لیلیٰ مصطفیٰ: وہ خاتون جس نے شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے سابقہ گڑھ رقہ کی تعمیر نو کا بیڑہ اٹھایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیلیٰ مصطفیٰ
BBC
لیلیٰ مصطفیٰ نے جو مشن چنا وہ آسان نہیں تھا کیونکہ جس ماحول میں انھوں نے کام کیا وہ آج بھی قبائلی اقدار کے حق میں ہے
شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے مضبوط گڑھ اور ان کے نام نہاد دارالحکومت رقہ کو ’آزاد‘ ہوئے چار برس بیت چکے ہیں۔

لیکن ان ہنگامہ خیز برسوں کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ اثرات محسوس کرنے والوں میں بالخصوص وہ مسیحی اور یزیدی خواتین سرفہرست ہیں جنھیں اس دورانیے میں قید میں رکھا گیا، جنسی غلاموں کی طرح ان کی خرید اور فروخت کی گئی اور پردہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ایسی ہی خواتین میں سے ایک لیلیٰ مصطفیٰ ہیں جو اپنے آبائی شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے اور وہاں خواتین کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیلیٰ مصطفیٰ کو ان کی کوششوں کے اعتراف میں بین الاقوامی ’میئر آف دا ورلڈ‘ ایوارڈ دیا گیا ہے۔

ہم نے لیلیٰ سے اُن کے خطرناک مشن اور درپیش چیلنجز کے بارے میں بات کی ہے۔

لیلیٰ مصطفیٰ کون ہیں اور انھیں کون سا ایوارڈ ملا؟

لیلیٰ مصطفیٰ 34 سالہ کُرد خاتون ہیں۔ وہ شام کے شمال مشرقی علاقے الرقہ میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

اکتوبر 2017 میں امریکی اتحاد کی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے آئی ایس کو شکست دی تھی جس کے بعد سے لیلیٰ مصطفیٰ رقہ سول کونسل کی شریک چیئر ہیں۔

لیلیٰ مصطفیٰ

SDF
لیلیٰ مصطفیٰ 34 سال کی کرد خاتون ہیں۔ وہ شام کے شمال مشرقی علاقے الرقہ میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے

ان کی قیادت میں ہزاروں مرد اور خواتین جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔

سٹی کونسل ان کئی علاقائی اداروں میں سے ایک ہے جو ایس ڈی ایف نے آزادی کے بعد قائم کیے۔

جنگ کے دوران رقہ شہر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور سنہ 2014 میں آئی ایس کے کنٹرول میں آنے کے بعد لاکھوں لوگ یہاں سے ہجرت کر کے دوسرے علاقوں کی طرف چلے گئے تھے۔

لیلیٰ مصطفیٰ کو رقہ شہر کی تعمیر نو میں اپنے عزم، لگن اور انتھک کوششوں کے اعتراف میں ’بین الاقوامی عالمی میئر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔

ورلڈ میئر پراجیکٹ، جو بین الاقوامی ریسرچ تھنک ٹینک ’دا سٹی میئرز فاؤنڈیشن‘ کے زیر انتظام ہے، سنہ 2004 سے کام کر رہا ہے اور ہر دو سال میں مختلف موضوعات پر توجہ دیتا ہے۔

سنہ 2016 میں اس کی توجہ پناہ گزینوں کے بحران پر تھی اور اس کے بعد سنہ 2018 میں مقامی انتظامی عہدوں پر خواتین کی کم نمائندگی کے مسئلے پر توجہ دی گئی جبکہ اس سال اس فاؤنڈیشن نے وبائی امراض کے دوران شہروں کی صورتحال پر توجہ دی۔

اس سال یہ ایوارڈ دنیا بھر کے نو میئرز کو دیا گیا جن میں لیلیٰ مصطفیٰ بھی شامل ہیں۔ وہ اس برس یہ ایوارڈ جیتنے والی واحد خاتون ہیں۔

سنہ 2017 میں رقہ

Getty Images
شام میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے مضبوط گڑھ اور نام نہاد دارالحکومت ’رقہ کی آزادی‘ کو چار سال ہو چکے ہیں

’ایک تاریک جیل کے بعد محفوظ پناہ گاہ‘

جب لیلیٰ مصطفیٰ نے رقہ کی تعمیر نو کا مشن شروع کیا تو وہاں تباہی اور کھنڈرات کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ وہاں بجلی تھی نہ پانی جبکہ صحت کی سہولیات بھی انتہائی کم تھیں۔

لیکن سنہ 2020 تک اس شہر کے متنوع ثقافتی، مذہبی اور تاریخی ورثے کی علامت سمجھے جانے والے ’رقہ میوزیم‘ کو دوبارہ بحال کیا گیا۔

لیلیٰ مصطفیٰ کہتی ہیں کہ ’محدود صلاحیتوں اور دستیاب وسائل کی کمی کے باوجود ہم نے بہت کچھ حاصل کیا۔ ہم نے ہر مرحلے کے مطابق منصوبے اور پروگرام تیار کیے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’شہر کی تباہی کی حد جو 95 فیصد تک پہنچ گئی تھی اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم نے ریکارڈ وقت میں بہت کچھ حاصل کیا۔‘

’اپنے رہائشیوں کے لیے ایک تاریک جیل میں تبدیل ہونے کے بعد اب رقہ کو ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’دولتِ اسلامیہ جا چکی لیکن رقہ اب بھی انتہائی خطرناک‘

یزیدی ماں کی مشکل: داعش جنگجو کا بچہ یا اپنا خاندان؟

دوسری جنگ عظیم کی آٹھ ہیروئنز جن کی بہادری کسی سے کم نہ تھی

بجلی اور پانی کی فراہمی، ہسپتالوں، سکولوں اور صحت کے مراکز سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے جیسے منصوبے بتدریج نافذ کیے گئے اور گھروں، گلیوں کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو پر بھی کام جاری ہے۔

لیلیٰ مصطفیٰ کی زیر نگرانی متعدد منصوبے مکمل ہوئے۔ جیسے 390 سے زائد سکول، 25 سے زائد صحت کے مراکز اور 10 نجی اور سرکاری ہسپتالوں کو دوبارہ کھولنا۔ اس کے علاوہ آٹھ پاور سٹیشن اور پینے کے پانی کے 30 پلانٹس بھی بحال کیے گئے۔

شہر سے نقل مکانی کرنے والے اب واپس آ رہے ہیں جس سے شہر کی آبادی بڑھ کر تقریباً دس لاکھ ہو گئی ہے۔

لیلیٰ مصطفیٰ اپنے سماجی اور ثقافتی پس منظر کے لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کام کرنے کی وجہ سے شہریوں کا اعتماد اور احترام حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

لیلیٰ مصطفیٰ سول کونسل رقہ میں تقریر کرتے ہوئے

SDF
لیلیٰ مصطفیٰ سول کونسل رقہ میں تقریر کرتے ہوئے

سول کونسل میں خواتین کی بڑھتی تعداد

دوسرے کردوں کی طرح جو شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کنٹرول رکھتے ہیں، لیلیٰ مصطفیٰ کو امید ہے کہ خود انتظامی منصوبہ ایک دن ملک کے دیگر حصوں میں بھی نافذ کیا جائے گا۔ لیلیٰ کو امید ہے کہ صنفی مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے رقہ پورے شام کے لیے ایک کامیاب ماڈل بن جائے گا۔

لیلیٰ مصطفیٰ نے جو مشن چنا وہ آسان نہیں تھا کیونکہ جس ماحول میں انھوں نے کام کیا وہ آج بھی قبائلی اقدار کے حق میں ہے۔

بحیثیت ایک نوجوان کرد خاتون، جو اس سٹی کونسل کو چلاتی ہیں، لیلیٰ نے علاقے کی بہت سی دوسری خواتین کو مختلف نسلی، سماجی اور ثقافتی پس منظر سے متاثر کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کمیونٹی اور شہر کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کریں۔

لیلیٰ کہتی ہیں کہ ’سول کونسل میں خواتین کا تناسب 40 فیصد تک پہنچ گیا، جو اس جیسے شہر کے لیے بہت زیادہ ہے۔‘

رقعہ کی سول کونسل میں ملازمین کی موجودہ تعداد تقریباً ساڑھے دس ہزار ہے، جن میں سے خواتین کی تعداد 4080 ہے۔

لیلیٰ دنیا کے تمام ایسے ممالک جہاں خواتین کو ان کے محدود حقوق ملتے ہیں، پیغام دینا چاہتی ہیں کہ ’خواتین اگر خود پر یقین رکھیں تو وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر سکتی ہیں۔‘

ایک ایسا شہر جس پر ہمیشہ مردوں نے حکومت کی ہو، وہاں بحیثیت عورت لیلیٰ مصطفیٰ کی کونسل کی صدارت شہر کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور انوکھا واقعہ ہے۔

شام، رقہ

Getty Images
رقہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور سنہ 2014 میں آئی ایس کے کنٹرول میں آنے کے بعد لاکھوں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے تھے

رقہ

جنگ سے پہلے رقہ میں مختلف نسلی، مذہبی اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو لاکھ سے زیادہ لوگ مقیم تھے، جن میں عرب، کرد، عیسائی، شامی اور دیگر شامل تھے۔

اس شہر کو سماجی طور پر قدامت پسند علاقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو قبائلی اقدار اور رسومات سے بہت زیادہ متاثر ہے تاہم ملک میں خانہ جنگی نے خطے میں پالیسیوں کو بار بار تبدیل کیا۔

مارچ سنہ 2013 میں رقہ اس وقت شامی حکومت کے کنٹرول سے نکل گیا جب اسے ترکی کی حمایت یافتہ اپوزیشن ’فری آرمی‘ اور القاعدہ سے منسلک ’النصرہ فرنٹ‘ نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ امریکہ کی جانب شے دہشتگرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد ’النصرہ فرنٹ‘ نے اپنا نام ’حیات تحریر الشام‘ رکھ لیا۔

ایک سال سے بھی کم عرصے میں آئی ایس نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے نام نہاد اسلامی خلافت کا دارالحکومت قرار دیا، جس کے بعد لاکھوں لوگ دوسرے علاقوں میں ہجرت کر گئے۔

اکتوبر 2017 میں آئی ایس کو شکست دینے کے بعد شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور امریکی زیرقیادت اتحاد نے شہر کی دوبارہ تعمیر کے لیے رقہ سول کونسل تشکیل دی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21131 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments