ہوانا سنڈروم: کولمبیا میں امریکی سفارتخانے میں پراسرار بیماری کے ممکنہ کیسز، تحقیقات کا آغاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کولمبیا میں امریکی سفارتخانے میں ہوانا سنڈروم بیماری کے ممکنہ کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ تحقیقات امریکی وزیر خارجہ کے دورہ کولمبیا سے چند دن قبل کی جا رہی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بوگوٹا میں امریکی سفارتخانے کا عملہ ممکنہ طور پر اس پرسرار بیماری کا شکار ہوا ہے۔ اس بیماری میں کانوں میں شدید تکلیف دہ آوازیں سنائی دیتی ہیں اور متاثرہ فرد کو چکر آنے کے ساتھ ساتھ جسم میں تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

منگل کو امریکی جریدے وال سٹریٹ نے رپورٹ کیا کہ کولمبیا میں امریکی سفیر فلپ گولڈ برگ کی طرف سے بھیجی گئی ای میلز میں سفارتخانے میں ’صحت سے متعلق متعدد ناقابل بیان کیسز‘ (یو ایچ ائی) کی تصدیق کی گئی۔

ستمبر کے وسط سے امریکی حکومت ایو ایچ آئی کی اصطلاح ہوانا سنڈروم کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

کولمبیا کے صدر ایوان ڈاکیو نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ان کا ملک اس قسم کی خبروں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تحقیقات امریکہ کی سربراہی میں ہو رہی ہیں۔

وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو اس متعلق خبروں کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں حکام کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں جہاں سے بھی ہوانا سنڈروم کے متعلق خبریں مل رہی ہیں وہاں ہم اس کی بھرپور تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ ’متحرک انداز’ میں اس کی وجوہات کو جاننے اور اس میں کسی بیرونی وجہ کا عمل دخل تو نہیں یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس پرسرار بیماری ‘ہوانا سنڈروم’ کا پہلا واقعہ سب سے پہلے سنہ 2016 کیوبا میں پیش آیا تھا جس کے بعد سے دنیا بھر میں امریکی سفارتکاروں میں اس مرض کی شکایات سامنے آئیں ہیں۔ اس مرض کی وجہ اور ابتدا کا اب تک علم نہیں ہے تاہم اس بارے میں یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ یہ ایک قسم کا ہتھیار ہے۔

ان امریکی اہلکاروں، جو ہوانا سنڈروم نامی پرسرار بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، نے بتایا کہ انھیں کانوں میں شدید اور تکلیف دہ قسم کی مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جبکہ تقریباً 200 کے قریب متاثرہ اہلکاروں کو مہینوں چکر آتے رہے اور انھیں تھکاوٹ کا سامنا رہا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق متاثرین میں آدھے سے زیادہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکار ہیں۔

اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو برلن میں امریکی سفارتخانے میں بھی عملے کے ہوانا سینڈروم سے متاثرہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں تھی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ‘اس کی وجوہات اور اس کا ذمہ دار کون ہے’ کا پتہ لگانے کا اعادہ کیا تھا۔ ان کا یہ بیان ہوانا سنڈروم سے متاثرہ امریکی اہلکاروں کو مالی معاوضہ ادا کرنے کے قانون کی منظوری دینے کے بعد سامنے آیا تھا۔

ہوانا سنڈروم

BBC

کولمبیا میں امریکی سفارتخانے میں اہلکاروں کے ہوانا سنڈروم کا شکار ہونے کی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اگلے ہفتے بوگوٹا کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اگست میں نائب امریکی صدر کمالا ہیرس نے ویتنام میں دو اہلکاروں کے اس مرض کا شکار ہو جانے کے بعد اپنا دورہ موخر کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی جاسوس کس خفیہ بیماری کا شکار، کیا اس کے پیچھے روس ہے؟

’ہوانا سِنڈروم‘ اور مائیکرو ویو کا معمہ، جس نے امریکی سفارت کاروں اور جاسوسوں کو بیمار کیا

امریکی سفیروں کی ’پراسرار بیماری کی وجہ مائیکرو ویوز ہو سکتے ہیں‘

ہوانا سنڈروم کیا ہے؟

ڈاکٹر، سائنسدان، انٹیلیجنس کے ایجنٹس اور سرکاری افسران سب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ‘ہوانا سنڈروم’ نامی بیماری کے پھیلنے کی کیا وجہ ہے۔ ایک پراسرار بیماری جسے امریکی سفارتکاروں اور جاسوسوں کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

کچھ لوگ اسے ایک ‘جنگی حملہ’ کہتے ہیں، دوسروں کو تعجب ہوتا ہے کہ کیا یہ نگرانی کی کوئی نئی اور خفیہ شکل ہے۔ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے اپنے ذہن کا ایک خیال بھی ہو سکتا ہے۔ تو کون ہے اس کے پسِ پشت یا کون سے عوامل اس کے ذمہ دار ہیں؟

اس بیماری کا آغاز عموماً ایک ایسی آواز کے ساتھ شروع ہوتا ہے جسے اس بیماری سے متاثر ہونے والوں کے لیے بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ متاثرین اس کے اثرات کے نتیجے میں اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے شور کو ‘بزنگ’، ‘دھات پیسنے والی’ یا ‘چھیدنے والی چیخیں’ جیسی آوازیں کہہ کر بیان کر پاتے ہیں۔ سنڈروم کی کیفیت سے گزرنے والے کچھ لوگوں کو چکر آتا ہے اور وہ مہینوں تک تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔

ہوانا سنڈروم کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ مختلف لوگوں میں علامات مختلف ہوتی تھیں۔ کچھ لوگوں کا گمان تھا کہ یہ معاملے ایک سلسلے کا حصہ نہیں ہیں اور یہ کہ یہ کسی نفسیاتی بیماری کا نتیجہ ہیں۔

‘ہوانا سنڈروم’ کا پہلا واقعہ سب سے پہلے سنہ 2016 کیوبا میں پیش آیا۔ اس کے پہلے کیسز سی آئی اے افسران تھے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی اس بیماری کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ لیکن آخر کار اس کے بارے میں بات پھیلی اور پھر پریشانی پیدا ہوئی۔

چھبیس اہلکار اور اُن کے اہلِ خانہ کے افراد میں ان علامات کی وسیع اقسام کی اطلاعات ملیں۔ کچھ کھسر پھسر ایسی سنی گئی کہ کچھ ساتھیوں کا خیال یہ تھا کہ یہ مریض کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ذہن میں ہو رہا ہے۔

پانچ سال بعد ایسے کیسوں کی رپورٹوں کی تعداد اب سینکڑوں میں ہے اور بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ یہ بیماری ہر براعظم میں پھیلی ہوئی ہے، جس سے امریکہ کی بیرون ملک کام کرنے کی صلاحیت پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔

‘ہوانا سنڈروم’ کی وجہ؟

حقیقت جاننا اب امریکی قومی سلامتی کی اولین ترجیح بن چکا ہے، جسے ایک عہدیدار نے انٹیلی جنس کا سب سے مشکل چیلنج قرار دیا ہے۔

امریکی سفارتخانہ

Getty Images

اس بیماری کے بارے ٹھوس ثبوت نہیں ملے ہیں، جس کی وجہ سے 'ہوانا سنڈروم' کو ایک جنگی حملے کے طور پر لینے کی بجائے نظریات کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ اہلکار اسے ایک نفسیاتی بیماری کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ کچھ دوسروں کو یہ ایک خفیہ ہتھیار نظر آتا ہے۔ لیکن شواہد کی بڑھتی ہوئی تعداد اس ممکنہ کارروائی کی وجہ 'مائیکرو ویوز' کو قرار دے رہے ہیں۔

اس کے متعلق پہلا مکمل جائزہ دسمبر سنہ 2020 میں امریکی نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز کی جانب سے سامنے آیا۔ اگرچہ طبی معلومات ٹکڑوں میں آ رہی تھیں لیکن ایک کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ علامات ‘پلس ریڈیو فریکوئنسی توانائی’ کے اثرات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے زہر اور نفسیاتی بیماری جیسے دیگر امکانات کو مسترد کر دیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21156 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments