عمران اسماعیل: گورنر سندھ کا لیاقت علی خان کی برسی کی مناسبت سے بیان پر سوشل میڈیا ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاستدان اکثر 'جوش خطابت' میں کبھی کوئی فقرہ یا کسی شعر کا مصرع غلط ادا کر دیتے ہیں تو کبھی کوئی تاریخی حوالہ غلط بتا دیتے ہیں۔ اور یہ بات زیادہ دیر چھپتی نہیں ہے۔

آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے کراچی میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو نہ صرف ‘فرزند کراچی’ کہا بلکہ ان کی ‘جائے شہادت’ بھی کراچی کو ہی بتایا۔

سنیچر کو ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی برسی کی مناسبت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘لیاقت علی خان فرزند کراچی اور کراچی میں ہی ان کی شہادت ہوئی آج کے دن۔’

لیاقت علی خان

Getty Images

واضح رہے کہ لیاقت علی خان سنہ 1895 میں ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر مظفرنگر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھیں 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی (کمپنی باغ) میں ایک جلسے کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے اور انھیں کراچی میں مزار قائد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

عمران اسماعیل ہوں یا کوئی اور، پاکستان میں سیاستدانوں کی جانب سے ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی تاریخی، جغرافیائی یا بین الاقوامی امور سے متعلق بات کرتے ہوئے کوئی غلط حوالہ نہ دیا ہو۔

اس سے قبل حال ہی میں گورنر سندھ کا وہ بیان بھی موضوع بحث بنا تھا جب انھوں نے اعلی فوجی اعزاز ‘نشان حیدر’ پانے والے پاکستانی فضائیہ کے فلائٹ آفیسر راشد منہاس کو شادی شدہ قرار دیتے ہوئے ان کی بیوہ کا تذکرہ کر ڈالا تھا۔

ایسے بیانات پر سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کبھی ان سیاسی شخصیات کو ‘لاعلم’ قرار دیتے ہیں تو کبھی ‘زبان کا پھسل جانا’ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جرمنی، جاپان اور عمران خان

’زرتاج گُل کے 19 نکات کو بھی مطالعہِ پاکستان کا حصہ بنایا جائے‘

پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو کس نے قتل کروایا؟

لیاقت علی خان کے بیٹے کا علاج اور حکومت کی یقین دہانی

سوشل میڈیا پر ردعمل

گورنر سندھ عمران کے لیاقت علی خان سے متعلق بیان کا سامنے آنا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کے اندر کا مورخ اور ناقد فوراً سے جاگ اٹھا اور انھوں نے گورنر سندھ کے بیان پر تنقیدی تبصرے اور میمز کا سلسلہ شروع کر دیا۔

صحافی و تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے گورنر سندھ کے بیان سے متعلق اپنی ٹویٹ میں طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ لیاقت علی خان جرمنی اور جاپان کی سرحد پر شہید ہوئے تھے جب وہ ‘لائٹ آف سپیڈ’ کی رفتار سے چلتے ٹرک سے ٹکرائے تھے جس کے ٹائروں میں 35 پنکچر لگے ہوئے تھے۔’

وہ اس پیغام میں پاکستانی سیاست میں استعمال ہونے والی مختلف اصطلاحات کا حوالہ دے رہے تھے۔

صحافی حامد میر نے بھی گورنر سندھ کے بیان کی ویڈیو کو ٹویٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ‘ گورنر صاحب بُرا نہ منائیں تو آپ کو بتانا تھا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کراچی میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں شہید ہوئے تھے ان کی جائے شہادت کمپنی باغ راولپنڈی ہے جسے بعد میں لیاقت باغ کا نام دیا گیا اسی لیاقت باغ کے باہر ایک اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کیا گیا۔’

سینیئر صحافی عباس ناصر نے بھی گورنر سندھ کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہو کہا کہ ‘پی ٹی آئی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی خوبی رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ (اب تک) جو کچھ لکھا یا کہا گیا ہے وہ صریحاً جھوٹ ہے۔’

سمعیہ خورشید نامی صارف نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’عمران اسماعیل نے آج تاریخ بدل کے تاریخ رقم کر دی۔‘

اسی طرح ایک اور خاتون ٹوئٹر صارف نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی تحریر کردہ نئی اور جدید معاشرتی علوم جلد ہی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔‘

امریکن پاکستانی نامی ایک ٹوئٹر صارف نے بھی گورنر سندھ کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ‘ عمران اسماعیل کسی اور لیاقت علی خان کی بات کر رہے ہیں، جو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ جن تھے اس لیے ان کے بارے میں کسی کو علم نہیں اور عمران اسماعیل ان کے واحد دوست تھے۔’


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21822 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments