آئی ایس آئی سربراہ کی تعیناتی: حکمران جماعت کا پارلیمانی اجلاس اور خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افواہوں سے بھرپور ایک ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد آج پاکستان کی پارلیمان میں حکومتی اور حزب مخالف کی جماعتوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی تھا۔ اسمبلی کا اجلاس جو تین بجے شروع ہونا تھا، وہ بھی تاخیر کا شکار ہوا۔

یہاں آنے والے تمام صحافیوں اور غالباً سیاستدانوں کے ذہن میں بھی گذشتہ ہفتے کے دوران خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کا ہی معاملہ تھا۔ مگر حکومتی اراکین نے بلا کی خاموشی اختیار کیے رکھی۔

پارلیمان کے داخلی دروازوں اور راہداریوں میں موجود صحافیوں کی کوشش تھی کہ وہیں کابینہ کے کسی نہ کسی رکن سے پوچھا جائے کہ اس حوالے سے کب وزیرِ اعظم ہاؤس نوٹیفیکیشن جاری کرے گا اور آخر آرمی چیف اور وزیرِ اعظم کے درمیان اختلاف کس نہج پر پہنچ گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان جب پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے لیے پہنچے تو فاصلے پر کھڑے صحافیوں نے ان سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق سوال پوچھا۔ وزیر اعظم اس موقع پر صحافیوں کی جانب ہاتھ لہرا کر آگے بڑھ گئے۔

مگر سب سے دلچسپ ردِ عمل وزیر دفاع پرویز خٹک کا رہا۔ ان کی آمد پر ایک صحافی نے جب ان کی خیریت دریافت کی تو اُنھوں نے جواب میں بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور پھر اس کے بعد صحافیوں نے جو بھی سوال کیا، وہ سنتے رہے اور آگے بڑھتے گئے۔ اُنھوں نے کسی بھی سوال کے جواب میں خاموشی نہیں توڑی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرری بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس تعیناتی کی پریس ریلیز فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے جاری کی تھی۔

مگر اس حوالے سے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز سے یہ افواہیں سوشل اور مقامی میڈیا پر گردش کرتی رہیں کہ وزارت دفاع سے تین ناموں پر مشتمل ایک نئی سمری وزیرِ اعظم ہاؤس بھیجی گئی ہے تاہم سرکاری سطح پران خبروں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم فوج کے تجویز کردہ افراد کے انٹرویو کریں گے اور اس کے بعد ہی سمری پر دستخط کریں گے۔ وزیر اطلاعات نے اس حوالے سے کہا ہے کہ یہ ایک روٹین کا عمل ہے۔

اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر عامر ڈوگر نے سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید مزید کچھ عرصہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہیں۔

آج پارلیمانی اجلاس کے بعد جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بھی میڈیا نمائندوں نے اسی بارے میں سوال کیا گیا کہ تو اُنھوں نے کہا کہ ان کی ملاقات وزیر اعظم سے ہوئی ہی نہیں۔

ایسا لگ رہا تھا کہ تمام اراکین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق کسی سوال کا جواب نہ دیں۔

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے بات کی اور پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر بھی صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیے۔ فواد چوہدری نے اس تاثر کی تردید کی کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے پر کوئی اختلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب آئی ایس آئی سربراہ کو آرمی چیف بنانے کی کوشش میں وزارت عظمیٰ جاتی رہی

’ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق معاملات طے پا چکے، فیصلہ اعتماد کی فضا میں ہوگا‘

پاکستان میں آئی ایس آئی سربراہ کی تقرری موضوعِ بحث کب اور کیوں بننا شروع ہوئی؟

اُنھوں نے کہا کہ فوج اور وزیرِ اعظم ہاؤس ایک پیج پر ہیں۔ ان کے ساتھ شہباز گل نے کہا کہ ’جوں ہی وزیرِ اعظم دستخط کریں گے، وزیر اطلاعات بتا دیں گے۔‘

فواد چوہدری نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کا ‘تقرر جلد ہو جائے گا اور یہ فیصلہ اعتماد کی فضا میں ہو گا۔’

فواد چوہدری جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے منعقد ہونے والے پاکستان تحریکِ انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور یہ کہ وہ طویل عرصے سے خود دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں سول ملٹری تعلقات کبھی اتنے اچھے نہیں رہے۔

اُن کے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ‘خوشگوار اور قریبی’ تعلقات ہیں اور طرفین کے درمیان جو بھی معاملہ ہوتا ہے وہ بات چیت سے حل ہو جاتا ہے۔’ اُنھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج تعزیتی ریفرنس پیش کیے گئے۔ اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اداکار عمر شریف کی وفات پر تعزیتی ریفرنس پیش کیے۔ جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21087 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments