مریم نواز، ایون فیلڈ ریفرنس: ’عمران خان آئینی وزیر اعظم ہیں نہ منتخب، ملک کو جادو ٹونے سے چلا رہے ہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئینی وزیر اعظم ہیں نہ منتخب اور ملک کو جادو ٹونے سے چلا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’مقدمات، گرفتاری اور جیل جانے سے نہیں ڈرتیں، ان کی ضمانت منسوخ کر کے انھیں گرفتار کریں تاکہ دنیا کو پتا چلے آپ کتنا ڈرتے ہیں؟‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کو کالعدم دینے کے مقدمے کی سماعت کے بعد انھوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے میری ضمانت کی منسوخی کی درخواست دی ہے، اس درخواست گزار کا چہرہ قوم کو دکھایا جائے، میں نیب میں اپنے اس ہمدرد کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ درخواست دینے والے کو 21 نہیں 22 توپوں کی سلامی دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ درخواست کو پڑھ کر لگا جیسے بچے ڈر رہے ہیں، درخواست دینے والا اتنا ذہین کون ہے۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری سے ڈرتی ہوں نہ نیب سے، مجھے گرفتاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ڈرانے والے کسی بھول میں ہیں۔

یاد رہے کہ پانچ اکتوبر کو مریم نواز نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی تقریر، مرحوم سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو اور دیگر شواہد کی بنا پر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

عمران خان ملک جادو ٹونے سے چلا رہے ہیں

مریم نواز نے اس موقع پر حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کی اور الزامات عائد کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئینی وزیراعظم نہیں ہیں۔ ان کا اصول اور جمہوریت سے کوئی واسطہ نہیں۔عمران خان آئینی وزیراعظم ہیں نہ منتخب، وہ سلیکٹڈ ہیں، عمران خان کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے اور وہ نواز شریف کے مینڈیٹ پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین و قانون کے تحت حکومت کے معاملات چلانے کی بجائے جادو و ٹونہ اور حساب کتاب سے ملک چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں جنتر منتر، طوطا فال اور جادو ٹونہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ تقرریاں وہ نہیں بلکہ جنات کرتے ہیں۔’

انھوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر ان کا جنترمنتر اتنا ہی کامیاب ہے تو اسے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ آٹا سستا کریں، پیٹرول چینی سستی کریں۔’

صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اداروں اور جمہوریت کا مسئلہ نہیں بلکہ عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کو چند دن مزید طوالت دینے کا مسئلہ ہے۔

‘نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہ کریں’

ملک میں سول بالادستی اور جمہوریت کے متعلق ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کو آئینی حق اور ووٹ کو عزت دو یاد آ گیا ہے۔ ‘آپ کو نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک سیاسی پہچان کے ساتھ ایک لمبی سیاسی جدوجہد کر کے آئے تھے، وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آئے تھے، جلاوطنی اور جیلیں برداشت کرکے آئے تھے، وہ اپنی حکومتوں کی قربانی دے کر آئے تھے۔

عمران خان کی سیاسی پہچان اور سیاسی تشخص کیا ہے۔ ان کی سیاسی پہچان منتخب وزیر اعظم اور منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنا، 126 دن کا دھرنا دینا، منتخب حکومت کے مینڈیٹ کو چھیننا ہے۔ ان کا مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی دور حکومت میں بدترین نالائقی، بد انتظامی اور کرپشن کے بعد وہ سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ آپ کو تاریخی بد انتظامی، کرپشن اور نالائقی کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ کو ملک کو بلند ترین قرضے کے بوجھ تلے لانے کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ اگر بدترین کارکردگی کو چھپانا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔’

اگر عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا مسلم لیگ ان کا ساتھ دے گی کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود غیر آئینی ہیں اور ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے چھ اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید پر تنقید کی تھی اور الزامات عائد کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

فوج کی طاقت کوئی فردِ واحد استعمال کرے تو وہ ادارے کی کون سی خدمت کرتا ہے: مریم نواز

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

جنرل فیض حمید پر تنقید و الزامات

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ‘جنرل فیض حمید نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسا بینچ نہ بنے جو 2018 کے الیکشن سے پہلے نواز شریف صاحب اور مریم نواز کو ضمانت دے۔ کیونکہ اگر ضمانت دے دی اور انتخابات سے پہلے مریم نواز اور نواز شریف باہر آ گئے تو میری تو دو سال کی محنت خراب ہو جائے گی۔’

مریم نواز شریف نے لیفٹینٹ جنرل فیض حمید پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ درست ہے کہ کسی ایک فرد کی وجہ سے ادارے کا نام نہیں لینا چاہیے لیکن ‘جب فرد واحد ادارے کے پیچھے چھپتا ہے تو کیا وہ ادارے کے وقار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔’

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کی درخواست پر ان سزاؤں کو معطل کر رکھا ہے۔

لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس کے بارے میں مزید جانیے۔

BBC

ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست میں کیا ہے؟

مریم نواز نے دائر کی گئی متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے چھ جولائی 2017 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی، جو پاکستان کی تاریخ میں سیاسی انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی کلاسک مثال ہے۔

درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بار سے خطاب کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ‘فاضل سابق جج نے کہا کہ چیف جسٹس کو اپروچ کیا گیا کہ ہمیں الیکشن تک نواز شریف اور ان کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا۔ چیف جسٹس نے آئی ایس آئی والوں کو کہا کہ جس بنچ سے آپ مطمئن ہیں وہ بنچ بنا دیتے ہیں۔’

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔

مریم نواز کا مؤقف ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے ان سے 29 جون 2018 کو ملاقات کی۔

مریم نواز کے مطابق جسٹس شوکت صدیقی کے اس بیان سے عدالتی فیصلے کے غیر جانبدارانہ ہونے پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی کہ ان پر نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بے حد دباؤ تھا۔

مریم نواز نے اپنی درخواست میں مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں تفتیش اور استغاثہ کی نگرانی کی، سپریم کورٹ نے ایک طرح سے اس کیس میں پورا عمل ہی کنٹرول کیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا کسی کیس میں نہیں کیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئین میں کردار نہ تفتیش کار کا ہے نہ ہی پراسیکیوٹر کا اور اثاثوں کے الزام میں تین الگ ریفرنس دائر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا ہے کہ نیب کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے، ٹرائل کی ساری کارروائی اور ریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں لہذا عدالت قانون کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور انھیں تمام الزامات سے بری اور سزا کالعدم قرار دے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21131 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments