹلمنٹ چارجز، غلط طریقے سے کمائے گئے منافع کی ادائیگی اور سود کے چارجز بھی شامل تھے۔

اندرونی تجارت یا انٹرنل ٹریڈ کاروبار کرنے کا ایک طریقہ ہے جس میں سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ خفیہ معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے نفع کے لیے کی جاتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جُھنجُھن والا سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے نشانے پر آئے ہوں۔ دوسری کمپنی میں مشتبہ اندرونی تجارت کے لیے سنہ 2018 میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ جُھنجُھن والا نے بعد میں 2.48 لاکھ روپے دے کر معاملہ ’باہمی رضامندی‘ سے طے کر لیا۔

‘رضامندی’ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے مبینہ خلاف ورزیوں کو جرم قبول کیے بغیر یا انکار کیے بغیر رقم دے کر معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔

تو کیا اندرونی تجارتی تنازعات میں جُھنجُھن والا کا نام ظاہر ہونا ان کی شخصیت پر دھبہ سمجھا جا سکتا ہے؟

تحقیقاتی صحافی عالم سرینواس کا کہنا ہے کہ ’یہ نصف بھرے اور نصف خالی گلاس جیسا معاملہ ہے۔ جرمانہ ادا کرنے والا شخص کہتا ہے کہ اس کو کیس لڑنے میں وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑتا جس کا ان کے دوسرے کاروبار پر اثر پڑتا ہے اس لیے ان سب سے بچنے کے لیے وہ یہ جرمانہ ادا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور تھا جس کے لیے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔‘

وہ کہتے ہیں ’زیادہ تر اندرونی تجارت کے معاملات اتنے پیچیدہ ہیں کہ کسی کو مجرم یا بے گناہ قرار دینا بہت مشکل ہے۔ یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ اندرونی تجارت کی گئی ہے۔‘

‘پارس جیسی خوبیوں والا شخص’

راکیش جُھنجُھن والا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ’پارس نما شخص‘ ہیں یعنی جس چیز کو بھی وہ چھو لیں وہ سونے میں بدل جاتی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں ان کی کامیابی نے انھیں مشہور شخصیت کا درجہ دیا ہے۔ ملک میں شاید ہی کوئی کاروباری اخبار یا نیوز چینل ہو جس نے جُھنجُھنن والا کا انٹرویو نہ کیا ہو۔

راکیش جُھنجُھن والا ’انگلش ونگلیش‘، ‘کی اینڈ کا’ اور ‘شمیتابھ’ جیسی ہندی فلموں کے پروڈیوسر بھی رہے ہیں۔

حال ہی میں زی میڈیا میں جاری بورڈ روم تنازع کی وجہ سے جھُنجھُنن والا نے زی کے حصص خریدے اور اس سے تقریبا 50 فیصد منافع کمایا۔

سنہ 2017 میں ای ٹی ناؤ نیوز چینل پر اداکارہ عالیہ بھٹ کے ساتھ گفتگو میں جھُنجھُن والا نے کہا تھا کہ ‘سٹاک مارکیٹ جتنا علم نفسیات کے متعلق ہے اتنا ہی یہ حقیقت کے بارے میں ہے۔ جب تک شیئر بازار سے تال میل قائم کرنے کا آپ برتاؤ نہیں آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔ بازار ہی بادشاہ ہے اور بازار میں کوئی بادشاہ نہیں ہے۔ وہ تمام لوگ جو سٹاک مارکیٹ کے بادشاہ بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ آرتھر روڈ جیل گئے ہیں۔’

جھُنجھُن والا اپنی فرم ریئر انٹرپرائزز کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں۔ نام ’ریئر‘ ان کے اور ان کی بیوی ریکھا کے نام کے پہلے دو حروف کو ملا کر بنایا گیا ہے۔

‘پردے کے پیچھے لیکن بہت طاقتور’

سینیئر صحافی عالم سرینواس کا خیال ہے کہ راکیش جھُنجھُن والا ایک ہوشیار اور سمجھدار سرمایہ کار ہیں۔ یہ ان کے سرمایہ کاری کے طریقے سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کے بقول جھُنجھُن والا کارپوریٹ، مالیاتی اور سٹاک مارکیٹ کی دنیا میں بہت بااثر شخصیت ہیں۔

سرینواس کہتے ہیں: ‘وہ کسی بھی کمپنی میں پانچ سے پندرہ فیصد حصص خرید کر اتنے اہم شیئر ہولڈر بن جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں کمپنی کی انتظامیہ کو سننا پڑتا ہے۔ وہ پردے کے پیچھے رہتے ہیں لیکن بہت طاقتور ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ جھُنجھُن والا کارپوریٹ اور مالیاتی دنیا سے بہت اچھی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ سیاسی حلقوں میں بھی اچھا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

سرینواس کہتے ہیں: ‘سٹاک مارکیٹ میں ان کے نام سے شيئر اوپر اور نیچے ہوتاہے۔ اگر یہ افواہ پھیل گئی کہ جھُنجھُنن والا شیئر خرید رہے ہیں تو شیئر کی قمیت خود بخود بڑھ جاتی ہے اور اگر یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ شیئر بیچ رہے ہیں تو قیمت نیچے آ جاتی ہے۔ راکیش جھُنجھُن والا زیادہ تر اپنا شیئر فروخت نہیں کرتے۔ وہ خریدار ہیں۔’


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21091 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments